ہندوستان

معاشی بد انتظامی سے بینکنگ شعبہ سے عوام کا اعتماد ختم

بنگلورو میں من موہن سنگھ نے مودی کو براہ راست نشانہ بنایا
بنگالورو: 7مئی (یواین آئی )سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی بدانتظامی کی وجہ سے بینکنگ شعبہ سے عوامی اعتماد بتدریج ختم ہوجاتا جارہا ہے۔وہ یہ بات کافی ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں۔اصلاحی اقدام کرنے کے بجائے حکومت بہانہ بازی اور سازشیں کر رہی ہے۔انہوں نے کرناٹک انتخابات کے سلسلہ میں بنگالورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوٹ بندی اور عجلت میں جی ایس ٹی کے نفاذ پر مرکز پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے دیہی ترقی اور عام آدمی متاثر ہوا ہے۔پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے صورتحال کو بدتر کردیا ہے اور مودی حکومت کی بد انتظامی کو واضح کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج نہ ہی کوئی بینکس قرض فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی کوئی پرائیویٹ شعبہ قرض فراہم کر رہا ہے تاکہ نئی سرمایہ کاری کی جاسکے۔معیشت کے انجن کی ترقی بے ربط ہوگئی ہے۔بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے اکسائز ٹیکس عائد کئے ہیں جس سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔مودی حکومت ،عوام کو سزا دے رہی ہے۔منموہن سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیاں جو یہ دعوی کر رہے ہیں کہ بہتر ہیں کے نتیجہ میں عوام کا بڑے پیمانہ پر نقصان ہورہا ہے۔ان کے تباہ کن فیصلوں سے چھوٹے ور اوسط درجہ کی صنعتیں متاثر ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے کسان شدید بحران کاسامنا کر رہے ہیں ،ہمارے پُرجوش نوجوانوں کے لئے کوئی مواقع نہیں ہے اور معیشت کی حالت بد تر ہوتی جارہی ہے ۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہر بحران کو مکمل طور پر نظراندازکیاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے وزرا اور یہاں تک کہ بی جے پی کے وزرائے اعلی اپنے بیانات کے ذریعہ غیر معقولیت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جب غیر معقولیت پسند پالیسیاں جن سے عوام متاثر ہورہی ہیں پر عمل کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے وزیراعلی سدارامیا کی حکومت صنعتوں کی حمایت کر رہی ہے اور کرناٹک کو سرمایہ کاری لانے میں گجرات یا پھر ملک کی کسی بھی دوسری ریاست سے آگے لے جارہی ہے۔کانگریس حکومت نوجوانوں کے لئے ملازمتیں پیدا کر رہی ہے اور اس کے نتائج واضح ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کانگریس کے 70سال کی حکومت کی بات کرتے ہیں وہ سبز انقلاب کو بھول گئے اور یوپی اے اول و دوم کی پالیسیوں کو بھی بھول گئے جس کے ذریعہ دو ملین افراد کو روزگار حاصل ہوا۔انہوں نے مودی حکومت میں ملازمتوں کی شرح پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ قیادت مواقع پیدا کرتی ہے ، ان کو تباہ نہیں کرتی ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت تلخ حقائق کو بتانے کے بجائے معاشی ترقی پر ایک خوشگوار تصویر پیش کر رہی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مودی کرناٹک انتخابات میں سماج کو تقسیم کرنے کا کام نہیں کریں گے۔
جو وندے ماترم کا احترام نہیں کرسکتے وہ دیش کا کیسے بھلا کرسکتے ہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker