جہان بصیرتنوائے خلق

جسٹس راجندر سنگھ سچر سے ایک یادگار ملاقات

آہ سچر صاحب!
آپ نے ملک کو مسلمانوں کی حقیقی صورتحال سے اپنی تاریخ ساز دستاویزی شاہکار جسے دنیا “سچر کمیٹی رپورٹ” کے نام سے جانتی ہے واقف کراکے مسلمانوں کی منھ بھرائی کے طلسم کو توڑ دیا تھا. اس بدنامی کے داغ کو صاف کرنے میں کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے اور وہ ہمیشہ اپنے ووٹ بنک کے خاطر مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتی ہے، اس کو غلط ثابت کر دکھایا تھا۔
ملک کے انصاف پسند شہریوں کی فہرست میں آ پ کا نام سنہرے لفظوں میں لکھا جائے گاـ 94 برس کی عمر میں آج انکا دیہانت ہوگیا ہے ۔
موصوف دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے. مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت ہند کے زریعے بنائی گئی سچر کمیٹی نے جو کا کام وہ سب کے سامنے ہے، سچر رپورٹ کی تیاری میں پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے انتھک محنت کی تھی ، آپ ہمیشہ حقوق انسانی کے کاز سے جڑے رہے۔
گزشتہ سال دہلی کے عالمی کتب میلہ میں ان سے ملاقات ہوئی تھی، سچر صاحب رام منوہر لوہیا پر لکھی گئی کتاب کے رسم اجراء کے لیے تشریف لائیں تھے. میں نے وہی پر وقت نکال کر ان سے تفصیلی گفتگو سچر کمیٹی رپورٹ اور سابقہ و
موجودہ حکومت کے رپورٹ پر رویہ پر کی تھی. انہوں نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی جتنی محنت و کوشش کرنا تھی وہ کرلی مگر ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں بھی حکومتیں رپورٹ کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے، کانگریس نے آخر تک پارلیمنٹ میں اس رپورٹ پر بحث کے لیے پیش نہیں کیا اور موجودہ بی جے پی حکومت سے توقع رکھنا ہی بےکار ہے. میں نے کہا ملک میں موجودہ عدالتی نظام پر آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں، انصاف ملنے میں دیری اور وکیلوں و ججوں کے موجودہ رویے نے عام شہریوں کو بدظن کردیا ہے. انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ فرقہ پرستوں سے خصوصاً آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے خواب کے تکمیل میں ہماری عدالتوں کے کئی ججز پس پردہ اور کبھی کبھی کھل کر حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. مجھے اس وقت اس بات پر یقین نہیں آیا تھا، لیکن گزشتہ دنوں وی ایچ پی VHPکے عالمی صدارت پر سابقہ ہائی کورٹ جج کوکیز کے انتخاب اور مکہ مسجد حیدرآباد بم دھماکے کے فیصلہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے جسٹس لوہیا کے کیس پر فیصلہ نے سچر صاحب کے اندیشوں، خدشات جو سچ ثابت کردیا اور تو گجرات فسادات کی ماسٹر مائنڈ مایا کوڈنانی کو بے گناہ ثابت کردیا ہے۔
جسٹس راجندر سچر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں “بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے۔
مرزاعبدالقیوم ندوی اورنگ آباد
جنرل سکریٹری تحریک اوقاف

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker