مسلم پرسنل لاءمضامین ومقالات

مسلم پرسنل لاء -ماضی اور حال کے آئینہ میں

مولانادبیر احمد قاسمی
مدرسہ اسلامیہ شکرپوربھروارہ دربھنگہ
کسی معاشرہ کی تنظیم کیلئے ایک عادلانہ اور منصفانہ قانون اسی قدر ضروری ہے جس قدر لباس وپوشاک اور اشیاء ِخوردونوش انسانی زندگی کیلئے ضروری ہے ،قانون کے ذریعہ نہ صرف سماج کو منظم کیاجاسکتاہے بلکہ ایک بہتر اور متوازن قانون ہی سماج کو امن وعافیت کاگہوارہ بناسکتاہے ۔
ایک بڑااہم سوال یہ ہے کہ انسانوں کیلئے قانون کون بنائے ،کیایہ کام وہ عالی دماغ انسان کرسکتے ہیں جن کی عمریں قانونی عبارتوں کو سمجھنے اور اس کی پیچیدگیوں کوحل کرنے میں بسر ہوتی ہیں ،جن کاذہن قانونی سانچوں میں ڈھلاہواہوتاہے یا مخلوق کیلئے خالق کابنایاہواقانون بہتر ثابت ہوگا ۔قانون بنانے کیلئے بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ قانون بنانے والے میں کامل طور پر دووصف پائے جائیں علم اور عدل ۔علم اور عدل کے بغیر ایک مکمل ومتوازن قانون جو انصاف کے جملہ تقاضوں کو بھی پوراکرسکے نہیں بنایاجاسکتا ۔خدائے تعالی علیم وخبیر ہے ،اسکے علم کی وسعت کائنات کے ذرے ذرے کومحیط ہے ،انسانوں میں علم وآگہی اور عدل ورواداری کے جو مظاہر نظر آتے ہیں وہ بھی دراصل صفتِ الٰہی کا ہی عکس اور پرتوہیں،انسان کے فطری تقاضوں ،نفسیاتی پیچیدگیوں اور طبعی کمزوریوں سے جس طرح وہ واقف ہے کوئی واقف نہیں ہوسکتا ،نہ عدل کے تقاضوں کو کوئی اس کی طرح پوراکرسکتا ہے۔ اس لئے خداکابنایاہواقانون ہی انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور انسانوں کیلئے دنیوی واخروی سعادت کاضامن ہوگا ۔انسانوں کیلئے خداکابنایاہواقانون اسلام ہے ۔اسلامی قانون ایک مکمل وجامع قانون ہے ،یہ قانون فطرتِ انسانی سے مکمل طورپرہم آہنگ ہے اور انسانی زندگی کے جملہ تقاضوں کو پورا کرتا ہے ۔
اس قانون کو مختلف حصوں میں بانٹاجاسکتاہے ،اس کاایک حصہ وہ ہے جس کاتعلق مسلمانوں کے اجتماعی مسائل ومعاملات سے ہے مملکت کے داخلی امورومعاملات ،حدودوتعزیرات اور بین الاقوامی تعلقات وغیرہ اسلام کے اجتماعی قانون کاحصہ ہیں ۔
اسلامی قانون کاایک حصہ وہ ہے جس کادائرہ نسبتاً محدود ہے۔ اس کاتعلق معاشرتی اور خاندانی نظامِ زندگی سے ہے۔ میاں بیوی کے باہمی تعلقات ،تقسیمِ وراثت کاقانون ،خلع وطلاق کے مسائل،ہبہ ،شفعہ اور رضاعت وغیرہ کے احکام عائلی قوانین کاجزء ہیں، یہی قوانین موجودہ اصطلاح میں مسلم پرسنل لاء کہلاتے ہیں ۔لیکن یہ یادرکھنا چاہیے کہ یہ اصطلاح انگریزوںکی وضع کی ہوئی ہے۔انگریزوں نے جس طرح اسلامی قوانین کے مکمل مجموعہ کے لیے محمڈن لاء کی تعبیر اختیارکی جس کا صاف طورپرمطلب یہ ہے کہ یہ خدا کابنایا ہواقانون نہیں بلکہ خدانخواستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وضع کیا ہوا قانون ہے اسی طرح مسلمانوں کے انفرادی اورعائلی قوانین کے لیے مسلم پرسنل لاء کی اصطلاح وضع کی اورعدالتوں میں اسے رائج کیا۔جس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ قوانین ایک خاص کمیونٹی کے معاشرتی نظام زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، حالاں کہ اسلام کاقانون صرف مسلمانوں کے لیے نہیں پوری انسانیت کے لیے ہے ۔اسلام خداکا ابدی اورآفاقی پیغام ہے ،رسول پاک اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
کان النبی یبعث الی قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ (رواہ البخاری ۳۳۵)
تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طورپرنبی بناکر بھیجاگیا ہوں۔
اسلام کادورِ اول اس لحاظ سے بڑاتابناک تھا کہ اس وقت کامسلم معاشرہ اسلام کی سچی اور مکمل تصویر پیش کرتاتھا ،اسلامی قانون مکمل طور پر نافذ تھا اور زندگی کے ہر شعبہ میں اسکی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی تھی لیکن رفتہ رفتہ جب اسلامی حکومت کے بہ جائے شخصی حکومتیں قائم ہونے لگیں اور اسلامی آئین کی جگہ امراء اور سلاطین کے ذاتی مفادات نے لے لی تو عملاً اجتماعی قانون کادائرہ محدود ہونے لگا اور یہ قوانین آہستہ آہستہ کتابوں کی زینت بن کر رہ گئے ۔
ہندستان میں مسلمانوں کے قدم ابتدائی صدی ہجری میں پڑگئے تھے، باوجودیکہ وہ یہاں ہر دور میں اقلیت میں رہے لیکن کم وبیش سات سوسال تک اس ملک میں ان کااقتدار قائم رہا ،مسلم حکمرانوں کی زیادہ تر توجہ ملک گیری اور باجگزاری پر رہی تاہم مسلمانوں کو ان کے دورِ اقتدار میں مذہبی آزادی حاصل رہی۔ اسلام کا اجتماعی قانون گوکہ اس وقت بھی مکمل طورپرنافذ نہیں تھا لیکن وہ انفرادی اور شخصی معاملات میں شرعی عدالتوں کی طرف رجوع کرسکتے تھے ،ان عدالتوں کا نظم نسق حکومت کے ذمہ تھا ،اجتماعی نظام بھی کسی حد تک اسلامی اصولوں پر مبنی تھا ۔
انگریز جب اس ملک میں آئے توان کی مخالفت میں سب سے پیش پیش مسلمان تھے چنانچہ مسلمان ہی سب سے زیادہ ان کے جوش غضب اور جذبہ انتقام کا شکار ہوئے ۔انقلاب ۱۸۵۷؁ کے بعدانہوں نے بڑی تیزی کے ساتھ اسلامی قانون میں ترمیم وتنسیخ کاعمل شروع کیا ۱۸۶۲ء؁میںاسلامی تعزیرات کی جگہ تعزیرات ہند(indian panel code)کاقانون لایاکیاگیا، ۱۸۶۴؁میںمسلمان قاضیوں کے تقررکے سلسلہ کو روک دیاگیا اورشرعی عدالتیں ختم کردی گئیں ۱۸۷۲؁میںقانون شہادت میں تبدیلی کی گئی،قانون معاہدات منسوخ کیا گیاغرض ۵۷؁ کی جنگ کے بعدانگریزوں نے مختصرسے عرصہ میں پورے عدالتی ڈھانچہ کوبدل کررکھدیا۔ ان اقدامات پر مسلمانوں کی طرف سے جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا اس نے بہت جلد انگریزوں کویہ باورکرادیاکہ مسلمان مذہبی امورمیں مداخلت ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ اس کے نتیجہ میں حکومت برطانیہ سے ان کی نفرت وعداوت مزید بڑھتی چلی جائے گی اوران کی اختلافی سرگرمیاں اورتیزہوجائیں گی ،بعض انگریزدانشوروں نے بھی حکومت کی اس جانب توجہ مبذول کرائی چنانچہ آہستہ آہستہ حکومت کے موقف میں نرمی آنے لگی ۔شرعی عدالتیں دوبارہ قائم کی گئیں اور قضاۃ کی تقرری کاعمل شروع ہوا۔لیکن چوں کہ مسلمان حکومت برطانیہ کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں تھے اورانہیں اس بات کا خطرہ لگا رہتا تھا کہ حکومت ان کے مذہبی قوانین میں مداخلت کی کوشش کرسکتی ہے اس لیے وہ اسلامی قانون کی حفاظت اوراپنے ملی وجود کی بقا کے لیے مسلسل جدوجہدکرتے رہے۔
۱۹۳۷؁ء میں مسلم زعماء ،قائدین اوراکابرین امت کی مسلسل اورمتحدہ کوششوں سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ منظور ہوا جس کی روسے سرکاری عدالتوں کواس بات کا پابند بنایاگیا کہ وہ مسلمانوں کے شخصی معاملات اور عائلی تنازعات کافیصلہ اسلامی قانون کی روشنی میں کریں ۔۱۹۳۹ء؁ میں مسلمان حکومت سے اس بل کو بھی منظور کرانے میں کامیاب ہوجاتے کہ عدالتوں میں مسلمانوں کے ازدواجی یاخاندانی جھگڑوں کافیصلہ مسلمان جج یاقاضی حضرات کریں گے، لیکن افسوس کہ بعض نام نہاد مسلمان دانشوروں کی بیجامخالفت کی وجہ سے یہ قانون منظور نہیں ہوسکا ۔
ہندستان کی آزادی کے بعد اس ملک کیلئے جو دستور مرتب کیاگیاوہ جمہوری دستور تھا، دستور کی متعدد دفعات میں اس کی صراحت ہے کہ یہاں کے ہر شہری کو ضمیر اور عقیدے کی آزادی حاصل ہوگی۔ ریاست کااپناکوئی مذہب نہیں ہوگا، حکومت کوکسی طبقہ کے مذہبی معاملات میں مداخلت کااختیار نہیںہوگا۔ البتہ ہدایتی اصولوں( Directive Principles) میں دفعہ 44میں یکساں سول کوڈ کی بات کہی گئی ہے ۔قانون کی یہ دفعہ بظاہر مذہبی آزادی کے قانون سے متصادم ہے جس کی بنیاد پر فرقہ پرست جماعتیں گاہے بہ گاہے مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کامطالبہ کرتی رہتی ہیں لیکن یہاں رک کر اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ مذہبی آزادی یہاں کے ہر شہری کابنیادی حق Fundamental Right))ہے ،جبکہ یکساں سول کوڈ کاتعلق ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں سے ہے ۔ان اصولوں کی پشت پر اخلاقی قوت ضرور ہے تاہم انہیں عدالت کے ذریعہ نافذ نہیں کیاجاسکتا ۔
ان حقیقتوں کے باوجود ملک کی آزادی کے بعد ہی سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوششیں ہونے لگیں ۔اسلام کے نظامِ نکاح وطلاق کو بدلنے کوشش کی گئی ،وراثت اور تقسیمِ جائداد کے اصولوں میں ترمیم کی کوشش کی گئی ،عبادت گاہوں کی حرمت کو پامال کیاگیا، قرآن وسنت کی من مانی تشریحات کی گئیں ،غرض کہ اسلام کے شخصی اور عائلی قوانین میں ترمیم کاکوئی ایساحربہ نہیں تھا جو حکومت نے اختیار نہ کیاہو لیکن مسلمانوں کے پختہ عزائم اور ان کے حوصلہ مندیوں نے حکومت کے ناپاک ارادوں اور منصوبوں کو کبھی کامیاب نہیں ہو نے دیا۔اس ملک کی تاریخ میںجب بھی ایساکوئی مرحلہ سامنے آیا مسلمان متحدہ طورپراس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ حکومت کواپنے قدم واپس کھینچ لینے پڑے لیکن اس کے باوجود حکومت کی مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش ہمیشہ جاری رہی ،حالیہ طلاق ثلاثہ بل بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس بل کو مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کابل کہاگیاہے ۔بظاہر یہ عنوان بڑادلکش اورجاذبِ نظر ہے لیکن اگر ا س کی تہہ میں پوشیدہ حقیقتوں کا جائزہ لیاجائے تو یہ اندازہ کرنا باکل مشکل نہ ہوگا کہ یہ دراصل اسلامی قانون کی عمارت کے ایک بڑے حصہ کو منہدم کرنے کی سازش ہے ۔
یہ بل تضادات کامجموعہ ہے ،اس بل میں یکبارگی دی گئی تین طلاقوں کو کالعدم قرار دیاگیاہے ،اگر اس طرح طلاق دینے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس پر سزاکے کیامعنی ہیں ،کیا محض اس لفظ کا بولنا ایسا شدید جرم ہے کہ اس پر شوہر کو تین سال سلاخوں کے پیچھے رہناہوگا ۔ایسی صورت میں اسے حقوقِ مسلمہ تحفظ بل کے بجائے آئینِ زبان بندی کہناچاہئے ۔
ان تین سالوں میں عورت کو نان ونفقہ اور بچوں کے اخراجات کیلئے شوہر سے بھتہ کی رقم دلائی جائے گی ،بھتہ نہ صرف عورتوں کی مالی مشکلات کو کم کریگا بلکہ انکی آبرو اور حفاظتِ نگاہ کابھی ضامن ہوگا ۔
کیا ان تین سالوں میں گھر کے پر امن ماحول کو چھوڑ کر عدالتوں کاچکر لگانے والی عورتوں کی آبرو محفوظ رہ سکے گی؟کیا اتنی طویل مدت سزاکاٹنے کے بعد بھی مرد کے دل میں اس عورت کیلئے کوئی نرم گوشہ باقی رہے گا ؟
پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈا نے اس بل کے تعلق سے عوام کے سامنے جو تصویر پیش کی ہے اس سے بظاہر یہ سمجھا جارہاہے کہ یہ بل تین طلاق کے خلاف بنایاگیاہے ،لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے ،اس بل کے مسودہ میں اس بات کاصراحت سے ذکر ہے کہ اس کا اطلاق طلاق کی ان صورتوں پر بھی ہوگا جس سے شوہروبیوی کے درمیان فوراً تفریق ہوجاتی ہے اور رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔فقہاء نے مختلف حالات میں ،اگر شوہرو بیوی کے درمیان نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو طلاقِ بائن کی اجازت دی ہے ،طلاق بائن کے بعد شوہر کو رجعت کااختیار نہیں رہتا ،بعض ناگزیر مجبوریوں کی بناپر خود عورتیں بھی اپنے خاص حق خلع کااستعمال کرتے ہوئے طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں ،قاضی اگر عورت کو اپنے مطالبہ میں حق بجانب پاتاہے تو دونوں کے درمیان ایک طلاقِ بائن کے ذریعہ تفریق کردیتاہے ۔
اس بل میں طلاقِ بدعت کی بات کہی گئی ہے ،فقہاء حالتِ حیض میں دی جانے والی طلاق کو بھی طلاقِ بدعت کہتے ہیں ،جس طہر میں شوہروبیوی کے درمیان صنفی تعلق قائم ہوچکاہو اس طہر میں اگر طلاق دی جائے تووہ بھی طلاقِ بدعت ہے ،کیا وکلاء اور ماہرینِ قانون کی تیز نگاہیں اس بل کی ان بنیادی خامیوں کا ادراک نہ کرسکے گی اور کیا وہ فریقِ ثانی کو زیر کرنے کے لئے اس کاناروااستعمال نہیں کریں گے ۔
اٹارنی جنرل نے بل کے مسودے میں یہ بات بھی کہی ہے کہ حکومت جلد ہی طلاقِ حسن اور طلاقِ احسن پر بھی پابندی لگائے گی تاکہ مسلمان عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کاسد باب کیاجاسکے ۔صدر جمہوریہ رام ناتھ گوبند نے بھی اپنے حالیہ بیان میں مسلمان عورتوں کے حقوق کی دہائی دی ہے اور مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی پر زور دیاہے ۔ماضی میں یہ باتیں استعارات کے پر دے میں اور چوری چھپے کہی جاتی تھیں لیکن اب ببانگِ دہل اس کا اعلان کیاجاتاہے ،ملک کی تاریخ میں غالبا یہ پہلاموقع ہے کہ تین کلیدی عہدوں، وزیرِ اعظم ،صدرِ مملکت اور نائب صدر مملکت کے عہدے پر وہ لوگ براجمان ہیں جن کی تربیت گاہ آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست اور شدت پسند تنظیم رہی ہے اس لئے فرقہ پرستوں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں اور فسطائی ذہنیت رکھنے والے اقلیتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں ،ان حالات میں پوری جرأت ،حکمت اور بصیرت کے ساتھ مسلمانوں کو قدم آگے بڑھاناہوگا ،مسلکی اختلافات اور جماعتی تعصبات سے بالاتر ہوکر کام کرناہوگا ،اتحاد ویکجہتی کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی کیوں کہ منتشر فوجیں زیادہ دیرتک دشمن کامقابلہ نہیں کرپاتیں ۔
یہ بات بھی یاد رکھنی ہو گی کہ جب تک ہم اپنی زندگیوں کو شرعی قوانین کے سانچے میں نہ ڈھالیں گے صرف احتجاجی مظاہروں اور اختلافی نعروں سے شرعی قوانین کا تحفظ نہیں ہوسکے گا ۔
ضرورت ہے کہ فرقہ وارانہ اتحاد ویکجہتی کی فضاپیداکی جائے ،جمہوری قدروں کو فروغ دیاجائے ،سیکولر اور انصاف پسند ہندؤوں کو قریب کیاجائے ،اسلام نے غیر مسلموں کو جو حقوق دئے ہیں اس سے ان کو روشناس کرایاجائے تاکہ ان دونوں طبقوں کے درمیان نفرت کی جو خلیج حائل ہے اس کو پاٹاجاسکے ،فرقہ پرستوں کی کوششوں کو ناکام بنایاجاسکے اور ملک کے آئین کی حفاظت کی جاسکے ۔
مسلم پرسنل لاء ہندستانی مسلمانو ں کے دل کی آواز ہے ،پرسنل لاء روحِ ملت کامحافظ اور اسلامی قدروں کانگہبان ہے پرسنل لاء کے تحفظ کی لڑائی اس ملک کے مسلمانوں کے وجودوبقاکی لڑائی ہے اس لئے یہ جنگ ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر لڑی جانی چاہئے ۔
گذشتہ دنوں میں حالات کی جوترتیب سامنے آئی ہے اوراسلامی قصرعدالت کے کئی حصوں پرجس طرح ضرب کار ی لگائی گئی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ ملک کے حالات آئندہ دنوں میں مزید خراب ہوسکتے ہیں ،اسلئے اس موقع پر مسلمانوں کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ ہوشمندی ،تدبر اور غیرمعمولی سوجھ بوجھ کابھی مظاہرہ کرناہوگا ؎
مسافر تیرے امتحاں اور بھی ہیں
ابھی مرحلے سخت جاں اور بھی ہیں
(کاشف)
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker