روبرو

مودی سرکار کو اب بھگانا ہی چاہئے

ہندو بھائی خود ہی ملک کو ’ہندو راشٹر‘ بننے سے بچائیں گے۔
مسئلہ آسام کی سب سے بڑی ذمہ دار تو کانگریس ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کا مسئلہ دانستہ اچھالاگیا ہے۔
آسام میں ۵۰؍لاکھ مسلمانوں کو نکال کر بنگلہ دیشی ہندوئو ںکو بسانے کی سازش۔
مولانا بدرالدین اجمل قاسمی(ایم پی) سے ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر جناب شکیل رشید صاحب کی گفتگو
مولانا بدرالدین اجمل ، رکن پارلیمنٹ ،صدر اے آئی یو ڈی ایف، اِن دنوں ممبئی میں ہیں لیکن ان کا دل آسام میں لگا ہوا ہے ۔ آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا معاملہ پَل پَل کروٹیں بدل رہا ہے ۔ ممبئی کے ’کف پریڈ‘علاقے کی میکرٹاورس کی اپنی رہائش گاہ میں گفتگو کے دوران وہ مسلسل موبائل پر آسام سے رابطے میں ہیں ۔ کبھی یہ دریافت کیا جارہا ہے کہ عدالت میں شنوائی کس مرحلے میں ہے ، کبھی ہدایت دی جارہی ہے کہ اخبارات کے لئے کیسے بیانات جاری کئے جائیں اور کبھی یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آسام کی بی جے پی سرکار نے مزید کون سے اقلیت مخالف فرمان جاری کئے ہیں ۔ مولانا آسام کے دھبری حلقہ سے پارلیمنٹ پہنچے ہیں لیکن ان کے لئے سارا آسام ہی ایک طرح سے حلقہ ہے ۔ مسئلہ شہریت، ملک کے تازہ حالات اور بی جے پی کی مرکزی حکومت اور مسلمانوں کی حکمت عملی ، غرضیکہ مولانا موصوف سے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ ذیل میں گفتگو کے اقتباسات پیش ہیں ۔
س:آسام میں شہریت کا مسئلہ کس مرحلے میں ہے ؟
ج: شہریت کا مسئلہ بہت نازک مرحلے میں ہے ۔ ہماری جمعیۃ علماء نے دعویٰ کیا تھا کہ 47 لاکھ عورتوں کی شہریت کا مسئلہ ہماری وجہ سے حل ہوگیا ہے ، دوسری جمعیۃ علماء کا یہ دعویٰ تھا کہ مسئلہ ان کی کوششوں سے حل ہوا ہے ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب انتہائی نازک ہوگیا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس قدر سنجیدہ اور حساس معاملے میں بھی ہم لوگ کریڈٹ لینے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ حالات انتہائی تشویش ناک ہیں لیکن حل کے لئے ہم کام کررہے ہیں ۔
س: اس مسئلے میں کون سی نئی بات پیدا ہوئی جس نے اسے نازک بنادیا ہے ؟
ج: ہوا یہ ہے کہ پنچایت سرٹی فیکیٹ کو ماننے کی جوبات کی گئی تھی اسے درکنار کرکے آسام حکومت کے اشارے پر شہریت کے ثبوت کے لئے مزید چند دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں ۔ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی ، کہ پنچایت سرٹی فیکٹ کو بطور ثبوت مانا جائے ، کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اب حکومت آسام کی اس نئی ہدایت کی بنیاد پر افسران لوگوں کو بنگلہ دیشی قرار دے رہے ہیں ۔ ہم نے غوروخوض کیا ہے ، جمعیۃ علماء ہند کے ذمے داران کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے ، حکام سے رابطہ کیا گیا ہے ، اگرنتیجہ خاطر خواہ نکلتا ہے تو ٹھیک ورنہ ہم لوگ اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے ۔ اس کی مداخلت چاہیں گے ۔
س: یعنی آسام کی بی جے پی حکومت کوئی راحت دینے کو تیار نہیں ہے ؟
ج: راحت! ابھی تین دن سے ایک نیا مسئلہ اس نے شروع کردیا ہے ، ہائی کورٹ کے آرڈر سے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ اگر کسی ایک گھرانے میں کسی ایک شخص کے نام کے ساتھ D-voter(مشتبہ ووٹر) لکھا ہے تو گھر کے ہر فر دکو بنگلہ دیشی قرار دے دیا جائے اور ان کے نام این آر سی سے خارج کردیئے جائیں ۔ یہ 40 سے 50 لاکھ لوگوں کو این آرسی سے خارج کرنے کی ایک مذموم سازش ہے ۔ اس سلسلے میں گذشتہ روز گوہاٹی میں ہمارے لیگل سیل کی میٹگ تھی ، فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمارا ایک وفد دہلی جائے گا اور جمعیۃ کے صدر مولانا قاری عثمان منصور پوری اور جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی سے ملاقات کرکے اور ان سے مشورے کے بعد اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا ، ان شاء اللہ ۔
س: گویا آسام سرکار نے مسلمانوں کو ہر طرف سے گھیرنا شروع کردیا ہے ؟
ج: مجھے تو لگتا ہے کہ آسام سرکار نے 40سے 50 لاکھ آسامی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بنانے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ وہ اسے جبراً کرنا چاہتے ہیں ۔ ہماری جمعیۃ کی پوری کوشش رہے گی کہ سپریم کورٹ جائیں اور بڑے سے بڑے وکلا کی خدمات حاصل کرکے پوری طاقت سے اپنی بات رکھیں ، ان شاء اللہ ۔
س: کیا مرکز کی مودی سرکار سے آپ نے اس سلسلے میں کوئی بات کی ہے ؟
ج:ہم نے میمورنڈم دیئے ہیں ، مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے تین بار ملاقاتیں کی ہیں ۔ وہ کہہ دیتے ہیں کہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے ، سپریم کورٹ دیکھ رہا ہے ، اور بات آگے نہیں بڑھتی ۔ مولانا محمود مدنی کے ہمراہ چیف سکریٹری ، ہوم سکریٹری اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال سے بھی اس سلسلے میں ملاقاتیں کی ہیں ۔ ان ملاقاتوں کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو بیجادھڑ پکڑ ہوتی تھی وہ بند ہوئی ہے ۔ ہم نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی ہے ، انہوں نے بھی یہی کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے لیکن ہم جو بھی کرسکتے ہیں کریں گے ۔
س: تو کیا اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا ؟
ج: دیکھئے اللہ سے یہ امید رکھنی چاہئے کہ ایسا نہیں ہوگا ۔ مگر لگتا ہے کہ ایک کافی بڑی تعداد میں بنگلہ دیش سے یہ ہندوؤں کو لاکر یہاں بسانا چاہتے ہیں اسی لئے اتنے مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ یہ دراصل ہندوؤں کو لاکر اپنا ووٹ بینک بیلنس کرنے کی سعی ہے ۔ تو یہ خطرہ تو ہے ۔ اس کی لڑائی ہم لڑرہے ہیں اورخیر کی امید صرف سپریم کورٹ سے ہے ۔
س: آسام میں مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ تو بڑا پرانا ہے ۔ کانگریس نے اسے کیوں حل نہیں کیا ؟
ج: سب سے بڑی ذمے دار تو کانگریس ہی ہے ۔ آسام میں کانگریس کی حکومت 55 سال تھی ، وہ چاہتے تو اس مسئلے کو چٹکی میں ختم کردیتے ۔ یہ تو سپریم کورٹ سے قدرے راحت ملی کانگریس نے کچھ نہیں کیا ۔
س: لیکن کانگریس آج پھر کہہ رہی ہے کہ ہمیں اقتدار پر لاو ہم سارے مسائل حل کردیں گے؟
ج: یہ تو کہنا ہے ووٹ لینے کے لئے ۔
س: تو کیا کانگریس کو دوبادہ مرکز میں آنا چاہیئے ؟
ج: دیکھئے مودی سرکار کو جانا چاہیئے اسی میں ملک کی خیر ہے ۔ اب آئے کون ، تو اس سوال کا جواب پانے کے لئے ساری سیکولر جماعتوں کو چاہئے کہ وہ متحد ہوں ، گٹھ جوڑ کریں ۔ راہل گاندھی آج کہہ رہے ہیں کہ میں وزیراعظم بنوں گا حالانکہ فی الحال ان کے پاس 44 لوگ ہیں ۔ اب یہ تو ساری سیکولر پارٹیوں کو ، وہ بھی متحد ہونے کے بعدطے کرنا ہے کہ وزیراعظم کسے بننا ہے ۔
س: آپ نے کہا کہ مودی سرکار کو جانا چاہیئے ، کیوں؟
ج: اس لئے کہ مودی سرکار سارے ملک کے لئے خطرناک ہے ، جو سیکولر لوگ ہیں وہ کسی بھی ذات دھرم کے ہوں ان کے لئے بھی خطرناک اور ہمارے لئے بھی خطرناک۔ یہ حکومت جس طرح سے ملک میں تعصب کا زہر گھول رہی ہے ، گنگا جمنی تہذیب کو تباہ وبرباد کررہی ہے ، وہ خطرناک ہے ۔ ملک کے 80 فیصد لوگ گنگا جمنی تہذیب کے حامی ہیں اس لئے مودی کا اور ان کے ساتھیوں کا اقتدار سے بے دخل ہونا ملک کی سالمیت اور اکھنڈتا کے لئے ضروری ہے ۔
س: تو کیا ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے ؟
ج: یہ لوگ جس طریقے سے کام کررہے ہیں ، زبان ، ذات پات ، علاقائیت اور مذہب کے نام پر یہ لوگ جس طرح پورے ملک کو بانٹ رہے ہیں ، ملک کی سالمیت اس کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ یہ ملک کو بہت پیچھے لے جارہے ہیں ۔
س: آپ نے کہا کہ یہ مودی سرکار ’ ہمارے لئے بھی خطرناک ہے ‘ کیسے ؟
ج: مسلمان یہاں تعلیم اور امن وامان چاہتا ہے ،تعلیم پر یہ قدغن لگارہے ہیں اور جو تعلیم یافتہ بچے ہیں انہیں چن چن کر جیلوں میں ڈال رہے ہیں ۔ کہاں تو جب یہ مودی سرکار آئی تو یہ دعویٰ تھا کہ مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ ہوگا اور کہاں آج کے حالات کہ مسلمانوں کی عزت وآبرو تک محفوظ نہیں ہے ۔ یہ مسلمانوں میں مایوسی اور خوف وہراس پھیلانے کی ایک منظم سازش ہے ۔ اس لئے مودی سرکار ہمارے لئے بھی خطرناک ہے ۔
س: تو کیا واقعی مسلمان مایوس ہورہا ہے ؟
ج: نہیں ، یہ مسلمانوں کے لئے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔ مسلمانوں کوگھبرانے اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں مسلمان اپنی طرف سے کوئی ایسا کام نہ کریں کہ اسلام کا نام بدنام ہو۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد جگہ جگہ فسادات کرانے کی کوششیں کی گئیں مگر میں مسلمانوں کی دوراندیشی اور ہمت کی داد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے صبر سے کام لے کر سازشیں ناکام کیں ورنہ ملک کا نہ جانے کیا حال ہوجاتا ۔ یہ مسئلے مسلمانوں کو اکسانے کے لئے اٹھاتے ہیں مگر مسلمان صبر کا دامن بالکل نہ ہاتھ سے چھوڑیں ۔
س: تازہ معاملہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں محمد علی جناح کی تصویر کا ہے ، آپ اس پر کیا کہیں گے ؟
ج: علی گڑھ کا مسئلہ جان بوجھ کر کھڑا کیا گیا ہے کیونکہ کرناٹک اسمبلی کے الیکشن ہورہے ہیں ، 2019 کے لوک سبھا کے الیکشن سرپر ہیں ، مزید تین ریاستوں کی اسمبلیوں کے الیکشن ہیں ۔ محمد علی جناح کی تصویر کا مسئلہ دانستہ اچھالا گیا ہے ۔ میری یہ درخواست ہے کہ علی گڑھ کے بچے صبر سے کام لیں اور فرقہ پرستوں کی ہر چال کو ناکام بنادیں ، موقع نہ دیں کہ یہ لوگ ملک اورامن کی فضا برباد کرسکیں ۔ ویسے مسئلہ جناح کی تصویر نہیں مسلم یونیورسٹی ہے جو ان کی نظروں میں کھٹک رہی ہے ۔ اب یہی دیکھیئے کہ یونیورسٹی میں آر ایس ایس کے دفتر کے لئے جگہ مانگی جارہی ہے ! یہ بہانہ ہے نشانہ کچھ اور ہے ۔
س: اب تو مسلمانوں کے سارے تاریخی آثار ہی نشانے پر ہیں ۔ لال قلعہ ڈالیا کو سونپ دیا گیا ۔ کیا کہیں گے ؟
ج: یہ سرکار تاریخی آثار کی حفاظت نہیں کرپارہی ہے اس لئے بڑی کمپنیوں کو دے رہی ہے ۔ میرا تو یہ کہنا ہے کہ جب مودی سرکار ایک لال قلعے کی حفاظت نہیں کرسکتی تو ملک کی حفاظت کیسے کرے گی ! اور نشانہ صرف لال قلعہ ہی نہیں ہے قطب مینار اور تاج محل بھی ہیں ۔
س: بات صرف تاریخی آثار ہی کی نہیں شریعت بھی تو ان کے لئے ایک مسئلہ ہے ۔ شریعت میں اس سرکار کی مداخلت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
ج: میں پہلے بات مسلمانوں کی کرنا چاہوں گا ۔ مسلمانوں میں آج اتحاد واتفاق کی جو ضرورت ہے وہ پہلے کبھی نہیں آئی ۔ آج ضرورت ہے کہ ہم مسلمان دیندار بنیں ، بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں ۔ طلاق ثلاثہ یا کسی دوسرے شرعی معاملے میں آواز وہی بچیاں اور بچے اٹھاتے ہیں جنہیں ابتدا میں دینی تعلیم نہیں ملتی ۔ عام مسلمان اس حکومت کے ساتھ نہیں ہیں ، کوئی بھی مسلمان اس حکومت کی شریعت میں مداخلت کی تائید نہیں کرے گا۔ مگر ہمیں آج قرآن اور سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔ پیغمبر رحمت حضرت محمدﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو پکڑیں کہ اسی میں ہماری کامیابی اور فلاح ہے۔ یہ بہترین موقع ہے اخلاقی طور پر برادرانِ وطن کو جیتنے کا ۔۔۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ ہم سے ہمارے اعمال کی وجہ سے ناراض ہے ۔
س:کیا مسلمانوں کا اتحاد ممکن ہے ؟
ج: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج کے حالات کے سبب مسلمان متحد ہورہا ہے ۔ میری تو یہی درخواست ہے کہ مسلکوں کا جھگڑا مسلمان اپنے گھروں اور مسجدوں تک رکھیں مگر ملکی سطح پر ان میں اجتماعیت ضروری ہے ۔
س: کیا مسلمانوں کا اتحاد ملک کو ’ ہندوراشٹر‘ بننے سے روک دے گا ؟
ج: میرے خیال میں اس معاملے میں مسلمانوں سے بڑا رول سیکولر ہندوستانی بھائیوں کا ہے ۔ 80 فیصد ہندو بھائی سیکولر ہیں اور وہ اِن چیزوں کو پسند نہیں کرتے ۔ مسلمان ہیں ہی کتنے ! وہ بھی 73 فرقوں میں منقسم ! یہ ہندو بھائی ہی ملک کو ’ ہندوراشٹر‘ بننے سے روکیں گے ۔
س: مسلمان کس سیاسی پارٹی کی طرف جھکے ؟ کیا بی جے پی کی طرف بھی جھکاجا یا جاسکتا ہے؟
ج: اگر بی جے پی کو بھگانا ہے تو اس کے ساتھ نہیں جانا چاہئے ، اس سے ملنے کا عمل اسے طاقت دینے کے مترادف ہوگا ۔ ویسے جتنے بھی مسلمان بی جے پی میں گئے ہیں اب سب ہی سرپکڑ کر بیٹھے ہیں۔ آسام میں بی جے پی کے ایک مسلمان کو جیت ملی آج تک اسے کوئی عہدہ نہیں ملا ۔ بی جے پی سے کسی بھی حالت میں ہاتھ نہیں ملانا چاہئے ۔ہاں اب سیکولر جماعتیں متحد ہو رہی ہیں ان کا ہی ساتھ دینا چاہئے ۔ میری پارٹی بھی ان کے ساتھ ہے ۔ اب جسقدر بھی جلد ہومتحد ہوکر مودی سرکار کو بھگانا ہی چاہئے ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker