شمع فروزاںمضامین ومقالات

شب ِقدر — انسانیت کی شب ِنجات

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کی بات ہے ، دنیا ظلم و جور کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی ، کوئی برائی نہ تھی جس سے انسانی سماج محفوظ ہو ، پہاڑوں ، دریاؤں ، درختوں اور سیاروں ، چاند ، سورج اورستاروں ، یہاں تک کہ انسان کے اپنے ہاتھوں بنائے ہوئے بتوں اور مورتیوں بلکہ کیڑے مکوڑوں کے سامنے بھی انسان اپنی جبینِ احترام خاک آلود کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتاتھا ، ہمارے ملک میں ہر طبقہ نے اپنے لئے خداؤں کی ایک فوج تیار کی ہوئی تھی ، اسی شرک و بت پرستی نے لوگوں کو توہم پرست بنا دیا تھا اور ہر چیز میں ’’ نحس ‘‘ کے تصور نے ان کو ارادہ و عمل کی قوت اور تحقیق و اکتشاف کے حوصلہ سے محروم کر دیا تھا ؛ لیکن ظاہر ہے جو انسان کائنات کی ہر چیز کو مقدس خیال کرنے لگے ؛ بلکہ اس کی عبادت و بندگی کرنے لگے وہ تحقیق و تفتیش کا عمل کس طرح جاری رکھ سکتا ہے ؟
باہمی ظلم و جور اس درجہ بڑھا ہوا تھا کہ درندے بھی شرماجائیں ، کمزور طاقتور کے لئے لقمۂ ترتھے ، مسافروں کی نہ جان محفوظ تھی ، نہ مال محفوظ تھا اور نہ عزت و آبرو ، بڑے بڑے قافلوں کی رفاقت کے بغیر کوئی شخص ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں جاسکتا تھا ، لوگوں نے بطورِ خود انسانیت کو مختلف طبقات میں بانٹ رکھا تھا ، پیدائشی طور پر کچھ لوگ با عزت تصور کئے جاتے تھے اور کچھ لوگ ذلیل و محروم ، اس فرقہ بندی نے سب سے زیادہ جہاں اپنا رنگ جمایا ، وہ ہمارا ملک ہندوستان ہے ، یہاں انسانیت کو چار ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ، برہمن سب سے اونچے خیال کئے جاتے تھے ، ان کے بارے میں تصور تھا کہ وہ خدا کے سر سے پیدا کئے گئے ہیں ، دوسرا طبقہ چھتری کا تھا ، جن کے ذمہ ملک کے دفاع کا کام تھا ، تیسرا طبقہ ویش جو ملک میں تجارت ، بیوپار اور صنعتیں سنبھالے ہوا تھا ۔
سب سے محروم وہ لوگ تھے جو ’’ شودر‘‘ کہلاتے تھے ، ان پر تعلیم کا دروازہ بند تھا ، ان کے لئے حکم تھا کہ اگر وید کی عبارت بھی سن لیں تو ان کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جائے ، یہ اونچی ذات کے لوگوں کے سامنے بود و باش اختیار نہیں کر سکتے تھے ، جس جرم پر اونچی ذات کے لوگوں کو معمولی سزائیں دی جائیں ، اسی جرم پر شو در قتل کے حقدار سمجھے جاتے ، ایران میں شاہی خاندان کو خدا کا کنبہ تصور کیا جاتا تھا ، بادشاہ اور امراء ہیرے اور موتیوں کے تاج سے اپنے سرکو زینت دیتے اور ایران کے کسان اور مزدور سرکاری ٹیکسوں کے بوجھ سے پہاڑوں اور جنگلات کی پناہ لیتے ، عرب میں عربی اور عجمی نسل کی تقسیم تھی ، غیر عرب کو حقارت اور ذلت سے دیکھا جاتا تھا ، غلام اور عورتیں دنیا میں سب سے زیدہ حقیر انسانی طبقات تھے ، عرب کا یہ حال تھا کہ غلام کو باندھ کر ان پر نشانہ کرتے ، یوروپ میں بڑے بڑے اسٹیڈیم قائم تھے جہاں درندوں کا غلاموں سے مقابلہ کرایا جاتا اور ان کی ہلاکت کا تماشہ دیکھا جاتا ، یہ کھیل ’’ سیافی‘‘ کہلاتا اور بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا تھا ، عورتوں کا حال یہ تھا کہ ایوان کے حکماء اور فلاسفرز کے یہاں یہ بحث جاری تھی کہ کیا عورت میں وہی روح ہے جو مردوں میں ہے ؟ بائبل میں عورتوں کو گناہ کا دروازہ قرار دیا گیا تھا ، ہندوستان میں بیوی شوہر کی ملکیت تھی اور وہ شوہر کے ساتھ نذرِ آتش کردی جاتی تھی ، وہ کسی جائیداد کی مالک نہیں بن سکتی تھی اور نہ میراث کی حقدار تھی ، پوری دنیا میں عورتوں کا حال اس سے مختلف نہیں تھا ۔
جب انسانی تمدن پوری طرح خزاں رسیدہ ہو چکا اور جہالت کی گھٹا دنیا کے اُفق پر ہر سو چھا چکی تو رمضان المبارک کا مہینہ تھا ، رات کا وقت اور غالبا ستائیس تاریخ ، کہ کائنات پر رحمت کی گھٹا چھائی اور ابرِ کرم ’’ حرا‘‘ کی سمت اُترا ، پیغمبر اسلام محمد ا پر پہلی وحی اُتری ، یہ خدا کا آخری پیغام تھا اور قیامت تک کے لئے تھا ، اس کتاب نے سب سے پہلے انسانیت کو جس بات کی دعوت دی ، وہ تھی پڑھنے کی ، علم کی ، سیکھنے کی ، قلم پکڑنے کی ، کہ جب علم کی شمع روشن ہوگی اور فکر و نظر کا چراغ جلے گا ، تو خود بخود تاریکیاں چھٹیں گی اور جہالت کے تمام پردے چاک ہوں گے ، ظلم و ناانصافی کا دروازہ بھی بند ہوگا ، شرک و اوہام پرستی کا بھی خاتمہ ہوگا اور انسانیت کو امن و آشتی ، سکونِ قلب ، سلامتی فکر و نظر ، اُخوت و بھائی چارگی ، محبت و احترام آدمیت کی متاعِ گراں مایہ ہاتھ آئے گی ۔
چنانچہ قرآن مجید نے ایسا بہار آفریں انقلاب دنیا کو عطا کیا کہ یا تو اسلام سے پہلے پورے مکہ میں صرف تین یا اس سے کچھ زیادہ افراد تھے جو لکھنا جانتے تھے ، یا وقت آیا کہ محض کاتبانِ وحی کی تعداد چالیس سے متجاوز تھی ، تحقیق کائنات اور سائنسی انداز سے غور و فکر کا ایک نیا دور شروع ہوا ، اسلام کے اس تصور سے کہ پوری کائنات انسان کی خادم ہے ، کائنات کی ہر شئے کے بارے میں تحقیق و تفتیش کا حوصلہ پیدا ہوا ، انسانی مساوات و برابری کے عقیدہ نے اتنا اثر ورسوخ حاصل کیا کہ طبقاتی تقسیم اور تفریق کے تصور نے پوری دنیا میں منہ چھپانا شروع کر دیا ، عورتوں کو اسلام کی تاریخ میں پہلی بار عزت و احترام کا مقام حاصل ہوا اور سماجی زندگی میں ایسا متوازن قانون عطا ہوا ، کہ قوانین عالم اس کی خوشہ چینی سے چارہ نہیں پاتے ، غلاموں کو انسانوں کا درجہ عطا کیا گیا اور چند صدیوں میں بتدریج غلاموں کا سلسلہ ہی ختم ہوگیا ، یہاں تک کہ جانوروں اور چرند و پرند کے بھی حقوق متعین ہوئے اور ان کے بارے میں بھی انسان کو بے قید نہیں رکھا گیا ۔
یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ بنیادی طورپر اس کتاب نے دو باتوں کی دعوت دی : وحدت ِالٰہ اور وحدتِ انسان ، یعنی اللہ ایک ہے ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کے لائق ہو ، اور انسانیت بھی ایک ہے ، نسلی ، لسانی اور جغرافیائی بنیاد پر ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے ، حکمراں ہو یا رعایا ، دولت مند ہو یا غریب ، مرد ہو یا عورت ، گورا ہو یا کالا ، عربی ہو یا عجمی ، خالق کائنات کی نگاہ میں یہ سب برابر ہیں ؛ البتہ ہر انسان کے عمل اور اس کی نیکیوں کے اعتبار سے خدا کے یہاں اس کا درجہ متعین ہوگا ، شب ِقدر در اصل اسی عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے اور شب ِقدر کی عبادت اسی انعامِ خدا وندی پر اللہ کا شکر بجالانا ہے ، اس لئے یہ صرف دُعا کی قبولیت ہی کی رات نہیں ؛ بلکہ تمام انسانیت کے لئے شب ِنجات ہے ، اوہام سے نجات کی رات ، انسانی غلامی سے نجات کی رات ، طبقاتی ظلم و جور سے نجات کی رات اور جہل وگمراہی سے نجات کی رات !
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker