جہان بصیرتنوائے خلق

اردونےاپناایک مستند ادیب شاعر اور صحافی کھو دیا

مولاناحکیم محموددریابادی
اردو کے نامور صحافی روز نامہ انقلاب، ہفت روزہ بلٹز کے سابق ایڈیٹر، نقاد، شاعر، فضیل جعفری نہیں رہے، نام سے شیعہ ہونے کا گمان ہوتا ہے مگر صحیح العقیدہ تھے، میرا رابطہ رہتا تھا، کئی برس قبل بھی ایک مرتبہ تین طلاق کا تنازعہ اٹھا تھا، اس وقت وہ انقلاب کے ایڈیٹر تھے تب مجھ سے فون پر طلاق ثلاثہ کی مکمل تفصیلات انھوں نے معلوم کی تھی، دراصل ان کو یہ غلط فہمی تھی کہ بیک وقت تین طلاقیں صرف احناف کے یہاں نافذ ہوتی ہیں مگر جب میں نے ان کوبتایا کہ اس میں ائمہ اربعہ متفق ہیں تو انھیں بہت تعجب ہواتھا ـ اردو کے صاحب طرز ادیب ومستند شاعر ہونے کے اور درجنوں صحافیوں کے مربّی ہونے کےباوجود اپنے چھوٹوں سے سیکھنے کا حوصلہ بھی ان میں تھا، ایک مرتبہ دواخانے تشریف لائے کچھ گفتگو کے بعد چلتے چلتے اچانک سوال کیا کہ اردو میں ’’کاروباری مندی ‘‘کے لئے کون سا لفظ ہے، میں نے کہا قران میں ’’کساد ‘‘ آیا ہے اسی سے کساد بازاری اردو میں استعمال کیا جاتا ہے، فورا جیب سے کاغذ نکالا اور اس کو نوٹ کرلیا ـ ۔میں نے ذاکر نائیک کے خلاف یزید پر ایک مضمون لکھا تھا وہ ان کی نظر سے گذرا ہوگا، مبارکباد دینے کے لئے تشریف لائے ،بہت حوصلہ افزائی فرمائی، اس مضمون میں صواعق محرقہ سے کئی حوالے دئے گئے تھے، پوچھا صواعق محرقہ کس کی کتاب ہے میں نے کہا ابن حجر مکی کی، فورا کاغذ پر اس کو بھی نوٹ کرلیا ـ ۔جن دنوں حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ بغرض علاج ممبئی میں مقیم تھے ۔فضیل صاحب نے مجھے فون کیا کہ ’’سنا ہے مولانا تھانوی صاحب کے خلیفہ ممبئی میں ہیں ان سے ملاقات کی کیا شکل ہوگی‘‘، میں نے حضرت کی قیام گاہ پر حاضر ہوکر وقت لیا پھر وقت مقررہ پر میرے ساتھ فضیل صاحب حضرت کی خدمت میں عقیدت کے ساتھ حاضر ہوئے، حضرت نے دعائیں دی ایک رسالہ بھی عطا فرمایا، وہ رسالہ قسط وار انقلاب میں شائع ہوا۔
ـ اردونےاپناایک مستند ادیب شاعر اور صحافی کھو دیا ہے۔ ـ اللہ مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے ـ۔آمین

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker