جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ وبالا

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
انسانی زندگی جن راہوں سے گذر کر کامیابی کی منزل تک پہونچتی ہے وہ مختلف مرحلوں میں ایسے امتحان سے گذرنے پر مجبور کرتی جہاں پر انسانیت خود کو تھکا ہوا محسوس کرتی ہے , ہار کر کارگاہ امتحان سے جو بیٹھ جائے وہ کبھی بھی منزل کو نہیں چھوسکتی ,سچ کہا کہ “کامیاب انسان وہ ہے جو تیز طوفان میں بھی دیا روشن رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور سنگلاخ وادیوں کو ٹھوکروں میں رکھ کرسفر کو جاری رکھنے کا ہنر جانتا ہو اور موج بلا کی پرواہ کئے بغیر کشتی کو دریاؤں میں ڈال دینے کی ہمت رکھتا ہو اور خار دار وادیوں میں لہو لہان قدموں کے ساتھ جانب منزل رواں دواں ہو ,
ایسے لوگ دنیا میں کم نظر آتے ہیں ,کہ جن راتیں اللہ کے خوف میں مصلوں پر گذرتی ہواور دن کوجلتے سورج کی روشنی میں امت کا غم زمین ناپنے پر مجبور کرتی ہو , یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی موجودگی ظالموں کو ظلم سے روکتی ہے ,اور دنیا کی آنگن میں بے خوف انسانی جانیں سکون سے سوتی ہیں,مذہبی خیالات مسجدوں میں سجدہ کرتی ہیں ,قافلہ علم اپنی علمی تشنگی پرسکون ماحول میں حاصل کرپاتا ہے اورداعیان اسلام تبلیغ کی راہ سے لوگوں کے دلوں کو مجلی’ ومصفی’ کرتے ہیں اور نبوی چراغ جلاکر ایوان اسلام کو منور اور روشن رکھتے ہیں ,
اس ملک نے اپنی آنکھوں سے اس دن کو بھی دیکھا ہے ,جب روشن خیال کہے جانے والے مسلمان فرمانروا “اکبر” نے “دین الہی ” کی بنیاد ڈال کر اسلامی فکروں اور پیغامات رسول کی آبرو کو شرمندہ کیا ,زبانیں گونگ ہوگئیں ,عقلوں اور ذہن و دماغ پر خوف اور دہشت کا پہرہ لگا دیا گیا, نمازوں پر پابندی اور احکام شریعت سے کسی طرح کا بھی کوئی عمل جرم گردانا جاتا ,اس ہندوستان کے تصورسے کلیجہ منہ کو آتا ہے ,لیکن اس موقعہ پر اللہ نے شاہراہ عزیمت کے عظیم مسافر حضرت مجدد الف ثانی رحمت اللہ علیہ کو دین محمدی کی پاسبانی کے لئے متعین فرمایا تاریخ گواہ ہے کہ آپ کی جرات ,حوصلہ مندی ,غیرت ایمانی اور مجاہدانہ کردار نے اس ملک میں اسلام کو زندگی اور بقا عطا کیا اور آپ کی مخلصانہ پیہم کوشسوں , آہ سحرگاہی اور دعاء نیم شبی نے اس ملک کو حضرت اورنگ زیب جیسے عادل اور بزرگ فرمانروا عطاکیا اور تاریخ نے کھلی آنکھوں ان کے ذریعہ دینی خدمات کو دیکھا ,
1856ع میں انگریزوں کے مکمل تسلط کے بعد بڑے بڑے پوپ اور پادری کے ذریعہ اس ملک کے نقشہ کو بدل دینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں ,یہ فکر کام کررہاتھا کہ مسلمانوں کو باقی تو رکھا جائے لیکن اسلام اس کی زندگی سے نکل جائے , ایسی تعلیم پر پابندی عائد کی جائے جو اسے اس کے اللہ اور رسول سے متعارف کراتا ہے اور تقریبا یہ تیاریاں مکمل کرلی گئیں ,انگریز یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کے رہنے والے بحیثیت قوم انگریز بن جائیں جسے آپ اس خط سے محسوس کرسکتے ہیں جسے مشہور دانشور سرسیداحمدخان نے جن کا انگریزوں سے قریبی تعلق تھا ایک خط 1855ع میں پادری اے ایڈمنڈ نے کلکلتہ سے لکھا تھا کا ذکر کیا ہے جو تمام سرکاری ملازمین کو بھیجا گیا تھا” اب تمام ہندوستان میں ایک عملداری ہوگئ تاربرقی سے سب جگہ کی خبر ایک ہوگئی ,مذہب بھی ایک چاہئے اس لئے مناسب ہیکہ تم لوگ بھی عیسائی ایک مذہب ہوجاؤ (وہ جو بیچتے تھے دوائے دل -29 ازمولانا خالد سیف اللہ رحمانی) غرض انگریز چاہتے تھے کہ ہندوستان کے رہنے والے بحیثیت قوم انگریز بن جائیں , یہ وہ حالات تھے جن میں مولانا قاسم نانوتوی نے محسوس کیا کہ اب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج تو غروب ہوہی چکا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ ایمان کے سرمایہ سے بھی محروم ہوجائیں ,چنانچہ اسی مقصدسے انہوں نے اپنے رفقا کے ساتھ 1866ع میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی اور اس طرح یہاں کے مسلمانوں کا دین محفوظ ہوسکا ,اس ملک میں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ مسلمانوں کو اپنی شریعت پر سوالیہ نشان لگتا محسو س ہوا تو اس موقعہ پر اللہ نے ایک ایسے مخلص عالم کو شریعت کی بقا کے لئے کھڑا کیا جنہوں نے اپنی پوری توانائ دین کی حفاظت کے لئے صرف کردیا تھا ,وہ تھے حضرت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمت اللہ علیہ جنہوں نے اسلام سے مسلمانوں کو مربوط رکھنے اور امیر کی اطاعت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے 23/ 24/ شعبان 1329 ھ کے اجلاس جمیعت علماء بہار (ضلع دربھنگہ ) میں “قیام امارت “کی تجویز رکھی جو منظور ہوگئی ,اور اس طرح 25/ 26 جون 1921ع کو پتھر کی مسجد پٹنہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا اور حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کے مشورہ سے شاہ بدرالدین پھلواری سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کو امیرشریعت اور حضرت ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا ,(وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ,حضرت امیر شریعت رابع کا خصوصی شمارہ ) اس ملک کے صوبہ بہار کے بھاگلپور ضلع کے مضافات میں جب قادیانیت نے سر اٹھایا تو اللہ نے ایسے موقعہ پر سرخیل آزادی اور ناموس رسالت کے امین ومحافظ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کو اس باطل عقیدے اور دشمنان اسلام کی قلع قمع کرنے کے لئے بھیجا ,جنہوں نے اپنے کمال علمی اور مستحکم عزم سے اس ناپاک عقیدے کو کھدیڑ بھگایا , آزادی کے بعد اس ملک میں مسلم پرسنل لا پر شدید حملے ہونے شروع ہوئے اور”متبنی بل “شاہ بانوکیس جیسے مسائل نے سر اٹھانا شروع کیا اور کسی کو اس بات کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اپنی زبان حکومت کے نظریہ کے خلاف کھول سکے ایسے موقع پر ملک کے مسلمان احساس کمتری کے شکار ہوگئے تھے ,ایسے موقع پر شعائر اسلام کے امین ,عظیم باپ کے عظیم فرزند ,مدبرانہ قیادت پر یقین رکھنے والے قائد اور خانوادہ رسول کے چشم وچراخ علوی اولوالعزمی کے پاسبان حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی خانقاہ کی چہار دیواری اور مدرسہ کی چٹائی پر سے اٹھ کر مایوس مسلمانوں کے درمیان تشریف لائے اور 1958/ ع میں دربھنگہ کے ایک عظیم الشان اجلاس سے اس طرح خطاب فرمایا “اگر میں اسلام کو بہت سمجھتا ہوں تو کیا برادران وطن کو اسلام کی افادیت کا گرویدہ بنانے کی کوشس نہیں کرونگا? ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہیکہ ہندوستان کے قانون کواسلام سے قریب تر کرنے کی جائز اور پر امن کوشس کرے ,اگرچہ اس طرح کے بیانات پر ہندی اور انگریزی اخبارات نے آپ کے خلاف بڑی مہم چلائی لیکن آپ کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل نہیں آیا (وہ جو بیچتے تھے دوائے دل :361/مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ,ایفا پبلی کیشنز دہلی ) اس وقت جو ملکی حالات ہیں اس پس منظر میں اگر یہ کہا جائے کہ فسطائی طاقتیں اس بات کے لئے زور لگا رہی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے ملک کو پاک کرکے زعفرانی رنگ میں رنگ دیا جائے اور ملک سیکولرزم کے بجائے ہندو ازکے اصول پر گامزن ہوجائے تو شاید غلط نہ ہوگا ,ایسے نازک موقعہ پر تمام قائدین کی زبان گونگ ہوگئی ,ہر شخص حکومت کی پالیسیوں اور اس کے جابرانہ رویہ کی وجہ خوف محسوس کرنے لگے تو ایسے وقت میں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے پوری پامردی اور جرات واستقامت کا ثبوت دیتے ہوئے کو للکارا اور فرمایا کہ اس ملک میں تم سے زیادہ ہماری حصہ داری ہے ,ہم اا ملک میں پیدا ہوئے ہیں اور ہماری خمیر اسی مٹی میں ملے گی ,مولانا سید محمد ولی رحمانی نے ماضی میں ملی مسائل اور ملت کو درپیش معاملات کے حوالے سے دوسرے پلیٹ فارم پران کی آواز اٹھانے کے معاملے میں نہایت عمدہ موقف اختیار فرمایا اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اپنی منفرد شخصیت کی مثالیں پیش کی ہیں , ملک میں جب یوگا اور سوریہ نمسکار جیسا مسئلہ پیش آیا تو مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے جن کے آپ کارگذار جنرل سکریٹری ہیں دین بچاؤ دستور بچاؤ, کی آواز لگا کر ملک کے مسلمانوں کو بیدار کیا اور اس تحریک کوبہت کم دنوں میں ملک کے کونے کونے تک پہونچانے میں کامیابی حاصل کی اور مساجد کے آئمہ کو خط لکھ کر امت کے ایک ایک فرد کو آواز دے کر بیدار کیا ,اس موقعہ جب کہ امت کو ایک ایسے قائد کی ضرورت تھی جو ان کے مسائل کو شرعی نقطہ نظر سے حل کرے اس کے لئے 29 نومبر کو ارریہ میں ارباب حلو عقد نے حضرت کو امیر شریعت منتخب فرماکر امت پر بڑا احسان کیا خدا کرے یہ کارواں اپنے میر کارواں کے ساتھ بلا تعب وتھکن منزل کی طرف رواں دواں رہے
استاد دارالعلوم سبیل الفلاح جالے دربھنگہ
جنرل سکریٹری ,بہار پیام انسانیت
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker