مضامین ومقالات

فاروق عبداللہ کاڈسکو

عبدالرافع رسول
یہ میں نہیں بلکہ کشمیرکاہرمتنفس اس حقیقت کواچھی طرح جانتاہے کہ فاروق عبداللہ ہر چڑھتے سورج کاپجاری ثابت ہواہے ۔فاروق عبداللہ کایہ پس منظراس امرکوواضح کرتاہے کہ ریاست جموںوکشمیرکے حوالے سے فاروق عبداللہ کی تازہ دارفطنی محض اقتدار کے حصول کی کاوش ہی ہے جس کیلئے وہ دہلی میں اپنے آقائوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور یہ بیان دراصل انکی غلامانہ ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔پیشے سے ڈاکٹر 71 سالہ فاروق عبداللہ کئی برس تک کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلی رہے ہیں آج کل وہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے پیٹرن ہیں۔ انہوں نے 1976 میں اپنے بیمار والد شیخ عبداللہ کے لیے کیمپیننگ کر کے کشمیرکی بھارت نواز سیاست میں قدم رکھا اور 1980 میں بھارتی پارلیمان کے رکن بنے۔ شیخ عبد اللہ کے انتقال کے بعد وہ 1982، 1987 اور پھر 1996 میں وزیر اعلی بنادیئے گئے۔بھارت نوازی کے اندھے جنون میںانہوں نے پہلے کانگریس پھر یونائٹڈ فرنٹ اور بعد میں این ڈی اے کی سرکارمیں ساتھ دیا۔ وہ اپنے والدکے نقش قدم پہ چلتے ہوئے روزاول سے ہی ریاست جموں کشمیر پربھارت کے جبری قبضے ہندوستان کے حمایت کرتے رہے ہیں۔1990میںمسلح تحریک شروع ہوتے ہی وہ سری نگر سے چلے گئے اور1995تک کاعرصہ دہلی میں گزارا۔وہ بھارت نوازی میں پیش پیش رہے ہیںاس دوران وہ دارفطنیاں چھوڑتے رہے ہیں ،وہ ڈسکوکے اعتبار سے بھی بڑے مشہورہیں۔
28نومبرہفتے کوآزادکشمیرپاکستان کاحصہ ہے جبکہ جموں وکشمیراورلداخ بھارت کاحصہ تھارہے گابھی، یہ لغو ،بے معنی اور غیر حقیقت پسندانہ بیان دیکروہ کل سے میڈیاپرچھائے ہوئے ہیں ۔جس شخص نے بھارتی فوج اور فورسز کی جانب سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تک کا دفاع کیا ہو اور کشمیریوں کے انسانی حقوق تک کے معاملے میں اقوام عالم کے سامنے بھارت کی وکالت کی ہو، اس سے ایسے ہی بیانات کی توقع رکھی جانی چاہیے۔ 1974میں میر پور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں محمد مقبول بٹ کے ہمراہ آزادی کے جلوسوںمیں شرکت سے لیکرمقبول بٹ کو تختہ دار پر چڑھانے کیلئے بلیک وارنٹ پر دستخط تک اور پھر رواں تحریک مزاحمت کے دورا ن ایس ٹی ایف کے قیام سے لیکر آج کے دن تک بھارت نوازنیشنل کانفرنس اور خاص طور پر فاروق عبداللہ کی تاریخ انتہا ئی خوفناک رہی ہے ۔ سچائی یہ ہے کہ جموںوکشمیرایک متنازع خطہ ارض ہے اوریہاں رہنے والے ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ایسافیصلہ کبھی نہیں ہواکہ انہیں بھیڑبکریوں کی طرح تقسیم کرنے کی ایسی بودی اوراحمقانہ تجویز پیش کی جائے، جو ان کی مرضی اور آرزئوںکے منافی ہو اور جس کو انہوں نے قولا مسترد کردیا ہو۔مسئلہ کشمیرایک ایسی زندہ حقیقت ہے کہ دنیاکاکوئی بھی ملک آج تک اس کی حقانیت سے انکارکرتارہااورنہ ہی کسی نے آج تک اسے بھارت کاحصہ قراردیاہے ،امریکہ سمیت دنیاکے قضاوقدرکے مالک بنے بیٹھے چوہدری بھی تادم تحریریہی کہتے ہیں کہ کشمیرکامتنازع مسئلہ حل کیاجاناخطے کے لئے اہم ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ بھارت اورپاکستان دونوں آپس میں بیٹھ کراسے خودحل کریں جبکہ پاکستان اورکشمیری عوام کامطالبہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ میں کیس جاچکاہے اسی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قراردادوںاورکشمیری عوام سے کئے ہوئے اپنے وعدوں کے ساتھ حل کریں۔
فاروق عبداللہ کاڈسکووانہ مزاج کے مطابق اگرکشمیری قوم کو اپنے وطن کی یہ تقسیم منظور ہوتی تو نہ 22سال تک رائے شماری کے مطالبے کو لیکر وہ تحریک چلاتے، نہ کشمیر سرفروش نوجوان قلم اور کتاب کے بجائے ہاتھوں میں بندوق اٹھاتے اور نہ لاکھوں انسان اپنی عزیز جانوں کی قربانی ہی پیش کرتے۔ فاروق عبداللہ اس عمر حقیقت اورجرات کا مظاہرہ کرتے اور اس تاریخی غلطی کیلئے قوم سے معافی مانگتے، جو ان کے والداوران کی پارٹی نے 75میں رائے شماری کی تحریک کو دفن کرکے کی ہے۔ اس کے برعکس وہ اس جبری تقسیم کو مستقل بنانے کی بات کرتے ہیں، جس کو کشمیری قوم نے ماضی میں کبھی قبول کیا ہے اور نہ مستقبل میں وہ اس کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔ دنیا کے بدلتے حالات میں لوگوں کی رائے کو زیادہ مقدم ماننے کی بات آگے بڑھ رہی ہے اور آج اکیسویں صدی میں اسکاٹ لینڈ،جنوبی سوڈان جیسے خطے میں اگر لوگوں کی خواہشات کے احترام میں ریفرنڈم کرایا جاسکتا ہے تو کشمیر کے بارے میں فاروق عبداللہ یا کوئی دوسرا شخص عوام پر اپنی رائے کیسے تھوپ سکتا ہے اور اس کو یہ منڈیٹ کس نے دیا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے مستقبل کے بارے میں ازخود کوئی فیصلہ سنائے۔فاروق عبداللہ کو کشمیر کے مستقبل سے لیکر رائے زنی کرنے کا اس لیے بھی کوئی جواز نہیں ہے کہ اس کی پوزیشن کسی غیرجانبدار فرد کی نہیں ہے، وہ کشمیر کے جبری قبضے کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی حیثیت محض بھارت کے ایک دفادارغلام کی ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا جب بھی کوئی فیصلہ ہوگا، تو وہ یہاں کے عوام کی رائے اور خواہشات کے مطابق ہوگا اور کشمیری قوم ایسے کسی بھی حل کو قیامت تک قبول نہیں کریں گے، جو ان کی مرضی اور قربانیوں کے منافی ان پر ٹھونسنے کی کوشش کی جائے گی۔
بہرکیف! فاروق عبداللہ کا بیان حقائق سے بعید ہے کیونکہ جموں کشمیر کی ریاست کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا البتہ تقسیم ہند کے موقع پربھارت نے برٹش انڈیاکی غلامی سے گلوخلاصی کے ساتھ ہی اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے ریاست میں فوجیں داخل کرکے کشمیریوں کوغلام بناکرریاست جموں وکشمیرپر اپنا ناجائزتسلط جمالیا ۔کون نہیں جانتاکہ ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے جس کے سیاسی مستقبل کا تعین اس ریاست کے عوام کی حتمی رائے سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔ 1947کی ریاست جموں کشمیر جسے جبری اورخونی لکیروں سے حصے بکھرے کئے گئے ہیںاورآج وہ پانچ علاقوںمیں جبری طورپرمنقسم شکل میں موجودہے، جموں کشمیر ایک وحدت ہے اور اس ریاست سے متعلق تنازعہ کا حل بندر بانٹ نہیں۔جموں کشمیر کی متنازحیثیت مسلمہ ہے اور اقوام متحدہ میں 18سے زائد قراردادیں اس بات کے لئے گواہ ہیںکہ ریاست کے مستقبل کے بارے میں ابھی فیصلہ کرنا باقی ہیں ۔کشمیری عوام کامطالبہ ہے کہ آزادانہ استصواب رائے سے ہی مسئلہ کشمیر کوحتمی طورپرحل کیاجائے اوریہی حل قابل قبول اور منصفانہ ہوگا ۔اس حقیقت کے پس منظرمیںکسی ایسے شخص کی جو زندگی بھربھارت کی نوکری اوربھارت کی چاکری کرنے کاتعارف رکھتاہوکو کوئی رائے یا فارمولہ نہ تو جموں کشمیر کے متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کر سکتا ہے اور نہ اس مسئلے سے جڑے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔
جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے عالمی ادارے نے کئی قراردادیں پاس کی ہیں جن میں جموں کشمیر کے عوام کو ہی اس مسئلے کے فیصلے کا استحقاق دیا گیا ہے اور اس مسئلے کو یا تو ان قرادادوں پر عمل آوری یا مسئلے سے جڑے سبھی فریقین کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ (بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker