اسلامیاتمتفرقاتمضامین ومقالات

تراویح کا اکرامیہ: ایک علمی جائزہ

تحریر : مفتی شکیل منصور القاسمی

صدر مفتی سورینام، جنوب امریکہ

قرآن وحدیث کو کسب معاش کا ذریعہ بنانا جائز نہیں۔کتاب وسنت میں اس پہ سخت وعید آئی ہے۔ جسکی وجہ سے فقہاء حنفیہ کا اصل مسلک یہ ہے کہ کسی بھی طاعت وعبادت پہ اجرت وصول کرنا جائز نہیں ہے۔لیکن دینی اور شرعی مصلحت کے پیش نظر بعد کے فقہاء حنفیہ نے دینی تعلیم ،امامت ،اذان اور افتاء وغیرہ کو جائز قرار دیا۔۔صرف تلاوت قرآن مجید کی اجرت خواہ کسی بھی شکل میں( قرآن خوانی کی شکل میں ہو یا تراویح کی شکل میں )ہو کو اصل مسلک کے موافق ناجائز ہی رکھا گیا (شامی ۔مطلب فی الاستئجار علی الطاعات55/6۔سعید )۔۔۔یہ تو متاخرین کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی حافظ تراویح میں قرآن سنائے۔نہ اجرت کی بات کرے۔اور نہ اجرت لے۔نہ اس جانب حظ وانتطارنفس ہو ،وہ اللہ کے لئے سنائے۔لیکن مقتدی حضرات بخوشی اور بطیب خاطر کچھ رقم یا کپڑا وغیرہ اکرامیہ اور ھدیہ کے طور پر حافظ صاحب کو دیدیں تو کیا یہ بھی اجرت قراءت کے حکم میں داخل ہوگا ؟اور آیا حافظ جی کو یہ لیناجائز ہوگا یا نہیں ؟ ناجائز ہے تو کس وجہ سے اور جائز ہے تو کیوں؟؟؟

اس سلسلہ میں ہند و پاک کے علماء کے دو نقطہائے نظر ہیں۔

حضرت تھانوی اور مفتی عزیز الرحمن رحمہما اللہ وغیرہ حضرات کا خیال یہ ہے کہ ھدیہ کی مذکورہ شکل بھی ناجائز ہے۔کیوں کہ اجرت لےکر تراویح پرھانے کا رواج چل پڑا ہے اور بغیر لئے عموما کوئی پڑھاتا بھی نہیں۔اگر ایک سال کچھ نہ دو تو دوبارہ وہ آتے بھی نہیں۔لہذا “المعروف کالمشروط” (شرح المجلہ ۔مادہ 53۔)کے فقہی قاعدہ کے تحت حافظ صاحب کا ہدیہ بھی اجرت معروفہ بن کے ناجائز ہوجائے گا۔۔۔

جبکہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی۔مولانا سید منت اللہ رحمانی۔مفتی محمد فرید مجددی مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی جیسے دیگر اکابر علماء دیوبند کی رائے یہ ہے کہ اگر حافظ کی نیت خالص ہو وہ صرف اللہ کے لئے سنائے۔اور دینے والے کی نیت بھی خالص ہو وہ بلا تعیین صرف اللہ کے لئےاکرامیہ اور ھدیہ کے طور پر نہ کہ معاوضہ قرآن کے طور پرکچھ دے اور حافظ کو بھی نہ دینے پہ کوئی شکایت نہ ہو تو یہ صورت اجرت سے خارج ہے اور حد جواز میں داخل ہے اور اس ھدیہ کے جواز میں کوئی تامل نہیں ۔دیکھئے کفایت المفتی۔42/2۔

ھدیہ کی اس شکل پہ “المعروف کالمشروط “جیسے بے رحم قاعدے کو چپکانا بھی صحیح نہیں ہے۔جیسا کہ ہم عنقریب مفتی محمد فرید صاحب کے حوالہ سے نقل کریں گے۔

مفتی تقی عثمانی صاحب بغیر طئے کئے بخوشی دئے گئے ھدیہ کو جائز کہتے ہوئے لکھتے ہیں: تراویح پر اجرت لینا طئےکرکے بھی حرام ہے اور اگر زبانی طور پر طئے نہ کیا جائے لیکن عرف ورواج ایسا ہوکہ زبانی طئے کئے بغیر بھی لینا دینا طے سمجھا جاتا ہو تو اس صورت میں بھی ناجائز ہے ۔البتہ اگر نہ زبانی طے کیا ہو نہ عرفا طےسمجھا جاتا ہو نہ حافظ کے دل میں تراویح پڑھانے کا محرک یہ ہو کہ “کچھ ملے گا” اس کے بعد اگر مسجد والے اپنی خوشی سے کچھ دیدیں تو لینے کی گنجائش ہے۔(فتاوی عثمانی 462/1 )۔۔

خوشی سے دیئے جانے والے ھدیہ پر جو حضرات اکابر “المعروف کالمشروط “کا فقہی قاعدہ جاری کرکے اسکو ناجائز کہتے ہیں ،ان کے استدلال کو مفتی محمد فرید مجددی رحمہ اللہ رد فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔

“حافظ کو جو رقم دیجاتی ہے ھدیہ کے طور پر ہوتی ہے۔اور ھدیہ کے لینے اور دینے میں خواہ معروف ہو یا مشروط کوئی حرج نہیں ہے۔حرج تو صرف اجرت میں ہے۔خواہ مشروط ہو یا معروف۔یہاں نہ زبان سے اجرت کی بات ہوتی ہے نہ تعاطی سے۔لہذا اس رقم کو اجرت کہنا کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے۔۔۔نیزاگر یہ تسلیم کربھی لیاجائے کہ یہ اجرت معروفہ ہے تب بھی اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔کیوں کہ حفاظ کو یہ رقم صرف ختم قرآن کے معاوضہ میں نہیں دیجاتی ہے۔اور نہ امامت کے معاوضہ میں دیجاتی ہے ۔بلکہ حافظ صاحب کو یہ رقم اس وقت دیجاتی ہے جبکہ امام بنکر تراویح میں رکن قراءت تمام قرآن کو بنائے ۔یعنی یہ امامت خاصہ کا معاوضہ ہے ۔اور امامت پر اجرت لینا مفتی بہ قول پر جائز ہے(۔شامی میں ہے ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرآن الخ۔۔۔۔۔۔۔38/5۔)۔۔دیکھئے فتاوی فریدیہ576/2۔

دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:

“اکثر اکابر اجرت تلاوت خیال کرکے ناجائز کہتے ہیں جبکہ دیگر اکابر امامت مقیدہ کی اجرت تصور کرکے جواز کا فتوی دیتے ہیں۔اور یہی اقوی ہے۔پہلا احوط ہے578/2۔

لہذا صلہ، مکافات اور اکرام کے طور پر دیجانے والی رقم کو اجرت معروف کہنا صحیح نہیں ہے۔کیوں کہ یہاں عقد اجارہ کا دور دور تک کہیں وجود ہے نہ اشتراط متحقق ہے اور نہ ہی کسی خاص اجرت پر عرف جاری ہے۔۔۔عدم جواز کے قائلین اکابر علماء کی عظمت شان، جلالت قدر اور علمی تبحر سر آنکھوں پہ۔۔لیکن انہی بزرگوں کی تعلیم وتلقین نے یہ صراط مستقیم بھی دکھائی ہے کہ مسائل شرعیہ میں آزادانہ مدلل اظہار رائے ترک ادب نہیں۔اور جماعت دیوبند کی یہی خصوصیت بھی ہے۔بنا بریں

میری ناقص نظر میں عدم جواز کا قول احوط ضرور ہے لیکن المعروف کالمشروط والے استدلال میں علمی وزن نہیں ہے۔لمابیننا۔۔اسی لئے امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی نے بھی کتنی دور رس ،منصفانہ اور دو ٹوک بات لکھی ہے۔فرماتے ہیں:

“تراویح کے سلسلہ میں جو صورت حال ہے اس سے ہم نظری اور فرضی طریقوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔بلکہ ہمیں واقعی اور عملی صورت پر غور کرنا ہوگا۔ہمارے خیال میں واقعی شکل وہی ہے جس کا نقشہ اوپر (سوال میں )کھینچا گیا ۔اسلئے ہماری رائے ہے کہ تراویح میں قرآن پاک سنانے سے متعلق وہی توسع پیدا کیا جائے جو تعلیم قرآن وتعلیم حدیث وفقہ امامت اذان واقامت وغیرہ کے متعلق گیا ہت۔(حیات رحمانی ،ہفتہ وار نقیب،پہلواری شریف پٹنہ۔11جون 1986 عیسوی مطابق شب روز 9 مئ2011 )

مذکورہ بالا دلائل اور اقوال علماء کی روشنی میں یہ حقیر بھی مذکورہ شرطوں کے ساتھ حافظ کے ھدیہ کو مباح سمجھتا ہے۔۔اس نوع کے ھدیہ کو حرام یا ناجائز کہنے کے دلائل میں علمی قوت نہیں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker