شمع فروزاںمضامین ومقالات

اولاد کا وقف

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ)
اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کی مختلف صورتوں میں سے ایک وقف بھی ہے ، وقف کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ خیر جاری ہے ، یعنی ایسا کارِ خیر ہے ، جس سے دنیا میں لوگوں کو دینی یا مادی نفع پہنچتا رہتا ہے ، اور خود وقف کرنے والے کو بھی مسلسل اس کا اجر و ثواب پہنچتا ہے ، یہاں تک کہ اگر اس کا انتقال ہوجائے تو موت کے بعد بھی اس کے لئے ثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے ؛ اسی لئے مسلمانوں میں اوقاف قائم کرنے کا معمول رہا ہے اور نہ صرف مسجد ، مدرسہ ، قبرستان وغیرہ کے لئے مسلمانوں نے وقف کئے ہیں ؛ بلکہ جانوروں کی چراگاہوں اور پرندوں کی غذا کے لئے بھی وقف کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔
اگر وقف کو اس کے فقہی مفہوم سے الگ عمومی مقصد کے پس منظر میں دیکھا جائے تو جن چیزوں کو وقف کیا جاتا ہے ، ان کا دائرہ بہت وسیع ہے ، غیر منقولہ اشیاء زمین ، جائیداد اور مکانات کا وقف ، اموال منقولہ روپے پیسے ، سونا ، چاندی اور دوسری اشیاء کا وقف ، اپنے قیمتی اوقات کا وقف ، مثلاً کوئی شخص ڈاکٹر ہے اور وہ اپنے وقت کا ایک حصہ غریب مریضوں کے علاج کے لئے مخصوص کردے ، یا ایک الیکٹریشن اپنے وقت کا کچھ حصہ اپنے ہنر کے ذریعہ لوگوں کی مفت خدمت کے لئے خاص کردے ، یہ صلاحیتوں کا وقف ہے اور انشاء اللہ اس میں بھی اجر ہے ؛ چنانچہ رسول اللہ ا نے صدقاتِ جاریہ میں علم کو بھی شمار کیا ہے ، یعنی ایسا علمی کام جس سے انسان کے گذرنے کے بعد بھی لوگ استفادہ کرسکیں : ’’ علم ینتفع بہ‘‘ خواہ یہ شاگردوں کی شکل میں ہو یااداروں اور کتابوں کی شکل میں ۔
اسی طرح اجر و ثواب کے لحاظ سے وقف کی ایک اور صورت ہے : اولاد کا وقف ، انسان اپنی اولاد یا اپنی اولاد میں سے کسی کو دین کی خدمت یا مخلوق کی خدمت کے لئے وقف کردے ، جیسے کوئی شخص مرفہ الحال ہو ، ضروریات ِ زندگی کے لئے کسب ِمعاش کا محتاج نہ ہو ، وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو مسلمانوں یا غیر مسلموں کے درمیان اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے وقف کردے اور ایسا انتظام کردے کہ وہ کسب ِمعاش کی اُلجھنوں سے فارغ ہوکر ہمہ وقت دعوتِ دین کی خدمت کے کام کو انجام دے سکے ، یا مثلاً کسی کی اولاد میں سے کوئی ڈاکٹر ، انجینئر یا وکیل ہو اوراسے کسب ِمعاش کی اُلجھنوں سے آزاد کرکے اس بات کے لئے فارغ کردے کہ وہ غریبوں کے علاج ، تعمیر مکان کے مفید مشوروں اورمظلوموں کی قانونی مدد کی مفت خدمت انجام دے گا ، یہ سب صدقہ جاریہ کی صورتیں ہیں ، جتنے لوگوں کو ہدایت حاصل ہوگی اور نفع پہنچے گا اورآگے ہدایت و نفع رسانی کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا ، اس کا ثواب پہلے شخص کو بھی پہنچتا رہے گا ، اپنی اولاد کو ایسے اچھے کاموں کے لئے وقف کرنے والے والدین کو اس کا اجر حاصل ہوتا رہے گا ۔
اولاد کو وقف کرنے کی غالباً سب سے بہتر اور اعلیٰ صورت یہ ہے کہ والدین ان کو دینی تعلیم سے وابستہ کریں ؛ کیوںکہ جب ایک شخص دینی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ مختلف جہتوں سے دین و مذہب اور قوم و ملت کی خدمت کرسکتا ہے ، وہ دینی اور عصری تعلیمی اداروں میں تدریس کا فریضہ بھی انجام دے سکتا ہے ، مسلمانوں اور برادرانِ وطن میں دعوت و اصلاح اور تبلیغ اسلام جیسا اہم کام شرعی حدود کے ساتھ بہتر طورپر کرسکتا ہے ، اسلام کے دفاع ، اس کی فکری سرحدوں کی حفاظت اور دیگر اہل مذاہب سے مذاکرات جیسے اہم کام کو بھی علماء ہی بہتر طورپر انجام دے سکتے ہیں ، عوام سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی ، تجربات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ اس طبقہ کے اندر سیاسی قیادت اور خدمت ِخلق کے کاموں کی تنظیم کی بھی بہترین صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں اور انھوںنے جہاں کہیں بھی ان کاموں کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے ، ان میں وہ اول درجہ حاصل کرنے والوں میں شامل رہے ہیں ، دینی مدارس کے قیام میں تو علماء کا اہم رول ہے ہی ؛ لیکن اِدھر اسلامی ماحول اور بنیادی دینی تعلیم کے ساتھ عصری اسکولوں کے قیام پر بھی علماء نے توجہ دی ہے ، اور اس میدان میں بھی انھوںنے اپنی غیر معمولی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے اور منوارہے ہیں ؛ اسی لئے اگر کوئی شخص اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے لئے وقف کرتا ہے تو مختلف میدانوں میں اس کے ذریعہ قوم و ملت کی خدمت ہوسکتی ہے اور ان سب کا ثواب اس کے والدین کو بھی حاصل ہوگا ۔
جس طرح آج کل ملٹی لیول مارکٹنگ کی تھیوری فروغ پارہی ہے ، جس میں مسلسل تجارت آگے بڑھتی رہتی ہے اور ہر مرحلہ کے نفع میں پہلے شخص کو حصہ ملتا ہے ، اسی طرح مدارس کے نظام میں ایک تسلسل ہے ، ہر طالب علم جو علم دین سے آراستہ ہوتا ہے ، ملت کی اگلی نسل کو تعلیم سے آراستہ کرتا ہے ، بعض دفعہ یہ حسب ِضرورت ادارے اور تنظیمیں قائم کرتے ہیں اور اس طرح افرادِ کار کی تیاری کا کام ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے ؛ اس لئے اس کی مثال اس درخت کی سی ہے ، جس کی جڑوں سے نئے نئے درخت نکلتے جاتے ہیں اور ایک پودا بڑھ کر کئی درختوں کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔
اللہ کے لئے اولاد کا وقف صالحین کا قدیم طریقہ رہا ہے ، قرآن مجید نے خود حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ جب وہ حمل کی حالت میں تھیں تو انھوں نے نذر مانی کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے ، وہ آپ کی عبادت اور آپ کے گھر کی خدمت کے لئے فارغ ہوگا ، آپ اس کو میری طرف سے قبول کرلیجئے : ’’ رَبِّ إنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَافِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ‘‘ ( آل عمران : ۳۵) جب حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ کو پریشانی ہوئی کہ میں نے جو نذر مانی تھی ، اس کا کیا ہوگا ؟ کیوں کہ یہ تو بیٹی ہے ، بیٹی خود تو عمل کرسکتی ہے ؛ لیکن وہ سماج پر اثر انداز ہونے والی کوئی دینی خدمت انجام نہیں دے سکتی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لڑکا بھی اس لڑکی کی طرح نہیں ہوسکتا ؛ کیوںکہ اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ ظاہر ہو اور یہ بات ایک لڑکی ہی سے حاصل ہوسکتی تھی نہ کہ لڑکے سے ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اس لئے ضروری تھا کہ اس خلافِ عادت واقعہ کی وجہ سے ہر طرف حضرت عیسیٰ کی ولادت کا چرچا ہونے لگے اور اس واقعہ کا خوب شہرہ ہوجائے ؛ تاکہ جب وہ محمد رسول اللہ اکی تشریف آوری کا مژدۂ جاں فزا سنائیں تو دُور دُور تک یہ پیغام پہنچ جائے ؛ کیوںکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد کے لئے بھیجا تھا ، ان میں ایک اہم مقصد رسول اللہ اکی تشریف آوری کی خوشخبری سنانی تھی ، ( سورۂ صف : ۶) — یہ اولاد کے وقف کا واقعہ ہے جس کا خود قرآن مجید میں تذکرہ ہے اور اس وقف کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے دین کی خدمت کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا ۔
خود رسول اسے ہم لوگوں تک دین کی جو امانت بے آمیز شکل میں پہنچی ہے ، وہ بھی ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ ، جنھوں نے اپنے آپ کو یااپنی اولاد کو دین کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا ، رسول اجب مدینہ تشریف لائے تو حضرت انسؓ کی عمر بہت کم تھی ؛ لیکن ان کی والدہ حضرت اُم سلیمؓ انھیں لے کر آپ اکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ اکی خدمت کے لئے ان کو آپ کے حوالہ کردیا ، رسول اکی پوری زندگی وہ آپ کی خدمت میں مشغول رہے ، اسی طرح بہت سے صحابہ تھے جنھوں نے اپنی زندگیاں اسلامی علوم کی خدمت کے لئے وقف کردی تھیں ؛ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج اسلامی علوم کا جو ذخیرہ اُمت کے پاس موجود ہے ، اُمت اس سے محروم ہوتی اور وہی صورتِ حال ہوجاتی جو گذشتہ اُمتوں کی ہوئی ، اپنی مذہبی کتابوں سے اُن کا رشتہ ٹوٹ گیا اور دین میں تحریف و آمیزش کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ پھر کبھی یہ ملاوٹیں دُور نہیں کی جاسکیں ، اُمت کے سب سے بڑے مفسر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا حال یہ تھا کہ اپنی چادر کو تکیہ بناکر اکابر صحابہ کے دروازے پر لیٹ جاتے ، گرد و غبار اوپر پڑتا رہتا ، جب صاحب ِخانہ نکلتے تو یہ منظر دیکھ کر کہتے : اے رسول اللہ اکے چچا زاد بھائی ! کونسی ضرورت آپ کو یہاں لائی ہے ؟ آپ نے مجھے کیوں نہیں بلالیا ؟ وہ کہتے : نہیں ، میرا فرض تھا کہ میں آپ کے پاس آؤں ؛ چنانچہ اُن سے حدیث کے بارے میں دریافت کرتے ۔ (اتحاف الخیرۃ المہرۃ : ۱؍۳۱۲)
حضرت ابوہریرہؓ اُمت کے سب سے بڑے محدث ہیں ، جن سے پانچ ہزار سے زیادہ حدیثیں منقول ہیں ، ان کا حال یہ تھا کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑتے تھے اور کئی کئی وقت کے فاقہ سے دوچار ہوتے تھے ؛ لیکن رسول اکی چوکھٹ پر پڑے رہتے ؛ تاکہ آپ اکا کوئی ارشاد اور کوئی عمل نقل کرنے سے رہ نہ جائے ، حضرت ابوہریرہؓ نے علم کے راستہ میں اُٹھانے والی مشقتوں کی آپ بیتی خود ہی تفصیل سے بیان فرمائی ہے ، جو مسافرانِ علم و تحقیق کے لئے دلچسپ بھی ہے اور سرمایۂ عبرت بھی ۔ ( دیکھئے : صحیح بخاری ، کتاب الرقاق ، باب کیف کان عیش النبی و أصحابہ وتخلیھم من الدنیا ، حدیث نمبر : ۶۴۵۲)
اُمت کے سب سے بڑے فقیہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا بھی یہی حال تھا ، ان کے شب و روز آپ اکی خدمت میں بسر ہوتے تھے ، حضور اکی بارگاہ میں ان کی آمد و رفت کی کثرت کو دیکھتے ہوئے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ — جو یمن سے مدینہ آئے تھے — کو گمان ہوگیا کہ وہ آپ کے اہل بیت میں سے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس حاضر باشی کا شرف اپنی والدہ کی تربیت کی وجہ سے حاصل ہوا تھا ؛ کیوںکہ ان کی والدہ بھی بکثرت خدمت ِاقدس میں حاضر ہوتی تھیں ، ( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، باب مناقب عبد اللہ بن مسعودؓ ، حدیث نمبر : ۳۷۶۳) اُمت کے بڑے بڑے اساطین — جن کے کارناموں سے تاریخ کے اوراق روشن ہیں — میں سے زیادہ تر لوگوں کے اندر یہ جذبہ والدین کی تربیت کی وجہ سے پیدا ہوا ، امام بخاریؒ ، امام شافعیؒ ، شیخ عبد القادر جیلانیؒ وغیرہ کی شخصیتیں اس کی تابناک مثالیں ہیں ۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مدارسِ اسلامیہ اور دینی تعلیم کی طرف لوگوں کی توجہ کم ہوتی جارہی ہے ، جن مدرسوں میں کئی کئی سو طلباء رہ سکتے ہیں یا پہلے رہا کرتے تھے ، اب وہاں خاک اُڑ رہی ہے ، دو تین سال پہلے تمل ناڈو کے ایک علاقہ کا سفر ہوا ، وہاں کی ایک مقتدر دینی شخصیت جو بڑے تاجر بھی ہیں ، نے میرے ساتھ علماء کی ایک نشست رکھی ، اس مجلس میں ہر شخص کی زبان پر یہی شکایت تھی کہ مدارس میں طلبہ کم ہورہے ہیں ، جہاں چار پانچ سو طلبہ کی گنجائش ہے اور پہلے وہاں اس تعداد میں طلباء رہا کرتے تھے ، اب چالیس پچاس طلبہ کا قیام رہتا ہے ، کوکن کے ایک بڑے مدرسہ میں جانے کا اتفاق ہوا ، جس کی عمارت وسیع و خوبصورت اور کتب خانہ معیاری ہے ، ادارہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ہمارے یہاں پانچ ، چھ سو طلبہ کی رہائش کی سہولت ہے ، کچھ سال پہلے چار ساڑھے چار سو طلبہ کا قیام رہتا تھا ؛ لیکن اب یہ تعداد دو ڈھائی سو کے اندر سمٹ گئی ہے ، بہار کے بعض مدارس — جن کو ایک تاریخی اہمیت حاصل تھی اور جہاں موجودہ بنگلہ دیش سے لے کر افغانستان تک کے طلبہ کسب ِفیض کے لئے آیا کرتے تھے — اب وہاں دینیات ، ناظرۂ قرآن اور زیادہ سے زیادہ عربی کی ابتدائی جماعتوں کے طلبہ پڑھ رہے ہیں ، جنوبی ہند میں گذشتہ پچیس تیس سال میں مرکزی شہروں کے علاوہ اضلاع میں بھی اچھے مدرسے قائم ہوئے اور ان کو تیزی سے فروغ حاصل ہوا ؛ لیکن اب گنتی کے چند مدارس ہیں جہاں طلبہ کی مناسب تعداد ہے ، بقیہ ادارے گویا ویران ہورہے ہیں ، کم و بیش ملک کے اکثر علاقوں کی یہی صورتِ حال ہے ، یوپی اور گجرات میں دوسرے صوبوں کے مقابلہ مدارس زیادہ ہیں اور ان کی عمارتیں بھی وسیع اور دیدہ زیب ہیں ، مگر وہاں بھی مقامی طلبہ کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ، بہ ظاہر اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ مدارس کے فضلاء کو معاشی اعتبار سے سادگی ، کفایت شعاری اور بعض اوقات مفلوک الحالی کی صورت حال سے گذرنا پڑتا ہے ، یہ ایسا دور ہے جس میں روپئے کی حیثیت کاغذ کے ایک ٹکڑے کی ہوگئی ہے اور اس نے اپنی قدر کھودی ہے ، نیز ایک معمولی مزدور کی مزدوری بھی تین چار سو روپئے یومیہ سے کم نہیں ہوتی ، مگر اب بھی زیادہ تر اداروں اور مسجدوں میں دینی خدمت گذاروں کا اکرامیہ چھ سات ہزار ہوتا ہے ، اس کیفیت کے باوجود پہلے دیہات و قصبہ جات کی غریب آبادیوں سے طلبہ کی ایک تعداد دینی مدارس میں آجاتی تھی ؛ کیوںکہ وہ عصری درسگاہوں کے اخراجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں تھے ؛ لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے ، گورنمنٹ نے اپنے اسکولوں میں بڑی سہولتیں فراہم کردی ہیں ، نہ صرف بچوں کے لئے مفت تعلیم اور کتابوں کا انتظام ہے ؛ بلکہ بعض ریاستوں میں طلبہ و طالبات کے لئے یونیفارم اور سائیکل کا بھی نظم کیا جاتا ہے اور بعض ریاستوں میں تو لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیا گیا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ اہل ثرورت کی تو پہلے ہی سے ان اداروں کی طرف کم توجہ تھی ، اب اُمت کا غریب طبقہ بھی اپنا قبلہ بدل چکا ہے ، یہ صورت حال مستقبل میں مسلمانوں کے دین وایمان کے لئے بے حد نقصاندہ ہے ، اس سلسلہ میں ایک اقتباس نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے :
۱۹۹۰ء کے ٹائمز میں یہ خبر چھپی کہ ۲۰ یا ۵۰ سال کے بعد پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہوگا ، انگلینڈ وغیرہ کے ماہرین اکٹھے ہوئے ، کافی غور و فکر کے بعد کچھ سمجھ نہ آیا ، آخر کار روم میں جان پال پوپ سیکنڈ کے پاس مسئلہ لے کر گئے تو اس نے ایک سوال کیا کہ یہ بتاؤ کہ مسلمانوں کے بچے زیادہ تر اسکولوں اور خاص طورپر انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں یا مدرسے میں ؟ تو ماہرین نے کہا کہ ۸۰ فیصد سے زیادہ بچے اسکولوں میں پڑھتے ہیں اور بہت کم بچے مدارس دینیہ میں پڑھتے ہیں تو پوپ نے ایک فقرہ کہا : ’’ کانوں میں روئی ڈال کر سو جاؤ ، فکر نہ کرو ، یہ بچے ہمارے ہیں ، مسلمانوں کے نہیں ‘‘ ۔ ( محاسن اسلام :۲۰۱۷ء ، صفحہ : ۵۸)
اس لئے اپنی آئندہ نسلوں کو ایمان پر قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اُمت میں علماء کا جو تسلسل قائم ہے ، وہ آئندہ بھی قائم رہے ، ہرمسلمان والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد میں سے کسی کو علم دین کے حصول میں لگائیں اور معاشی اعتبار سے ان کے لئے ایسی تدبیریں کریں کہ وہ اپنی مختصر آمدنی کے ساتھ ان کا تعاون پاکر ایک باعزت زندگی گذارسکیں ، خاص کر اہل ثروت مسلمانوں کو اس جانب توجہ دینی چاہئے ، اس سے ان کی نسلوں کی بھلائی متعلق ہے ، اس وقت عمومی طورپر اُمت کے دولت مند طبقہ کا یہ مزاج بنا ہوا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ دینی تعلیم نہیں دلاتے ، اگر دینی جذبہ پیدا ہوا تو زیادہ سے زیادہ غریب گھرانوں کے بچوں کی تعلیمی کفالت کرلیتے ہیں ، اس سے وہ آخرت میں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے ؛ لیکن دنیا میں ان عالم بننے والوں کے علم سے خود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا ؛ اس لئے کہ جس بچہ کے والدین آپ کے یہاں محنت مزدوری کرتے ہیں اور ایک خادم کی حیثیت سے زندگی گذارتے ہیں ، ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آپ تک دین کی بات پہنچائیں اور قابل اصلاح چیزوں کے سلسلہ میں آپ کو روک اور ٹوک سکیں ۔
اس لئے ضرورت ہے کہ کچھ حوصلہ مند اور دینی حمیت سے مامور اشخاص اپنی اولاد کو دین کے لئے وقف کرنے کا تہیہ کریں ، جن کا جینا اورمرنا اور جن کی پوری زندگی صرف اللہ کے لئے ہو : ’’ إن صلا تی ونسکی ومحیای ومماتی للّٰہ رب العالمین ‘‘ ۔

(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker