ہندوستان

دین اور دستور پر حملہ نا قابل برداشت

پٹنہ:4؍اپریل(عادل فریدی؍بی این ایس)
دین اسلام اللہ کا عطا کیا ہوا قانون زندگی ہے،یہ اعتبارے مکمل اور انسانی زندگی کی ضروریات کے لئے کافی ہے۔ پندرہ سوسالہ عملی تجربہ گاہ سے گذرا ہوادستور حیات ہے،جس میں نہ کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت ہے اورنہ کسی حذف و اضافہ کی ۔اس لئے اگر ملک کی موجودہ مرکزی حکومت اپنے ناپاک منصوبوں کی تکمیل اورایک خاص قوم کی تحقیر کے لئے شریعت اسلامی میں ردو بدل کا اقدام کرتی ہے تو یہ کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہوگا۔اسی طرح اس ملک کا جمہوری دستور بھی بہت ہی پختہ اور انصاف پر مبنی ہے،دستور ہر ملک کا سب سے قابل احترام حصہ ہوا کرتاہے، جس پر حملہ کا مطلب ملک کے نظام کو تباہ کرنا ہے، جو بلاشبہ ایک ظالمانہ قدم ہے۔اس لئے ہرسچے شہری اورخاص طورپر ہرہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ایسے حالات اور چیلنجیز کا پوری حوصلہ مندی کے ساتھ مقابلہ کرے۔اس وقت ہندوستان ایسے ہی دور خطرات سے دو چار ہے، چنانچہ امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی مدظلہ نے ایسے ہی حالات کا حوصلہ مندانہ جواب دینے کے لئے ۵۱اپریل کو گاندھی میدان پٹنہ میں ”دین بچاؤ دیش بچاؤ “ کے عنوان ایک عظیم اور تاریخی کانفرنس رکھی ہے، یہ کانفرنس نہیں بلکہ ہمارے دینی وجود اور ملی شناخت کے مسئلہ کا حل ہے، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کریں۔ایسے موقع پرحاضری درج نہ کرنا یقینا ایک بڑا جرم اور قابل مواخذہ عمل ہوگا۔ان خیالات کااظہار امارت شرعہ کے نائب ناظم مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے۴اپریل کو کانفرنس کی کامیابی کے لئے ضلع پٹنہ پالی گنج بلاک کے دورہ کے دوران نبی نگر، پالی گنج، غوث گنج، کریم پور، کٹکا اور بنولی میں منعقد خواتین کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔علاقے کے مسلمانوں میں کانفرنس کے تئیں پورا جوش وخروش ہے۔اس موقع پر مدرسہ سعیدیہ پالی گنج کے ناظم مولانا احسان صاحب اور مبلغ امارت شرعیہ مولانا محبوب رحمانی بھی شریک تھے۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker