اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

گناہ کبیرہ اور گناہ صغیرہ
سوال:- ماں باپ پر ظلم کرنا، پڑوسیوں پر ظلم کرنا ، جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا، چغلخوری کرنا، چوری کرنا، سود لینا، سود دینا، جوا کھیلنا، شراب خوری، زنا کرنا، کسی کا حق مارنا، اور مسلم کا مسلم کے ذریعہ یا خود قتل کرنا، اور اللہ تعالی کی شخصیت میں کسی اور کو داخل کرنا اور اس کی عبادت کرنا —– مندرجہ بالا گناہ کون سے گناہ میں شامل ہیں ؟ گناہ کبیرہ ، گناہ صغیرہ میں کون کون سے گناہ داخل ہیں جو اللہ تعالی کبھی معاف نہیں کرتے، اور اگر بندہ اللہ تعالی سے دعا کرے اور توبہ کرے کہ میں آئندہ اس گناہ کو پھر سے نہیں کروں گا، تو اللہ تعالی اپنی رحمت سے وہ کون سے گناہ ہیں جو معاف کریں گے، جس کی بندہ کو امید رکھنی چاہئے اور وہ کون سا گناہ ہے جو اللہ تعالی کبھی معاف نہیں کریں گے؟ (محمد وہاج الدین ، ناندیڑ )
جواب:- یوں تو اللہ تعالیٰ کی جلالت شان کے اعتبار سے معمولی سے معمولی غلطی بھی ’’غیر معمولی‘‘ کے درجہ میں ہے، لیکن گناہوں پر وعید میں لب و لہجہ کی شدت اور نرمی کے اعتبار سے گناہ کی دو قسمیں کی گئی ہیں : صغیرہ یعنی چھوٹے گناہ ، اور کبیرہ یعنی بڑے گناہ، خود قرآن مجید نے بھی اس تقسیم کی طرف اشارہ کیا ہے اور دو مقامات پر بعض گناہوں کو کبائر کا عنوان دیاگیا ہے،
{ إن تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاّتکم و ندخلکم مدخلا کریما} (النساء : ۱۳)، { الذین یجتنبون کبائر الإثم و الفواحش إلا اللمم } (النجم : ۲۳)
—- کون سے گناہ کبائر ہیں اور کون سے صغائر ؟ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث میں قطعی تحدید منقول نہیں، بخاری کی ایک روایت میں چار کبائر کا ذکر آیا ہے: ’’ شرک، والدین کی نافرمانی، قتل اور جھوٹی قسم‘‘ (أکبر الکبائر ، الاشراک باللّٰہ و قتل النفس ، و عقوق الوالدین، وقول الزور ، أو قال : و شھادۃ الزور ، عن انس بن مالک ،( صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۲۵۶۲، باب قول ما قیل فی شھادۃ الزور ، کتاب الشھادات ، نیز دیکھئے : صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۸۸ ، باب بیان الکبائر و أکبرھا ، کتاب الایمان ) ابو طالب مکی ؒ کا بیان ہے کہ ’’ بہ حیثیت مجموعی احادیث اور صحابہ ث کے اقوال میں ستر کبائر کا ذکر ہے‘‘(احیاء العلوم : ۴/۷۱)
اس سلسلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ص ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ص اور حضرت عبد اللہ ابن عمر ص کے بیانات سے جن گناہوں کے کبائر ہونے کا غالب گمان ہوتا ہے، ان کا خلاصہ اس طرح ہے:
قلب سے متعلق گناہ : (چار) : شرک، گناہ پر اصرار، اللہ کی رحمت سے مایوسی ،اللہ کی پکڑ سے بے خوفی۔
زبان سے متعلق گناہ : ( چار) : جھوٹی گواہی، بہتان تراشی، جھوٹی قسم، جادو۔
پیٹ سے متعلق گناہ : (تین) : شراب نوشی، سود خوری، ظلمًا یتیم کا مال کھانا۔
شرم گاہ سے متعلق گناہ : ( دو) : زنا، اغلام بازی۔
ہاتھ سے متعلق گناہ : (دو) : قتل، چوری۔
پاؤں سے متعلق گناہ : (ایک ) : میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔
پورے جسم سے متعلق گناہ: ( ایک ) : والدین کی نافرمانی۔ (حوالۂ سابق: ۴/ ۸۱)
گناہ کبیرہ کسے کہتے ہیں ، اور اس کی تعریف کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں اہل علم سے بہت سے اقوال منقول ہیں ، لیکن ان سب کا ما حصل یہی ہے کہ جس گناہ پر لعنت کی گئی ہو، وعید وارد ہو، اور عذاب و عتاب کی دھمکی دی گئی ہو، اور ان کے درجہ کے دوسرے گناہ جن کا نصوص میں ذکر نہیں ، کبائر ہیں۔ کبائر پر عربی زبان میں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں حافظ شمس الدین ذہبی ؒ کی کتاب ’’ کتاب الکبائر‘‘ بڑی اہم ہے، اوراردو زبان میں بھی اس کے متعدد ترجمے شائع ہوچکے ہیں ۔
شرک ایسا گناہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتے ، خود قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود ہے: إن اللّٰہ لا یغفر أن یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء (النساء : ۸۴)
صغیرہ گناہ توبہ سے بھی معاف ہوتے ہیں ، نیک کاموں سے بھی اور کبائر سے اجتناب برتنے کی وجہ سے بھی ، کبیرہ گناہ اس وقت معاف ہوگا جب اس کے لئے مطلوب توبہ کی جائے ،یعنی اگر کسی گناہ پر شریعت نے قضاء ، کفارہ یا فدیہ واجب قرار دیا ہے ، تو اس کو پورا کیا جائے، اگر حقوق الناس سے متعلق ہو ، تو حق ادا کرے یا حق معاف کرالے ، ہاں جو گناہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں اور ان کے لئے کوئی قضاء ، کفارہ یا فدیہ واجب نہیں ، ان کی بابت زبان سے استغفار اور خوب ندامت اور آئندہ اس گناہ سے بچنے کے عزم و ارادہ کے ساتھ اللہ تعالی سے دعا اور اللہ کے سامنے پشیمانی ان گناہوں کی توبہ ہے ، اور اللہ تعالی توبہ قبول فرماتے ہیں، جس کا قرآن مجید میں بے شمار مواقع پر ذکر موجود ہے ۔ و ادعوہ خوفا و طمعا ان رحمت اللّٰہ قریب من المحسنین ( الاعراف : ۶۵)
آپ نے جن گناہوں کا ذکر کیا ہے وہ سب بھی کبائر میں داخل ہیں —– اللہ تعالی ہم سبھوں کی گناہ سے حفاظت فرمائے ، اور اپنی کوتاہیوں پر توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔

جھنڈے کے آگے جھکنا
سوال:15/ اگست اور 26/ جنوری کو جھنڈا بلند کیا جاتا ہے ، اس موقع پر مسلم شرکاء بھی ہاتھ اٹھا کر جھنڈے کو سلامی پیش کرتے ہیں ، اور جھنڈے کے آگے جھکتے ہیں، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟( بذریعہ فیکس)
جواب: جھنڈا لہرانا درست ہے، اور اہل علم نے اس کو جائز قرار دیا ہے، البتہ اس موقع سے کوئی ایسا عمل کرنا جس سے جھنڈے کی غیر معمولی تعظیم ظاہر ہوتی ہو، جیسے دونوں ہاتھ جوڑنا، یا جھکنا جائز نہیں، اسلامی نقطۂ نظر سے کسی بھی مخلوق کے ساتھ اس طرح کا تعظیمی سلوک روا نہیں ، حضرت انس ص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ا سے دریافت کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملتے ہوئے کیا اس کے لئے جھک سکتا ہے؟ ’’أینحنی لہ‘‘ ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ‘‘ (قال رجل: یا رسول اللّٰہ ا! الرجل منا یلقی أخاہ أو صدیقہ ، أینحنی لہ؟ قال:’’لا‘‘ (الجامع للترمذی : حدیث نمبر : ۸۲۷۲ ، عن أنس ص، باب ماجاء في المصاحفۃ ، أبواب الإستئذان و الآداب) معلوم ہوا کہ اس طرح کی تعظیم غیر اللہ کے لئے درست نہیں۔

نابالغ کا قبولِ اسلام
سوال: ہمارے محلہ میں ایک غیر مسلم لڑکا جو ابھی نابالغ ہے ، اس کی عمر ۳۱۔۴۱ سال ہے ، اس نے ختنہ بھی کر لیا ہے ، اور نماز کے لئے مسجد بھی آرہا ہے ، البتہ اس کے ماں باپ اس کی مخالفت کر رہے ہیں ، اس کے باوجود اس لڑکے نے نماز کو آنا جانا برقرار رکھا ہے ، آپ بتائیں کہ یہ کس حد تک صحیح ہے؟
جواب:- حضرت ابوہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسول ا نے ارشاد فرمایا کہ ہر بچہ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے ، اس کے والدین اسے یہودی ، یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ، حضرت ابوہریرہ ص نے یہ حدیث نقل کرکے وہ آیت تلاوت کی ، { فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا } (’’قال النبي ا : کل مولود یولد علی الفطرۃ ، فأبواہ یھودانہ و ینصرانہ و یمجسانہ کما تنتج البھیمۃ بھیمۃ جمعاء ھل تحسون فیھا من جدعاء ؟ ثم یقول أبو ھریرۃص : و اقرؤوا ان شئتم ! فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللّٰہ ( الروم : ۰۳ ) عن أبي ھریرۃ ص: صحیح مسلم : حدیث نمبر : ۸۵۶۲ ، باب لعنی کل مولود یولد علی الفطرۃ و حکم موت اطفال الکفار و اطفال المسلمین) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے، اور جو شخص فطرت کا باغی ہو ، وہی اسلام سے رو گردانی کرسکتا ہے ، اسی لئے فقہاء کے نزدیک جو بچہ شعور اور تمیز کی عمر کو پہنچ جائے ، اور اس میں دین و مذہب کی پہچان پیدا ہوجائے ، اس کا اسلام قبول کرنا معتبر ہے۔ اس لئے وہ لڑکا غیر مسلم نہیں بلکہ مسلمان ہے ، اور آپ کا مذہبی فریضہ ہے کہ اسے اس طرح اپنے سے قریب رکھیں کہ وہ دین حق پر ثابت قدم رہے ۔
’’ کان غلام یھودي یخدم النبيا فمرض ، فاتاہ النبيا یعودہ ، فقعد عند رأسہ ، فقال لہ : أسلم ! فنظر الی ابیہ و ھو عندہ ، فقالہ لہ : اطع ابا القاسم ا، فأسلم ‘‘ عن ابن عباس ، صحیح البخاری ، حدیث نمبر : ۶۵۳۱، باب ازا اسلم الصبی فمات ، ھل یصلی علیہ ، کتاب الجنائز ، نیز صاحب ھدایہ نے حضرت علی ص کے قبول اسلام کے واقعہ سے بھی استدلال کیا ہے : ’’لنا فیہ أن علیا ص أسلم في صباہ و صحح النبيا اسلامہ ‘‘ ( الھدایۃ : ۳/۶۰۶) اور یہی مسلک مالکیہ و حنابلہ کا بھی نقل کیا گیا ہے : ’’ و أما العقائد کالایمان فقد ذھب الحنفیۃ و المالکیۃ و الحنابلۃ الی أنہ یصح من الصبي ‘‘ ( الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ : ۷/۸۵۱ )
البتہ قانون ملکی کی رو سے جب تک لڑکے اٹھارہ سال کے نہ ہوجائیں ، تبدیلیٔ مذہب کا اعتبار نہیں، اس لئے جوں ہی وہ لڑکا اپنی تعلیمی اور پیدائشی دستاویز کے اعتبار سے اٹھارہ سال کا ہوجائے ، قبول اسلام کی سرٹیفکیٹ بنوادی جائے ، تاکہ کوئی قانونی دشواری پیدا نہ ہو ، آپ اس سلسلہ میں دفتر امارت ملت اسلامیہ سے رجوع کر سکتے ہیں ۔

قبولِ اسلام کا طریقہ
سوال:- اسلام قبول کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ اور کیا اس میں مردوں اور عورتوں میں فرق ہے؟
جواب: اسلام قبول کرنے کے لئے کلمہ شہادت ’’ أشہد أن لا إلٰہ إلا اللہ و أشہد أن محمدا رسول اللہ ‘‘ پڑھنا چاہئے ، اور کلمہ پڑھنے سے پہلے بہتر ہے کہ غسل کرلے ، (مسلم شریف: ۲/۶۳۳) اسی طرح صحابہ ث رسول اللہ ا کے ہاتھوں پر بیعت ایمان کیا کرتے تھے (’’عن قیس سمعت جریرًا ص : بایعت رسول اللّٰہ ا علی شھادۃ أن لا الٰہ لا اللّٰہ ، و أن محمدًا رسول اللّٰہ ‘‘ (صحیح البخاری : حدیث نمبر : ۷۵۱۳ ، باب ھل یبیع حاضر لباد بغیر اجر ، ھل یعینہ ینصحہ ، کتاب البیوع) یہی طریقہ اس میں مردوں کے لئے بھی ہے ، اور عورتوں کے لئے بھی ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker