شمع فروزاںمضامین ومقالات

دینی مدارس میں عصری تعلیم —مثبت ومنفی پہلو(۱)

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

’’یہ در اصل ایک خطاب ہے، جو ۲۰۱۷ء میں جامعہ مسیح العلوم بنگلور کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا تھا، مولانامحمد طیب سلمہ نے اس کو ریکارڈ کے ذریعہ نقل کیا ہے؛ چونکہ شوال میں دینی مدارس کا تعلیمی سال شروع ہوتا ہے، اس مناسبت سے یہ خطاب شائع کیا جار ہا ہے(رحمانی)‘‘

حکومت کے تعاون اور اثر سے آزاد برصغیر کے دینی مدارس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے، موجودہ دور میں عام طور پر تعلیم وتعلم کا مقصد کسب معاش ہوا کرتا ہے؛ اسی لئے جب کسی کورس کی ترغیب دی جاتی ہے تو بطور خاص اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اس سے آئندہ کیا معاشی مواقع پیدا ہوں گے، عام طور پر ہمارے عصری اداروں میں بہتر روزگار کا حامل شخص پیدا کرنے پر زور دیا جاتا ہے، ڈاکٹر بنایا جاتا ہے، انجینئر بنایا جاتا ہے، وکیل اور ہنر مند بنایا جاتا ہے، ادیب اور جرنلسٹ بنایا جاتا ہے؛ لیکن انسان کو سچ مُچ کا انسان بنانے پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
دینی مدارس نے اپنا مقصد بنایا ہے: اچھے انسان پیدا کرنا ، اس مقصد کے لئے اسلامی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا اور ہر طرح کی آمیزش سے اس کو محفوظ رکھنا، مدارس کی یہ تحریک جس دور میں شروع ہوئی ، اس وقت ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط تھا، انہوں نے یہاں کے قدیم نظام تعلیم کو ختم کر کے ایک نئے نظام تعلیم کی بنیاد رکھی تھی، اس نظام میں مذہبی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا کوئی گزر نہیں تھا؛ بلکہ اس میں دین بیزاری اور اخلاقی بندشوں سے آزادی کو نہایت ذہانت کے ساتھ شامل کر دیا گیا تھا، اس پس منظر میں علماء نے ایسے ادارے قائم کئے، جو خالصتاََ دینی تعلیم کے تھے؛ کیوں کہ عصری تعلیم کے لئے تو حکومت خود ہی ہر طرح کی سہولت فراہم کر رہی تھی؛ اس لئے مدارس کے نصاب میں جدید علوم پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی، بنیادی توجہ دینی تعلیم پر کی گئی، پھر جب اس ملک سے انگریز چلے گئے تو کیا مدارس کے تعلیمی نظام کو اسی نہج پر قائم رہنا چاہئے یا اس میں عصری نظام کی بھی شمولیت ہونی چاہئے؟ اس میں مسلمانوں کے درمیان نقطۂ نظر کا اختلاف پیدا ہوا، یہ اختلاف آج بھی ہے، اور اس میں خاصا افراط وتفریط پایا جاتا ہے۔
ایک رائے یہ ہے کہ مدارس میں تھوڑی سی بھی عصری علوم کی شمولیت نہیں ہونی چاہئے، دوسری انتہا پر وہ حضرات ہیں جو نہ صرف عصری علوم کی شمولیت کے حامی ہیں؛ بلکہ چاہتے ہیں کہ ایک شخص بیک وقت عالم بھی ہو اور ڈاکٹر بھی، عالم بھی، اور انجینئر بھی، اسی طرح مختلف علوم وفنون کے ماہر علماء وجود میں آئیں،حقیقت یہ ہے کہ راہ اعتدال ان دونوں کے درمیان ہے، نہ یہ مناسب ہے کہ دینی علوم حاصل والے طلبہ کومکمل طور پر عصری علوم سے محروم رکھا جائے، اور جب وہ مدرسہ سے نکل کر میدان عمل میں آئیںتو ایسا محسوس کریں کہ وہ کسی اور دنیا میں آگئے ہیں، اور نہ یہ بات قابل عمل ہے کہ ایک شخص بیک وقت اسلامی علوم میں بھی بصیرت حاصل کر لے اور عصری تعلیم کے کسی شعبہ کا بھی ماہر ہو جائے۔
اس سلسلہ میں غور کرتے ہوئے ہمیں پانچ نکات کو مد نظر رکھنا چاہئے، اول یہ کہ اسلام میں عصری علوم کی حیثیت کیا ہے؟ دوسرے: مدارس میں عصری علوم کو شامل کرنے کے فائدے کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں؟تیسرے: عصری علوم حاصل کرنے کے بارے میں اکابر علماء کی کیا رائے رہی ہے، چوتھے: اگر عصری علوم دینی مدارس کے نصاب میں شامل کئے جائیں تو اس کے لئے قابل عمل صورت کیا ہو سکتی ہے کہ طلبۂ مدارس عصری علوم سے بھی آشنا ہوں اور دینی تعلیم کے اصل مقصد کو بھی نقصان نہ پہنچے۔
۱۔ جہاں تک عصری علوم کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کی بات ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلام کسی بھی ایسے علم کا مخالف نہیں ہے،جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاء فرمایا کرتے تھے: اللھم انيأسئلک علما نافعا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۹۲۴) اے اللہ!’’ میں آپ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو نافع ہو‘‘ نافع ہونا دو صورتوں کو شامل ہے، دین اور آخرت کے لئے نافع ہونا، دنیا میں انسان جن ضرورتوں سے دو چار ہیں، ان ضرورتوں کو حاصل کرنے میں نافع ہونا؛ اس لئے وہ تمام علوم جو کسی جہت سے انسان کو نفع پہنچاتے ہیں، اسلام کی نظر میں پسندیدہ علوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ارشاد فرمایا: الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن ( سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۲۶۸۷)’’ علم وحکمت کی بات مومن کا گم شدہ اثاثہ ہے‘‘یعنی جیسے انسان اپنی گمشدہ چیز کے حاصل کرنے کا مشتاق رہتا ہے، یا خاندان کے گمشدہ عزیز کے پانے پر خوش ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی علم وحکمت کی بات مسلمان کو حاصل ہو تو اسے شوق ومحبت کے ساتھ اس کا استقبال کرنا چاہئے؛ اس لئے یہ بات بالکل واضح ہے کہ مفید عصری علوم کا حاصل کرنا پسندیدہ بات ہے، اور اسلام ہرگز اس کا مخالف نہیں ہے۔
یہی صورت حال زبانوں کی ہے،ٍ عربی زبان کو یقیناََ ایک خصوصیت اور عظمت حاصل ہے؛ کیوں کہ اسی زبان میں قرآن مجید نازل ہوا، اسی زبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ومعمولات محفوظ کئے گئے، اور اسلامی علوم کے سرمایہ کا بڑا حصہ اسی زبان میں محفوظ ہے؛ لیکن زبانیں سب کی سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں، اور اللہ کی نعمت ہیں، کوئی زبان حقیر نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی یا سُریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا، (صحیح ابن حبان:۷۱۳۶) جو یہودیوں اور عیسائیوں کی زبان تھی؛ اس لئے انگریزی یا دوسری مشرقی ومغربی زبانوں کی تعلیم وتعلم میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فارسی النسل تھے، اور انہوں نے قرآن مجید کی بعض سورتوں کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا، علامہ سید سلیمان ندویؒ نے عرب وہند کے تعلقات میں لکھا ہے کہ بالکل ابتدائی دور میں عرب تجار ہندوستان میں تشریف لائے، اور انہوں نے مالابار کے علاقہ میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، انہوں ایک ہندو راجہ کے مطالبہ پر قرآن مجید کا مقامی زبان میں ترجمہ بھی کیا، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے زبان کے معاملہ میں کسی تنگ نظری سے کام نہیں لیا، اور جہاں پہنچے، وہاں ان کی زبان اختیار کرتے ہوئے ان تک اللہ تعالیٰ کا دین پہنچایا، انگریزی زبان کا بھی یہی معاملہ ہے؛ بلکہ اگر غور کریں تو انگریزی زبان کے انٹرنیشنل حیثیت حاصل کرلینے میں خیر کا ایک بڑا اہم پہلو ہے؛ کیوں کہ پہلے زمانہ میں اگر پوری دنیا تک اسلام کا پیـغام پہنچانا ہوتا تو نہ جانے کتنی زبانیں سیکھنی ہوتیں، آج صرف انگریزی زبان سیکھ کر پوری دنیا تک اسلام کی دعوت پہنچائی جا سکتی ہے؛ اس لئے اسلام نہ کسی نافع علم کا مخالف ہے، اور نہ کسی زبان کا، اسلام صرف یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کرے اور زبان کو اچھی باتوں کی طرف دعوت کا ذریعہ بنائے۔
دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ عصری علوم کو حاصل کرنے کے فائدے کیا ہیں اور نقصانات کیا ہیں؟– اگر غور کیا جائے تو علماء کے انگریزی زبان اور عصری علوم حاصل کرنے سے مختلف دینی فائدے متعلق ہیں، اول یہ کہ اس طرح وہ برادران وطن تک بہتر طریقہ پر اسلام کی دعوت پہنچا سکتے ہیں؛ کیوں کہ انگریزی ایسی زبان ہے، جو ملک کے تمام علاقوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان بولی اور سمجھی بھی جاتی ہے، اور دعوت دین کے کام میں عصری معلومات مؤثر رول ادا کرسکتی ہیں، دوسرا اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام کے خلاف ایک زبردست فکری یلغار جاری ہے، قرآن مجید، حدیث نبوی،بیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، اسلامی شریعت غرض کہ دین کے ہر شعبہ پر حملے کئے جارہے ہیں، اور خود مسلمانوں کی نئی نسل میں تشکیکی ذہن پیدا ہو راہ ہے؛ اگرچہ کہ اب ہندوستان میں سنگھ پریوار کے لوگ بھی اسلام کے خلاف غلط فہمیاں کرنے کا کام بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں؛ لیکن ان سب کا سرچشمہ یہودی اور عیسائی مستشرقین ہی کا مواد ہے، جو انگریزی زبان میں ہے؛ اس لئے اگر آج علماء دفاعِ اسلام کا کام کرنا چاہیں تو ان کے لئے انگریزی زبان سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے؛ کیوں کہ دعوت دین کا کام تو عوام بھی کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں؛ اسی لئے قرآن مجید میں فریضۂ دعوت کا مخاطب پوری امت کو بنایا گیا ہے۔ ’’ کنتم خیر امۃ أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر‘‘ (آل عمران: ۱۱۰) لیکن دفاع اسلام کا کام علماء ہی کر سکتے ہیں، اور علماء نے ہمیشہ اس کام کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔
عباسی دور میں جب یونانی فلسفہ عالم اسلام داخل ہوا، اور یہ علوم تشکیکی ذہن پیدا کرنے کا سبب بننے لگے تو امام غزالیؒ اُٹھے اور انہوں نے فلسفہ ومنطق کے اصولوں پر ان سوالات کے جوابات دیے، پھر آگے علامہ ابن تیمیہؒ علم کے اُفق پر نمودار ہوئے تو انہوں نے اقدامی طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے خود فلاسفہ یونان کے افکار کو غلط ثابت کیا، اور اس طرح دفاعِ اسلام کا بہت بڑا کام انجام پایا، افسوس کہ موجودہ دور میں ہم اس سے غافل ہو گئے ہیں، اور ہماری زیادہ تر توجہ باہر سے ہونے والی فکری یلغار کے مقابلہ باہمی مسلکی اختلاف کی طرف ہو گئی ہے، ہندوستان میں تعلیمی اعتبار سے دو اہم دبستان ہیں، دارالعلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء، دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒنے پوری زندگی آریہ سماجی اور ہندو احیاء پرستی کے مقابلہ میں لگائی، اور تحریک ندوۃ العلماء کے مؤسس حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے عیسائیت اور قادیانیت کے رد کو اپنی زندگی کا مشن بنایا،یہ فضلاء کے لئے خاموش پیغام ہے کہ ان کی توجہ کا اولین ہدف دفاعِ اسلام ہونا چاہئے، اور اس کے لئے انگریزی زبان، مغربی افکار اور مغربی اور ہندوستانی تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے۔
عصری علوم سے واقفیت کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ہمارے فضلاء عصری درسگاہوں اور بالخصوص انگلش میڈیم اسکولوں میں بہتر طور پر کسی احساس کمتری کے بغیر اسلامیات کی تعلیم دے سکتے ہیں، یہ ایک اہم کام ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کام کی اہمیت بڑھتی جا رہی ے، اللہ کا شکر ہے کہ مسلم مینجمنٹ کے تحت چلنے والے اداروں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، اور وہاں اسلامیات کی تعلیم کے لئے ایسے اساتذہ کی ضروت پڑ رہی ہے جو انہیں انگریزی زبان میںدینی تعلیم دے سکیں، اردو زبان میں اگر انہیں تعلیم دی جائے تو اول تو بہت سے طلبہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، دوسرے: چونکہ اس وقت انگریزی زبان کا جادو پورے ماحول پر اثر انداز ہے؛ اس لئے طلبہ اردو زبان میں ہونے والی تعلیم کو قدرووقعت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور خود مدرس میں بھی احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔
اسی سے قریب تر چوتھا فائدہ یہ ہے کہ اگر علماء انگریزی زبان سے واقف ہوں تو وہ بہتر طور پر نئی نسل سے مخاطب ہو سکتے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے دینی مدارس اور علماء کا طبقہ عربی و فارسی آمیزالفاظ نیز علمی اصطلاحات سے بوجھل جس طرح کی اردو بولتا ہے، وہ اکثر نئی نسل کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے، بہت سے نوجوان عقیدت کے جذبہ اور ادب کے تقاضے سے سر جھکا کر بظاہر توجہ کے ساتھ ہم جیسوں کی بات سنتے ہیں؛ لیکن پھر اگر وہ کوئی سوال کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہمارے خطاب کی بنیادی باتوں کو بھی نہیں سمجھ پائے؛ اس لئے یہ بات بہت ضروری ہو گئی ہے کہ خود مسلمانوں میں دعوت واصلاح کے کام کے لئے علماء انگریزی زبان سیکھیں، اور انگریزی آمیز اردو میں اپنی بات نئی نسل کے سامنے پیش کریں۔
ان فوائد کے علاوہ اس بات کی بھی توقع ہے کہ اگر علماء عصری علوم سے واقف ہوں تو وہ اسلامی ماحول اور دینی تربیت کے ساتھ عصری تعلیم کے ادارے قائم کر سکیں گے، نیز اِس وقت دینی مدارس کی طرف آنے کا رجحان جس تیزی سے کم ہو رہا ہے، اور بڑے مرکزی مدارس کے علاوہ اکثر دینی درسگاہوں میں طلبہ کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے، اس کا بھی تدارک ہوگا، اور جب والدین دیکھیں گے کہ ان مدارس میں بھی ہمارے بچے دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کو حاصل کر رہے ہیں، تو ان شاء اللہ مدارس کی طرف رجحان بڑھے گا ۔
دینی مدارس کے نصاب میں عصری علوم اور انگریزی زبان داخل کرنے کے بعض منفی پہلو بھی ہیں، اور اس سلسلہ میں دو باتیں خاص طور پر اہم ہیں: ایک یہ کہ جن اداروں میں اس کا تجربہ کیا جا رہا ہے، وہاں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسا نصاب پڑھنے والے طلبہ نہ اچھے عالم بن سکے اور نہ عصری علوم میں کوئی کمال حاصل کر سکے،یہ ایک بجا شکوہ ہے ؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو اس بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے، اصل میں جن لوگوں نے اس طرح کے نصاب بنائے ہیں، عام طور پر ان کا تعلق عصری علوم سے تھا، انہوں نے نصاب میں توازن کا خیال نہیں رکھا، وہ اس بات پر کما حقہ توجہ نہیں دے سکے کہ کسی نصاب کے کامیاب ہونے کے لئے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ اچھے مضامین پر مشتمل ہو؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ قابل عمل ہو، اگر مدارس اسلامیہ کے مروجہ نصاب کے تمام مضامین کے ساتھ ساتھ عصری درسگاہوں کا مروجہ پورا نصاب پڑھانے کی کوشش کی گئی تو یہ غیر متوازن نصاب ہوگا، اور یقیناََ مفید کے بجائے مضر ہو جائے گا، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے بعض معترضین کے جواب میں اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے’’ زمانۂ واحد میں علوم کثیرہ کی تحصیل سب علوم کے حق میں باعث نقصانِ استعداد رہتی ہے‘‘ ؛ لیکن اگر عصری مضامین کو توازن کے ساتھ شامل کیا جائے اور ایسا نصاب نہ ہو جو طلبہ کے لئے ناقابل برداشت بوجھ بن جائے تو ان نقصانات سے بچا جا سکتا ہے؛ چنانچہ گذشتہ چودہ پندرہ سالوں سے برصغیر کے بعض مدارس میں اس کا کامیاب تجربہ کیا جا رہا ہے، اور اس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔
دوسرا منفی پہلو یہ ہے کہ دینی مدارس کے بعض فضلاء جب عصری تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں تو ان کی شکل وصورت اور سوچ بدل کر رہ جاتی ہے، اور مدارس کی سالہا سال کی محنت رائیگاں ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کے دو بنیادی اسباب ہیں: ایک یہ کہ مدارس کے یہ فضلاء انگریزی زبان اور عصری علوم سے بالکل ہی نابلد ہوتے ہیں؛ اس لئے جب وہ عصری اداروں میں جاتے ہیں تو احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہ ایک طرح کی مرعوبیت کا شکار بن جاتے ہیں، اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی کسی شخص یا حلقہ سے مرعوب ہوتا ہے تو اس کو اپنی ہر چیز حقیر نظر آنے لگتی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی ہر ایک چیز کو اپنا لے، خواہ وہ اچھی ہو یا بُری، اگر مدارس کے فضلاء پہلے سے ایک حد تک عصری علوم سے واقف ہوں تو وہ ان شاء اللہ اس صورت حال سے محفوظ رہیں گے، ادھر کچھ عرصہ سے مختلف مدارس میں فراغت کے بعد انگریزی زبان کا کورس شروع ہوا ہے، یہ فضلاء ماشاء اللہ اپنی پوری پہچان کے ساتھ عصری اداروں میں داخل ہو رہے ہیں، اور وہ نہ صرف احساسِ کمتری سے محفوظ ہیں؛ بلکہ ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے، دوسرے اگر کوئی طالب علم آٹھ سال دس سال پڑھ کر عصری تعلیم کے اداروں میں جائے اور وہ چند مہینوں میں تبدیل ہو جائے تو مدارس کے ذمہ داران کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے نظام تربیت کا بھی جائزہ لے کہ ضرور ہمارے نظام تربیت میں کچھ کمی پائی جاتی ہے اور اس کی اصلاح کریں۔
اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دینی مدارس میں انگریزی زبان اور عصری تعلیم کے بعض منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں؛ لیکن وہ ناقابل علاج نہیں ہیں، ہم بہتر تعلیم وتربیت کے ذریعہ ان کا تدارک کر سکتے ہیں۔(جاری)
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker