خواتین واطفالگوشہ خواتین

ادھورے سپنے

نگینہ ناز منصور ساکھر کر
واشی نوی ممبئی

رشتہ پکا کیا ہوا…… نازو کی آنکھوں میں سپنے سجنے لگے…. کبھی آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہو جاتی تو کبھی لٹ کو جھٹکتی …. کبھی من ہی من مسکراتی… سجنے سنورنے کا شوق تو تھا ہی…. گھر میں بھابی کو، پڑوس میں باجی کو بنتا سنورتا دیکھ لگتا تھا کہ شادی کا مطلب خوب سارے نئے جوڑے، زیور ، اور سبھی لوگوں کی تعریفی نظریں …. چھوٹے موٹے گھر کے کام پھر گھومنا پھرنا مووی جانا بنا روک ٹوک والی زندگی…..

بچپن میں پڑوسی رہے، بڑے ہوئے تو نظروں نے ایک دوسرے کو دیکھنے کا نظریہ بدل لیا…. اور دلوں کی دھڑکن ایک دوجے کی ہوگئی، تھوڑے بہت نا نکار کے بعد دونوں گھروں میں شادی کے نقارے بجنے لگے اور نازو کے دل میں موتی چور کے لڈو پھوٹنے لگے ۔۔۔۔۔۔
فلمیں دیکھنے،کتابیں اور ناول پڑھنے کے شوق نے دماغ میں کئی طرح کے اسکرپٹ لکھ ڈالے…. شادی ہوگی تو ایسا ہوگا، شادی ہوگی تو ویسا ہوگا…. اپنے کمرے کو اپنے انداز سے سجانے کے نئے نئے طریقے سوچ لیے…. مگر ہر طریقہ میں ایک بات کامن تھی اور وہ تھی کہ پلنگ کے اپنی سائیڈ والے سرہانے ٹیبل پر ان کی اور میری فوٹو فریم ہوگی، خوبصورت ٹیبل لیمپ اور سائیڈ میں میری ڈائری اور قلم، کہ عادت کے مطابق کچھ یاد آئے تو فورا اس میں اتار لوں…. تازہ پھولوں سے بھرا گلدان جس کی بھینی خوشبو سے کمرہ مہکتا رہے.
شادی کے لیے پورے ایک سال کا وقت لیا گیا کیونکہ نازو ابھی دسویں کلاس میں پڑھتی تھی، کم عمری میں شادی کے نقصانات سے ناز کو کچھ پڑی نہیں تھی پڑھائی کی اہمیت جان کر بھی انجان بننے میں عافیت سمجھی…….. سب چھوڑ چھاڑ کر شادی کی تیاری میں لگ گئی…. مڈل کلاس فیملی ہونے سے اور گاؤں کے ماحول میں واپس آنے کے سبب ایک ہنر مند لڑکی کی طرح وہ بھی سلائی کڑھائی اور کروشیا سے کاریگری کر تکیہ چادروں تو جھالروں پر گل بوٹے بنانے اور ہر ٹانکے کے ساتھ اپنے سپنے سنجونے میں لگ گئی ۔۔ ۔

سال کب گزر گیا پتا ہی نہیں چلا. ہلدی مہندی لگی اور نازو سسرال سدھاریں… اتنا دور کا سفر…. ان کا گھر دیکھا نہ گاؤں … بمبئی میں بچپن سے جوانی تک پڑوسی رہے… اپنے اپنے گاؤں جاکر بھی ایک دوسرے کو نہ بھولے تو گھر والوں کو شادی کیلئے منانا ہی کافی تھا. من ہی من اپنے گھر جانے کی خوشی….. نازو پھولے نہیں سما رہی تھی … گاوں آ گیا تھا شاید ؟ گاڑی سے اترتے ہی گھونگھٹ کی آڑ سے گھر تلاش کرنے لگی۔۔۔ تبھی نند نے ہنستے ہوئے فقرہ کس دیا …. کیا دیکھ رہی ہیں بھابھی؟ ابھی گھر نہیں آیا یہاں سے اندر چل کر جانا ہے، اندر گاڑی نہیں جاتی، نازو نے گردن ہلا کر رضامندی جتا ئی، گاؤں کےکس چھوڑتھاگھر …..چل چل کے پیروں میں درد ہونے لگا…. ایک تو اتنا لمبا سفر، اس کے اوپر اتنا گھونگھٹ، پتھریلی سڑک …. گھر اتنا دور تھا تو ڈولی ہی منگوا دیتے….. نازو نے تھکان سے سوچا….
اخر کو گھر آ ہی گیا…. نظر اتاری گئی اور بڑے پیار سے اندر لے جا کر کرسی پر بٹھایا گیا لوگوں سے گھر بھرا پڑا تھا، کوئی کہے گا کہ دور سے آئی ہے ذرا فارغ ہوجائے تو مل لو پر مجال ہے جو کسی کو یاد آئے کہ دلہن کو بھی فریش ہونا ہے…. گھنٹوں بعد آخر وہ وقت آ ہی گیا جب دلہن کی تکلیف کا خیال کیا گیا، ایک چھوٹے سے کمرے میں جس کی چوڑائ مشکل سے پانچ فٹ اور لمبائی سات فٹ ھو گی اس میں کوئی پلنگ تھا نہ سنگھار میز تھا، نہ کوئی باتھ روم، نازو نے کمرے میں لگے چھوٹے سے شیشہ میں اپنے آپ کو دیکھا… سفر کی تھکان سے سست چہرے پر جھیل سی آنکھوں کو ڈریم بیڈ روم کا ٹوٹا خواب اداس کر گیا تھا اور چمک پھیکی پڑ گئی تھی، پھولوں کی سیج نے چٹائی اور رضائی کار وپ لے لیا تھا ۔۔۔ دل کومسوس کر جھٹ سے اپنا سر اپا ٹھیک کرتے سوچا کہ دنیاوی چیزوں سے ہٹ کر سوچو تو تمہاری محبت کا خزانہ ہی کافی ہے، اس چٹائی پر بھی تمہاری محبت بھری بانہوں میں سکون کی نیند سو لونگی۔۔۔ ان کو سوچتے ہی دل میں میٹھی سی امنگ جاگ اٹھی اور ڈریم بیڈروم کہیں کھو گیا……
خود کو نہارتی ناز و خود کی ہی خوبصورتی میں کھوسی گئی، کالی نشیلی آنکھیں، گورارنگ ،خوبصورت گھونگریالے بال، گلاب کی پنکھڑی سے ہونٹ، کسی ہیروئن سے کم نہ تھی وہ …. گھونگھٹ کو سیدھا کیا اور سر کو جھکا کر ایک دم فلمی انداز میں چٹائی پر بیٹھ گئی….. تو کیا ہوا سیج مخملی نہیں تھی …… پر رات تو سہاگ کی ہی تھی … تبھی دروازہ کھلا اور سیدھے چٹائی پر قدم رکھ کر وہ اندر چلے آئے.. دروازے کو کنڈی لگا تے ہی بولے…. گھونگھٹ کیوں اوڑھا ہے اتنا لمبا؟
جیسے میں نے تمہیں کبھی دیکھا ہی نہیں…. چلو سیدھے بیٹھ جاؤ پر نازو پر نئی دلہن ہونے سے شرم سی حائل ہوگی۔۔۔
اور سمٹ کر بیٹھ گئی، ہاں تم نے دیکھا ہے مجھے بچپن کے وہ دن اور آج کے دن میں کچھ تو فرق ہے نا؟ دل تو کر رہا تھا کہ جھٹ جواب دے کہ آج جتنی بنی سنوری نازو کی حوروں سی خوبصورتی گھونگھٹ کے اندر شرمائیں دلہن کے گالوں کی لالی دیکھ لو تو ہوش کھو بیٹھو گے …. تبھی ہاتھ بڑھے اور جھٹکے سے گھونگھٹ پلٹ گیا …. جیسے کوئی زبردستی پلوں کو جھٹک کر ہٹاتا ہو، نازو نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں…. نجانے کیا کیا سوچا تھا …. ان آنکھوں کو دیکھ کر یہ کہیں گے…وہ کہیں گے، طرح طرح کے فلمی ڈائیلاگ دماغ میں تھے کہ نہ جانے
تعریف کس انداز میں ہو… پر ایک سناٹا اور ہلکی آواز آئی….” جا جا کر کپڑے بدل…… !

ٹائیں ٹائیں فش….! اور سارے تعریفی جملوں کی لسٹ میں آگ لگ گئی… اور جیسے نازو کے اندر محبت کی لگی پر اوس پڑ گئی وہ دھیمے سے اٹھی کپڑے بدلنے، بالوں سے پھولوں کے گجرے کو بیدردی سے نکالا….. سوچا تو تھا کہ وہ دھیرے دھیرے گجروں کو کھولیں گے، مہندی لگے ہاتھوں میں اپنا نام کھوجیں گے …….. جھیل سی آنکھوں کی گہرائی میں اتر آئیں گے….. پر یہاں رومانس کے نام پر کورا کاغذ تھا….. نازو کی آنکھیں پہلی ہی رات بھیگ گئیں …. لائٹس آف۔۔۔۔نہ رومانس نہ پیار بھری باتیں ۔۔۔۔ کام ختم کیا اور کروٹ بدل کر سو گئے، نازو کے دہکتے ارمانوں پر بجلی گر گئی تھی، اس نے تڑپ کر کروٹ بدل لی…..
مؤذن کی آواز میں نماز کی دعوت دی، نازو نے باتھ روم کا رخ کیا، غسل کرکے نماز ادا کی تبھی تک سارا گھر جاگ گیا، روزمرہ کے کام شروع ہوگئے، اتنے لوگ تھے گھر کے ہی کہ مہمان نہ بھی ہوں تو ہر روز تہوار یا شادی کا سماں بندھا رہتا، جوائینٹ فیملی سسٹم کہیں ہو نہ ہو اس گھر میں تایا پھوپھی دادا دادی سب اب بھی ساتھ رہتے تھے، گھر میں کھانا اتناپکتا کہ نازو کے گھر میں کسی پارٹی میں بھی شاید ہی اتنا پکتا ہو….. عورتوں سے دگنی مردوں کی تعداد تھی …. ان کے ٹفین کی تیاری، نازوں کے گھر میں صرف تین لوگ.. پانچ روٹی بھی بن جائے تو زیادہ ہو جاتی تھی یہاں بڑے بڑے دو تھالوں میی دیورانی جیٹھانی الگ الگ آٹا گوندھتی، صبح 8 بجے تک پھر بھی نہ جانے کیسے آخر میں دو چپاتیاں ان کے حصے میں اکثر نہیں آتی اور نازو کوامی یاد آجاتی…. جو اکثر کہتیں تم کو کھانے کی اہمیت نہیں معلوم آج جو ہے تم لوگ ناک لگاتے ہو لوگوں کو یہ بھی میسر نہیں….. روٹی بنتے بنتے کمر اکڑ جاتی تو کنویں سے پانی بھرنے نکل جاتے، ایسا لگتا تھا جیسے سارے گاؤں کا پانی یہی ایک گھر استعمال کرتا ہے یہاں بھرتے جاؤ یہاں خالی….. ہاتھوں کے چھالے اور سر کا درد عام ہو گیا تھا۔۔۔۔ سرپراسٹیل کے پانی بھرے گھڑے کا وزن ہر دم رکھا ہے ایسا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔ بننا سنورنا شوق نہ ہوتا تو
سوجی آنکھیں اور الجھے بال تھکن سے زرد چہرہ ائنہ بھی نازو کو پہچان نہیں پاتا ..

پر نازو اپنی دنیا میں مگن ہوگئی اس کے لیے اس کے محبوب کی محبت بھری ایک نظر کافی ہوجاتی ہے، گھر کا دقیانوسی ماحول دن میں بیوی سے بات کرنا یا ساتھ بیٹھنا معیوب سمجھا جاتا تو سارا دن بس نگاہیں ملانے یا مسکراتے نازو کو اس میں بھی مزا آنے لگا تھا اس کی زندگی کا محور ہی وہ تھے، دوسرے کام اس کے لیے جیسے ان تک پہنچنے کا ذریعہ تھے جیسے جیسے دن بیتے گئے گاؤں سے بمبئی سدھارے بارہ سو روپے کی نوکری میں گھر میں کیا خرچ کو دیتے .. ہر پہلی تاریخ کے بعد 25 روپے کی ٹرین کی پاس اور 25 روپے خرچ کو ملتے گن کر…… اس میں خود کا خرچہ اٹھا تے یا نازو کی خواہشیں پوری کرتے… شادی کے بعد سے ایک نیا رومال خریدیں بھی مہینوں بیت گئے تھے گھومنا گھمانا یا ہنی مون کی خواہش دم توڑ کر شاید دل کے کسی کونے میں دفن بھی ہو گئی تھی پر باقی تھی تو اس کے ہونٹوں کی وہ پیاری سی مسکان جس میں شام ہوتے جب واپس لوٹتے تو ایک نئی جان آ جاتی.
گھر میں اتنےجوڑے تھےکہ ون روم کچن کا وہ کیچن ہر کسی کو اس دن ہنی مون سویٹ لگتا جب اس کچن میں رات کوسونےکی ان کی باری ہوتی اور صبح چہرے پر آئی شرمیلی مسکان ساری بہوؤں کو ایک دوسرے کو چھیڑنے کا موقع دیتی اب نازو کے سرہانے ٹیبل کی جگہ آٹے کا ڈبہ ہوتا تو ہال میں جوتے کا بکس نازو اپنی ہی دیکھیں خوابوں پر من ہی من ہنس پڑتی ڈائننگ ٹیبل پر رکھنے کے لیے خریدے گئے مہنگے مہنگے سیٹ جو باکس میں پڑے پڑےسڑ رہے تھے نازو کی آنکھوں میں چبھنے لگے تھے،
بدلتے موسموں کی طرح بدلے وہ بمبئی کیا لوٹے …..نئی جاب کے ساتھ آفس میں موڈرن لڑکیوں کی ریل پیل میں نازک سی نازو کی معصوم سی شکل کھٹکنے لگی تھی …..پاؤڈر لگانے پر ناراض ہونے والے وہ میک اپ سے لپٹی ان شوخ اور رنگ برنگی تتلیوں میں ایسے گم
ہوگئے کہ آفس ٹائمنگ کے بعد گھر جلدی آنا اکثر بھول جاتے….. بیوی کے ساتھ پانی پوری کھانے کے لیے جن کے پاس پانچ روپے اکثر نہیں ہوتے ان کی جیب سے پیزا کے بل ملتے تب نازو کٹ کے رہ جاتی …. صبر نہیں ہوتا تو پوچھنا گناہ ہوجاتا…. اور اس کا درد کبھی ماتھے پر تو کبھی ہوںٹھوں پر تو کبھی گلابی چہرے کو لال کر جاتا زخموں سے لدی پھندی اتنے بھرے پرے گھر میں خود ہی شرمندہ ہو جاتی……. جیسے یہ سب غلطیاں اسی سے سرزد ہوئی ہوں…… اوپر سے سارا سپورٹنگ پاور ان کے ساتھ…… تب ناز و تنہا ہو جاتی….
ان کے ٹائم پاس کی لسٹ بڑی ہوتے ہوتے نازو کے ارمانوں کی لسٹ سے محبت کا نام ہی نیست و نابود ہوگیا اب چہرے پر شرمیلی مسکان تو کیا ہلکی ہنسی بھی درد کے ساتھ آ تی پے در پے بچے کیا ہوئے نازو ان کے پالن پوشن میں لگ گئی انہوں نے بچے پیدا کرکے دھاڑ مار لی تھی کے بھول گئے کھانا خرچ کے ساتھ ان کی کی اور بھی ذمہ داریاں ہیں جو سب اسکے حصے میں آگئیں اور خود کو بھول کر نازو نے بچوں میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا …. کھٹی میٹھی نوک جھوک ازدواجی زندگی کا حصہ ہوتی ہے پر یہاں آے دن جنگ کا سماں بندھ جاتا اور ہمیشہ کی طرح ناز وہار کر کچھوے کی طرح شیل میں چھپ جاتی
ناز و کھو گئی ….. سارے ناز نخرے چھو منتر ہوگئے….. کتابوں کی خوابیدہ محبت اور ناول میں پڑھی رومنٹک زندگی کتابوں میں ہی رہ گئی کتنا سوارنے کی کوشش کرتی اتنی ہی بکھرتی جاتی….. کتابوں سے رشتہ ٹوٹے زمانے ہو گئے تھے وہ گورنر ٹیبل کا خواب اسپر رکھی نازو کی ڈائری، اب بھی خواب میں آتی ہے… پر اس ٹیبل پر رکھی وہ فوٹو فریم اب دکھائی نہیں دیتی..،
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker