جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا انداز ہی کچھ اورہے

فکرامروز:مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
فکرو فن میں یکتا ،عظیم مدبر،انقلاب زندگی کے مبلغ،اسلامی فکروں کے محافظ،شریعت اسلامیہ کے امین،اپنے سلف کے ترجمان،خاندان فخررسل کے چشم وچراغ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکا تہم کا نام اس وقت اس عظیم شخصیت کے صف میں آتا ہے جو دین متین کی حفاظت کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ،جنہوں نے شریعت پر آنے والی ہر آنچ کو اپنے خون جگر سے بجھانے کو سعادت جانا ہے ،باطل طاقتوں کے سامنے حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ سینہ سپر ہوجانا جن کی خمیر میں شامل ہے ،جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سر بلندی کے لئے کھپادیا ،نہ تو دولت کی ہوس انہیں روک سکی اور نہ ہی خانقاہ کی چہار دیواری ان کے آڑے آئی ،رشدو ہدایت ،فکری سلامتی اور ایمانی حرارت کی لو تیز کرنے کے مقصد سے آنے والی انسانیت کی جم غفیر کو بھی مایوس نہیں فرمایا ،ہر ایک نے وہ حاصل کیا جس کی خواہش لے کر آئے تھے،ان کی لاتعداد خوبیوں کو دیکھ کے از خود اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کسی غیر معمولی اصل کے فرع ہیں ۔
مولانا ولی رحمانی صاحب کو دیکھنے والا گواہی دے سکتا ہے کہ واقعی انقلابی باپ نے اپنے پسر خوش خصال کی تربیت میں اپنی سرمایہ حیات کے قیمتی اوقات کو پوری امانت کے ساتھ لگا کر اس گل برگ کے مانند بنایا کہ جس میں چھاؤں بھی ہے اور دلوں کو تازہ دم رکھنے کے لئے بھینی بھینی خوشبو بھی ،یہی وجہ ہیکہ عظیم باپ کے صالح فکر اور سعادت مند بیٹے نے اس پدری تربیت کومکمل طور پر جذب کرکے عظیم باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سرور بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ان تمام خوابوں کوشرمندہ تعبیر کیا جس کے تکمیل کی آرزو وہ اپنے سینے میں لے کر گئے ہونگے ۔
یاد پڑتا ہے کہ جب ہم لوگ جامعہ رحمانی میں طالب علم ہوتے تھے تو اس وقت جامعہ کی اپنی عمارت کے علاوہ خانقاہ کے احاطے میں ایک کشادہ مسجد، اس سے متصل چند رہائشی کمرے ،حوض کے سرپر کشادہ لائبریری ،اس سے متصل مطبخ اور دو تین کمرے، لیکن اب جامعہ اور خانقاہ کا نقشہ بالکل بدلا ہوا ہے ،بڑی بڑی خوبصورت عمارتیں جو مختلف ناموں سے منسوب ہیں ،آنکھیں خیرہ کردینے والی یہ عمارت در اصل حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کے اس خوبصورت ذوق کا نمونہ ہے جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی ہے،وہ جہاں ایک باعمل عالم ہیں وہیں آپ نے اپنے علم کی تب وتاب سے برسوں بزم گہہ علم کو درخشندہ رکھا اور ساتھ ہی رزم گاہ استقامت میں آپ کے پاؤں میں لغزش تک پیدا نہیں ہوئی ،اگرحضرت اپنی خلوتوں کو ذکرواذکار اللہ سے مناجات اور آہ وفغاں سے آباد رکھتے ہیں تو آپ کی جلوت لوگوں کی اصلاح ،ملی مسائل کے حل ،افراد سازی اور بے شمار تعمیری کاموں کی کامیاب کوشسوں سے خالی نہیں رہتی ہے۔یہی وجہ ہیکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی مثبت اور منفی تبدیلیوں سے بخوبی واقف رہتے ہیں ،مولانا کی بے مثال جرأت اور ایمانی جوش و جذبہ اور مدبرانہ قیادت نے امت مسلمہ کو ہرنازک موقعہ پر سہارا دیا ہے، ملت کے لئے دردو کرب کا احساس اور ایمانی جوش و جذبہ ہر ایسے موقعہ پر انہیں میدان میں لا کھڑا کرتا ہے ،جب ملت فرقہ پرستوں ،حکومت کی نا اہلی اور مغربی طاقتوں کی چیرہ دستی سے خود کو پریشان محسوس کر تی ہے ۔
ابھی اس ملک میں سوریہ نمسکار اور یو گا جیسا مسئلہ جب اٹھ کھڑا ہوا تو حضرت بے چین ہوگئے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے دین بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کا آغاز پورے شدو مد کے ساتھ فرمایا جو ملک کے کونے کونے میں تواتر کے ساتھ جاری ہے ۔ملک کے عظیم عالم دین اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر ذی وقار حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم نے حضرت پر اعتماد کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں ہی کا رگذارجنرل سکریٹری نامزد فرمادیا ۔
امارت شرعیہ ملت اسلامیہ کے لئے دھڑکتے دل کے مانند ہے ،جس پر عمائدین ملت ،علمائے کرام اوردرمندان امت کو بجا طور پر فخر حاصل ہے ۔ایک موقعہ پر حضرت مولانا سیدابوالحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : ’’اگر مجھے ہندوستان کے کسی صوبہ پررشک آتا ہے تو وہ بہار ہے۔ اور اگر بہار پررشک آتا ہے تو وہ امارت شرعیہ کی وجہ سے کہ وہاں مسلمان اس کی بدولت ایک ایک ایسی زندگی گذاررہے ہیں جو معتبر اسلامی زندگی سے قریب تر اور جاہلی غیراسلامی زندگی سے بعید ترہے‘‘۔
حضرت علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جملہ سند کی حیثیت رکھتا ہے ،جو یقینا اس کے ذریعہ کئے گئے عظیم کارناموں کی وجہ کر ہے ۔امارت نے مسلمانوں کی رہنمائی کے جو فرائض انجام دیئے ہیںوہ قابل رشک ہیں اور یہ سب بانی امارت شرعیہ حضرت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اخلاص کیوجہ کر ہوسکا جس میں ان کے رفقا ءحضرت مولانا سیدمحمدعلی مونگیریؒ ،مولانا ابولکلام آزادؒ ،مولانا حبیب الرحمان عثمانی ؒ،علامہ سید سلیمان ندویؒ، مفتی کفایت اللہ ؒ،مولانا عبدالاحدؒاور دوسرے بڑے علماء کی آہ سحر گاہی کا خاص دخل ہے ۔امارت کے پہلے امیر شریعت حضرت مولنا شاہ بدرالدین صاحب منتخب ہوئے ، امارت کو ترقی دینے اور اسے فعال بنانے میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ ،حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ اور حضرت امیرشریعت مولاناسید نظام الدین صاحبؒ کا بڑا دخل رہا اور یہ بھی ایک سچ ہےکہ نائب امیرشریعت کی حیثیت سے حضرت مولانا ولی رحمانی بھی اس کے ترقی وترویج میں پیش یش رہے ۔
29/نومبر بروز اتوار کو ارریہ کے دارالعلوم رحمانی میں ارباب حل وعقد کا اجتماع ہونا ہے جس میں امیرشریعت کا انتخاب ہوگا یہ تو ارباب حل وعقد کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسے منتخب کرینگے لیکن ملکی حالات کے پیش نظر حضرت مولانا سید محمدولی رحمانی دامت برکاتہم کا انتخاب وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اگر تھوڑی بھی غیر دانشمندانہ رجحان کو اپنایا گیا تو یہ کہا جاسکتا ہے ۔
لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی
(بصیرت فیچرس)
* استاد دارالعلوم سبیل الفلاح جالے
*امام وخطیب جالے جامع مسجد
*رابطہ نمبر :9431450418

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker