ہندوستان

جموں میں بین الاقوامی سرحد پر شدید گولہ باری

دو شہیدبی ایس ایف اہلکار ہلاک، 4 شہریوں سمیت 5 دیگر زخمی
جموں ، 3 جون (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کے ضلع جموں میں بین الاقوامی سرحد پر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کو ہند و پاک افواج کے درمیان گولہ باری کا ہلاکت خیز تبادلہ ہوا۔دس دنوں کی خاموشی کے بعد ہونے والی اس گولہ باری میں سرحد کے اس پار بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے دو اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ چار شہریوں سمیت پانچ دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ پاکستانی رینجرس کی طرف سے گذشتہ رات قریب اڑھائی بجے ضلع جموں کے اکھنور سیکٹر میں پارگوال، کھور اور کاناچک علاقوں کو نشانہ بناکر شدید گولہ باری کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک جبکہ چار عام شہریوں سمیت قریب پانچ افراد زخمی ہوئے۔فائرنگ کے اس تازہ اور ہلاکت خیز مرحلے کے ساتھ ہند و پاک ڈائریکٹر جنرل آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کی جانب سے حال ہی میں ایک دوسرے سے کئے گئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ڈی جی ایم اوز نے فیصلہ کیا تھا کہ دونوں ممالک 2003 کے فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد کریں گے۔بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘پاکستان کی طرف سے گذشتہ رات اکھنور سیکٹر کے پارگوال علاقہ میں بی ایس ایف کی چوکیوں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ بناکر شدید گولہ باری شروع کی گئی۔اس کے نتیجے میں بی ایس ایف کے دو اہلکار جاں بحق جبکہ تین شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا ‘فائرنگ کی طرف سے بلااشتعال گولہ باری کا آغاز رات کے اڑھائی بجے کیا گیا۔جاں بحق ہونے والے بی ایس ایف اہلکاروں کی شناخت اے ایس آئی ستیہ نارائن یادو اور کانسٹیبل وجے کمار پانڈے کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ دونوں مہلوک اہلکار 92 بٹالین بی ایس ایف سے وابستہ تھے۔ ذرائع نے بتایا ‘دونوں اہلکار شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔اگرچہ انہیں نزدیکی طبی مرکز لے جایا گیا لیکن وہ پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ بی ایس ایف ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے پارگوال کے علاوہ کھور اور کاناچک میں بھی بی ایس ایف کی چوکیوں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کاناچک میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔انہوں نے بتایا ‘گولہ باری کا تبادلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ تازہ گولہ باری کے نتیجے میں قریب دس سرحدی چوکیاں اور 35 سرحدی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔بی ایس ایف ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ لوگوں کو راحت پہنچانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔دریں اثنا دس روز قبل بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ارنیہ میں الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ارنیہ پولیس نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ ‘علاقہ میں بھی فائرنگ کا خدشہ ہے اور اس کے پیش نظر وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔واضح رہے کہ ہند و پاک کے ڈی جی ایم اوز نے 29 مئی کو ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق ہوا۔ یہ بھی اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ہی طرف مستقبل میں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ہندوستانی فوج کے مطابق یہ بات چیت پاکستان کے فوجی آپریشن ڈائریکٹر جنرل کی پہل پر ہوئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی تجویز رکھی گئی تھی جسے ہندوستان نے قبول کرلیا تھا۔ دونوں فریقوں نے طے کیا تھا کہ کسی بھی مسائل کو ہاٹ لائن اور فلیگ میٹنگ جیسے بات چیت کے موجودہ ذرائع سے حل کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker