جہان بصیرتنوائے خلق

مسلمانوں کیلئے لمحہ فکر

مکرمی!
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ کمپٹیشن کا دور ہے ،ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگا ہے چاہے تعلیمی میدان ہو ،صنعتی اور تجارتی میدان ہو ،ہر کوئی ترقی کرنا چاہتا ہے ہر کوئی اپنی خود کی ترقی کی کوشش میں مصروف ہے ،لیکن باطل فرقوں میں کچھ افراد اور مسلم مخالف اور اسلام دشمن تنظیمیں اپنی قوم کی ترقی کیلے ایک منصوبہ بند طریقے سے شروع ہے میری سوچ کے مطابق ان تنظیموں کی مختلف سیل تیار ہے جو اپنی قوم کیلے خود کو وقف کر کے منصوبے کے تحت کام کرتے ہے ۔ جس میں دفاعی سیل ، پولیٹکس سیل، خواتین سیل، تجارتی سیل، ایجوکیشن سیل، وغیرہ جس میں ان گروپوں کو مختلف ذمہ داریاں دی گیٔ ہے اور وہ اسی منصوبے پر کام کرتے ہے، سنگھیوں کا ایجوکیشن سیل جو کام انجام دے رہا ہے جس طرح اپنی قوم کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھا رہا ہے یہ لوگ مختلف ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت اپنی اسکولیں چلا رہے ہے جس میں انکی بچپن سے ذہین سازی کی جاتی ہے برہمن واد کو بڑھاوا دیا جارہا ہے، اسی طرح تعلیمی میدان میں ایڈمنسٹریشن کیلے تیار کیا جارہا ہے جسمیں Mpsc,Upsc, کلاسس کے زریعے اپنی قوم کے طلباء کو تیار کیا جاتا ہے اور انکی ہر طرح مدد کی جاتی ہے اور انہیں حکومتی اداروں کے اندر نوکریوں کیلے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایک مسلم قوم ہے جسکے خود ساختہ لیڈران خود کو قوم کا رہنما اور رہبر کہتے ہے جو چند ٹکوں میں اور چھوٹے سے عہدے کیلے قوم کا سودہ کر لیتے ہے، آج ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت سچر کمیٹی کی ریپورٹ کے مطابق دلتوں سے بد ترین ہو چکی ہے، تعلمی میدان ہو تجارتی میدان ہو یا حکومتی اداروں میں سرکاری نوکریوں کی بات ہو ہر جگہ پستی نظر آتی ہے، ہمارے پاس کوئی منصوبہ بند طریقے کار موجود نہیں اور نہ کوئی قوم کے اس مسلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کیلئے تیار ہے آج بھی مسلکی اختلاف میں الجھے ہوئے ہے آزادی کے 70سال بعد بھی کوئی اس مسلے پر متحد ہو کر حل کرنے کیلے سوچنے کی بھی فرست محسوس نہیں کرتے۔ آج ملی تنظیموں کو چاہیے کے وہ ایڈمنسٹریشن کے اندر اپنی قوم کے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کے لئے یو پی ایس سی ، ایم پی ایس سی، جیسے کومپیٹٹو امتحانات کی تیاری کیلے ہر شہر گاؤں میں سٹڈی مراکز قائم کرے اور وہاں پر تجربہ کار اساتذہ کو تدریس کیلے فائز کرے، بچپن سے اپنی قوم کے طلباء کو ان امتحانات کیلے ذہن سازی کرے، نوجوانوں کی سوچ اس جانب مبذول کراے، انکے اندر موٹیوشنل لیکچرز کے زریعے خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرے، اور قوم کے موخیر افراد 15,20سالوں کے تحت تعلمی منصوبہ تیار کرے کہ اتنے سالوں میں ہر شہر سے ہر گاؤں سے منصوبہ بند تعداد میں قوم کے نوجوانوں کو ایڈمنسٹریشن کے اندر سرکاری نوکریوں کے اندر انہیں تیار کر کے پہونچائے اور ذہین طلباء کی ہر ممکن تعاون کرے، تب جاکر ہندوستان کے مسلمانوں کی پستی کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، شرط ہے کہ منصوبہ بند طریقے سے کام کیا جائے۔
ذوالقرنین احمد
مہاراشٹر ،انڈیا

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker