مضامین ومقالات

قندوزکے بچوں کاقتل عام عالمی ضمیرپرطمانچہ ہے

عبدالرافع رسول
مورخ لکھے گاکہ اکیسویں صدی میں امت لہو لہوتھی۔ مسلمان آسان ٹارگٹ تھے ان کے دینی شعائرکی توہین کرنا آسان اور انہیں قتل کرنا بھی آسان تھا۔ وہ لکھے گاکہ اکیسویں صدی کے فرعون اور نمرود، ان پریو ںٹوٹ پڑے جیسے درندے اورکدھ لاشوں پر ٹوٹتے ہیں۔وہ لکھے گاکہ شام کے الغوطہ ،فلسطین کے غزہ ،کشمیرکے شوپیان اورافغانستان کے قندوزمیں ایسے عظیم ترین سانحات پیش آرہے تھے کہ مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو چکی تھی۔ شام سے لے کر کشمیر اور فلسطین سے افغانستان تک ہر طرف خواتین ،معمرین ، نوجوانوں اور معصوم بچوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ وہ لکھے گاکہ روروکر مصیبت کے ماروکی آنکھوں سے آنسو سوکھ چکے ،غم والم بیان کرتے کرتے انکے گلے رل گئے ۔فریادکرنے کے لئے ان کے پاس الفاظ ختم ہو گئے ۔لیکن مسلمانوں کے رہبروں نے رہزنوں سے گٹھ جوڑ کر رکھا تھا یوں مسلمان غیروں اور اپنوں دونوں کے ظلم کا شکار تھے ۔وہ لکھے گاکہ مسلمان ممالک پر مسلط مسلمان بادشاہ اور سول و ملٹری ڈکٹیٹر ہیںجو امریکہ کی جگالی کرتے ہوئے اقدارکوپامال کرتے ہوئے صرف اورصرف اقتدار کی کرسی کے ساتھ چمٹے ہوئے آرٹیفیشل انسانیت کے علمبردار بے غیرتی، بے شرمی کی مجسم تصویربنے تھے وہ خون مسلم بہنے پرکوئی تکلیف محسوس نہیں کرتے تھے۔وہ اس قتل وغارت کے روکنے پرقادرتھے لیکن نہیں روک سکے بلکہ اس پرطرہ یہ کہ وہ مظلوم مسلمانوں کوہی ظالم اورقصوروارگردانتے تھے ۔مورخ لکھے گاکہ مسلم ممالک پرمسلط حکمرانوں کے ہاتھ خون مسلم سے رنگین تھے وہ لکھے گاکہ مصر میں جنرل سیسی نے اخوان المسلمون پر ٹینک چڑھائے اور چار ہزار افراد کو کچل کر شہیدکرڈالاجبکہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجدنے نوے برس کے امرائے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کوپھانسی پرچڑھادیا ۔
مورخ ضرورلکھے گا کہ عین اس موقع پرجب روئے زمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زاربنائی جارہی تھی توسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اہل عرب امہ کی لاش پرتاش کھیل رہے تھے اور’’کیسینو‘‘کاافتتاح ایک معروف عالم دین ،امام حی کررہے تھے سعودی شہزادہ محمدبن سلمان امریکہ کی یاتراپرتھے اوروہ یہودی میڈیاکے سامنے ببانگ دہل اعلان کررہے تھے کہ اسرائیل کواپنے علاقے پرحق حاصل ہے اورہمارے اوراسرائیل کے دشمن یکساں ہیں۔مورخ لازمالکھے گاکہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے ذریعے سے امہ مسلمہ کوخون میں نہلارہاتھا اور امریکہ کہ تمام جرائم میں شریک جرم یا سہولت کار کے طور پر تمام مغربی ممالک شامل رہے اور جو باقی ممالک جیسے روس،بھارت اور میانمار وغیرہ شامل نہیں تھے نے انفرادی طور پر بڑے پیمانے پرمسلمانوں کے خون بہانے میں اپنابھرپور حصہ ڈال رہے تھے ۔وہ لکھے گاکہ اس کربناک صورتحال کوضبط تحریرلانے والے جب قلم اٹھاتے تھے توان کے کلیجے پھٹ رہے تھے اوران کی آنکھوں اورانکے قلم کے آنسووںاس قدرآنسوبہارہے تھے کہ ان کے دامن اورسامنے پڑے کاغذ بھیگ کرتربترتھے ۔مورخ لکھے گاکہ اکیسویں صدی کامیڈیاسب سے جاہل، ظالم جابر ، سفاک، کینہ پرور، انسانیت کے نام پہ کوئی دھبہ تھاجومسلمانوں کے قتل عام اورانکے جان ومال کے نقصان عظیم پراندھااورکورچشم بناتھا۔
امہ کے دردوکرب کی تازہ خونریزی کی داستان الم کی شروعات کہاں سے کریںسچ پوچھیں توسمجھ نہیں آیااتنی تیزی کے ساتھ دلدوزواقعات پیش آرہے ہیں کہ جسکی کوئی حدنہیں۔کہاں سے آغازکریں کیا کشمیرکے بہادر نوجوان اعتماداحمد ملک کاتذکرہ کریں کہ جس نے شہادت کے وقت دیوارپراپنے خون جگرسے کلمہ شہادت لکھ کراپنے رب کواس امرپرگواہ بنایاکہ اس کلمے کی سربلندی اس کامطمع نظرتھا،یاپھرانکے والدگرامی ملک فیاض کی فیاضی پرلکھیں کہ جس نے اس صاحب خانہ کونقدآٹھ لاکھ روپیہ تھمادیئے جس کاگھرانکے فرزندکی موجودگی کے باعث انڈین فورسز نے زمین بوس کردیا۔یا وہ داستان رقم کروں کہ جب کشمیرکے پدراور فرزندکے مابین ایمان افروز آخری گفتگوجس میں پدرنہایت کے بلندحوصلوں کے ساتھ بیٹے کوسینے پہ گولی کھانے کی نصیحت کرتاہے اور بیٹااپنے والدگرامی اوراپنے آپ کوسرخروکرتاہے۔ یاپھرقندوزکے حفاظ قرآن پرہوئی بدترین ریاستی دہشت گردی کو بیان کروںاورشہیدبچے کی کرامت بتائوں کہ جس نے لحدمیں اترتے ہوئے اپنے والدگرامی کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے اسے یقین دلایاکہ اے میرے ابامیری جدائی کے غم پرصبرکر خلدبریں میں امی اورآپ میرے ساتھ ہونگے ۔
ابھی غوطہ ،غزہ اورشوپیان کی سڑکوںپرلاشیںبے گوروکفن پڑی ہوئی تھیں اسی دوران ایک مرتبہ پھر امریکی وافغان بمبار طیاروں نے افغانستان کو خون میں نہلایا ،قندوز میں ایک دارالعلوم میں ننھے منے حفاظ قرآن کی ’’دستار بندی ‘‘اورعطائے سندفضیلت کے لئے منعقدایک روح پرور پروگرام میں قیامت خیزفضائی بمباری میںتقریباََ 150 حفاظ کرام و اساتذہ کرام اور فضلاء شہیدہوگئے ۔معصوموں نے سفید دستاروں کی بجائے سفید کفن اوڑھ لیے۔خبروں کے مطابق کچھ دن پہلے صوبہ فراہ میں اسی طرح کے ایک پروگرام کو ٹارگٹ کیا گیا تھا اور آج ان ظالموں نے پھر سفاکیت کاروح فرسا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم لوگوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے ۔قندوزکے دینی مدرسے کے بچوں پربمباری کرکے ان کے اجسام کے چیتھڑے بکھیردینے سے ایک بارپھراس امرپرمہرتصدیق ثبت ہوئی کہ سفاک قوتوں کا نشانہ اور اصل ٹارگٹ’’اسلام اور اہل اسلام ‘‘ہے ۔قندوزکے ان منوں کاجرم ہے مسلمان ہوناورنہ ایسے پھول توجنگلوں میں بھی مثلے نہیں جاتے ۔بلاشبہ ان حفاظ کرام کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے ۔
ان حفاظ بچوں جومحفل آرااورزینت محفل بنے ہوئے تھے کی مشترکہ تصویر’’گروپ فوٹو‘‘ دیکھئے،آپ ان میں سے ہربچے کا منورچہرہ رنگ ونور ، حسن و جمال اور ایسی معصومیت و وقار دے سکتے ہیں کہ شائدکبھی نہ دیکھی ہوگی مگرچند لمحوں میں قیامت ٹوٹ پڑی ۔آسمان سے اتری آخری کتاب حفظ کرنے کی خوشی ابھی تکمیل کو نہ پہنچی تھی کہ فضا سے بارود کی بارش ہوئی اورقرآن کے ان حاملین کوپیوندخاک بنادیاگیا۔ان پاک طینت شہدائے بچوں میں سے کرامت کے طورپر ایک بچے نے عین اس موقعے پراپنے پدرکاہاتھ پکڑلیاکہ جب اسے لحدمیں اتاراجارہاتھاشائداس لئے کہ اباغم نہ کرامی کوبھی بتادیناکہ خلدبریںمیں ہمرقاب ہونگے۔
تف!کہاں ہیں فنونِ لطیفہ کے پالنہار؟موم بتی مافیا والی آنٹیاں،کدھر ہیں حقوقِ اطفال کے ناخدا؟کدھر ہیں انسانیت کے نوحہ گر؟کہاں ہیں ہیومن رائٹس کے لیے دنیا ہلا دینے والے میڈیائی دعویدار؟وہ اس چہرے کو دیکھیں، وہ ان آنکھوں میں جھانکیں، وہ اس کھلی رنگت اور کھلی پیشانی کا مشاہدہ کریں، سر پہ سجی دستار اور لبوں سے چھلکتی مسکان کو دیکھیں اور اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ نرالے قسم کے یہ دہشت گرد کس کے خلاف حملہ کرنے کی منصوبہ بنارہے تھے ؟کیا یہ سفاک قاتلین اورانسانیت کے دشمنوںنے باغ میں لکھا ہوایہ جملہ کبھی نہیں پڑھا کہ’’ پھول توڑنا منع ہے‘‘۔سب بڑا مجرم میڈیا ہے جو صرف اور صرف بے حیائی پھیلانے کا ایجنڈا رکھتا ہے امریکی اور یہود کے مفادات کاتحفظ ہی اس کا ایجنڈا ہے ۔اس طرح میڈیا شیطان کا آلہ کار ہے اور شیطانیت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔
کتے اورخنزیرکے وارثوں نے مگرگلشن کے تمام پھول مثل دئے اورساراگلشن اجاڑدیا ۔سینوں میں قرآن اور چہروں پر کفن لپیٹے قبر میں سورہے ہمارے جگرگوشوخدتمہاری آخری آرام گاہوں پر رب الکریم کی رحمت ہو۔ایک عینی شاہد محمد اسحاق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 3اپریل 2018منگل کو دن 12 بجے جہاز آئے تو بچوں نے چلانا شروع کر دیا کہ وہ بم گرائیں گے تاہم بڑوں نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا لیکن پھر ایک ہی لمحے میں مسجد پر بمباری ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر موجود افراد میں مدرسے کے طلبا،اساتذہ اور اسناد کی تقسیم کے لیے منعقدہ پروگرام میں شریک شہری سب شہیدہوئے۔ کر رہے تھے۔مرنے والے قرآن پڑھنے والے تھے، سو کوئی بڑی خبر نہ بنی!کوئی ناچنے گانے والے ہوتے،دینی مدرسہ نہ ہوتاکوئی نائٹ کلب ہوتا،شراب اورشباب کی محفل ہوتی .. اگر بدکاری کے اڈوں پر حملہ ہوتاتو پھر دیکھتے!!ہرطرف ہاہواورایک شوربرپاہوتا۔ دجالی میڈیا خوب بھونکتا ہیں لیکن قرآن کے حافظوں پر حملہ کیا جائے تو سب خاموش ہرطرف خاموشی ،سکوت مرگ۔ کیوںمگراے قندوز کے حافظ قرآن جگرپارو! سنوتمہارا خون اس سے زیادہ پاکیزہ ہے کہ کرائے پر اٹھی ہوئی زبانیں تمہارے لیے بولیں،تم عالم اسلام کے بیٹے ہو جس کے قتل عام اورخون بہائے جانے کا فی الحال کوئی پرسان حال نہیں۔
اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو
کوئی کہو کہ ہاتھ قلم کس طرح ہوئے
کیوں رک گئی قلم کی روانی کوئی لکھو
کیوں اہلِ شوق سر بہ گریباں ہیں دوستو
کیوں خوں بہ دل ہے عہدِ جوانی کوئی لکھو
کیوں سرمہ در گلو ہے ہر اک طائرِ سخن
کیوں گلستاں قفس کا ہے ثانی، کوئی لکھو
ہاں تازہ سانحوں کا کرے کون انتظار
ہاں دل کی واردات پرانی کوئی لکھو
اے امہ کے پھول جیسے حفاظ !یہ ٹھیک ہے کہ تمہاری شہادت پر کوئی میڈیا نہیں بولا!نام نہاد مسلم حکمران بھی گونگے شیطان ہیں!لیکن تمہارا لئے بشارت ہے کہ تم زندہ ہو۔تمہارا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔ نہیں جائے گا۔تمہارے خون سے وہ طوفان اٹھے گا۔کہ جس کو امریکی اور اس کے ڈوگیوں سے روکا نہیں جا سکے گا۔تمہارے خون کے ایک ایک قطرے سے غیرت والا رب سینکڑوں ایسے حفاظ پیدا کرے گاجو امریکہ اور اس کے ٹٹوئووں کے غرورکوخاک میں ملادے گا۔افغانیوں کی فطرت میں خود داری اور آزادی کا جوہر شامل ہے۔ یہ قوم زیادہ دیر کسی کے تسلط میں نہیں رہ سکتی۔ ان کی روح میں جرات اور بے باکی شامل ہے۔
قندوز کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیںبلکہ افغانستان پر امریکہ کی جارحیت اوربدتریب سفاکیت کی تاریخ کے خونین ابواب میںیہ ایک انتہائی سیاہ ترین باب کااضافہ ہے۔یہ 1996 کی بات ہے کہ اس وقت کی امریکی سکریٹری آف سٹیٹ یاوزیہرخارجہ میڈیلین البرائٹ امریکہ کے ٹی وی پروگرام 60منٹ میں مدعو تھیں۔میزبان نے سوال کیا: عراق پر امریکی پابندیوں سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے مر چکے ہیں،کیا اتنی بھاری قیمت دی جانی چاہیے؟اعلی مغربی تہذیب کی علمبردار عورت کا جواب تھا: جی ہاں یہ ایک مناسب قیمت ہے،دی جانی چاہیے۔
کیتھرین واشنگٹن پوسٹ کی مالک تھیں۔1988میں انہوں نے سی آئی اے میں نئے بھرتی ہونے والے جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:ہم بڑی گندی اور خطرناک دنیا میں رہتے ہیں۔کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ عام آدمی کو نہ تو ان کو جاننے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کو یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ انہیں جان سکے۔( بحوالہ ولیم بلم، کلنگ ہوپ، صفحہ 121)،چنانچہ اب تلخ حقیقت یہ ہے کہ الا ماشا اللہ دنیائے دانش کیتھرین کے فکری فرزندوں سے بھری پڑی ہے جو صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ عام آدمی کو نہ تو ان کو جاننے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کو یہ اجازت دینی چاہیے کہ وہ انہیں جان سکے ۔
آپ فرانس کے سابق ڈپٹی سپیکر اور سینیٹر راجر گراڈی کی کتاب دی فانڈنگ متھز آف اسرائیلی پالیسی پڑھیں آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے کہ کس طرح راجر نے جب عام لوگوں کو ایسی کچھ چیزوں کا بتانا چاہا تو مغربی میڈیا نے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔ہمارے مشرق کے مغرب زدہ افراد ڈگڈگی بجاتے ہیں کہ مغربی تہذیب آزادی رائے کی بڑی قائل ہے اور مسلمانوں کو ابھی تک بقائے باہمی کے آداب کا علم نہیں۔جھوٹ کے یہ لشکری اتنے بے باک ہو چکے ہیں کہ نام چامسکی جیسا آدمی چیخ اٹھتا ہے کہ حقائق بہت کڑوے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بد ترین حالات کہ ذمہ داری مظلوموں پر ڈال دی گئی ہے۔
یہ بات پلے باندھنے کے لائق ہے کہ جوایک امریکی عہدے دارنے از خودبتاکردجالی نیٹ ورک کوبے نقاب کرڈالا۔اس کاکہناتھاکہ بات یہ نہیں ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اس لیے بے رحم ہے کہ اس کی قیادت بے رحم ہے۔معاملہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما اس لیے بے رحم ہیں کیونکہ فارن پالیسی اسیٹسلشمنٹ میں صرف انہی کو عہدہ مل سکتا ہے جو بے رحم، ظالم،بے شرم اورڈھیٹ ہوں( بحوالہ ولیم بلم ،کلنگ ہوپس،یو ایس ملٹری اینڈ سی آی اے انٹر ونشنز سنس ورلڈ وار ٹو، کامن کیج پریس، صفحہ 83)افغانستان کو اس نے امن کے نام پر برباد کردیا ۔ یہی نہیں بلکہ آدمی حیرت اور صدمے سے دوچار ہوجاتا ہے جب و ہ ایسی تصاویر بھی دیکھتاہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی افغانوں کی لاشوں پرپیشاپ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ دنیا کو قوانین کا درس دینے والے امریکہ نے بین الاقوامی قانون کو سب سے زیادہ پامال کیا ہے ۔بین الاقوامی قوانین اور ضابطے کبھی اس کی جارحیت اوراسکی جارحانہ روش میں حائل نہیں ہو سکے۔امریکہ کے سابق سیکرٹری آف سٹیٹ ڈین ایچی سن ریاست کے رہنما اصول کو یوں بیان کرتے ہیں’’امریکہ بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں۔انٹر نیشنل لا جائے جہنم میں۔مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے ماہرین کیا کہتے ہیں( بحوالہ،بل ڈلن،یو ایس۔اے روگ سٹیٹ،27اکتوبر2002۔دی ٹرازر رولرز)۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں لکھا: کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی مرد عورت اور بچے کو قتل نہ کیا جائے،تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے یا اسے غائب نہ کر دیا جائے اور امریکہ اس ظلم میں شریک نہ ہو(بحوالہ نام چامسکی ،روگ سٹیٹس۔۔۔باب10)
جنوری 2015 میں فرانس کے میگزین چارلی ایبڈو(جو گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی وجہ سے مشہور تھا) کے دفتر پر ایک دہشتگرد حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ۔ اس واقعہ کی عالمی میڈیا نے اس انداز میں کوریج کی کہ پوری دنیا اس واقعہ کی مذمت کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ مغربی میڈیا اوراس کے زیراثرمشرقی میڈیا اس واقعہ کو خوب فوکس کرتا رہااور اس کے ساتھ ساتھ مشرق کے تنخواہ یافتہ سیکولرز اور لبرلز نے سوشل میڈیا کے ذریعے فرانس اور چارلی ایبڈو کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کئی روز تک سوشل میڈیا بشمول ٹویٹر کے ذریعے “I am Charlie Hebdoمیں چارلی ہیبڈو ہوںکی عالمی مہم کا حصہ بنے رہے۔ گزشتہ ہفتہ افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک مدرسہ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں ڈیڑھ سو سے افراد جن میں اکثریت بچوں کی تھی کو شہید کیا گیا۔ ابتدا میں میڈیا کے ذریعے کہلوایا گیا کہ حملہ دہشتگردوں پر کیاگیا لیکن جب حقیقت کھلی کہ اس بربریت کا شکار معصوم بچے تھے جو قرآن پاک کاحفظ مکمل ہونے پر وہاں دستاربندی کے لیے جمع ہوے تھے تو میڈیا پر خاموشی طاری ہو گئی۔ شہادت پانے والے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو دل دہل گئے کہ اتنا بڑا ظلم لیکن دوسری طرف مجرمانہ خاموشی۔ عالمی میڈیا سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول تھا، لیکن مسلم ممالک کے میڈیا چینلزنے بھی اس ظلم و بربریت پر کوئی توجہ نہ دی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
کیسا امتیازی سلوک ساری دنیا قندوز سانحہ جیسے شہدا کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے؟؟ یعنی اگر دہشتگردی کسی فرد نے کی یا کسی پرائیویٹ گروہ نے تو پھر تو اس پر مذمت کی جائے گی اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی جائے گی۔ لیکن اگر دہشتگردی ریاست کی طرف سے کی جائے اور مرنے والوں کی تعداد چاہیے سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں تک بھی پہنچ جائے تو نہ کوئی مذمت، نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی افسوس اور نہ کوئی معافی اور یہی ہم افغانستان، عراق، شام، کشمیر، فلسطین،یمن اور دوسرے کئی اسلامی ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔ انصاف نام کی کو ئی چیز نہیں،صاف دکھائی دے رہاہے کہ ضمیر مر چکے ہیں۔ 9/11 کے بعداس ریاستی دہشتگردی کو کھلی چھٹی دے دی گئی جس کے لیے شرط صرف ایک ہی رہی اور وہ یہ کہ ریاستی دہشتگردی کا نشانہ صرف مسلمانوں کو ہی ہونا چاہیے۔ مغرب سے یا ان کے میڈیا سے کوئی کیا گلہ کرے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم مسلمان، ہماری حکومتیں اور ہمارا میڈیا بھی وہی کرتا ہے جو امریکا کی پالیسی ہے۔ہمارے ٹی وی چینلز کو ہی دیکھ لیجیے جنہوں نے پاکستانی قوم کو بھارتی فلمی اداکارہ سری دیوی کی موت پر دن رات کوریج کر کے گھنٹوں سوگ منایا اور ایک وقت تو یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ ہمارا میڈیا کہیں سری دیوی کو شہید کا درجہ ہی نہ دے دے۔ گزشتہ ہفتہ ایک اور بھارتی اداکار سلمان خان کو پانچ سال سزا ملنے پر ہمارے چینلز نے اسے مسلمانوں کا بہت بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا لیکن افسوس کہ انہی چینلز کو قندوز مدرسے میں شہید کیے جانے والے معصوم بچوں کے نہ توچہرے نظر آئے نہ ہی انہیں ان بچوں کے والدین پر جو گزری اس کی فکر تھی۔
کسی نے سوال نہیں اٹھایا کہ ان معصوم بچوں کا آخر قصور کیا تھا؟ یہ بچے تو حافظ قرآن تھے جو ایک بہت بڑی سعادت کی بات تھی لیکن ایسے معصوموں کی شہادت پر ماسوائے پاکستان کے مذہبی ر ہنماوں کے مسلم دنیاکے کسی صف اول کے سیاسی رہنما کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ اس معاملہ پر بات کرے اور ان انسان دشمن عمل کی مذمت کرے۔ کیا داڑھی والوں اور مدرسے میں پڑھنے والوں کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں؟؟ انہیں جو چاہے مار دے!!! ظلم ظلم ہے چاہے اس کا شکار کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ قندوز سانحہ ریاستی دہشتگردی کا ایک سنگین واقعہ ہے۔ اس ظلم کو اجاگر کرنے اور اس کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ وہی میڈیا جو ہمیں رلاتا بھی ہے اور ہنساتا بھی ہے ، وہی میڈیاجس کا اب یہ دائرہ اختیار بنا دیا گیا ہے کہ کس کو ظالم اور کس کو مظلوم بنا کر دکھائے۔ یہ میڈیا ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس واقعہ پر ہمیں افسردہ کرے، کہاں رلائے اور کس واقعہ کو چاہے وہ کتنا ہی بڑا سانحہ ہو اسے کوئی اہمیت نہ دے۔ افغانستان پر حملہ کرنا مقصود تھا تو اس کا راستہ میڈیا ہی کے ذریعے ہموار کیا گیا۔ عراق کو تباہ و برباد کرنا تھا تو مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ میڈیا ہی کے ذریعے بیچا گیا۔ لیبیا پر حملہ کرنا تھا تو کرنل قدافی کو ولن کے طور پر میڈیا ہی کے ذریعے پیش کیا گیا۔کیامسلمان ممالک کے میڈیا چینل ایک لمحہ کے لیے غورکرسکتے ہیںکہ مغرب اور مغربی میڈیا کی نقالی کے مجرمانہ طرزعمل سے میں آخروہ کب تک اپنے ہی کلمہ گومسلمان بھائیوں،بہنوں اوربچوںکے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے رہیں۔
قندوز افغانستان کا ایک صوبہ ہے۔ اس صوبے کا رقبہ 8 ہزار 40 مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی قریبا 10 لاکھ سے کچھ کم ہے۔ پشتون اور تاجک اکثریت میں ہیں، جبکہ ازبک، ہزارہ، ترکمان اور دیگر قبائل اقلیت میں۔ قندوز کی ایک سرحد تاجکستان سے ملتی ہے۔ تاجکستان اور قندوز کے درمیان دریائے قندوز بہتا ہے اور یہ قندوز اور تاجکستان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتا ہے۔ اس صوبے کی اہمیت دو وجوہات کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ پہلی وجہ، یہ صوبہ تین اطراف سے افغانستان کے تین صوبوں بغلان، تالقان اور خلم سے جاملتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ان صوبوں کا گیٹ وے ہے۔ دوسری وجہ، یہ صوبہ وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کا اہم ترین راستہ بھی۔ افغانستان کی وسط ایشیائی ممالک سے درآمدات و برآمدات بھی اسی صوبے سے ہو کر گزرتی ہیں۔ یوں اس صوبے کو دیگر صوبوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔یہاں کے لوگ لوگ سادہ دل ہیں اور اس علاقے میں صوم و صلو، شرعی قوانین کی عملداری بہت ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker