مضامین ومقالات

ہنی سنگھ و کٹرینہ کی ضرورت نہیں؟

مدثر احمد
شیموگہ کرناٹک:9986437327
ماہ دسمبر قریب ہے اور اس مہینے میں تعلیمی اداروں کے سالانہ جلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ان اجلاس میں ہر ایک بچہ ادبی ،ثقافتی اور فنون و موسیقی کے مقابلوں میںشرکت کرتا ہے۔لیکن آج کل ایک بات نوٹ کی جارہی ہے کہ جو تعلیمی ادارے داخلے کے وقت بڑے بڑے اشتہارات و فلکسوں پر یہ جملہ تحریر کرواتے ہیں کہ ہمارے یہاں بچوں کو دینی و اسلامی تعلیمات سے آشناکیا جاتا ہے،انہیں اسلامی ماحول فراہم کیا جاتا ہے،ان کی تربیت کیلئے مارل ٹیچرس کا انتظام کیا گیا ہے۔یہ باتیں سن کر ایک عام مسلمان خوش ہوجاتا ہے کہ چلو ہم اپنے بچے کو ایک اچھے مسلم تعلیمی ادارے میں داخلہ دلوارہے ہیں اور ان کی دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی کچھ حد تک سنور جائیگی۔لیکن دینی تعلیم کا بھانڈا اُ س وقت کھلتا ہے جب سالانہ جلسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ان جلسوں میں معصوم بچوں سے لیکر جوانی کی دہلیز میںقدم رکھنے والے طلباء کیلئے جو مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں ا س سے دین و اسلام کا جذبہ رکھنے والے مہذب گھرانے کے لوگ شرمسار ہوجاتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچوں کو فلمی نغموں پر نچایا جاتا ہے اور ان بچوں کے ذہنوں میںفلمی ستاروں کی فحاشی کو بھرا جاتا ہے۔جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیوں ان ننھے نو نہالوں کو ان فلمی نغموں کے سروں پر نچایا جارہا ہے،تو اداروں کے ذمہ داروں کا ایک معصوم جواب ہوتا ہے کہ یہ تو چھوٹے بچے ہیں اس لئے کوئی مضائقہ نہیں،جب بچے بڑے ہوجائینگے تو انہیں اس طرح کے مقابلوں میں شامل نہیں کیا جائیگا۔کچھ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو ہائی اسکول کے طلباء کیلئے بھی فلمی نغموں کے ڈانس کرواتے ہیں۔ذرا سوچئے کہ یہ بچے تو اپنی صلاحیتوں کو اساتذہ کے کہنے پر فلموں کے گانوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں لیکن جو سامنے مہذب گھرانے کے لوگ بیٹھے ہوںاُن کے جذبات کیا کہیں گے؟۔ان جلسوں کو دیکھنے آئے ہوئے کچھ منچلے بھی نغموں و گانوں پر تھرکنے والے بچوں کے ٹھمکوں پر سیٹیاں و تالیاں بجائینگے تو والدین پر کیا بیتے گی۔اگر والدین مہذب گھرانے سے وابستہ ہوں توان کے دلوں میں اسلام کا جذبہ ہوتو اپنے آپ پر نادم ہونگے کہ ہم نے کیسی اسکول میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوایا ہے۔وہی اگر والدین بھی مغربیت وفلموں کے دیوانے ہوں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑیگا۔ہمارے تعلیمی ادارے ہمار ے لئے دینِ اسلام کی اشاعت کے مرکز بن سکتے ہیں،اگر ہم سالانہ جلسوں میں بچوں کے ذریعے سے دین واسلام کی تبلیغ کا کام کرتے ہیں تو اس سے دنیا وی ودینی دونوں فائدے پہنچے گے۔ہمارے بچوں کے ذریعے سے امہات المومنین کے پیغام کو عام کرسکتے ہیں،مجاہد اسلام کے کردار کو پیش کرسکتے ہیں،بیت بازی،غزل گوئی،نعت گوئی،ادبی نغموں کے ترانوں کو مسلمانوں کے درمیان پیش کرسکتے ہیں۔بیت بازی و کوئز جیسے مقابلوں کوپیش کرتے ہوئے بچوںکی ذہن سازی کی جاسکتی ہے ساتھ ہی ساتھ سامعین و ناظرین میں یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ہمار ا اسلام کیا ہے،ہمار اادب کیا ہے او رہمارا لٹریچر کیا ہے۔یہ سب سوچنے کی بات نہیں بلکہ عمل کی بات ہے۔اس کیلئے تعلیمی اداروں کو قدم اٹھاناہی ہوگا۔ڈانس و ڈیالگ کہہ کر ہمارے بچے مہذب مسلمان نہیں بن سکتے ۔ہمیں ہنی سنگھ و شاہ رخ خان کی ضرورت نہیں بلکہ سلطان صلاح الدین ایوبی و ٹیپو سلطان کی ضرورت ہے۔ہماری بیٹیاں کیٹرینہ کیف اور ملیکا شیراوت بننے کے بجائے حضرت رابعہ بصریؒ و زینب الغزالی جیسی ولی صفت بیٹیاں بنیں۔حالانکہ ہم وہ اوصاف نہیںہیں کہ ہماری بیٹی و بیٹوں سے ہمارے اوصاف بدلے او رگھروں کا ماحول بدلے۔جو نیک کام ہم نہیں کررہے ہیں وہ ہمارے بچے کریں اور ہمار ے بچوں کو نیک کام کرتے دیکھ کر ہم خود بھی صحیح راہ پر چلنے لگیں۔اس کیلئے تعلیمی اداروںکے ذمہ داروں کو چاہیے وہ مغربیت کو ٹھو کر ماکر اسلامی شعار و اردو ادب کو اپنائیںاور ان کے ماتحت تعلیم حاصل کررہے بچوں کو اس کی تعلیم دیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker