ہندوستان

سات بارمنتخب ہونے والے روشن بیگ کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کی مانگ میں شدت

بنگلور سمیت ریاست بھر میں مسلم تنظیموں کے نمائندوں کے پرزورمطالبے
بنگلورو:23مئی (بی این ایس )
ریاستی کابینہ میں ایک مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ کے طور پر شامل کرنے کی مانگ دن بدن شدت اختیار کرتی جارہی ہے، جہاں مختلف مسلم تنظیموں کی طرف سے مخلوط حکومت میں شامل کانگریس اور جنتادل(ایس) رہنماؤں سے پرزور نمائندگی کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف آج مختلف مسلم تنظیموں نے ایک اخباری کانفرنس سے مخاطب ہوکر مانگ کی کہ ریاستی کابینہ میں ایک مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ دیاجانا چاہئے۔ ان تنظیموں نے سات بار اسمبلی کے لئے منتخب سب سے سینئر رکن اسمبلی جناب روشن بیگ کو اس عہدے سے سرفراز کرنے کی وکالت کی ہے۔ آج مسلم تنظیموں کے فیڈریشن نے اخباری کانفرنس کے دوران کہاکہ ریاست میں دلتوں کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی رہتی ہے۔ اس آبادی کو اقتدار میں مناسب حصہ داری بدقسمتی سے اب تک نہیں مل پائی ہے، جنتادل (ایس) کی قیادت نے انتخابات سے قبل وعدہ بھی کیا تھاکہ اسے اقتدار ملا تو کسی مسلم رہنما کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ ضرور دیا جائے گا ، اب جبکہ کانگریس اور جنتادل (ایس) مخلوط حکومت قائم ہونے جارہی ہے ، کانگریس سے 7؍ مسلم اراکین منتخب ہوئے ہیں جبکہ جنتادل (ایس) سے کوئی منتخب نہیں ہوپایا۔ ریاست میں مسلم آبادی کے تناسب سے کم از کم چالیس مسلم نمائندوں کا انتخاب ہونا چاہئے تھا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوپایا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے قائم سچر کمیٹی کی سفارشات میں اس طبقے کو ملک کا پسماندہ طرین طبقہ قرار دیا گیا ہے، اب تک دیکھا گیا ہے کہ مسلم ووٹوں کے بل پر اقتدار حاصل کرنے والی سیکولر سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں مسلمانوں کو جو ترجیح دینی چاہئے تھی وہ دے نہیں پائی ہیں۔ اس بار کمار سوامی کی قیادت والی حکومت سے توقع ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف ضرور کریں گے اور ریاست میں مسلمانوں کے سب سے سینئر رکن اسمبلی جناب روشن بیگ کو کابینہ میں بطور نائب وزیر اعلیٰ شامل کرکے ریاست کے مسلمانوں کے مفادات کی حکومت تک موثر نمائندگی کا موقع فراہم کرے گی۔ ان تنظیموں کے نمائندوں نے کہاکہ برسوں سے سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کی جو تائید حاصل کی یہی وقت ہے کہ وہ مسلمانوں کے ان احساسات کابدلہ چکائیں۔ ان نمائندوں نے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا ،نامزد وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی ، کانگریس قائدین سدرامیا، ڈاکٹر جی پرمیشور اور ملیکارجن کھرگے سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔اس اخباری کانفرنس میں خطاب کرنے والوں میں مسلم تنظیموں کے فورم کے کنوینر سمیع اﷲ خان، عبدالکلام ایجوکیشنل چاریٹبل ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری نذیر ، اڈوکیٹ سی آر عبدالرشید،کرناٹکا اسٹیٹ نداف پنجار اسوسی ایشن کے نائب صدر ایچ اے ذاکر حسین، مسجد طٰہٰ بنگلور کے جنرل سکریٹری شاہجہاں، سید شاہد احمد، جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک، محمد اکرم پاشاہ مسلم سوہاردا ویدیکے، ساگر سمیع اﷲ مسلم سیکولر سینا، دستگیر کنوینر محمدیرا کنڑا ویدیکے، محمد عظیم الدین کنوینر محمدیرا کنڑا ویدیکے موجود تھے۔اس اخباری کانفرنس کے علاوہ آج ریاست کے مختلف اضلاع اور تعلقہ جات میں بھی مسلم تنظیموں کی طرف سے پرزور مطالبات زور پکڑنے لگے کہ کمار سوامی کابینہ میں ایک مسلم نائب وزیراعلیٰ کا تقرر ہوناچاہئے اور اس کے لئے موزوں ترین نام جناب روشن بیگ کا ہے۔ باگلکوٹ میں ہندگند مسلم جاگریتی ویدیکے ، لمبرا ویلفیر اسوسی ایشن الکل ، روشن بیگ ابھی مانی بلگاباگلکوٹ ، کے علاوہ اور بھی بہت ساری تنظیموں نے یہی مانگ دہرائی ہے کہ کمار سوامی کابینہ میں روشن بیگ کو نائب وزیراعلیٰ بناکر نئی حکومت ان کی دیرینہ تجربات سے استفادہ کرے اور ان کے ذریعے ریاست کی دوسری سب سے بڑی آبادی کو نمائندگی کا موقع مل سکے۔ مطالبہ کرنے میں کیا حرج ہے؟:اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جناب روشن بیگ نے اس مطالبے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے بتایاکہ جب دیگر طبقات کے لوگ نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کا مطالبہ کرسکتے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر کانگریس اعلیٰ کمان کے فیصلے کی پابندی کریںگے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker