مضامین ومقالات

آزمائش کی گھڑی اوراسوۂ اسلاف

نثار احمدحصیر قاسمی
ہرمسلمان نے اسلامی تاریخ اورسیرت کی کتابوں میں پڑھاہے اوریہ واقعہ مشہور ہے کہ قبائل عرب میں سے عضل وقارہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضـر ہوا اوراپنے اسلام کا اظہار کرتے ہوئے آپ ﷺ سے خواہش کی کہ آپ اپنے اصحاب میں سے کچھ معلمین اورداعی حضرات کو ان کے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ ان لوگوں کو کتاب وسنت کی تعلیم دیں جو اسلام قبول کرچکے ہیں اورجو اسلام نہیں لائے ہیں انہیں اسلام کی دعوت دیں، آپ ﷺ نے ان کے ساتھ کتاب اللہ کا علم رکھنے والے قراء میں سے سب بہترین سات قراء کو ان کے ساتھ روانہ کردیا، مگر ان لوگوں نے رجیع کے مقام پر پہنچ کر دھوکا دیا اورغداری کرتے ہوئے بعض قراء صحابہ کو قتل کردیا، اورکچھ کو قیدی بنالیا، جن لوگوں کو انہوں نے قیدی بنایا تھا ان میں سے ایک حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ تھے، ان لوگوں نے انہیں مکہ والوں میں سے ایک کے ہاتھ فروخت کردیا، حضرت خبیب خریدار کے گھر میں قید اورپابہ زنجیر وسلاسل تھے، وہ بدر میں اپنے مقتول کے بدلہ میں انہیں قتل کرنا چاہتے تھے کیوں کہ انہوں نے ہی انہیں بدر میں قتل کیاتھا، وہ انہیں حرم سے باہر لیجاکر جب قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس حبس میں ان کے بال چونکہ بڑے ہوچکے تھے، ایک دن انہوں نے اپنے زائد اورزیرناف بال کو صاف کرنے کے لئے اہل خانہ سے استرا مانگا، تو انہیں استرا دے دیا گیا، استرا ان کے ہاتھ ہی میں تھا کہ ان کا ایک معصوم بچہ کھسکتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گیا، انہوں نے اس معصوم بچے کو اٹھا کر اپنے گود میں رکھ لیا اوراس سے پیار کرنے لگے بچے کی ماں یاگھر کی خاتون نے بچے کو ان کے گود میں دیکھ کر جب کہ استرا ان کے ہاتھ میں تھا گھبرا گئی کہ کہیں خبیب انتقام میں اس بچے کو ذبح نہ کرڈالیں، اس کی گھبراہٹ وبے چینی اورچہرے کے متشوش آثار کو دیکھ کر خبیب مسکرائے اوربولے کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں اس بچے کو قتل کردوںگا؟ ان شاء اللہ میں ایسا ہرگز نہیں کروںگا، پھر انہوں نے اس بچے کو سینے سے لگایا اس کا بوسہ لیا پھر اس کی ماں کو دیدیا۔
یہ ایک واقعہ ہے، ورنہ ہماری تاریخ کی کتابیں اورذخیرۂ احادیث اس طرح کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں کہ محمد عربی ﷺ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اخلاق ایسے ہی تھے، وہ ہرحال میں خون کے آخری قطرے اورآخری سانس تک ذمے کی حفاظت کرتے، عہدکو پورا کرتے اوربے گناہوں کو تکلیف پہچانے سے اجتناب کرتے تھے، ان کے دل بغض وحسد، کینہ وکدورت اورجذبۂ انتقام سے بالکل پاک تھے، انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر لے جایاگیا، اورقتل کی جب ساری تیاری مکمل کرلی گئی تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت مانگی، پھر ان کی اجازت سے دو رکعت ہلکی پھلکی نماز ادا کی اورفرمایا کہ اگر آپ لوگ یہ خیال نہ کرتے کہ میں نے موت کے خوف سے نماز لمبی کی ہے تو میں خوب لمبی نماز پڑھتا، پھر ان لوگوں نے خبیب سے پوچھا کیا آپ کو یہ پسند ہے کہ آپ کی جگہ محمد ہوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ میں اپنے گھر والوں میں ہوں اورمحمدﷺ کے پائوں میں کوئی کانٹا بھی چبھے، صحابہ کرام کا یہ سلوک یہ انداز اوریہ جذبات اس لئے تھے کہ ایمان اوراس کے تقاضے ان پر غالب آچکے تھے، ایمان کی حلاوت وبشاشت اوراس کی چاشنی ان کے دلوں میں رچ بس گئی تھی، وہ رسول خدا سے سچی محبت کرنے والے اوراپنے رسول محبوب اوررب ذوالجلال کے حکم کو ماننے والے تھے، اس کی خلاف ورزی انہیں گوارا نہیں تھی۔
اس آخری لمحہ میں جس وقت کہ کافر بھی ایمان لے آتا اورجھوٹا بھی سچ بولنے لگتاہے، انہوں رسول اللہ ﷺ کو، اپنے گھروالوں کو، اورتمام مؤمنین کو ایک پغام بھیجنے کا ارادہ کیا، اوراس کا بہترین راستہ ووسیلہ شعرتھا کیونکہ شعر کوعرب یاد کرلیتے اوراسے ایک دوسرے سے نقل کرتے رہتے ہیں کبھی یہ زبان زدعام بھی ہوجاتاہے، انہوں اس پیغام رسانی کے لئے جو اشعار کہے تھے اس کا ترجمہ ہے۔
لوگ میرے گرد گروہ درگروہ جمع ہوگئے ہیں
اپنے قبائل کو چڑھالائے ہیں اورسارا
مجمع جمع کرلیا ہے، اپنے بیٹوں اورعورتوں کو بھی
قریب لے آئے ہیں اورمجھے ایک لمبے مضبوط
تنے کے قریب کردیا گیاہے، میں اپنی بے وطنی وبے کسی
کا شکوہ اوراپنی قتل گاہ کے پاس گروہوں کی
جمع کردہ آفات کی فریاد اللہ ہی سے کررہاہوں
اے عرش والے! میرے خلاف دشمنوں کے جو
ارادے ہیں اس پر مجھے صبردے
انہوں نے مجھے بوٹی بوٹی کردیا ہے اورمیری خوراک بری ہوگئی ہے، انہوں نے مجھے کفر کا اختیار دیا ہے حالانکہ موت اس سے کمتر اورآسان ہے، میری آنکھیں آنسو کے بغیر امنڈ آئیں، میں مسلمان مارا جائوں تو مجھے پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو قتل ہوںگا یہ تو اللہ کی ذات کے لئے ہے اوروہ چاہے تو بوٹی بوٹی کئے ہوئے اعضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت دے، میں دشمن کے سامنے خوف وہراس اورگریہ کا اظہار کرنے والا نہیں ہوں بلکہ میں تو اپنے اللہ کی طرف واپس جارہاہوں۔
صحابی رسول حضرت خبیب نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کس قدر صبر وسکون، ثابت قدمی، تسلیم ورضا، اللہ کی حمد ثناء اورشہادت پانے پر اللہ کے شکر کا اظہار اورموت کی بے وقعتی ولاپروائی کا اعلان کیا ہے، اس سے ہرمسلمان کو سبق لینا چاہئے، خاص طور پر وہ مسلمان جو ابتلاء وآزمائش کا شکار ہیں، آج آرایس ایس کے غنڈے اور اس کی شاخیں بے جی پی، بجرنگ دل، وی ایچ پی اور اس طرح کی دہشت گرد تنظیمیں مندروں کی مورتیوں کو توڑرہے اوراس کے بہانے فسادات کرانے میں پوری تندہی سے لگے ہوئے ہیں بہار بنگال اورجہاں جہاں الکشن ہونے والا ہے وہاں کے ماحول کو خراب کیا جارہاہے، یہ بی جے پی کے فسادی ہندومسلم خونی کھیل کھیلنے کے لئے مندروں میں گائے کاسر، ران اورگوشت پھینک رہے اورمسجدوں میں سور پھینک رہے ہیں، اورپورے ملک میں آگ لگاکر مسلمانوں کو پریشان کرناچاہتے ہیں، مسلمانوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہے اوران کے خلاف قانون پاس کئے جارہے ہیں، ظالموں کی حکمرانی ہے وہ اپنی طاقت کا بے لگام مظاہرہ کررہے اورمسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا چاہتے ہیں، وہ اپنی حرکتوں سے اپنی بدعنوانیوں، ناکامیوں اورگھوٹالوں سے توجہ ہٹاکر ملک کے باشندوں کو مذہبی نزاع میں پھنساکر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے، اپنے اقتدار کو دوام بخشنا چاہتے اوربے گناہوں کے خون کی قیمت پر اپنی حکمرانی کو استحکام بخشنا چاہتے ہیں وہ اپنی اس انسانیت سوز حرکتوں سے انسانیت کو شرمسار کررہے ہیں مگر وہ اس پر فخر کررہے ہیں، ہر چھوٹا بڑا، عورت مرد، کمزور وبیمار ان کے نشانے پر ہیں، بے گناہوں کو سزائیں دیکر اورانہیں عذاب میں مبتلا کرکے وہ خوش ہورہے ہیں، وہ رائے کا اظہار کرنے والوں، تنقید کرنے والوں اوران کے کرتوتوں کا پردہ فاش کرنے والوں کو قتل کرکے راستہ صاف کررہے یا انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انہیں پریشان کرہے ہیں،ان کی زندگی تباہ وبرباد کی جارہی، یاسیاسی منظر نامے سے ہٹایا جارہاہے، اس وقت ملک کے حالات نہایت دگرگوں ہیں، مسلمانوں کا جینا دو بھر ہوگیاہے، انہیں عافیت کی تلاش ہے، جو انہیں میسر نہیں آرہی ہے اللہ کے نبی ﷺ نے ایک بار اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا جان اللہ سے دنیا وآخرت دونوں کی عافیت طلب کریں (مسند احمد، ترمذی) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ کسی کو عافیت سے بہتر اوراس سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں دیاگیا۔
پکا سچا مسلمان وہ ہے کہ جب وہ ابتلاء وآزمائش سے دو چار ہوتا ہے تو وہ اس پر صبر کرتا، حو صلہ مند وپرعزم رہتاہے، وہ اللہ ہی سے مدد طلب کرتا اوراسی کی پناہ حاصل کرتاہے، مسلمان جب مصائب ومشکلات اورناموافق حالات میں خود کو ان ہتھیاروں سے لیس کرلیتاہے تو اللہ تعالیٰ آگ کو بھی ٹھنڈا کردیتا اوراسے سلامتی کا ذریعہ بنادیتاہے۔
حضرت خبیب آخری لمحات میں تختۂ دار پر چڑھتے ہوئے بھی پرسکون ومطمئن، راضی وخوش اورخود کو مامون محسوس کررہے تھے، انہوں نے نہ چیخ وپکار کی، نہ واویلا مچایا اورنہ ہی ناگواری وبے چینی کا اظہار کیا، کیونکہ وہ اللہ کی رسی کو تھامے ہوئے تھے، وہ اللہ سے مربوط اوراس سے ملنے کے منتظر تھے، وہ اپنی جنت اوراس میں ملنے والی نعمتوں سے خوش تھے، امت اسلامیہ کی سرحدوں کی پاسبانی کرنے والوں نے ہمیں یہی درس دیا اوریہی سکھایاہے، ان کے واقعات آج بھی ہمارے اندر جانفروشی، بہادری، صبر واستقامت، نظم وضبط اونچے اقدار واخلاق کی روح پھونکتیں اورہمارے اندر ولولہ پیدا کرتی ہیں، حضرت خبیب کا واقعہ ان اصحاب الاخدود کے واقعہ جیسا ہے جنہیں زندہ آگ میں جھونک دیا گیا تھا مگر وہ اپنے ایمان پر قائم رہے ان کے قدم نہ ڈگمگائے اورنہ اس میں ذرہ برابر جنبش آئی، ان کی اس ثابت قدمی نے ان اصول ومبادی کو فتح وکامرانی سے ہمکنار کیا جسے وہ کامیاب بنانا چاہتے تھے اورجس کے لئے انہوں نے قربانیاں دیں اوراپنے لہو بہائے یہاں تک کہ ان کے شیر خوار ومعصوم بچوں اورعورتوں کو نذر آتش کردیا گیا پھر بھی ان کے عقیدہ وایمان میں کوئی تذبذب پیدا نہیں ہوا اورنہ ان کے قدم راستے سے ہٹے، اس ثابت قدمی وجواں حوصلے کے صلہ میں ہی اللہ نے اقتدار ان کے ہاتھ میں دیا اورظالموں کے لئے زوال مقدر ہوا، ایسے ہی صابروں وثابت قدموں کا استقبال فرشتے خوشبووں اورلازوال نعمتوں سے کرتے ہیں، اورسخت گھڑی کے اندر فرشتے ان کی مدد کے لئے پہنچتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو بلکہ اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دئے گئے ہو، تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اورآخرت میں بھی رہیں گے۔ (فصلت، حم سجدہ،۳۰۰)
اللہ تعالیٰ نے ان کی یادوں کو قیامت تک کے لئے اپنی کتاب عزیز میں محظوظ کردیا جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی، اللہ نے انہیں ہمارے لئے اسوہ ونمونہ بنایا تاکہ ہم اپنے ملک میں یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں اگر مسلمان ابتلاء وآزمائش میں گھرے ہوں تو ان کی اقتدا کریںاوران کی راہ پر چل کر کامیابی حاصل کریں، مسلمانوں کی کامیابی تو بلاشبہ اسی میں ہے مگر یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتی جومادیت پرست ہیں، ان کا رشتہ ایمان ویقین سے کٹاہوا ہے، جو موجودہ منفعت ومضرت کو ہی اپنے سامنے رکھتے اورسمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے، بس یہی ہے، ان کے سامنے بس اپنا علاقہ اوراپنی محدود سرحدیں ہوتی ہیں، ان کے اندر دورس نگاہ نہیں ہوتی جب کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
یقینا ہم اپنے رسولوں کی اورایمان والوں کی مدد دنیوی زندگی میں بھی کریں گے اوراس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوںگے (غافر، المومن، ۵۱)
دوسری جگہ ارشادباری تعالیٰ ہے:
اورالبتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہوچکاہے، کہ یقینا وہ ہی مدد کئے جائیں گے، اورہمارا ہی لشکر غالب اوربرتررہے گا (الصفت ۱۷۱- ۱۷۳)
اس وقت ہندوستان کے حالات نہایت سنگین بنے ہوئے ہیں، جگہ جگہ فسادات کرانے کی کوشش کی جارہی ہے، بہار بنگال اوردوسرے صوبوں میں اس کی شروعات ہوچکی ہے، حکومت اپنی ناکامیوں اورکرپشنوں پر پردہ ڈالنے کے لئے فسادات کرانے کا سہارا لے رہی ہے، موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے، تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ نوکریوں سے محروم ہے، تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ہوگئے ہیں، معیشت تباہ ہورہی ہے، کار وبار ٹھپ ہوتے جارہے ہیں گھپلوں گھٹالوں اورغبن وبدعنوانی کا دور دورہ ہے، گھپلے کرنے والوں کے لئے ملک سے بعافیت نکل کر دوسرے ملک جاکر عافیت سے زندگی بسر کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں جبکہ غریب کا ملک میں جینا دوبھر ہے، کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں، صنعتیں زوال سے دو چار ہیں اس طرح کی صورتحال سے عوام بے چین تھے اس لئے حکومت نے ۲۰۱۹ کا الیکشن جتنے کے لئے فساد کا سہارا لیا ہے، ملک کے طول وعرض میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، ان کے املاک تباہ کئے جارہے، ان کے مکانات جلائے جارہے اورانہیں زندہ نذرآتش کیا جارہاہے، پورے ملک میں خوف ودھشت کا عالم ہے، مسلمانوں کا گھر سے نکلنا اورسفر کرنا دشوار ہوتاجارہاہے، کسی جرم کے بغیر ہی انہیں گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا اوران کی زندگی تباہ کی جارہی ہے، دھشت گرد فسادی خون کی ہولی کھیل رہے اورآزاد دندناتے پھر رہے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں کہ حکومت ان کے پشت پر ہے ان حالات میں مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رہیں کسی نامناسب رد عمل کا اظہار کرکے ان کے منصبوں کو کامیابی سے ہمکنار ہونے کا موقع فراہم نہ کریں، اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کریں، اپنی ایمانی قوت میں اضافہ اوراس میں تازگی پیدا کریں، اللہ سے دعاکریں اورصحابہ کرام کے اسوہ کو اپنے سامنے رکھ کر انہی کی راہ پر چلنے کی کوشش کریں، اوراپنے دفاع کا بندوبست کریں، اورفیصلہ اللہ کے اوپر چھوڑ دیں، اگر ہم نے اپنے ایمان کو پختہ کرلیا اوراللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے احکام پر عمل آوری شروع کردی تو یقینا کامیابی ہمارے قدم چومے گی، اورہمیں امن وسکون حاصل ہوگا، لیکن اگر ہم نے اللہ کے راستہ کو چھوڑ کر اوراس کے احکام کو نظر انداز کرکے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا، یاخواب غفلت میں پڑے اورہاتھ پر ہاتھ دھرے پڑے رہے اورامید کرتے رہے کہ اللہ کی مدد آئے گی تو ایسا اس دنیا کا نظام اللہ نے نہیں بنایاہے اللہ تعالیٰ نے بجا فرمایاہے:
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین واحکام کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اورتمہیں ثابت قدم رکھے گا (محمد۷)
دوسری جگہ ارشادہے:
پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر مت اتر آئو جب کہ تم ہی بلند وغالب رہوگے، اوراللہ تمہارے ساتھ ہے (محمد ۳۵)
(بصیرت فیچرس)
* شیخ الحدیث معہدالبنات، عروہ ایجوکیشنل ٹرسٹ حیدرآباد
* صدرشعبۂ عربی زبان وادب، دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker