شمع فروزاںمضامین ومقالات

قرآن مجید کا ایک بھلایا ہوا حق

حضرت مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
(ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جنرل سکریٹری فقہ اکیڈمی)
رمضان المبارک کے مہینہ کو قرآن مجید سے ایک خاص مناسبت ہے ، مفسرین کے بیان کے مطابق اس مہینہ میں قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمانِ اول پر بھیجا گیا ، پھر اسی مبارک مہینہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر قرآن اترنا شروع ہوا ، اس ماہ میں حضرت جبرئیل ں کے ساتھ آپ ا قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے ، اس ماہ میں ایک مستقل نماز ’’ تراویح ‘‘ کی رکھی گئی ، تاکہ اس میں پورا قرآن مجید بحالت ِنماز پڑھا اور سنا جائے ، اس لئے یہ مہینہ ہمیں قرآن مجید کے حقوق اور اس مبارک کتاب کی نسبت سے ذمہ داریوں کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے ۔
قرآن مجید کے بہت سے حقوق ہیں ، قرآن مجید کے الفاظ چوںکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ، اس لئے اس کتاب کی تلاوت اور اس کے الفاظ کا تکرار ، پھر اس تلاوت میں بھی قرآن کو صحیح طریقہ پر اور عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام ، قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کرنا ، جو لوگ عربی زبان سے واقف ہوں اور انھوں نے اسلامی علوم کی تحصیل کی ہو ، وہ علماء ربانی کے مستند تراجم قرآنی سے استفادہ کرسکتے ہیں ، قرآن مجید کا حق اس کا احترام اور اس پر یقین و ایمان بھی ہے ، قرآن مجید کے حقوق میں سے ایک اہم ترین حق قرآن پر عمل کرنا ہے ، جن چیزوں پر عمل کرنا ہے ، جن چیزوں کو قرآن نے حلال قرار دیا ہے ان سے فائدہ اُٹھانا اور جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے باز رہنا ، قرآن پر عمل کرنا ہے اور اسی سے آدمی کی نجات متعلق ہے ، یہ وہ حقوق ہیں جن پر کسی نہ کسی درجہ میں عمل کی کوشش کی جاتی ہے ، قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ، تلاوت کا طریقہ سیکھا جاتا ہے ، قرآنی تعلیمات سے واقف ہونے کی کوشش کی جاتی ہے ، حسب ِتوفیق لوگ قرآن پر عمل کرتے ہیں ، قرآن پر ہمارا ایمان و یقین ہے ، کہ ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے اور ہر مسلمان کے لئے یہ کتاب چشم عقیدت کا سرمہ ہے اور وہ اس کتاب کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کرسکتے ، غرض کہ ان حقوق کو کوتاہی کے ساتھ ہی سہی کچھ نہ کچھ ادا کیا جاتا ہے ۔
لیکن قرآن کا ایک اور حق بھی ہے ، بھلایا اور فراموش کیا ہوا حق ، ایسا حق کہ جس کی طرف ہمارا ذہن بھی نہیں جاتا اور جس کو ادا کرنے کے لئے ہمارے سینہ میں کوئی عزم بیدار نہیں ہوتا ، یہ حق ہے اﷲ کی اس کتاب کو اﷲ کے بندوں تک پہنچانا ، قرآن مجید کی ایک صفت ’’ ہدیٰ ‘‘ ہونا ہے ، ہدیٰ کے معنی سراپا ہدایت کے ہیں ، ہدایت و رہنمائی کے لئے ضروری ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں تک پہنچائی جائے جو ہدایت سے محروم ہیں ، قرآن کسی خاص قوم کی جاگیر یا ملکیت نہیں ہے ، یہ اﷲ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس امانت کا حق ہے کہ اسے پوری انسانیت تک پہنچایا جائے ۔
قرآن مجید میں ساڑھے چھ ہزار سے اوپر آیتیں ہیں ، ان میں سے پانچ سو آیات احکام سے متعلق ہیں ، جن میں عملی زندگی کے بارے میں شرعی قوانین بیان کئے گئے ہیں ، جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی ، نکاح ، طلاق ، جرم و سزا وغیرہ ، بقیہ آیات براہِ راست یا بالواسطہ دعوتِ دین سے متعلق ہیں ، یا تو ان میں لوگوں کو ایمان کی دعوت دی گئی ہے یا انبیاء کے دعوتی واقعات اور قصص کو ذکر فرمایا گیا ہے ، غرض یہ ایسا فریضہ ہے جو قرآن مجید کے تقریباً نوے فیصد مشتملات کا نچوڑ اور اس کا خلاصہ ہے ، خود قرآن مجید میں تبلیغ قرآن کے فریضہ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :
یا ایہا الرسول ! بلغ ما انزل إلیک من ربک وإن لم تفعل فما بلغت رسالتہ واﷲ یعصمک من الناس ، ان اﷲ لا یہدی القوم الکافرین ۔ ( المائدہ : ۶۷ )
اے رسول ا ! جو کتاب آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے ، اسے پہنچا دیجئے ، اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا ، اور اﷲ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائیں گے ، بے شک اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو کفر پر بضد ہیں ۔
غور کیجئے ! اس آیت میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو کتنی بلیغ تاکید کے ساتھ تبلیغ قرآن کا حکم دیا جارہا ہے اور یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا ، تو آپ نے رسالت و پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا ، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس ذمہ داری کا اس قدر احساس تھا کہ آپ انے اپنی پوری زندگی راتوں کو انسانیت کی ہدایت کے لئے خدا کے سامنے رونے ، گڑ گڑانے اور التجا کرنے میں گزاردی اور دن بندگانِ خدا کو اﷲ کی طرف بلانے اور بندوں کو خدا سے جوڑنے میں صرف کیا ، اسی لئے آپ انے طائف میں پتھر کھائے اور لہولہان ہوگئے ، اُحد میں چہرۂ مبارک کا زخمی ہونا گوارہ فرمایا ، شعب ِابی طالب میں بھوک و پیاس کی لذت اُٹھائی ، مکہ سے تلواروں کے سایہ میں مدینہ کے لئے روانہ ہوئے ، آپ ا کے عم محترم کا کلیجہ چبایا گیا اور آپ اکی صاحبزادی کو طلاق دی گئی ، ان ساری آزمائشوں اور ابتلاؤں اور مخالفتوں وعداوتوں سے آپ اکیوں کر گزرے ؟ اسی لئے کہ حق رسالت کی یہ ذمہ داری ادا ہو ۔
چنانچہ حجۃ الوداع کے موقع سے جب ایک لاکھ سے زائد صحابہ ث آپ اکے ساتھ تھے ، آپ انے اپنے اثر انگیز وداعی خطبہ میں صحابہ کرام ثسے دریافت فرمایا کہ کیا ہم نے تم تک اﷲ کے دین کو پہنچادیا ، ہل بلغت ؟ تم اس بارے میں کیا کہوگے ؟ صحابہ ث نے عرض کیا : ہم گواہ ہیں کہ آپ انے ہم تک اﷲ کی کتاب پہنچادی ، نبوت کا حق ادا فرما دیا اور ہمارے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ فرمایا : ’’ نشہد انک قد بلغت وأدیت ونصحت‘‘ آپ انے جواب میں فرمایا : اے اﷲ ! آپ گواہ رہیں ، اے اﷲ ! آپ گواہ رہیں ، اے اﷲ ! آپ گواہ رہیں ۔ ( مسلم باب حجۃ النبی ا)
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ تمام ہوچکا ہے ، لیکن یہ دین قیامت تک کے لئے ہے اور آپ اکی نبوت ابدی اور دائمی ہے ، اس لئے جو ذمہ داری پیغمبروں اور رسولوں پر تھی ، وہ اب اس اُمت کے سر آگئی ہے ، اور اسے قیامت تک اس فریضہ کو انجام دینا ہے ، اگر آپ نے نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لئے ، زکوٰۃ ادا کی ، حج کا اہتمام کیا ، مامورات پر عمل کیا ، اور منہیات سے اپنے آپ کو بچایا ، لیکن ان بندوں تک دین کو پہنچانے کی کوشش نہیں کی جو ہدایت سے محروم ہیں ، تب بھی آپ کا عمل قرآن کی دس فیصد سے بھی کم ہی آیات پر ہوا ، اسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت کو اُٹھاکر دیکھیں تو آپ اکی حیاتِ طیبہ کا نوے فیصد حصہ دعوتِ دین ہی میں گزرا ہے ، جہاد بھی اصل میں دعوتی جدوجہد ہی سے عبارت ہے ، دعوتِ دین اور تبلیغ قرآن سے غفلت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سیرتِ نبوی اکے بہت بڑے حصہ کو نظر انداز کردیا ہے اور ان کے لئے اپنی زندگی میں کوئی حصہ نہیں رکھا ہے ۔
پھر اﷲ تعالیٰ کے ارشاد پر غور فرمائیے کہ اس آیت میں دعوت کے ثمر اور نتیجہ کو بھی بیان فرمایا گیا ہے ، آخرت کا اجر تو بے شمار ہے ہی ، لیکن دنیا میں دعوت کا نتیجہ ’’ عصمت من الناس ‘‘ (لوگوں سے حفاظت ) کی صورت ظاہر ہوگا ، یوں تو ’’ ناس ‘‘ ( لوگوں ) میں پوری انسانیت شامل ہے ، لیکن ایک بڑے صاحب ِنظر مفسر کا بیان ہے کہ قرآن مجید میں اکثر ’’ناس ‘‘ سے مشرکین اور کفار مراد لئے جاتے ہیں ، گویا اس آیت میں خاص طورپر غیر مسلموں سے تحفظ کی طرف اشارہ ہے اور اگر اس کے ساتھ ساتھ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس حدیث کو سامنے رکھئے کہ جب اُمت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی بھلائی کی طرف بلانے اور برائی سے روکنے کو چھوڑ دے گی تو اُمت پر ظالموں کا تسلط ہوجائے گا ، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا نتیجہ لوگوں سے تحفظ ہے ، اور دعوت کو چھوڑنے کا نتیجہ ظالموں کا تسلط ۔
آج پوری دنیا میں مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے ، کہ ہر جگہ یہاں تک کہ عالم اسلام کے قلب میں بھی ستم پیشہ یہود و نصاریٰ کا تسلط ہے اور مسلمان اپنے آپ کو خواہ وہ اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں ، غیر محفوظ اور غیر مامون محسوس کررہے ہیں ، اس کا حل اﷲ کے غیبی نظام کے مطابق ہے ، جس پر ہمارا ایمان دیدۂ و شنیدہ چیزوں سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے ، یہی دعوت الی اﷲ کا کام ہے ، افسوس کہ عیسائی دنیا کروڑوں کی تعداد میں بائبل شائع کرتی ہے اور ہر علاقہ میں وہاں کی زبان میں پہنچائی جاتی ہے ، ہم دین حق کے حامل ہیں اور خدا کی آخری کتاب ہمارے پاس محفوظ ہے ، لیکن ہمیں اﷲ کی بھیجی ہوئی اس امانت کو اﷲ کے بندوں تک پہنچانے کی توفیق نہیں ۔
کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ہم اپنے مروجہ جلسے ، جلوس کو کم کرکے برادران وطن کے اجتماعات رکھتے اور دردمندی کے ساتھ ان کے سامنے قرآنی تعلیمات کو رکھتے ؟ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم اپنی دعوتِ افطار میں غیر مسلم بھائیوں کو مدعو کریں اور اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کے سامنے اﷲ کا پیغام پہنچائیں ؟ کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم قرآن مجید کے ترجمے مقامی زبانوں میں غیر مسلم برادرانِ وطن تک پہنچائیں ، اور انھیں بتائیں کہ یہ صرف ہماری نہیں آپ کی بھی کتاب ہے اور صرف ہمارے نہیں ، ہمارے آپ کے سبھوں کے خدا نے محبت کا یہ سندیش دنیا کو بھیجا ہے ۔
اگر قیامت کے دن خدا کے سامنے ہمارے غیر مسلم پڑوسی کھڑے ہوجائیں کہ ہمارے اس پڑوسی کے پاس آپ کی کتاب تھی اور اس نے ہم تک نہیں پہنچایا ، کچھ غیر مسلم کھڑے ہوجائیں کہ ہماری دوکان اور کارخانہ میں فلاں فلاں مسلم بھائی کام کیا کرتے تھے اور بظاہر ہمارا کاروبار اس کے لئے رزق کا ذریعہ تھا ، لیکن کبھی اس نے ہم تک آپ کی بھیجی ہوئی سوغات نہیں پہنچائی ، اگر غیر مسلم مزدور کھڑے ہوجائیں کہ ہم نے گاڑھے پسینے بہاکر ان مسلمانوں کے عشرت کدے تعمیر کئے ، لیکن ان مسلمانوں نے کبھی دوزخ کے آتش کدہ کی طرف ہمارے بڑھتے ہوئے قدم کو تھامنے کی کوشش نہیں کی ، اور اگر اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی اُمت سے سوال کر بیٹھیں کہ جس کتاب کو پہنچانے کے لئے ہم نے پتھر کھائے ، چوٹیں سہیں ، جان قربان کرنے کے خوف کو قبول کیا ، تم نے اس کے لئے اپنی زبان اور اپنی زندگی کا تھوڑا سا وقت بھی خرچ نہیں کیا ؟ تو سوچئے خدا اور اس کے رسول کے سامنے ہم لوگ کس قدر شرمسار ہوں گے اور کیوںکر ان سوالات کے جوابات دے سکیں گے ؟؟
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker