Baseerat Online News Portal

ایک صاحب عزیمت کی موت

محمدشاہد الناصری الحنفی
مدیرماہنامہ مکہ میگزین ممبئ
حضرت مولانامفتی عبداللہ کاپودری صاحب عہد حاضرکے ایک ممتاز صاحب فکرونظرعالم دین تھے افسوس کہ وہ بھی گذشتہ دنوں دارفنا سے کوچ کرکے خالق حقیقی سے جاملے۔مفتی کاپودری صاحب کانام مختلف مواقع پر گجرات کے بعض احباب کی زبانی سماعت کیاکرتاتھا اتفاق کی بات یہ ہے کہ کوئ دس سال پہلے ان سے یونائیٹڈ مسافرخانہ ممبئ میں دفعتا بلاارادتا ملا قات ہوگئ ۔ میں غالبا ظہر کی نماز کیلئے وہاں پہونچاتھا دیکھا کہ ایک نورانی صورت سنجیدہ شخص متانت وبردباری کےساتھ مراقبے کی شکل میں بیٹھے ہوئے ہیں وہاں کے امام قاری قربان علی صاحب دربھنگوی سے جب استفسارکیا اوران کاتعارف دریافت کیا توانہوں نے بتایا کہ یہ گجرات کے بڑے عالم دین مفتی عبداللہ کاپودری صاحب ہیں ۔ نماز سےفراغت پرعلیک سلیک ہوئ قاری صاحب نے مبراتعارف کرایا وہ بہت خوش ہوئے اورمرشد گرامی حضرت مولاناشاہ محمداحمدصاحب پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر خیر بہت دیرتک ہوتارہا اس کے بعد مختلف موضوعات پر بلاتکلف گفتگوفرماتے رہے اسی دوران قاری صاحب نے بتایا کہ ہندوستان اخبارمیں مولانا کاروزانہ ایک کالم باتیں صحابہ کی کے عنوان سے شائع ہورہا ہے توانہوں نے خواہش ظاہرکی کہ میں مضامین دیکھناچاہتاہوں اور خاکسارکے عرض کرنے پرکہ جب بزرگوں کے کلام سے امت کوفائدہ پہونچتاہے توپھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کلام سے امت کو کس قدرفائدہ ہوگا وہ ظاہر ہے۔مولاناکاپودری پریہ سن کررقت کی کیفیت طاری ہوگئ ۔ گرچہ میں مولانا کی صورت اوربعدمیں ان کی گفتگوسے اس نتیجہ پرپہونچ چکاتھا کہ واقعتاً کاپودری صاحب کے اندرشان عبدیت موجودہے مزید کسی شہادت کی ضرورت نہیں تھی ۔ بعد کے ادوارمیں اگرچہ ان سے ملاقات نہیں ہوسکی مگربہرحال ان کی قدرومنزلت اورمحبت دل میں باقی رہی ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دورقحط الرجال میں مولانا کاپودری صاحب اگلوں کانمونہ تھے ۔ وضع قطع اورچال ڈھال حددرجہ سادہ اورمتواضعانہ ۔ کہاجاتاہے کہ پھل داردرخت جھکاہوا ہوتاہے سچی بات یہی ہے کہ مولانا کاپودری مرحوم سوفیصد اسی کے مطابق تھے صد محاسن وفضائل اور علم کی جامعیت اورمعاصرعلماء میں شان انفرادیت کے ساتھ محبوبیت بھی بین العوام والخواص حاصل تھی ۔ مولانا کے خطاب کاانداز بھی بہت دلکش ومؤثر تھا تحریر بھی دردوسوز سے لبریز تھا ۔ عربی زبان وادب کے شہسوار تھے بہترین مربی داعی اورامن انسانی کے سفیرتھے ۔مردم سازی کہیے یارجال سازی ان کامحبوب مشغلہ تھا ۔ دارالعلوم فلاح دارین کی ظاہری وباطنی ترقی میں ان کاخون جگرشامل ہے ۔مولاناکاپودری کے مزاج میں صبروتحمل اورایثاروقربانی کی اعلی صفات موجودتھی حرص وہوس نام ونمود سے کوسوں دورتھے یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی مطالبہ یادباؤ یااختلاف کے فلاح دارین ترکیسر کے منصب اہتمام سے سبکدوشی حاصل کرلی ورنہ ابتک وہ بلاکسی قیل وقال کے اس منصب پر فائز رہ سکتےتھے ان کی ذات سے کسی کواختلاف کاشبہ تک نہیں تھا ۔ بلاشبہ وہ ملک کے قدآور صاحب بصیرت علماء کی صف کے آدمی تھے چاہیے تویہ تھا کہ ملک کے مختلف بڑے ادارے کے ذمہ داران یابڑی تنظیموں کے سربراہان مولانا کاپودری مرحوم سے ان کی زندگی میں استفادہ کرتے مگروائے افسوس کہ اس جانب بہت کم لوگوں کی توجہ گئ ۔ مولانا مرحوم خودداری اورغنائے نفس میں بھی طاق ثابت ہوئے۔ بذلہ سنجی برائے دوستاں ۔شفقت علی الخلق۔ علماء وطلبہ اورمشائخ کی عزت وتکریم اوراکرام ضیف آپ کی زندگی کا خاصہ تھا ۔ بہرحال اس عہد میں علماء سلف کی آبرو اوریادگار مولانامفتی عبداللہ کاپودری کی شکل میں اب صبح قیامت تک نہ آنے کیلئے دنیا سے رخصت ہوگیا مگریہ کہ گیا کہ
ہرگزنمیردآنکہ دلش زندہ شدبعشق * ثبت است برجریدئہ عالم دوام ما
(بصیرت فیچرس)

You might also like