مضامین ومقالات

دوسری سرکاری زبان اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ آخر کب تک؟؟؟

عبدالغنی
نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈی ایل کورس میں اردو زبان کو بطور میڈیم شامل کرنے کا کئی بار مطالبہ کیا گیا مگر ہنوز ناروا سلوک جاری
سال 2107 کے جولائی میں میں موجودہ این ڈی اے حکومت کے مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاویڈ کر نے شعبئہ تعلیم کو معیاری بنانے ملک کے مستقبل نونہالوں کی عمدہ سے عمدہ تعلیم و تربیت کی غرض سے لوک سبھا میں ایک اہم بل متعارف کرایا مطلب غیر تربیت اساتذہ کے لئے (ڈی ایل ایڈ کورس) بل میں یہ شق بھی شامل کیا گیا کہ یکم مارچ 2019 سے قبل تک سرکاری، نیم سرکاری، ایفیلیٹیڈ اور رجسٹرڈ پرائمری و مڈل اسکولوں اور مدارس کے برسرخدمت اساتذہ یقینی طور پر ٹریننگ لے لیں غیر تربیت یافتہ اساتذہ کو تربیت یافتہ بناکر معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیم میں اصلاح کو یقنی بنانے کی غرض سے مفت لازمی تعلیم حق اطفال (آر ٹی ای ایکٹ، ترمیم) کو 22 جولائی کو لوک سبھا مں صوتی ووٹوں سے پاس کردیا گیا اس موقع پر فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاڈویکر نے بل پر چرچا کے دوران کہاکہ: تعلیم کے معیار میں کس طرح سدھار لایا جاسکتا ہے سرکار اس کے لئے تیار ہے اور یہ بل تعلیم کے معیار کے لئے تاریخی ثابت ہوگا انہوں نے کہاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ ملک کے تمام علاقوں اور خطوں میں معیاری تعلیم کا فروغ ہوسکے اور صرف تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعہ تعلیم و تعلم کا کام لیا جاسکے
اب رواں تعلیمی سیشن 2017 تا 2019 ( مخصوص) میں ملک کے 36 لاکھ سے زیادہ اساتذہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ میں داخلہ لے کر برسر تربیت(ٹرینی) ہیں اساتذہ کے ٹریننگ کے لئے موڈل سنٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ اوپن اسکولنگ نئی دلی کے منتظمین تربیت کے اسٹڈی سنٹر اور اسٹڈی میٹیریل کی فراہمی بھی کررہی ہے ہے مگر تعصب میں صرف اردو کو نظر انداز کررہی ہے چھ ہزار رجسٹریشن فیس دے کر داخلہ لینے والے اساتذہ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے طریق کار سے پریشان ہیں بظاہر بھی یہ ہے ٹریننگ کم خانہ پری زیادہ اور روپیوں کے حصول کا ایک طریقہ معلوم پڑتا ہے دراصل تعلیم حق اطفال بل ترمیمی کے پاس ہونے کے بعد اساتذہ کو فاصلاتی نظامہائے تعلیم کے تحت تربیت لینی ہے اس کے لئے بھارت سرکار نے سویم پربھا نام سے ویب سائٹ لانچ کیا ہے اور ڈی ٹی ایچ ٹی وی چینل کے ذریعہ اساتذہ کو ٹریننگ دیا جارہا ہے اس میں صوبوں اور ضلعوں کے علاوہ بلاک سطح پر اسٹڈی سنٹر بھی بنائے گئے ہیں قلیل مدتی فاصلاتی کورس وضع ہونے پر برسر خدمت اساتذہ میں خوشیوں کی لہر تھی مگر ٹریننگ کی لامرکزیت اور بدنظمی کے باعث اساتذہ کو مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اساتذہ تندہی کے ساتھ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ بنائے گئے اصول و ضوابط پر عمل بھی کررہے ہیں مفوضہ کام، اسائنمنٹ، ایس بی اے اور لیسن پلان کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں مگر اساتذہ کو خاطرخواہ فائدہ ملتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے بالکہ اضلاع اور بلاک سطح پر بنائے گئے اسٹڈی سنٹروں پر زیادہ نمبرات کا لالچ دے کر سنٹر کے کوآرڈینٹر ٹرینی اساتذہ کا استحصال کررہے ہیں اساتذہ بھی کوآرڈینٹروں کے مطالبات کو بحالت مجبوری پورا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومت بل پاس کرکے لاکھوں اساتذہ کی بیک وقت ٹریننگ کا انتظام کرنے کا دعوی کرکے اپنی پیٹھ تھپتپھارہی ہے شروع کئے گئے وزارت کا خود مختار فاصلاتی تعلیمی ادراہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کو ٹریننگ کی ذمہ داری سونپی گئی غالبا حکومت کو فیس کے مد میں حاصل ہونے والے خطیر رقم کا بھی اندازہ تھا اس لئے ٹریننگ کے لئے فارم پرکرنے کے دوران اساتذہ کی شناخت کے لئے یوڈائس نمبر( سرکار کے ذریعہ دیا گیا) لازمی تھا اس کے بغیر رجسٹریشن نہیں ہوسکتا تھا ظاہر ہے اس صورت میں سرکاری، نیم سرکاری اور گورنمنٹ سے رجسٹرڈ اسکولوں میں برسر خدمت اساتذہ ہی فارم پرکرسکتے تھے مگر حکومت نے زیادہ سے زیادہ فارم پرکروانے اور روپیوں کے حصول کے لئے خود بھی یوڈائس کوڈ جاری کیا جس کے نتیجے میں ہزاروب ایسے اسکولوں کا قیام راتوں رات ہوگیا جس کا زمین پہ کوئی وجود نہیں ہے ان اسکولوں کا وجود صرف ویب سائٹ پر ہے ۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے ذریعہ عجلت میں شروع کیا گیا ٹریننگ کورس میں ہنوز بدنظمی کا بول بالا ہے ٹریننگ میں شریک اساتذہ بھی کنفیوزن کے شکار ہیں تاہم انسٹی ٹیوٹ نے کورس کے پہلے ایک سمسٹر کے لئے تاریخوں کا بھی اعلان کردیا گیا ہے آئندہ 31 مئی سے 2 جون تک ملک کے لاکھوں اساتذہ پہلے سمسٹر کے امتحان میں شریک ہوں گے اس ڈیڑھ سالہ قلیل مدتی کورس میں شامل ملک کے ہزاروں اردو اساتذہ کو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے اگست 2017 میں جب ایڈمیشن کا عمل جاری تھا فارم پرکرنے کے دوران اوع رجسٹریشن کے لئے اساتذہ کو دیگر تفصیلات کے علاوہ بطور میڈیم زبان بھی منتخب کرنا لازمی تھی اس کورس میں ملک کے 29 صوبوں کے اساتذہ شریک ہیں مگر فروغ انسانی وسائل کے وزارت نے زبان، ذریعہ تعلیم، میڈیماور دیگر عوامل پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا رجسٹریشن کے وقت زبان کے آپشن میں قومی زبان ہندی انگریزی تمل کنڑ اور تیلگو کے علاوہ کئی زبانیں تھیں مگر شیڈیو آٹھ میں شامل اردو کا آپشن نہیں ہے اس کے باوجود دیگر آپشن کا استعمال کرکے اساتذہ نے فارم پر کیااوع اپنا رجسٹریشن کرالیا اس کے بعد اساتذہ نے وقفہ وقفہ سے اردو زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر اوپن اسکولنگ انتظامیہ نے نظر انداز کردیا گیا البتہ انسٹی ٹیوٹ نے بہار کے محمد حسن امام کے آرٹی آئی کے جواب میں لکھا کہ اردو اساتذہ کو اردو زبان میں کاپی لکھنے کا اختیار حاصل ہے مگر کورس کی سرگرمیوں کے دوراب اسائنمنٹ، ایس بی اے اور لیس پلان وغیرہ کی تیاری میں اردو اساتذہ کو مجبورا ہندی ہی منتخب کرنا پڑا چونکہ انسٹی ٹیوٹ کے نصاب کے مطابق تدریسی و اکتسابی مواد کی عدم فراہمی کی وجہ سے ہزاروں اردو اساتذہ نے بادل نخواستہ جوابی کاپیاں ہندی زبان میں لکھی ہیں ظاہر ہے جس زبان سے انہیں علاقہ نہیں ہے اس میں کیسے کوئی بہترین کارکردگی کرسکتا ہے تدریسی مواد کے عدم دستیابی کے باوجود اردو داں اردو اساتذہ میڈیم کے طور پر اردو زبان کو منتخب تو کرلیا ہے مگر اس دوران اردو اساتذہ اور اردو مشاوعتی کمیٹی نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کو کئی ایک بار عرضداشت دے کر اردو زبان کو بطوع میڈیم شامل کرنے اور تدریسی مواد کے علاوہ سوالنامہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے مگر مذکورہ ادارہ کی جانب سے ہنوز کوئی یقین دہانی یا اردو کو بذریعہ تعلیم شامل کرنے کی خبر نہیں ہے اب جبکہ امتحانات کے انعقاد میں محض ایک ہفتہ باقی ہے اردو کو بطور میڈیم گکے لگانے واکے اردو اسارذہ مضطرب ہیں کہ ہندی سوالنامہ کیسے حل ہوگا ہندی سے اردو ترجمہ بھی اساتذہ کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہےاساتذہ کو انسٹی ٹیوٹ کی اردو کے تئیں متعصبانہ رویہ کی وجہ سے امتحان میں اپنی کامیابی اور ناکامی پر بھی تشویش ہے ۔
اردو کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ نئی دلی کا سوتیلا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جہاں تیلگو، کنڑ، اور بنگالی زبان کو بطور تعلیمی میڈیم شامل کیا ہوا ہے مگر ملک کے پانچ فیصد اعشاریہ ایک سے زیادہ اردو آبادی کے اردو کو شامل کرنے میں کیا ہرج ہے؟ مسلسل نظر انداز کئے جانے کی ایک اہم وجہ اردو سے نفرت اور تعصب ہی کہاجاسکتا ہے ۔
اردو بھارت کے آٹھ ریاستوں کی کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے یعنی آٹھ ریاستوں اردو میں دوسری سرکاری زبان ہے آئین ہند کے مطابق 22 آفشیل لنگویج میں اردو کو بھی شامل کیا گیا ہے سال 2001 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں اردو کو بطور مادری زبان پانچ فیصد سے زیادہ لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی سب سے بڑی زبان ہے یہ تعجب خیز بات ہے ہندوستانی زبان کے ساتھ ایک ہندوستانی تعلیمی ادارہ تعصب کا برتاو اور سوتیلا سلوک کا مظاہرہ کررہی ہے قلق اس بات پہ بھی ہے کہ ہندوستان کے اردو آبادی اور اردو کے فروغ ترقی اور ترویج و اشاعت کے لئے قائم دارالحکومت دلی سمیت دیگر ریاستوں کے اکادمیوں اور لسانی تنظیموں کے سربرہان بھی خاموش ہیں جب کہ کسی بھی زبان کو زندہ رکھنے کے لئے ادب کے ساتھ اس کا ذریعہ تعلیم ہونا بھی لازمی ہے اردو کے شیدائیوں کو اردو کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنی چاہئے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker