جہان بصیرتنوائے خلق

جنھیں صف اول میں ہونا چاہیے

مولاناسراج اکرم ہاشمی
معاون مدیرمدرسہ الہدایہ کنشاسا،کونگو،افریقہ
کٹھوا اور اناؤ کے دردناک واقعات پرجس طرح ملکی اور عالمی سطح پراحتجاج جاری ہےوہ قابل ستائش ہے،اس نےہندوستان میں’’تحریک آزادی ‘‘کی یاد دلادی ہے،ہر طرف مظلوموں کی داد رسی اور ظالموں کی سرکوبی کے لیے ہندو مسلمان’’ شانہ بشانہ‘‘نظرآرہےہیں، ’’تحریک خلافت ‘‘کے بعد یہ ملک کےلیے شاید پہلا موقع ہےکہ باشندگان ہند اس طرح باہم ’’شیر وشکر ‘‘ہوئے ہیں اور ان میں اتنی وحدت ویک جہتی پیدا ہوئی ہے،خدا کرے اسے دوام واستمرار حاصل ہو ۔
یہ موقع تھاکہ ہم مسلم نوجوان اسے غنیمت سمجھتے،اس سے فائدہ اٹھاتےاور اپنے قلم کی طاقت کواتحاد ویک جہتی کی آب یاری کےلیے وقف کر دیتے اور اس مقدس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کےلیے ہمہ تن جوش ہوجاتے،ہم اسلام کے فلسفہء حدود وقصاص اور تعزیرات کی تشریح کرتے اور بد امنی و بےچینی سے جہنم بنی اس دنیا کو بتاتے کہ’’امن عالم تو فقط دامن اسلام میں ہے‘‘لیکن افسوس ہم اس نازک گھڑی میں بھی دوسرے’’ جہاداکبر ‘‘میں مشغول اور پٹنہ کی کام یاب کانفرنس کو ناکام بنانے میں جٹے اور بھرے ہوے ہیں، ہمیں اس غیر اہم موضوع سے کیا لینا دیناکہ کس کے ساتھ کیا ہوا؟یہ سچ ہے کہ ارض وطن کے استخلاص کے بعد ہم مسلمان اپنے داخلی مسائل میں اس طرح گھر گئے کہ مشترکہ مسائل کی طرف ہماری توجہ نہ ہو سکی اور یہ وحشت ناک واقعات بھی ایسے عالم میں پیش آئے ہیں کہ ہم ایک شدید ذہنی و فکری کرب سے دوچار ہیں لیکن ’’مشکلیں کچھ بھی نہیں عزم جواں کے آگے‘‘ہم وقت کی نزاکت کو محسوس کریں،آگے بڑھ کر قائدانہ رول ادا کریں،برادران وطن کو ساتھ لیں( کہ اس وقت ان کی ہمدردی ہمارے ساتھ ہے)اورمظلوموں کو انصاف دلانے کی ٹھان لیں تو پھر زمین وآسمان کے بدلنے کے بڑے امکانات ہیں،لیکن آہ !کتنا افسوس ہوتا ہے یہ خبر پڑھ کر کہ’’روپم چوک ۔۔۔۔۔۔۔۔پر برادران وطن کی فلاں پارٹی کے افراد آصفہ کی خاطر احتجاج کے لیے اکٹھا ہیں، ہم مسلمان بھی بعجلت ممکنہ پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ ان کی ہمت افزائی ہو ‘‘خوشی ہوئی کہ اس درندگی نے ہمارے اکثر وطنی بھائیوں کی انسانیت کو بیدار کردیا ہے اور وہ اس معاملے میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں،پر دل خون کے آنسو بھی رویا کہ’’جنھیں صف اول میں ہونی چاہیے وہ ابھی وضو میں مصروف اعلان واشتہار ہی میں لگےہوے ہیں ۔’’اے کاش! ہم وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور مشترکہ مسائل کے حل کی طرف بھی ہماری توجہ منعطف ہو ۔‘‘
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker