ہندوستان

پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر سوال کھڑانہیں کیا جا سکتا :سپریم کورٹ

نئی دہلی:09؍مئی ( بی این ایس )
سپریم کورٹ نے آج رولنگ دی کہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کو نہ تو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، نہ ہی اس کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑے کئے جا سکتے ہیں۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے کلپنا مہتا کی پٹیشن پر اپنا فیصلہ سنایا۔ آئینی بنچ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 32 اور 136 کے تحت دائر مقدمات میں پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔بنچ میں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن بھی شامل ہیں۔ اس معاملہ میں بنچ کے تین ججوں۔جسٹس مشرا، جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس بھوشن نے اپنا فیصلہ لکھا، تینوں فیصلہ رضامندی والا تھا۔عدالت نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کو عدالتی عمل سے باہر رکھنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی اور عدالت اس پر بھروسہ کر سکتی ہے۔ ایسی رپورٹوں کو عدالتی عمل کا حصہ بنانا پارلیمانی استحقاق کی خلاف ورزی قطعی نہیں ہو گی۔ عدالت عظمی نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔یہ معاملہ سروائیکل کینسر کے علاج سے متعلق دو ویکسین کا استعمال آندھرا پردیش اور گجرات میں قبائلی خواتین پر کئے جانے سے متعلق ہے۔ اس معاملے کی سماعت کر رہی بنچ نے آئینی بنچ قائم کرنے پر زور دیا تھا۔ آئینی بنچ کو اس بات پر غور کرنا تھا کہ کیا عدالت پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پر اعتماد کر سکتی ہے یا نہیں اور رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker