ہندوستان

کرناٹک کے عوام ہندوتوا سیاست کو شکست دیں: پاپولر فرنٹ

نئی دہلی:30اپریل (پریس ریلیز)
پاپولر فرنٹ کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس نے کرناٹک کے عوام سے اسمبلی انتخابات میں ہندوتوا سیاست کو شکست دینے اور بی جے پی کو دھول چٹانے کے لیے سیکولر امیدواروں اور عوامی سیاست کے نمائندوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ ’اچھے دن‘کا وعدہ کرکے مودی حکومت چار سال قبل اقتدار میں تو آ گئی۔ لیکن اس نے ہر طریقے سے عوام کی بڑی اکثریت کی زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت اور دلتوں و اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی شرح آسمان چھو رہی ہے۔ ان کی نفرت کی سیاست اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ اب ریپ کی سیاست کرنے لگے ہیں، جسے ہم اُنّاو اور کٹھوعہ جیسے حالیہ واقعات سے سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں کی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔ مخالفت کی آوازوں کو بڑی بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے اور سنگھ پریوار کے خلاف بات کرنے والے سماجی کارکنان و دانشوران کو گولی مار کر قتل کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا کرناٹک کے عوام ریاست میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں ایسی طاقتوں کومنتخب کرکے یہاں بھی وہی حالات پیدا کرنے کا انہیں ہرگز موقع نہ دیں۔ مرکزی سیکریٹریٹ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع کا استعمال کرتے ہوئے کرناٹک میں موجود فرقہ پرست طاقتوں اور مرکز میں بیٹھی عوام مخالف و کارپوریٹ کی حامی سرکار کو یہ واضح پیغام دیں کہ ہندوستان جمہوریت و آئینی اقدار کا علمبردار ہے۔ اجلاس نے یہ یاددہانی بھی کرائی کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں اور مظلوم طبقات کی آواز بھی اسمبلی میں سنی جائے، اس لیے عوام ریاست کے تین حلقہ ہائے انتخابات میں حصہ لے رہے ایس ڈی پی آئی کے امیدواروں کو اسمبلی انتخابات میں منتخب کرکے انہیں عوام کی نمائندگی کا موقع دیں۔

مہاراشٹر انکاؤنٹر کی تفتیش کا مطالبہ
اجلاس نے مہاراشٹر کے گڑھ چِرولی میں ماووادی عسکریت پسندوں کے انکاؤنٹر کے نام پر لوگوں کے قتلِ عام کو لے کر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بڑی چونکا دینے والی بات ہے کہ مبینہ ماووادیوں کی سڑی گلی لاشیں مہاراشٹر-چھتیس گڑھ بارڈر پر اِندرَولی ندی میں تیرتی پائی گئیں۔ اب تک مبینہ طور پر ایک خاتون سمیت تقریباً چالیس لاشیں وہاں پائی گئی ہیں۔ پولیس یہ صفائی دے رہی ہے کہ انہیں ’انکاؤنٹر‘ میں مار گرایا گیا ہے۔ لیکن انسداد دہشت گردی کے بہانے فرضی انکاؤنٹرس کی لمبی تاریخ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی وضاحت کو ہضم کر پانا مشکل ہو رہا ہے۔ انکاؤنٹر میں کسی بھی سپاہی کے زخمی نہ ہونے کی خبر بھی یہ بتاتی ہے کہ ممکنہ حد تک یکطرفہ طور پر قتلِ عام کو انجام دیا گیا ہے اور اس طرح حقوق انسانی کی شدید خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کسی بھی ترقی پذیر جمہوری سماج کے لیے اس قدر قتلِ عام اور فوجی زیادتیوں کو بغیر کوئی سوال اٹھائے تسلیم کر لینا بڑی ہی شرم کی بات ہے۔ اجلاس نے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی اور ان واقعات کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کیا۔

جسٹس کے ایم جوزف کو سپریم کورٹ سے روکنے کی حکومتی کوشش کی مذمت
پاپولر فرنٹ آ ف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس نے ایک قرارداد میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے میں مرکزی حکومت کی ہچکچاہٹ کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ اجلاس نے کہا کہ اس سلسلے میں بی جے پی حکومت کے ذریعہ علاقائی نمائندگی اور ایس سی /ایس ٹی کی نمائندگی جیسے پیش کردہ وجوہات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کے ایم جوزف کے ساتھ بی جے پی کی تلخی کا سبب جوزف کے وہ فیصلے ہیں جو دائیں بازو کی سیاست کے خلاف دیے گئے تھے، بالخصوص ۶۱۰۲ میں اتراکھنڈ میں صدر راج ختم کرنے کے فیصلے نے اس تلخی کو مزید بڑھا نے کا کام کیا۔ عدلیہ میں سیاسی مداخلت کے اس کھلے مظاہرے سے سپریم کورٹ کا وقار مجروح ہوگا اور عدلیہ پر سے عوام کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔اجلاس نے سپریم کورٹ کے کالیجیم سے جسٹس کے ایم جوزف کے حق میں اپنی سفارش کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔

شمس الدین انصاری لنچنگ کیس میں فیصلے کا خیر مقدم
اجلا س نے ٹرائل کورٹ کے ایک فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں جھارکھنڈ کے بوکارو ضلع میں شمس الدین انصاری لنچنگ کیس کے دس ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔شمس الدین انصاری کو بچہ چوری کے جھوٹے الزام میں ہجومی تشدد میں قتل کر دیا گیا تھا، جوکہ ریاست میں سلسلہ وار ہوئے ہجومی تشدد کے واقعات میں سے ایک تھا۔ اس فیصلے نے نسل پرست اور جنونیت پسند عناصر کو کھلا انتباہ دیا ہے، جو بے گناہ مسلم مزدوروں اور مویشی تاجروں کے خلا ف پورے ملک میں ہجومی تشدد کے کلچر کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس قسم کے فیصلے متاثرین کے لیے امید کی کرن ثابت ہوں گے جن سے انہیں انصاف کے لیے لڑنے کا حوصلہ ملے گا۔

یوپی حکومت سے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کی اپیل
اجلاس نے الہٰ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ڈاکٹر کفیل خان کو گورکھپور جیل میں آٹھ ماہ کی طویل قید سے ملی رہائی پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ سراسر غیر انسانی اور غیر منصفانہ ہے۔ ڈاکٹر کفیل نے غریب گھرانوں کے نوزائدہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے نہ صرف ہر ممکن کوشش کی، بلکہ ایک مثالی کردار ادا کیا۔ لیکن جس طرح سے بدعنوان حکومت کی انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈاکٹر کفیل کو قربانی کا بکرا بنایا گیا، اس سے یوگی حکومت کے زوال پذیر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ اب جبکہ ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر خان کو ضمانت دے دی ہے، تو یوگی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لے اور جیل میں بتائے گئے وقت اور اس کی وجہ سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی ہوئی بدنامی پر ان سے معافی مانگے اور مناسب معاوضہ دے۔چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ایم محمد علی جناح، ای ایم عبدالرحمن، کے ایم شریف، او ایم اے سلام اور عبدالواحد سیٹھ شریک رہے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker