جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

امیرشریعت حضرت مولانا سید نظام الدین

جو خود سلگتے تھے اوروں کی روشنی کے لئے
مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب کا شمار اس عہد کے ان لوگوں میں ہوتا تھا ,جنہوں نے اپنے خون کو بیچ کر ملت کی حفاظت کی ہے ,جن کی راتیں رب کی رضا اور اس کی خوشنودی میں گذرتی تھی ,اور دن کے اجالے میں دھوپ کی تپش ,موسم سرماں کی سرد لہروں اور برستے بادلوں کی پرواہ کئے بغیر ملک وملت اور قوم کی سانسوں سے اٹھتی آہوں کو سننے کے لئے بےچین رہتے ہیں ,جسے نہ اپنی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے مستقبل کی فکر دامن گیر ہوتی ہے,خاردار راہوں سے دامن بچاکر شاہراہ عزم پر رواں دواں رہنے کے خوگر ہوتے ہیں ,حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب نے جب شعور کی آنگن میں قدم رکھا تو ملک کو انگریزوں کی چنگل میں سسکتے ہوئے دیکھا ,کانپتی زمین سے ابلتے خون دیکھے ,سورج کی شعاعوں سے ٹپکتے آنسو دیکھے ,بادلوں کی بوندوں سے رستے لہو دیکھے ,اپنے اکابر کو میدان کارزار میں برسر پیکار دیکھے ,زنداں میں بےکسوں کو تڑپتے دیکھا ,فخرملت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمت اللہ علیہ کو یہ کہتے سنا “خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر “اور اپنے مرشدکامل رہبر ملت حضرت امیر شریعت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی کی زبانی یہ سنا “نکل کر خانقاہوں ے ادا کر رسم شبیری “شہنشاہ سرخیل آزادی مولانا حسین احمد مدنی رحمت اللہ علیہ کو یہ بھی کہتے سنا “کہ تیرے زمان ومکان اوربھی ہیں” یہی وجہ تھی کہ حضرت مولانا کی ایسی آنکھ جب جوان ہوئی تو ملک وملت کی پاسبانی کے لئے یکسر دوڑ پڑی ,اگرچہ کہ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے بعد تقریبا دودہائی مدرسوں کی چٹائی پر بیٹھ کرنسل نو کی تربیت بھی اسی نہج سے فرمایا جس کی ملک کو ضرورت تھی ,لیکن وقت نے اپنی کھلی آنکھوں دیکھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسیحا اور ملت کی ڈوبتی کشتی کے نا خدا حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نے ملت کی پاسبانی اور امارت شرعیہ کی گیسوئے برہم کو سنوارنے کے لئے آواز دی تو وہ کشا کشا کھچتے چلے آئے اور تمام تر سہولتوں کو الوداع کہ کر خود کو حضرت امیر شریعت کے حوالہ کردیا اور اپنے رفیق محترم آبروئے قوم وملت قاضی شریعت فقیہ العصر مولانا مجاہدالاسلام قاسمی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ایسی قسم کھائی کہ تلا طم بلاخیز میں بھی پاؤں کو جنبش نہیں آئی اور پوری دنیا نے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ امارت شرعیہ جہاں ٹوٹی چٹائی ,پڑی ایک چارپایئ ,تنگ وتاریک پھلواری کی گلی میں چند کرائے کے کمروں اور فتاوے کے فائلوں کے علاوہ کچھ نہ تھا ,آج وہی امارت شرعیہ اپنے مخلص بانی اور سرخیل مجاہد آزادی ابولمحاسن حضرت مولانا .محمد سجاد صاحب کے خوابوں کی تصویر امارت شرعیہ کشادہ شاہراہ سے متصل اپنی بلندو بانگ عمارتوں کے ساتھ موجود ہے ,امارت کے وسیع وعریض آنگن میں جہاں اس کی خود اپنی عمارت ہے وہیں اس کے پہلو میں مولانا سجاد ہوسپیٹل اور ٹیکنیکل انسٹیوٹ کی پرشکوہ عمارت بھی کھڑی ہے , ایک طرف جہاں تڑپتی انسانیت کو سکون فراہم کیا جاتا ہے ,وہیں نسل نو کی تربیت کرکے ملک کو اچھا شہری فراہم کیا جاتا ہے ,اس کے علاوہ دارالقضا کے ذریعہ مسلمانوں کے مختلف عائلی مسائل حل کئے جاتے ہیں ,مشکلات کی گھڑی میں مسلمانوں کے مسائل پوری سنجیدگی سے حل کئے جاتے ہیں , اس کے علاوہ اس کا اہم کام دعوت وتبلیغ کے ساتھ اتحاد امت کی بقا کی فکر ہے ,تقریبا نصف صدی حضرت امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب نے بلاتعب وتھکن کے امارت شرعیہ کی بے لوث خدمت کیا , امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی نے جس دن سے مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں لایااس دن سے موت تک اس کے لئے خود کو وقف فرمادیا اور تقریبا دودہائی اس کے جنرل سکریٹری رہے ,اور مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی ,مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ,اور مولانا سید رابع حسنی ندوی کی صدارت میں پورے خوش سلیقگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہیکہ مولانا نے ایسے نازک حالات میں دنیا کو الوداع کہا جب کہ یہ ملک زعفرانی رنگ میں پورے طور پر رنگ چکا ہے اور آر ایس ایس پوری قوت کے ساتھ اس ملک کو اپنے شکنجے میں لے لینا چاہتی ہے ,اس کی خواہش ہیکہ یکساں سول کوڈ ,کا نفاذ عمل میں آجائے ,سوریہ نمسکار اور یوگا جیسا عمل ہرایک کے لئے لازمی قرار دے دیا جائے ,یہ ملک ہندو ملک بن جائے ,مسلمانوں کی دوکانیں جلائی جائیں ,معصوم بچوں کو یتیم کردیا جائے ,عصمتوں کی حفاظت پرسے پہرے ہٹالئے جائیں , پورے ملک میں انارکی راج کرے ,آپسی بھائی چارگی ,گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد اپنی آخری سسکیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے دم توڑدے ,اس لئے ان کے بعد آنے والوں کی ذمہ کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے , ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ موجودہ صورت حال میں اپنی ذمہ داری کے ساتھ ان کاموں کو بھی شریک کرنا بے حد ضروری ہے ,جس کے بغیر ہم مد مقابل کا کڑارا جواب نہیں دے سکتے ۔
۱۔ایک مضبوط اور مستحکم میڈیا سیل قائم کیا جائے جس کی ذمہ داری ہو کہ ملک کی چلتی سانس پر نگاہ رکھے اور ذمہ داران کے ملک کے مسلمانوں کو بھی باخبر رکھے ۔
۲-ہرگاؤں ,دیہات اور شہر کے محلوں میں ایک ایسا آدمی ہو جو دعوت وتبلیغ کے ساتھ مسلمانوں کو بیدار رکھے اور علما کے پیغامات کو امت تک پوری ذمہ داری کے ساتھ پہونچائے اوربیدار رکھے۔
۳-ابھی فوری طور پر ملک کے بڑے شہروں میں انگلش میڈیم اسکول قائم کئے جائیں جس میں دین سے متعلق ضروری معلومات فراہم کئے جائیں اور آہستہ آہستہ اس کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے ۔
۴-ملک کے تمام ائمہ مساجد سے رشتے کو مضبوط کیا جائے ,اور ہرماہ کے کسی ایک جمعہ کو اردو میں وہی تقریر کی جائے جو بورڈ کی جانب سے جاری کیا جائے , اس کے لئے باضابطہ بااثر علما کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے ,جوآئمہ مساجد سے رابطے میں رہیں ,تاکہ ملک کے حالات سے ہمیشہ انہیں باخبر رکھا جائے ۔
یہ وہ اہم امور ہیں جس کے بغیر ہم اس ملک میں شاید عزت کے ساتھ رہ سکیں ۔ حضرت امیرشریعت رابع سید شاہ منت اللہ رحمانی کے خاص تربیت یافتہ ان کے پسر خوش خصال حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ,اور حضرت قاضی شریعت مولانا مجاہدالاسلام قاسمی کے برادرزادہ فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جن کے علم سے اس وقت پوری دنیا استفادہ کررہی ہے ,اورساتھ ہی امارت شرعیہ کے موجودہ ناظم حضرت مولانا انیس الرحمان قاسمی جنہوں نے اپنے بڑوں سے تربیت پائی ہے کہ طرف پورا ملک ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی ہے اور اس بات کی امید کرتی ہے کہ میر کارواں صدر باوقار مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی کی قیادت میں نئے عزم کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے ملت کی رہنمائی فرمائیں گے ۔ اللہ حضرت امیر شریعت کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے حسنات کو قبول فرمائے ۔
استاد :دارالعلوم سبیل الفلاح جالے دربھنگہ
جنرل سکریٹری :بہار پیام انسانیت امام وخطیب جالے جامع مسجد
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker