ہندوستان

جہیزکے نام پر بیٹی والوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے جومہذب سماج کے لئے المیہ ہے

مدرسہ اسلامیہ عربیہ سراج العلوم کے جلسہ دستار بندی سےعلما کا کا خطاب
دربھنگہ۔ ۶؍اپریل: (رفیع ساگر) آج مسلم معاشرہ اس لئے سنگین صورت حال کا شکار ہے کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت اور ان کے بتائے ہوئے راستوں کو چھوڑ کر ان اعمال وکردار کو اپنے ایمان وعقائد کا حصہ بنا لیا ہے جن کا دین سے دور کا بھی رشتہ نہیں ،اس لئے اگر آج ہم اپنے معاشرے کو زندگی کی مناسب سمت پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے نہ صرف ہمیں اجتماعی طور پر اصلاح معاشرہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں محسوس کر نی ہوگی بلکہ وہ اقدامات بھی کر نے ہوں گے جن سے سماج کے ہر طبقے کو اپنے رب سے جڑنے کا موقع مل سکے ،یہ باتیں سنگھواڑہ بلاک کے بستواڑہ منیہاس واقع مدرسہ اسلامیہ عربیہ سراج العلوم میں منعقدہ ایک روزہ جلسہ دستار بندی و عظیم الشان اصلاح معاشرہ کانفرنس میں یوپی کے مولانا نور عالم نے کہیں۔اس جلسہ کا آغازقاری ریحان کے تلاوت قرآن سے ہوا جبکہ نظامت قاری مجاہد حسین حبیبی نے بخوبی انجام دئے۔مولانا نور عالم نے کہا کہ جس اللہ نے انسانوں کو زندگی کی تمام سہولیات مہیا کر کے انہیں روئے زمین پر آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا ان کا اپنے رب کی تعلیمات کو فراموش کر کے من چاہی زندگی گذارنا وقت کا ایک ایسا المیہ جس نے انسانی زندگی کو مایوسی و افسر دگی کا شکار بنا دیا ہے ،انہوں نے کہا کہ اللہ اپنے بندوں سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں لگا یا جاسکتا اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی تمام تر خطاوں سے واقفیت کے باوجود ان کو اپنے اعمال کے محاسبہ اور ان کی اصلاح کے لئے شب برات جیسی بابر کت راتیں عطا کیں بس ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی زندگی کا رخ طے کریں اور ان راتوں میں اپنے رب کی عبادت کر کے ان کو راضی کرنے کا ماحول بنائیں ۔مولانا مطلوب الرحمن نے کہا کہ اس وقت مسلم معاشرے میں ایسی بدعات ورسومات نے جگہ بنا لیا جس سے ہمارے سماج کی دینی وفکری جڑیں کمزور ہوتی جارہی ہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو وقت بدلنے کےساتھ ہی مسلم معاشرہ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔انہوں نے سماج کے بکھرتے تانے بانے کو تشویشناک بتاتے ہوئے کہا کہ کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں آپسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر خالص سماج کے مفادات کو سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا تب ہی کسی بڑے انقلاب کی توقع کی جاسکتی ہے ۔مفتی آفتاب غازی نے کہا اللہ نے انسان کو سب سے بہتر بنا کر دنیا میں بھیجا اور اعلی مقام دیا ہے۔ تعلیم انسان کو بہتر راستہ دکھاتا ہے۔ جہیز پر بولتے ہوئےکہا کہ شادی ایک عبادت ہے لیکن اب تجارت بن کر رہ گئی. جہیز اور تلک کے نام پر بیٹی والوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے جوکہ مہذب سماج کے لئے ایک المیہ ہے۔مولانا احمد حسین مدنی نے کہا اللہ کے فرمان پر عمل کرنے والا جنت میں سب سے قریب ہو جائے گا۔بزرگوں کے حکم پر عمل کریں۔ مشہور شاعر قاری مزمل حیات، مذکر کمال، حافظ دلکش کمال نے نعتیہ کلام پیش کر ماحول کو نورانی بنایا۔ اس موقع پر مدرسہ سراج العلوم کی نئی عمارت کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے بعد یوبی کے مولانا عبیداللہ اسعدی نے ادارہ کے 15 حفاظ کرام کی دستاربندی کرائی۔مدرسہ کے سکریٹری محمد غفران علی نے ادارہ کا تعارف کراتے ہوئے اس کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker