مضامین ومقالات

امیر شریعت کے لئے مولاناسیدمحمد ولی رحمانی مدظلہ‘ سب سے لائق شخصیت

حرف آگہی:محمد ارشد فیضی قاسمی
جی ہاں آج امیر شریعت سادس حضرت مولانا نظام الدین قاسمی علیہ الرحمہ کے بعد امارت شرعیہ بہار و جھارکھنڈ کے نئے امیر شریعت کا انتخاب ہونا ہے۔ ارباب حل وعقد اپنے اپنے خیالات کے ساتھ ارریہ کی تاریخی سر زمین پر ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ،کس کے دل میں کیا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں معلوم ،اب اس منظرنامے میں اگلا امیر شریعت کون ہوگا،اور کس کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے یہ تو ارباب حل وعقد کی ہنگامی میٹنگ کے بعد ہی سامنے آسکے گا ،لیکن اس سے پہلے ہمیں اتنا تو ضرور ہی سوچ لینا ہوگا کہ ذاتی مفادات سے بہت اوپر اٹھ کر امارت شرعیہ جیسے پلیٹ فارم کی قیادت کے لئے ان ہی افراد کا نام سامنے لاکر کسی ایک کے نام پر اتفاق کیا جانا چاہئے جن کی پوری زندگی نہ صرف قومی خدمت سے عبارت رہی ہو بلکہ ان کے سینے میں قوم وملت کا ایسا درد ہو جو ان کو ہر لمحہ بے چین وبے قرار رکھتا ہو ،جو اگر ایک طرف مسلمانوں کی دینی قیادت ورہنمائی کے لئے شریعت کے اصول وضابطے سے پوری طرح واقف ہو تو دوسری طرف ملکی قانون پر بھی گہری نظر رکھتا ہو اور ملک کے جمہوری قانون کی باریکیوں سے اس حد تک واقف ہو کہ جب اور جس لمحہ ضرورت پڑے حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور اپنے مذہبی ودینی حقوق کی بقا وتحفظ کے لئے آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہو ،کیونکہ امارت شرعیہ کوئی معمولی پلیٹ فارم نہیں بلکہ مسلمانوں کے حسین خوابوں اور اکابر کے سپنوں کی وہ تعبیر ہے جس نے زندگی کے ہر نازک موڑ پر مسلم قوم کی قابل رشک قیادت ورہنمائی کا فرض نبھایا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنے ابتک کے طویل سفر کے دوران اس ادارہ نے کسی منزل پر رک کر آرام کر لیا ہو یا کسی جگہ تھک ہار کر بیٹھ گیا ہو ایسا کوئی ایک بھی واقعہ اس کی پوری زندگی میں کہیں دکھائی نہیں پڑتا ،حالانکہ تاریخی سچ تو یہ بھی ہے کہ اس دوران نہ معلوم کتنی بار قدم قدم پر کھڑے مسائل ومصائب نے ان کے بڑھتے قدم کو روکنے اور اس کے کردار کو داغدار بنانے کی کوشش کی اور اس کی حیثیت عرفی کو پامال کر دینا چاہا ،لیکن یہ اس ادارہ کا امتیاز ہی ہے کہ اس نے بلا کسی شکوہ شکایت کے ہمیشہ خود کو اپنی منزل کی طرف رواں دواں رکھا ،آج یہ امارت شرعیہ جس وقار و اعتبار کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ کر ملت کی قیادت ورہنمائی کا فرض نبھارہا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ادارہ کے امیر شریعت کی حیثیت سے وہی شخصیتیں منتخب ہوتی رہیں اپنےجو اندر پہاڑوں سے ٹکرانے اور آندھیوں سے لڑ جانے کا حوصلہ اور ہنر رکھتے تھے ،اس لئے اب بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ امیر شریعت کا انتخاب کرتے وقت ارباب حل وعقد ان پہلوؤں کو سامنے رکھیں کیونکہ اس وقت ملک وقوم کے جو مجموعی حالات ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں، اگر پوری ایمانداری کے ساتھ ملکی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ چونکانے والی تصویر ابھر کر آئے گی کہ کسی دور میں امن وسکون اور اتحاد و یکجہتی کا گہوارہ کہلانے والا ملک ہندوستان اس وقت پوری طرح عدم اطمینان اور غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے ،ایک طرف جہاں یہ ملک آزادی کی پہلی صبح سے لے کر آج تک دہشت گردی کے سنگین مسئلے میں پھنس کر اپنی قسمت کا ماتم کر رہا ہے وہیں دوسری طرف فرقہ واریت ،مذہبی منافرت ،تہذیبی و لسانی عصبیت اور تعصب و تشدد کے بڑھتے اثرات نے اس ملک کو ایسے نازک موڑ تک پہونچا دیا ہے جسے نہ تو کسی بھی اعتبار سے اطمینان بخش کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسے حالات میں ملک کے اندر کسی خوشگوار ماحول کے پنپنے کی امید لگائی جا سکتی ہے،حد تو یہ ہے کہ ملک دشمن اور فرقہ پرستی کے سہارے اپنے مفادات کے تحفظ کا خواب دیکھنے والی طاقتیں اپنے ناپاک عزائم کے تحت ہندوستان کے خوبصورت چہرے سے جمہوریت کی چادر کو اتار کر اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی سازشوں میں ایسی ڈھٹائی سے مصروف ہیں جس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک کے چپے چپے اور کو نے کو نے میں نفرت و عداوت ظلم و بر بریت اور انا رکی کی ایسی آگ جل ر ہی ہے جو کسی بھی وقت ملک کے وقار کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے ،اس صورت حال کی وجہ سے نہ صرف ہر شخص ڈرا سہما اورآنے والے ایام میں پیش آنے والے حادثات سے خوفزدہ ہے بلکہ کل تک آپسی محبت کی لڑی میں پرو کر رہنے اور ایک دوسرے کے درد و نفسیات کو سمجھ کر ملک کی ہر سو ترقی و خوشحالی کا فرض نبھانے والی قومیں ہی آپس میں دست بگریباں ہیں اور وہ اپنے ہی ہاتھوں اس ملک کی جمہوریت کا گلا گھونٹتی دکھائی پڑ رہی ہیں ،عالم تو یہ ہے کہ ایک طرف جہاں خود غرضانہ سیاست کے تحت ملک کی جمہوریت پر سوالیہ لکیر کھینچی جا رہی ہے وہیں دوسری طرف بڑے پیمانے پر ایسے تانے بانے بنے جا رہے ہیں جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ معلوم ہو تے ہیں ۔
اس پورے منظر نامے میں مسلمانوں کی حالت بھی عجیب و غریب کشمکش کی شکار ہے یوں تو مسلمان طبقہ فرقہ پرستی اور حکومتی نا انصافی کا ہمیشہ سے ہی شکار رہا ہے لیکن آج اس میں اتنی شدت آگئ ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ،مسلمان طبقہ میں ہر طرف بے اطمینانی و افرا تفری کا بازار گرم ہے ،کھلے عام ان کی عزت و آبرو کے سودے ہو رہے ہیں ،ان کے خون سے ہولیاں کہیل کر ان کی قوم پرستی کا امتحان لیا جا رہا ہے ،دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت مسلمانوں کی نئی نسل کے مستقبل کو تاریکی کی دلدل میں پھنسانے کی منظم سازشیں رچی جارہی ہیں ،سوریہ نمسکار اور وندے ماترم جیسے شرکیہ اعمال کے ذریعہ ان کے مذہبی تشخص کو پامال کرکے مسلمانوں کو اپنے ہی دین سے بے گا نہ بنا دینے کا گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،مسلمانوں کے عائلی مسائل میں مداخلت کی آواز اٹھا کر ان کے جذ بات کو ٹٹولنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کو تعلیمی و اقتصادی اعتبار سے کمزور کر دینے کے حربے اپنائے جا رہے ہیں اور یہی نہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ جس قوم نے ملک کی آزادی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں اہم رول ادا کیا ،جس قوم نے ظالم انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی ،جس کے آباو اجداد نے مادر وطن کی خاطر ڈیڑھ سو سال تک مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،جس قوم کے لوکوں نے تنہا انگریزوں کے مظالم سہے اور اس ملک کی آبرو کو بچانے کی خاطر پھانسی کے پھندے کو چوم کر خوشی خوشی اپنے گلے کا ہار بنا لیا ،جس قوم کو آزادی کی آواز اٹھانے کے جرم میں سلاخوں کے پیچھے ظلم و تشدد کا نشانہ بنا یا گیا ،جس کے پرکھوں نے اس ملک کو تاج محل کا حسن،لال قلعہ کی عظمت ، قطب مینار کا وقار اور جامع مسجد دہلی کی رعنائ دی اور اپنا لہو دے کر اس چمن کو ہرا بھرا اور خوبصورت بنا نے میں وہ کردار نبھایا جسے تاریخ کے پنوں سے چھانٹ کر الگ نہیں کیا جا سکتا ،لیکن ان سب کے باوجود آج وہی قوم اپنے حقوق کے لئے اس ملک میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور ان ہی کی اولاد کو دہشت گرد غدار وطن اور ملک دشمن کے لقب سے نواز کر ان کی غیرت کا امتحان لیا جا رہا ہے،کبھی ان کی عبادت گاہوں اور ان کی دینی درسگاہوں پر تر چھی نگاہ ڈال کر عالمی برادری کی نظر میں انہیں مشکوک بنا نے کی کوشش کی جا رہی ہےتو کبھی پورے ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے لئے درسی نصابوں میں تبدیلی لانے کی حیلہ سازی ہو رہی ہے ،غرض یہ کہ یہ اور اس طرح کے بے شمار ایسے حالات ہیں جس کی وجہ سے ملک کی جمہوریت اس وقت ننگی تلوار کی دھار پر کھڑی ہے اور اس کی جمہوریت پر خطرات کے ایسے بادل چھارہے ہیں جس کے چھٹنے کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں پڑتے۔
ظاہر ہے کہ ایسی حساس صورت حال میں ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمانوں کا ذمہ دار طبقہ آپس کی دوریوں ،جماعتی و مسلکی اختلافات اور رنجشوں کو بالائے طاق رکھ کر پوری ذمہ داری و دیانت داری کے ساتھ انکا حل تلاش کر نے کے لئے امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی حیثیت سے کسی ایسے شخص کا انتخاب کرنے کی جد و جہد کر تا جو امارت شرعیہ جیسے باوقار پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے ساتھ ملک کے جمہوری اقدار کی بقا و تحفظ کے لئے سیدھے سیدھے حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا اور ان کو صاف لفظوں میں بتا دیتا کہ مسلمان سب کچھ جھیل سکتا ہے مگر نہ تو اپنے مذہبی امور سے دست بردار ہو سکتاہے اور نہ ہی ملکی سالمیت اور اس کی جمہوریت کے خلاف کسی آواز کو برداشت کر سکتا ،کیوں کہ یہ ملک ہمارا ہے ،اور اس کی دھرتی کو سیچنے سنوارنے میں ہمارے اکابر کا لہو لگا ہے اور یہ طے ہے کہ اگر یہ ملک اسی روش کا شکار رہا اور اسے ان حالات کے گرداب سے نکالنے کی فکر نہیں کی گئی تو مہاتما گاندھی ،حضرت شیخ الہند ،مولانا حسین احمد مدنی اور ان جیسے سینکڑوں امن پسند لوگوں کی قربانیوں سے ترنگے کی شان کے ساتھ آزاد کہلانے والا یہ ملک ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جا ئے گا ،ایسی صورت حال میں جب میں اپنی نگاہیں اٹھاکر دیکھتا ہوں تو مجھے انسانوں اور نامور علماء کی بھیڑ میں بھی میں ملت کا وقار اور اس کی آبرو کہلانے والے حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب دامت بر کاتہم کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا جو اپنے اندر امارت کے بوجھ کو پوری حوصلہ مندی اور ایمانداری کے ساتھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو ،معاف کیجئے میں یہ بات اس لئے نہیں کہ رہا ہوں کہ مولانا ولی رحمانی دامت بر کاتہم ایک بڑے باپ کی قابل فخر اولاد ہیں یا یہ کہ امارت کو سینچنے سنوارنے میں ان کے والد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کی بے مثال قربانیاں رہی ہیں ،بلکہ محض اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ذاتی صلاحیت اور خوبیوں کی وجہ سے اپنی اب تک کی زندگی میں قوم وملت کی شاندار قیادت ورہنمائی کا جو فرض نبھایا ہے اسکی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے جسے قطعی نظر انداز کر کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا،اور یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے والد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ،حضرت مولانا علی میاں ندوی ،حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ،مولانا رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم اور امیر شریعت سادس مولانا نظام الدین قاسمی علیہ الرحمہ جیسے باوقار علماء کی قیادت و سرپرستی میں ملک کے اندر دین کی بقاء تحفظ کے حوالے سے وہ نمایاں کارنامے انجام دئے ہیں جنہیں فراموش کر دینا تاریخ کی سچائی پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے ،اور ماضی کی تاریخوں میں آپ کا یہ بھی امتیاز رہا کہ آپ نے حالات کے اشا روں کو سمجھنے اور مسلمانو ں کے خلاف بڑھنے والے کسی بھی قدم کو روکنے میں ترددیا تذبذب سے کام نہیں لیا ،آپ یقین کیجئے میں بڑے اعتماد سے کہتا ہو ں کہ آج تک مسلم پرسنل لا بورڈ نے قوم کی دینی رہنمائی کا فرض جس خوش اصلوبی سے نبھا یا ہے اس کی اپنی ایک شاندار تاریخ ہے ،اور اگر آپ کا حافظہ ساتھ دے تو یاد کیجئے کہ آزادی کے بعدسےلے کر آج تک امت پر جب بھی کو ئی مشکل گھڑی آئی مسلم پرسنل لا نے سب سے پہلے بڑھ کر ملت کو سہا را دیا ،اور آج بھی جبکہ ملک کو بھگو رنگ میں رنگنے اور مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو پامال کر دینے کی گھناونی سازش رچی جارہی ہے مسلم پرسنل لاء آہنی دیوار کی طرح باطل پرستوں کے سامنے نہ صرف کھڑی ہے بلکہ مو لانا ولی رحمانی جیسی بیدار مغز شخصیت کی قیادت میں وہ خدمات انجام دے رہی ہیں جنہیں اعتماد کی سند دی جا سکے ،دین بچاو تحریک بھی ان کی اسی فکر مندی کی منھ بولتی تصویر ہے،اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ارباب حل وعقد نے امارت شرعیہ کے امیر شریعت کی حیثیت سے مولانا ولی رحمانی دامت برکاتہم کاانتخاب کر لیا تو امارت کو ایک لائق شخص کی قیادت میں آگے بڑھنے کا تاریخی موقع مل سکتا ہے ،تاہم فیصلہ ارباب حل وعقد کے ہاتھ ہے ۔(بصیرت فیچرس)
(مضمون نگار بہار کی مشہور تنظیم پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر اور بصیرت نیوز پورٹل کے جوائنٹ ایڈیٹر ہیں )

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker