طب وسائنسمضامین ومقالات

ذیابطیس کی تشخیص اوراس کا ہومیوپیتھی علاج

10؍اپریل ’عالمی ہومیوپیتھی ڈے‘ کے موقع پر خاص مضمون
ڈاکٹر لبنیٰ کمال(ایم ڈی)

وزیرخزانہ ارون جیٹلی کے گردہ ٹرانسپلانٹیشن کی خبرآج کل خبروں میں بنی ہوئی ہے۔معمول سے زیادہ بڑھی ذیابطیس اس کی خاص وجہ ہے۔ذیابطیس نیزڈائبٹیز جسم کے میٹابولزم کی ایک عام قسم ہے جس میں خون میں شکر(گلوز )کی مقدار معمول سے زیادہ ہوجاتی ہے۔اس صورتحال کو ہائیپر-گلیسمیا بھی کہتے ہیں۔
یہ تین قسم کی ہوسکتی ہے:
1۔ٹائپ I-(TYPE I) IDDM انسُلِن پر منحصر ذیابطیس۔یہ صورتحال عام طور پر پینکریاس میں پوری مقدارمیں انسُلِن نہ بن پانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
2۔ٹائپ II-(TYPE II) NIDDM،یہ صورتحال انسُلِن کا جسم کے ذریعہ استعمال نہ کرپانے کی وجہ سے پیداہوتی۔
3۔Gestational Diabetes-حمل کے دوران ہونے والی ذیابطیس۔
وجوہات:
ذہنی دبائو،بغیرکسی پرہیز واحتیاط کے کھانا پینا،غیر مستحکم طریقۂ زندگی،پینکریاس میں سوجن وغیرہ سے ذیابطیس ہونے کی امید بنی رہتی ہے۔یہ موروثی بیماری بھی ہے۔ٹائپ-Iذیابطیس ہونے کے لئے خاص وجہ موٹاپا،ذیابطیس کی خاندانی تاریخ،کارٹیکوسٹیرائیڈ کا غیرمعمولی طور سے بڑھنا،ہائی بلڈ پریشر،لیپڈ کاتوازن برقرار نہ رہنے سے ذیابطیس ہونے کی امید برابر بنی رہتی ہے۔
علامات:
کمزور محسوس ہونا،جلدی تھکان ہونا،ضرورت سے زائد بھوک لگنے کے بعد بھی وزن کم ہونا،ضرورت سے زائد پیاس لگنا،ہاتھ پیر سُن ہونا، باربار پیشاب کی حاجت محسوس ہونا۔نظر کا کمزور ہونا، پھوڑا پھنسی اور دیگرجلد کے امراض وغیرہ ہونا۔
مسائل:
زخم دیر سے بھرنا،گردے فیل ہوجانا،دل کی بیماری ہونا،اٹیک،ہاتھ اور پیر میں گینگرین،ذیابطیس سے متعلقہ ریٹنوپیتھی،جسمانی پٹھوں میں طویل عمری نقصان ہونا،ذیابطیس سے متعلقہ السر، نامردی،بیماری اورزخم۔
حل:
خالی پیٹ شوگر کی سطح(FBS)110mg/dlسے کم ہو۔
کھانے کے دو2گھنٹے کے بعدشوگر کی سطح(BS-PP)140mg/dlسے کم ہو۔
رینڈم بلڈ شوگر کی سطح(RBS)200mg/dlسے کم ہو۔
HbA1c-5.7سے کم ہو۔
علاج:
ہندوستان اور دنیا بھر کی کئی مشہور ہستیوں کو ذیابطیس کے سبب کئی بیماریاں ہوچکی ہیں۔سشما سوراج ،فاروق عبداللہ،امر سنگھ،کامیڈین محمود اور دیگردوسرے متعددافراد کے ذیابطیس کی وجہ سے گردے خراب ہوئے اور ان سبھی افراد کوگردہ ٹرانسپلانٹ کرواناپڑا۔
جبکہ مندرجہ ذیل میں دئے گئے علاج وحل کی وجہ سے ذیابطیس اور ذیابطیس کے سبب ہونے والی تقریباً تمام بیماریوں نیز لیزراور ٹرانسپلانٹ سے محفوظ رہاجاسکتا ہے۔
عام علاج وبچاؤ کا طریقہ:
ذہنی دبائو سے بچیں۔دل کو پُرسکون رکھنے کے لئے اور خون میں آکسیجن کو پوری طرح سوکھنے کے لئے لمبی، گہری اور پوری سانس لیں۔دھیان لگائیں،ورزش اور یوگ کریں۔تیز رفتاری سے چلنا، جاگنگ، تیراکی،ٹریڈمِل پر چلنا،کھیلنے وغیرہ جسم اور دل صحت منداورتوانا رہتاہے۔
پورے دن میں صرف ایک یا آدھہ گھنٹہ اپناشوق پورا کرنے سے صحت میں بہت بہتری ہوسکتی ہے۔
متوازن غذا لینا نہایت ضروری ہے۔کھانے کی گلیسمک انڈیکس(GLYECEMIC INDEX) کی جانچ کریں اور کم گلیسمک انڈیکس(LOW GI) والی کھانے کی اشیاء کا استعمال کریں،مٹھائیاں ،بیکری کے بسکٹ،پیسٹری وغیرہ اور تیل میں ڈوب کے بننے والے کھانے کے سامان بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
وزن گھٹانے کے لئے ڈائٹنگ کرنا،دیر تک بھوکے رہنا یاخالی پیٹ رہنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
طریقۂ زندگی اور کھانے پینے میںپرہیز سے،رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی بیدار ہونا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
جدید طریقۂ علاج:
اس کا خاص مقصد خون میں گلوکوز کی اوسط سطح بنائے رکھنے تک ہی محدود ہے۔یہ عام طور پر انسُلِن نیزدیگر ادویات کے طور پرباہری طور سے لینے سے ممکن ہے۔ورنہ اکثر مریضوںکوتمام عمر دوا کھانی پڑ سکتی ہے۔زیادہ تر طریقۂ علاج میں جو بھی ادویات دی جاتی ہیں،اس میں کچھ نہ کچھ زہریلا مادّہ ضرور پایا جاتا ہے۔دوائیوں کاسائیڈ افیکٹ یعنی بُراثر لیور اور گردے پر پڑتا ہے۔
ہومیو پیتھی طریقۂ علاج:
ٍہومیوپیتھی طریقۂ علاج ذیابطیس کو نہ صرف معتدل رکھتا ہے بلکہ اس کے بنیادی وجوہات کوسرے سے ختم کرنے کے لئے بھی نہایت کارگر ہے۔
ہومیو پیتھی ادویات مثلاً:اِگنیٹیا،کالی فوس،ہالی،ایلْم،ایسپن،گورس وغیرہ سے ذہنیدبائو،صدمہ،دکھ درد،فکر کے بُرے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے،جوکہ ذیابطیس کی اصل وجہ ہے۔
یورینیم نائٹریکم،گیمنیما،انسُلِن،سیزی گیم،بربیرس،ایشیاٹک وغیرہ ٹائپ۔ڈائبٹیز میں نہایت مفید اورکارآمدثابت ہوسکتی ہیں۔
کانسیٹیوشنل ہومیوپیتھی ادویات مثلاً:آرسینک البم،فاسفورس،نیٹرم میور،لیکاپوڈیم وغیرہ پینکریاس میں موجود اسٹیم سیل کوفعال اور متحرک کرسکتی ہیں، جس سے پینکریاس دوبارہ انسُلِن کی تعمیرکرسکتا ہے۔
ہومیو پیتھی طریقۂ علاجIDDM, NIDDM اورحمل کے دوران ہونے والی ڈائبٹیز اور بچوں کواورحاملہ خواتین کے لئے بھی نہایت فائدہ مند اور مفیدہے۔
یہ دوائیاں نہ صرف پینکریاس کوانسُلِن بنانے کے لئے ترغیب دیتی ہیں بلکہ سیل کی گلوگوزآبزرونگ پاورکو بھی بڑھاتی ہیں اور خون میں گلوکوز کو معمول پر رکھتی ہیں۔(یو این این)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker