مسلم دنیا

2001ء سے اب تک 3000 ہزارہ افراد دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہوئے

اسلام آباد :25؍مئی(بی این ایس؍ایجنسی)
ہزارہ برادرای کے ایک سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تقریباً 20 سالوں کے دوران ہزارہ برادری کے 3ہزار سے زائد افراد ہدف بنا کر قتل کیے گئے اور دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنے اور ان میں سے زیادہ تر واقعات صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں رونما ہوئے۔
ہزارہ برادری کی سرگرم کارکن اور وکیل، جلیلہ حیدر نے سینیٹ کے انسانی حقوق سے متعلق ایک کمیٹی کو بتایا کہ یہ اعداد و شمار سرکاری طور پر جمع کیے گئے ہیں۔
جلیلہ نے ہزارہ برداری کو درپیش خطرات اور مشکلات سے کمیٹی کے ارکان کو آگاہ کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ہزارہ برداری کو درپیش سلامتی و تحفظ کے خطرات کی پیش نظر ہزارہ خواتین اور بچوں کو درپیش صورت حال کی سنگینی کے معاملے کو دیکھیں۔
جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے جلیلہ نے کہا کہ کوئٹہ میں ان کی برداری کے تحفظ کے لیے کیے گئےانتہائی سخت اقدامات کی وجہ سے ان کی برداری کے لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے۔
بقول اُن کے، “سیکورٹی کا متبادل طریقہٴ کار وضع کیا جائے۔ ہم قدرتی ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہم ملک کے ہر گوشے گوشے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے بچے خوف کا شکار ہیں اور ہماری خواتین کو معاشی مسائل کا سامنا ہے نوجوان خواتین کو کئی طرح کے سماجی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ 2001 کے بعد سے اب تک تقریباً 90 ہزار ہزارہ خاندان انڈونیشا، ترکی اور دیگر ملکوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور حکومت کو ان کی واپسی کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔
اُنھوں نے بتایا کہ “اس معاملے کو بھی نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ بہت خراب حالات میں رہ رہے ہیں جن کی یہاں نوکریاں اور کاروبار تھا ان کو واپس لا کر بحال کیاجانا چاہیے۔”
سینٹ انسانی حقوق کی کمیٹی کے رکن اور بلوچستان نینشل پارٹی (ایم) کے سینیٹر جہاں زیب جمال دینی نے کہا کہ کمیٹی ہزارہ برداری کے افراد کی جان و مال کو درپیش خطرات کا احاطہ کرکے ان کے تدارک کے لیے مناسب سفارشات تجویز کرے گی۔
پاکستان کی ہزارہ برداری گزشتہ کئی سالوں سے عدم تحفظ کا شکار چلی آرہی ہے۔ حکومت کی طرف سے ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے باوجود ان کی برداری کے افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی سیکورٹی اداروں، سیکرٹری داخلہ حکومت بلوچستان اور پولیس حکام سے ہزارہ برادری کے افراد کے خلاف ہونے والے واقعات کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker