رمضان وعیدینطب وسائنسمضامین ومقالات

روزہ کے روحانی و طبی فوائد :قرآن و حدیث اور میڈیکل سائنس کی روشنی میں

محمد صادق جمیل تیمی
جا معہ اسلامیہ ریاض العلوم شنکرپور سپول بہار
بلاشبہ روزہ اسلام کی ان اہم پانچ بنیادوں میں سے ایک ہے جس پریقین وعمل کئے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے۔یہ وہ مقدس عبادت ہے جس کے ذریعہ انسان رب کاتقرب حاصل کرتاہے۔اس سے جہاں سماج میں بسے کمزور ولاغرکی بے بسی وبے کسی کے عالم میں ان کے بھوک لگنے پر ان کی پریشانیوں کی حالات کااحساس ہوتاہے ۔وہیں پرخوداپنے اندرانسانی ہمدردی ،بھای چارگی و کشادہ ظرفی ،انسان دوستی اور نفس کی پاکیزگی جیسی اہم صفات موجزن ہوتی ہیں ۔روزہ عربی لفظ’’صوم ،،کا اردو ترجمہ ہے جس کا لغوی معنی ’’کام سے رک جانے،کھانے پینے گفتگو کرنے اور چلنے سے رک جانے کو صوم کہتے ہیں ۔جیسے قرآن میں سیدنا مریم علیہ السلام کے سلسلے میں گفتگو سے رک جانے کو صوم کہا گیا ’’انی نذرت للرحمان صوما ،،(مریم:۲۶)(المعجم الوسیط:۵۲۹)جبکہ اصطلاح میں روزہ ’’الامساک عن الطعام و الشراب وجماع النساء و سائر المفطرات من طلوع الفجر الی غروب الشمس بالنیۃ ،،یعنی نیت کے ساتھ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے پینے ،بیوی سے ہمبستری کرنے اور تمام منکرات سے دور رہنے کو روزہ کہا جاتا ہے (الفقہ علی المذاہب الاربعۃ :۱؍۴۵۳)
روزے کی اہمیت و فضیلت
شریعت اسلامیہ میں جہاں ’’رمضان ،،کے مقدس مہینہ کو تمام مہینوں سے افضل قرار دیا اور جس کی امتیازی شان یہ بتلائی گئی ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ کی آخری مقدس کتاب قرآن نازل کی گئی ہے ’’شھررمضان الذی انزل فیہ القرآن ،،(البقرۃ:۱۸۵)وہیں پر روزہ کوعبادتوں میں افضل عبادات تو نہیں البتہ افضل تر ضـرور بتایا ہے ۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ صائم کا اجر خود رب العالمین عطا کرتا ہے اور اس کے منہ سے نکلنے والی بو رب کے نذدیک مشک عنبر سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔ارشاد نبوی ہے کہ ’’ان الصوم لی وانا اجزی بہ ۔۔۔۔۔۔۔ولخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک،،(السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی،رقم الحدیث:۳۵۱۶)اس سے بڑھ کر اس کی کیا فضیلت ہو سکتی ہے کہ قیامت کے دن روزہ داروں کو امتیازی حثییت سے جنت میں بھیجا جائے گا ،اسی روزے کی بدولت بندے کے چہرے کو ستر برس مدت کی مسافت تک جہنم سے دور کر دے گا ’’ما من عبد یصوم یوما فی سبیل اللہ الا باعد اللہ بذالک الیوم وجھہ عن النار سبعین خریفا ،،(الجامع الصغیر للالبانی ،رقم الحدیث :۶۳۳۲)اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ لوجہ اللہ ایک روزہ رکھنے سے بندہ جہنم سے اتنا دور ہوجائے گاتو رمضان کے سارے روزے رکھنے والا کس قدر عظیم ثواب اور انعام کا مستحق ہوگا جیسا کہ رسول اکرم ﷺنے رمضان مقدس کے صائمین کے لیے مغفرت کا خوبصورت مژدہ بھی سنایا ہے ’’من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ،،(صحیح الجامع الصغیرللالبانی :۶۳۲۵)
فرضیت روزے کی حکمت
شریعت مطہرہ کا کوئی بھی حکم حکمت و اسرار سے خالی نہیں ہے بلکہ اس میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ رہتی ہے جیسا کہ ابن القیم جوزی نے فرمایا کہ شریعت اسلامیہ کے تمام احکامات کا مقصدانسانوں کو فائدہ پہچانا ہے ’’جلب المصالح و درء المفاسد ،،(روزے کے روحانی و طبی فوائد :۸)انہیں احکامات میں سے روزہ بھی ایک اہم و عظیم اور مقدس عبادت ہے یہ بھی بہت سارے حکم و اسرار کے حامل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ مجاہدہ نفس اور اس کی پاکیزگی و تقوی کا باعث ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ،،(البقرۃ:۱۸۳)الغرض اس کے اندر یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ہم رب کریم کی قدر کو پہچانیں اور اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکریہ بجا لا کر ’’ولئن شکرتم لازیدنکم ،،کا مصداق بنیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے کہ ’’ولتکملوا العدۃ ولتکبروا اللہ علی ما ھداکم ولعلکم تشکرون ،،(البقرۃ:۱۸۵)
روزے کے روحانی و طبی فوائد
اسلامی عبادات میں ظاہری و باطنی ہر قسم کی پاکیزگی کا التزام ہر جگہ موجود ہے ۔نمازاگر آئینہ دل کو مجلی و مصفی کرتی ہے تو وضو جسمانی طہارت و پاکیزگی کے لیے نماز کی اولین شرط قرار پائی۔اسی طرح جہاں عورتوں کو نقاب کا حکم دیا ہے وہیں پر یہ قید لگائی گئی ہے کہ ’’قل للمومنات یغضضن من ابصارھن ،،یعنی وہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھے (النور :۳۱)اسی طرح روزہ بھی اسلام کی اہم عبادتوں میں سے ایک ہے ۔یہ جہاں انسانی جسم کی طہارت و نظافت کا ذریعہ ہے وہیں پر صحت انسانی اور نظام انہضام کی خرابیوں کا خوبصورت علاج بھی ہے تو آئیے اس کے دونوں پہلووں یعنی روحانی و طبی فوائد کو جانتے ہیں ۔
روزے کے روحانی فوائد :قرآن و حدیث کی روشنی میں
(۱)گناہوں کی مغفرت :رمضان کے معنی ’’جھلسا دینے والا ،،کے ہیں اس کی وجہ تسمیہ علماء کرام بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سال بھر بندہ جو اللہ کی نافرمانیاںا و راپنے اعمال سے غفلتیں برتاہے اللہ اپنی بے پناہ رحمتوں و نوازشوں سے ان سب کو جھلسا یعنی معاف کر دیتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا کہ ’’من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ،،(صحیح الجامع الصغیرللالبانی :۶۳۲۵)
(۲)خواہشات نفسانی و جنسی ہیجان سے دوری :کھانے پینے سے انسان کی نفسانی خواہشات کو ایک توانائی ملتی ہے یوں تو ہروقت جسد انسانیت سے مادیت کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے اگر ان طوفانوں پر بند نہ باندھا جائے تو یہ ہوس کا مظہر بن جائے گا ۔اس وجہ سے خدا وند کریم نے ضبط نفس اور مادیت کے غلبے سے بچانے کے لیے روزہ جیسی عظیم عبادت کا انعام دیا ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث میں اسے جہنم سے ڈھال کا ذریعہ بتایا ہے ’’الصوم جنۃ،،تو وہیں پر اسے ہر قسم کی روحانی و مادی بیماریوں کا علاج بھی بتایا گیا ہے ۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ ۔۔۔۔۔۔۔ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء،،یعنی تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے شادی کرو اور نہیں تو روزہ رکھو کیوں یہ برائیوں سے بچانے کا ڈھال ہے (متفق علیہ )۔
(۳)غیبت و چغل خوری سے اجتناب :روزہ کا خیال آتے ہی انسان غیبت ،چغلخوری ،گالی گلوج اور جھوٹ و دروغ گوئی سے باز آجاتا ہے ۔روزے کے ایام میں مذکورہ حرکات شنیعہ سے باز رہنے کا حکم بھی ہے ’’اذا کان یوم صوم احدکم فلا یرفث ولایجھل وان جھل علیہ احد فلیقل انی امرء صائم ،،( صحیح ابی داؤد للالبانی:۲۰۴۵ )
مذکورہ فوائد و ثمرات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں و بیاں ہو گئی کہ روزہ جہاں انسان سے سر زد گناہوں و لغزشوں کی معافی کا ذریعہ ہے وہیںپر یہ تمام بڑے منکرات سے روکنے کا سبب بھی ہے جس کے باعث انسان تمام تر رعنائیوں کے ساتھ خوشگوار اسلامی فضا میںاپنی زندگی بسر کرتا ہے ۔
روزے کے طبی فوائد :میڈیکل سائنس کی روشنی میں
روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ صحت انسانی کے لیے مفید اور کارآمد ہے ۔ظاہری و باطنی صفائی ستھرائی و پاکیزگی کا مکمل مظہر ہے ۔آج جدید میڈیکل سائنس اور مغربی تحقیقی ادارے اور سائنسداں روزہ کی وجہ سے انسانی جسم پر ہونے والے اثرات دریافت کرنے شرو ع کیے ہیں جن کا ذکر قرآن نے پہلے ہی دو آتشہ کر دیا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے کہ ’’وان تصوموا خیر لکم ان کنتم لا تعلمون ،،یعنی تم روزہ رکھو اس میں تمہارے لیے بھلائی ہے جسے تم نہیں جانتے (البقرۃ:۱۸۴)البتہ اس کے چند طبی و سائنسی فوائدجدید و قدیم سائنسی و طبی تحقیقات کی روشنی میں قارئین کی خدمت میں ذیل کی کی سطور میںاختصار کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔
(۱)روزے سے جسم میں موجود زہریلے مادوں کی صفائی
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نظام ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعـضا پرمشتمل ہوتا ہے جیسے منہ ،جبڑے میں لعابی غدود ،زبان ،گلا ،مقوی نالی ،آنت و جگر وغیرہ تما م کے تمام نظام ہضم کے حصے ہیں ۔جب ہم کھاتے ہیں تو تمام نظام ہضم حرکت میں آجاتے ہیں اور ہر عضو اپنا مخصوص عمل کرتا ہے ،گویا کہ یہ چوبیس گھانٹے اپنی ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ ،جنک فوڈاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانے کی وجہ سے متاثر ہو جاتا ہے ۔لیکن ایک ماہ کے روزے سے سارے نظام ہضم کو آرام ملتا ہے اور اس کا حیران کن اثر جگر پر ہوتا ہے جس سے اس کو ایک طاقت و توانائی مل جاتی ہے جیسا کہ مغربی عیسائی محقق ’’ایلن کاٹ،،اپنی معروف کتاب ’’fasting as way of life،،میں روزے کے بے شمار فوائد و ثمرات کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’روزے سے انسان کے نظام انہضام (معدہ )اور دفاعی نظام کو مکمل آرام ملتا ہے اور غذا ہضم کرنے کا عمل نارمل حالت پر آجاتا ہے ،،(fasting as way of life/32)۔گویا کہ دوران روزہ جسم میں کوئی نئی خوراک نہیں جاتی اس وجہ سے زہریلے مادے پیدا نہیں ہوتے اور جگر پوری تند ہی سے پرانے زہریلے مادوں کو صاف کرکے اس میں تازگی و جدت پیدا کرتا ہے ۔
(۲)روزے سے جسم اور خون کی کیمسٹری پر برے اثرات نہیں پڑتے
روزہ کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں ،اس سے دل کے لیے مفید چکنائی ’’HDL،،کی سطح میں تبدیلی ہوتی ہے جس سے دل اور شریانو ں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔دن میں روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی آجاتی ہے ،یہ اثر دل کو فائدہ مند آرام فراہم کرتا ہے اس سے ہمیشہ بڑھا ہوا خون کی سطح کم رہتی ہے ۔عمان یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر سلیمان نے ۱۴۰۴ھ کے رمضان میں ایک تحقیق کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۴۲؍مرد اور ۲۶؍خواتین شروع رمضان کے شروع میں ٹیسٹ کے بعد روزے رکھوائے گیے اور روزہ مکمل ہونے کے بعد تحقیق کی گئی تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان روزہ دار مرد و خواتین کا چار کیلو سے چھ کیلو تک کا وزن کم ہوا ،لیکن خون میں تمام اجزا کی مقدار بالکل نارمل رہی جو خون و جسم کی کیمسٹری پر برے اثرات مرتب نہ ہونے کا پیش خیمہ ہے ،،(The effects of fasting puring Ramhdan by dr soliman:Nov1987)
(۳)روزے سے انسانی جسم کا نظام دفاع کی مضبوطی
دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام نہایت ہی پر سکون و آرام کی حالت میں ہوتا ہے ۔عبادات سے حاصل شدہ تسکین کی وجہ سے غصے و چڑچڑے پن اور پریشانیاںد ور ہو جاتی ہیں ۔اسی طرح دوران روزہ ہماری جنسی خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اس وجہ سے بھی جسم کے اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں ۔امریکہ کے مسلم سائنسداں ڈاکٹر ابراہم کے مطابق ’’کم خوراک کھانے کی صورت میں جسم کے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں اور جسم کا نظام دفاع مضبوط ہوجا تا ہے ،،(The islamic vioce/144)
(۴) دفاعی خلیوں میں کنٹرول
روزہ خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے سیال مادوں کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے چوں کہ روزہ سے سیال مادوں کی مقدار میں کمی آجاتی ہے جس سے خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوتا ہے ۔بات یہ سمجھ میں آئی کہ روزہ سے ’’Helper T cell،،کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو آرمی کے فیلڈر مارشل کی مانند ہوتی ہے جو جسم کے تمام دفاعی خلیوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس میں داخل ہونے والے ہر قسم کے جراثیم کے خلاف جنگ کی تیاری کرتے ہیں ۔(Saudi monthly magazine/173)
(۵)روزے سے بڑھاپے کے عمل میں کمی اور عمر میں اضافہ
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے صحت کمزور ہوجاتی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس سے صحت انسانی کو مزید تقویت و توانائی حاصل ہوتی ہے ۔بلکہ روزہ رکھنے سے ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اس سے انسانی جسم کی جلد مـضبوط ہوتی ہے اور جھریاںکم ہو جاتی ہیں ۔جسم کو خوراک سے روکنے کی وجہ سے بہت سارے مہلک امراض جیسے کینسر ،دل کے امراض ،شوگر اور دماغی امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ ’’world health net،،کی تحقیقات کی روشنی میں مذکورہ باتوں کے ساتھ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھنے سے کینسر کی بیماری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔سائنسداں کی آنکھیں آج کھلی ہیں لیکن نبی ﷺ اس چیز کو پہلے ہی دوآتشہ کر دیے کہ نفلی روزے میں ’’داؤدی روزے ،،بہتر ہوتے ہیں یعنی ایک دن چھوڑکر دوسرے دن روزہ رکھنا ’’کان یصوم یوما و یفطر یوما ،،(صحیح بخاری:۱۰۷۹)
(۶)دماغی امراض سے دوری
جو لوگ جوانی میں تسلسل کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرتے ہیں یہ جب عالم پیری میں پہنچتے ہیں تو دماغی امراض کے شکار کم ہوتے ہیں ۔جیسا کہ امریکی (Baltimon)کے (National institute of aging)کے سربراہ ڈاکٹر مارک مٹیسن کے مطابق ’’روزے رکھنے سے انسانی دماغ الرائمز ز(Alzhemiers)پارکنس (parkinsons)اس کے علاوہ دیگردماغی امراض سے محفوظ رہتا ہے ،،مزید آگے لکھتے ہیں ’’It is likely to be the better to go on intetmittent bouts of fasting ,in which you eat hardly anything at all،،یعنی دماغ کو سب سے زیادہ فائدہ اس میں ہے کہ انسان وقتا فوقتا روزہ رکھے جس کے دوران وہ کچھ نہ کھائے پئیے ۔مزید معلومات کے لیے ذیل کی سائٹ کی زیارت کریں (www.guardian.co.uk)
(۷)جلد کی تازگی
موسم گرما میں روزے سے جسم کو پانی کی شدت سے حاجت ہوتی ہے بسااوقات ایسا ہو تا ہے کہ گرمی سے جسم جھلس جاتا ہے ۔مشہور عربی نیوزچینل کو ڈاکٹر صیقل ایک انٹریو میں روزے کے طبی فوائدبتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ افطاری و سحری کے وقت پانی کے کثرت استعمال سے جلد کی تازگی میں اضافہ ہوتا ہے ۔مزید معلومات کے لیے العربیہ نیٹ کی سیر کریں ۔
مذکورہ باتوں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بارہ مہینوں میں ایک مہینہ کے روزے سے جسم کی صفائی (overhauling)ہو جاتی ہے ۔اس کے علاوہ داودی روزے بھی رکھنا چاہیے ۔
احتیاطی تدابیر
رمضـان المبارک کے روزے کے مذکورہ بالا فوائد انسانی جسم پر تبھی ممکن ہو سکے گا جب چند احتیاطی تدابیر اپنائیں گے ۔وہ یہ ہیں کہ ماکولات و مشروبات میں اعتدال برتا جائے ۔افطاری میں کھجور ،پھلوں کی کم مقدار یا شہد ملے دودھ اور نما ز پڑھنے کے بعد مزید دکچھ کھا لیا جائے تو اس طرح سے صحت ٹھیک رہتی ہے لیکن افطاری و سحری میں زیادہ مرغن و تلی ہوئی اشیا کا استعمال نہ کیا جائے ۔کیوں کہ اس جہا ں روحانیت ختم ہوجاتی ہے وہیں انسانی جسم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔افطاری و سحری کے اوقات میں دستر خوان پر دنیا جہاں کی چیزوں کو لانے سے پرہیز کریں ۔حاملہ خواتین رمضان سے قبل چیک اپ کرالیں کہ کہیں روزے میں کوئی نقصان تو نہیں ہوگا ۔سن رسیدہ مرد و عورت اور عام روزے دار بھی اپنی بیماریوں کی طبی چانچ کرالیں تاکہ اطمینان قلب و سکون کے ساتھ روزہ رکھ کر اس کے تمام تر روحانی و طبی فوائد سے مستفیض ہو سکیں ۔
بحیثیت مجموعی یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ روزہ روحانی فوائد کے ساتھ ساتھ مادی و طبی فوائد کا حامل بھی ہے ۔اس سے جنسی ہیجان و خواہشات دور ہوتی ہیں ۔مہلک امراض کینسر ،کولیسٹرول ،ایڈز،شوگر ،بلیڈپریشر اور خطرناک دماغی امراض سے انسان محفوظ ہوجاتا ہے ۔اس سے جسم میں توانائی ،جلد میں تازگی ،عمر میں اضافہ اور دفاعی خلیوں کی مضبوطی جیسے اہم فیکٹرس انسانی جسم میں پیدا ہوتے ہیں جو زندگی کو ایک نئی راہ دکھاتے ہیں ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker