جہان بصیرتنوائے خلق

شب برات کو اپنی نجات کا ذریعہ بنا لیں

فکر جمیل

مولانا جمیل احمد قاسمی

آج شب برائت ہے جس کی احادیث میں بڑی فضيلت آئی ہے آج اللہ کی عدالت لگنے والی ہے جسمیں بندوں کی نجات کے فیصلے ہونے ہیں دنیاوی عدالت میں جب فیصلے کی تاریخ آجاتی ہے تو ہمیں نہ کھانا اچھا لگتا ہے نہ کپڑا کا خیال رہتا ہے ہم اپنی معافی کے خیال میں مجنوں کی طرح گم رہتے ہیں اور اپنی معافی کیلئے مضبوط پیروی کے ساتھ عدالت میں ڈرے سہمے حاضر ہوتے ہیں اپنی رہائی کیلئے روتے گرگراتے ہیں معافی کی اپیلیں کرتے ہیں کہ شاید حاکم کو رحم آجائے اور ہمارا کام بن جائے اس عارضی رہائی کیلئے ہم کیا کچھ نہیں کرتے مگر آج ہماری دائمی رہائی کے فیصلے ہونے ہیں ہمادی تیاری کیا ہے ؟ کیا ہم نے اللہ کی عدالت میں کھڑے ہونے کی تیاری کر لی ہے ؟ کیا آج ہم اپنے دائمی فیصلے سے ڈرے سہمے ہوئے ہیں؟کیا ہمیں آج کھانا دانہ اچھا لگ رہا ہے ؟ کیا جہنم سے نجات اور جنت کے شوق نے ہمیں مجنوں بنادیا ہے ؟اگر ہاں تو ہمیں شب برائت مبارک ہو !

مگر یہ کیا ہم تو عمده کھانے حلوه پراٹھے عمده لباس بلب بجلی قمقمے پٹاخے کے انتظام میں لگے ہیں تو کیا ہر سال کی طرح اس سال بھی گھر سے لیکر مسجد تک مسجد سے قبرستان تک رنگ برنگی روشنیوں سے سجاوٹ کی جائیگی پٹاخے چھوڑے جائیںگے لوگ کھائینگے پینگے گھومینگے پھیرنگے مستی کرینگے.

کیا جن کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو انہیں یہی کرنا چاہئے کیا انسانی عقل تسلیم کرتی ہے کہ جنکے مقدر کا فیصلہ ہو رہا ہو وہ اپنے انجام سے بے خبر جشن منا رہا ہو ہر گز نہیں یہ سراسر ہمارے کمزور ایمان کی پہچان ہے ہم نفسانی آوارگی کے راستے پر چل پڑے ہیں ہم یہ نہیں کہتے شب برائت کی شکل میں ہم دیوالی منا رہے ہیں پر کرتے وہی ہیں جو دیوالی میں ہوتا ہے تو آئیے بحیثیت مومن اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس رات کو اپنی نجات کا ذریعہ بنائیں اور پوری رات سجدہ میں گزارکر اپنے رب کو راضی کر لیں.

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker