جہان بصیرتفکرامروز

بہار اسمبلی الیکشن: دیکھیں کیا گذرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

مظفراحسن رحمانی
عظیم اتحاد کا “سوابھیمان ریلی” نے تاریخ ساز کامیابی کے بعد اب اپنے قدم اگلی منزل کی طرف اپنے اتحادیوں کے ساتھ بڑھانے کی تیاری شروع کردی ہے,اسے تاریخ اپنے دامن میں سمیٹ کر محفوظ رکھے گی ,شاید ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ تین اہم سیاسی پارٹیاں ایک ساتھ الیکشن میں اتررہی ہے ,اس کامقصد صرف یہ ہے کہ ملک میں فسطائی طاقتوں کی سر کوبی کی جائے ,اسے ہم قربانی اس لئے کہ سکتے ہیں کہ ان تمام قائدین نے اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر ایسی جماعت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو دنیا کے بڑے سیکولر ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگ کر اس کی شنا خت کو ختم کرنا چاہتے ہیں,گنگا جمنی تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر اپنی تہذیب مسلط کرنا چاہتے ہیں اور ملک کو ہندو راشٹر بناکر اس کے لہو سے”جے بھارت ماتا “لکھنا جاہتے ہیں ,اس کی خواہش ہے کہ پورا ملک خون کی ہولی کھیلے اور آر ,ایس,ایس بجرنگ دل کے لوگ مظلوموں کے سروں سے ایک محل بناکر اس میں ننگا رقص کرے ,کھوپڑیوں میں شراب پیش کئے جائیں ,ملک کو دو حصوں میں پھر سے تقسیم کردیا جائے ,لیکن یہ اب نہیں ہوگا چونکہ عظیم اتحاد نے ان تمام چور دروازوں پر پہرہ بٹھادیئے ہیں جن دروازوں سے غنڈوں کے آنے کا ڈر تھا ,اور اب بہار الیکشن بی,جے,پی اور سیکولربالخصوص نتیش کمار اورلالو پرشاد یادو کے لئے “انا”کا مسئلہ بن چکا ہے ,یہی وجہ ہیکہ دونوں جماعتیں انتخابات پر اپنی پوری طاقت جھونک دینا چاہتی ہے اور کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرنا چاہتی ہے ,ان قد آور سیاسی سر براہوں نے “سوا بھیمان ریلی میں کیا کہا اسے بھی سنتے چلیں تاکہ ان طاقتوں کا اندازہ کیا جاسکے جن کی فکریں ملک سے فسطائی طاقتوں کو کھدھیڑکر بھگانا چاہتی ہے ۔
کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ “یہ سچائی ,امن اور عدم تشدد کا پیغام دینے والی سر زمین ہے ,یہ چندر گپت اور چانکیہ ,گروگوبند سنگھ سنتوں پیروں اور بہادروں کی سر زمین ہے ,بہار کے لوگ اپنی خودداری کے حوالے سے ہمیشہ بیدار رہتے ہیں,کچھ لوگوں کو بہار کو نیچا دکھانے میں مزہ آتا ہے ,کبھی بہار کی تہذیب کا مذاق اڑاتے ہیں,کبھی ڈی,این,اے میں خرابی بتاتے ہیں ,کبھی بہار کو بیمارو ریاست بتاتے ہیں,لیکن کانگریس نے ہمیشہ بہار کے لوگوں کا احترام کیا ہے ,مودی کے دور اقتدار کا ایک چوتھائی دور مکمل ہوچکا ہے ,لیکن ابھی تک انہوں نے شوبازی کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے ,وزیراعظم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے معیشت برباد ہورہی ہے ,روپے کی قیمت گھٹ رہی ہے ,اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ,جنہوں نے اپنا 56/انچ کا سینہ دکھاکر ملک کے عوام سے اتنے جھوٹے اورکھوکھلے وعدے کئے کیا عوام اس پر بھروسہ کریں گے۔
بی, جے پی کے جھوٹے وعدے اور اس کی فرقہ پرست سوچ کے خلاف ہم ایک پلیٹ فارم پر آئے ہیں,راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرشاد یادو نے کہا کہ مودی جی دوریلیوں میں بھر پیٹ گالی دے کر گئے ہیں یہ جنگل راج پاٹ2/نہیں یہ منگل راج پاٹ2/ہے ,انہوں نے وزیراعظم کے ترقی کے دعوے کو غلط بتایا اور کہا کہ بی,جے,پی ہمیں سی بی آئی کا ڈر دکھانا چاہتی ہے ۔
وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ہماری خودداری کو للکارے گی تو ہم اس کا جواب دینگے ,الیکشن کے آنے پر مودی حکومت بننے کے 14/ماہ بعد بہار یاد آئی وزیر اعظم نے حکومت بننے پر 100/دن کے اندر بیرون ملک میں جمع کالادھن ملک میں واپس لانے کا وعدہ کیا تھا ,لیکن حکومت نے14 /ماہ گذرنے کے باوجود کچھ نہیں کیا وزیراعظم میرے ڈی,این اے میں خرابی بتاتے ہیں,میں بہارکا ہوں میرا ڈی,این,اے وہی ہے جو ہر بہاری کا ہوتا ہے ,نالندہ کی سرزمین کی ڈی,این ,اے میں خرابی کس طر ح ہوسکتی ہے , جن لوگوں ملک کی آزای کی جنگ میں کوئی حصہ نہیں وہ ڈی این ای کی بات کرتے ہیں,نتیش کمار نے کہا کہ ہم نے جے پرکاش نارائن کے سایہ میں بیٹھ کر جمہوریت کا سبق پڑھا ہے اور وزیر اعظم ہمارے ڈی این او کو خراب بتاتے ہیں۔
ان قد آور رہنماؤں کا عظیم ریلی سے بہار کے سیکولر ہندو مسلم عوام سے خطاب کے بعد یہاں کا رخ ہی بد گیا ہے ,اور اگر سیاسی تجزیہ نگاروں کی مانیں تو کسی بھی صورت میں فرقہ پرست طاقتوں کی کامیابی کا امکان نظر نہیں آتا , البتہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہندو سیکولر کے ساتھ مسلمانوں کا ووٹ پوری اجتماعیت کے ساتھ سیکولر پارٹیوں کو ملے , مسلم سیاسی رہنماؤں کو لالو پرساد سے سبق لینا چاہئے کہ جنہوں نے نتیش کمار سے شدید اختلافات کے باوجود یہ کہتے ہوئے انہوں نے ہاتھ ملا لیا کہ میںبی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی کو روکنے کے لئے کہ زہر پینے کو تیار ہوں ,ایسے حالات میں مسلمانوں پر ایک اور ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ملک میں سیکولرزم کی حفاظت کریں,اسی میں ہماری بقا ہے ,ورنہ آر ایس ایس کا ٹولہ ہندوستان میں اندلس کے طرز پر مسلمانوں کا صفایا کرنیکا خواہشمند ہے, خدا نہ کرے ,دہلی کی جامع مسجد بھی مسجد قرطبہ کا منظر پیش کرے ۔ مسلمانوں کو 2002کا گجرات یاد رکھنا چاہئے ,اور کوشس کرنی چاہئے کہ ہمارے اس صوبہ بہار میں درندہ صفت پارٹیوں کا اقتدار نہ ہو نے پائے ، البتہ عظیم اتحاد کو بھی یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے ساتھ ٹکٹ دیئے جانے میں سوتیلے پن کا برتاؤ نہ کرے ,اور جس طرح اس سے قبل کے الیکشنوںمیں مسلم رہنماؤں کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا تھا اس میں بھی برابر شراکت کے ساتھ لحاظ رکھا جا ئے تاکہ سیکولر ووٹوں کا بٹوارہ ممکن نہ ہو اور زعفرانی پارٹیوں کی تمام راہیں مسدود ہو جائیں اور بہار میں عظیم اتحاد عظیم کامیابی سے سرفراز ہوکر ملک میں فسطائی طاقتوں کے زور کے توڑنے کا سبب بنیں۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے ایڈیٹر ہیں، رابطہ 9431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker