مضامین ومقالات

کیوں گلے پڑگیا گلے ملنا؟

حفیظ نعمانی
دہلی بی جے پی کے صدر پر کبھی کبھی اس لئے رحم آتا ہے کہ وہ جس قدر پارٹی کی خدمت کرسکتے ہیں اس میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ 2014 ء اور اس کے بعد رات دن وہ جی جان سے اس لئے لگے رہے کہ الیکشن میں ان کو وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنایا جائے گا۔ لیکن موقع شناس اور طوطا چشم امت شاہ نے ان سے کہا کہ آپ بڑے لیڈر بنئے اور پوری دہلی کا الیکشن لڑایئے۔ رہی بات وزیر اعلیٰ کی تو اروند کجریوال کو ’’لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے کرن بیدی سے کٹوا دیجئے۔ صدر صاحب فلسفہ تو کیا سمجھتے بس صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔ یہ ان کی قسمت تھی کہ وہ صدر تو بنے رہے۔
الیکشن ہوا اور کرن بیدی خود بھی ہار گئیں اور پارٹی کا بھی جو حشر ہوا وہ سامنے ہے۔ یہ ٹکڑے پرزے ہونے والی پارٹی پھر ان کے سپرد کردی گئی اور اب ان کا ایک ہی مشن ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے گھر اور دفتر پر ہی ہفتہ یا پندرہ دن کے بعد چڑھائی کرتے رہیں اور ہزاروں ہونے والے خرچ کو لاکھوں کی شکل میں رجسٹر میں لکھتے رہیں۔ ایک زمانہ میں انہوں نے کجریوال کی ناکامی اور فضول خرچی کی پوسٹر بنواکر پوری دہلی کو آواز دی تھی اور اب ان سے بھی بڑے بڑے بینر پوری دہلی میں لگوائے ہیں جن کی لمبائی تین میٹر اور چوڑائی دو میٹر ہے۔ جس میں صرف یہ دکھایا گیا ہے کہ لالو یادو اروند کجریوال گلے مل رہے ہیں۔
حیرت ہے کہ پورے ملک میں یہ کیسے موضوع بن گیا؟ کانپتے ہاتھوں اور ہلتی گردن والے بزرگ وکیل شانتی بھوشن اس کے خلاف عدالت جانے کی دھمکی دے رہے ہیں اور ان کے فرزند پرشانت بھوشن جو کبھی کجریوال کا داہنا بازو ہوا کرتے تھے اور اب باہر بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ بھرشٹاچار کے خلاف مرن برت رکھنے والے اور لالو کو بھرشٹاچار کا سمبل کہنے والے نے لالو کو گلے لگا لیا۔ بات صرف اتنی ہی نہیں اور بھی جس کے جو منھ میں آرہا ہے وہ دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ لیکن حیرت تو ہمیں این ڈی ٹی وی انڈیا کے برتائو پر ہے کہ ان کا ہر رپورٹر اور نیوز ریڈر صرف ایک بات کہہ رہا ہے کہ ’’گلے پڑگیا گلے ملنا۔‘‘
دہلی کے محبوب وزیر اعلیٰ اروند کجریوال ایک صوبہ کے غیرکانگریسی اور غیربی جے پی وزیر اعلیٰ ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دل میں وہ نشتر کی طرح چبھتے ہیں۔ وزیر اعظم ان کے راستے میں جتنی رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں کرتے ہیں اور کجریوال ایک ماہر کھلاڑی کی طرح ان کی گرفت سے صاف بچ کر نکل جاتے ہیں۔ بہار کے الیکشن میں مودی صاحب نے دہلی کے مقابلہ میں چار گنا محنت کی اور امت شاہ کو اکھاڑے کے باہر بٹھاکر ہر کشتی خود لڑی اس کے باوجود جب ان کا حشر دہلی ہی جیسا ہوا تو لالو نتیش کے بعد اگر کسی کو خوش ہونے کا حق تھا تو وہ صرف کجریوال کو تھا اور نتیش کی تاجپوشی میں اگر کسی کو مہمان خصوصی بنایا جاتا تو وہ صرف کجریوال ہی بن سکتے تھے۔ اور جب وہ ایک چھوٹے سے ڈائس پر نہیں بڑے میدان میں بھی ہوتے تو کسی کے بھی بڑھے ہوئے ہاتھ کو جھٹکنا اور گلے ملنے سے کترانا بدتمیزی کہی جاتی۔
لالو کو جب چارہ گھٹالے میں سزا ہوئی تو اس سے پہلے بار بار وہ کہہ چکے تھے کہ میرا مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کردیا جائے۔ یہ جج میرا دشمن اور مخالفوں کا ایجنٹ ہے۔ یہ سزا دے دے گا۔ اور یہی ہوا لیکن یہ بات بہار والوں کو یاد رہی اور جو سب سے بڑی عدالت عوام کی ہوتی ہے اس نے ہر لیڈر اور ہر پارٹی سے کہیں زیادہ 80 سیٹیں دے کر ثابت کردیا کہ کیسے مودی، کہاں کے راہل اور کون سے نتیش؟؟؟ بہار کا لیڈر صرف لالو ہے۔ اس کے باوجود کجریوال نہیں لالو نے ہاتھ بڑھایا۔ لالو نے گلے لگاکر محبت کے جھٹکے دیئے مستقل ان کے ہاتھوں کا گھیرا کجریوال کی کمر پر رہا اور کجریوال کے ہاتھ لالو جی کی ٹانگوں پر رہے جس سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ محبت میں گلے نہیں ملا جارہا ہے بلکہ شرافت، تہذیب اور ادب کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ لالوجی نے ہی ہاتھ پکڑکر اٹھایا۔ سفید بالوں والے بزرگ لیڈر کا ہاتھ جھٹکنا آخری درجہ کی بدتمیزی تھی جو اگر کجریوال کرتے تو سب سے پہلے ہم اُن کے خلاف لکھتے۔
بی جے پی کے دہلی کے صدر اور تمام کرایہ کے ورکروں کو کیا یاد نہیں کہ اس سال کے شروع میں لالو یادو کی بیٹی اور ملائم سنگھ کے رشتہ کے پوتے کا تلک ہوا تھا جس میں وزیر اعظم اور بی جے پی کے آقا شری نریندر مودی دوڑے ہوئے گئے تھے اور ان کی وجہ سے اسے شاہی تلک کا نام دیا گیا تھا اور مودی صاحب گھنٹوں لالو اور ملائم کے اور پریوار کے درمیان رہے۔ اس تقریب میں کسی نے لالو سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی دنیا دوسری ہوتی ہے اور سماجی دوسری یہی بات دہلی بی جے پی کے صدر ٹی وی والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیاست اس وقت تھی جب الیکشن ہورہا تھا۔ اس وقت بھی لالو نتیش اور راہل مل کر لڑرہے تھے اور اسی محاذ کی کامیابی کے لئے اروند کجریوال نے عوام سے حمایت دینے کی اپیل کی تھی یعنی لالو اور راہل کو بھی کامیاب کرانے کی۔ رہا تاج پوشی کا جشن تو وہ سیاسی نہیں سماجی تقریب تھی جس میں فاروق عبداللہ بھی تھے بادل بھی تھے شیوسینا کے نمائندے بھی تھے۔ اس کی حیثیت وہی تھی جو 26 مئی 2014 ء کو مودی کی تاجپوشی کی تھی جس میں وہ نواز شریف بھی تھے اور لنکا کے وزیر اعظم بھی تھے اور نیپال کے صدر بھی جن تینوں سے اب سخت اختلاف ہے اور امریکہ میں ایک ہی ہوٹل میں مودی اور شریف رُکے لیکن ایک دوسرے کو دیکھ کر ایسے گذرے کہ ایک دوست کا شعر یاد دلاگئے۔ ؎
وہ جو بصد خرامِ ناز چلتے تھے دیکھ کر مجھے
آج نہ جانے کیا ہوا تیز قدم گذر گئے
بی جے پی کے ان سستے ورکروں کو کیا کچھ بھی یاد نہیں؟ یہی نواز شریف تھے جن سے ملنے کے لئے اٹل جی دوستی بس لے کر لاہور گئے تھے اور دل کھول کر گلے ملے تھے اور اسی پاکستان کے صدر پرویز مشرف تھے جنہیں اٹل جی نے آگرہ بلاکر گھنٹوں باتیں کی تھیں۔
کیا بی جے پی کے صدر دیکھ نہیں رہے کہ کجریوال کی بے مثال صلاحیت کو آخرکار اُن کے آقا مودی صاحب نے بھی تسلیم کرلیا اور دہلی کو پاک صاف کرانے کی مہم میں اپنا حصہ ثابت کرنے کے لئے 96 کروڑ روپئے کا چیک لے کر ونکیا نائیڈو جیسے بزرگ وزیر کو بھیجا۔ صرف اس ڈر سے کہ اگر کجریوال نے اکیلے دم پر دہلی کو دولھن بنا دیا تو ہمارے جھاڑو پیکیج کا کیا ہوگا؟
کجریوال اب اپنے بزرگ لیڈر اننا ہزارے کے ساتھی ہی نہیں ایک صوبہ کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں انہیں نہ جانے کتنی بار بڑے بڑے بھرشٹاچاریوں سے ملنا بھی پڑے گا ان سے مذاکرات بھی کرنا پڑیں گے ان کو گلے بھی لگانا پڑے گا۔ وہ امت شاہ کے پیسوں سے ڈمرو بجانے والے نہیں 67 ممبرانِ اسمبلی کے لیڈر ہیں اور پوری دہلی کی ایک امید ہیں۔ ان پر اگر کسی کو انگلی اٹھانا ہے تو اس دن اٹھائیں جب ثبوت کے ساتھ بتاسکیں کہ انہوں نے بھرشٹاچار کیا ہے۔ نئے بننے والے وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کے بھی ہیں جن پر دس سے زیادہ الزام ہیں۔ ہریانہ کے بھی ہیں جن کی حکومت میں مسلمان بھی مہینوں سے گائوں چھوڑے پڑے ہیں اور دلت معصوم بچے بھی مرغوں کی طرح بھون دیئے گئے۔ راجستھان کی رانی بھی ہیں جن پر للت مودی سے کروڑوں کے ہیر پھیر کی کہانیاں گونج رہی ہیں۔ کیا کوئی بی جے پی لیڈر یا شانتی بھون یا پرشانت اور یوگیندر یادو میں کوئی ایک ہے جو ثابت کرسکے کہ کجریوال نے دہلی کو کتنا نچوڑ کر پی لیا؟
کجریوال نے ٹرکوں، بسوں اور کاروں کی وجہ سے شہر کی ہوا کے زہریلے ہونے کے خلاف سائیکل ریلی کا نعرہ دیا۔ ہریانہ کے بھاجپائی وزیر اعلیٰ کی طرح نعرہ ہی نہیں دیا بلکہ 25 برس کے بعد خود سائیکل چلائی اور اعلان کیا کہ آئندہ بھی پروگرام جاری رہے گا۔ اب جو انہوں نے نعرہ دیا ہے کہ اپنے محلہ، سڑک اور گلی کے کوڑے کی موبائل پر اطلاع دیجئے 24 گھنٹے میں وہ صاف ہوجائے گا۔ اسی نعرہ کا ہی نتیجہ ہے کہ میڈیا جو کجریوال کی تاک میں ہمیشہ رہتا ہے وہ بھی کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اب تو دہلی کے اچھے دن آتے نظر آرہے ہیں۔ کاش مودی صاحب ضد چھوڑکر پولیس کجریوال کو دے دیں تو یقین ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، الالعزم اور کچھ کر دکھانے کے لئے بے قرار دہلی کو مثالی ریاست بناکر دکھادیں گے اور یہ انتہائی مبارک فیصلہ ہے کہ وہ دہلی کو آئیڈیل دہلی بنانے سے پہلے الیکشن سے اپنے کو دور ہی رکھیں گے۔
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker