جہان بصیرتخبردرخبر

دل میں کینہ زبان پر ہے بھگوان کی بات!

خبر در خبر 

غلام مصطفی عدیل قاسمی 

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن 

 

جب کبھی سڑک چلتے گلی نکڑ پر کوئی گائے گزرتی دکھائی دیتی ہے تو موجودہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں کمزور و بے قصور غریب مسلمان پر ڈھائے جا رہے ظلم و ستم کی دردناک داستان، کرب انگیز اور لرزہ خیز مناظر ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں، اور تصورات کی دنیا میں خود ہی سے سوال کرتا ہوں کہ آخر ہندو مذہب کے متوالے ایک جانور کو انسان سے بڑھ کر کیوں اہمیت دیتے ہیں؟ جواب ملتا ہے یہ سب کچھ کرسی کی ہوس کا حصہ ہے ورنہ غیر مسلم کی اکثریت تو جانتے ہی نہیں کہ ہمارے کتنے بھگوان ہیں، انہیں ان کے مذہبی پیشوا اور سنت سادھو جس طرح چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیل لیتے ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مختلف ریاست کی ہندو عوام اپنا تہوار الگ الگ طریقے پر مناتی ہے، ایک ریاست میں پنڈت کے کہنے پر لوگ سالوں سے تہوار منا رہے ہوتے ہیں اور دیگر ریاست میں رہنے والے غیر مسلم حضرات جانتے ہی نہیں کہ آج ان کی عید اور تہوار کا دن ہے خیر، یہاں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا کھیل تو صدیوں سے جاری ہے پھر بھی چاہ کر بھی نہ ہم نے اس پر کبھی کچھ کہا اور نہ لکھا کیوں کہ یہ انکا ذاتی معاملہ ہے اور ایک جمہوری ملک میں قانون ہر کسی کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق دیتا ہے، لیکن اب غنڈے اور موالی یہ کھیل مذہب کے دبیز پردے میں کھیل کر نفرت کی سیاست کرنے لگے ہیں، آستھا کی آڑ میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور مسلم دشمنی کا کارڈ کھیل رہے ہیں اور اپنی سیاسی روٹی گرم کرنے میں لگ گئے ہیں، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف اور صرف حکمراں جماعت کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس سازش نے جہاں ملک کی صدیوں کی گنگا جمنی تہذیب کا گلا کاٹ کر رکھ دیا ہے تووہیں ہندوستان کی سینکڑوں بے گناہ سیکولر عوام کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، یہ وہی چشتی و نانک کی سر زمین ہے جہاں آئے دن عصمت دری کے گھناؤنے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور کہیں مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لگتا ہے وطن عزیز میں جبر و تشدد، لوٹ مار اور ظلم و بربریت کا ایک نیا باب رقم کیا جا رہا ہے، لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہندتو نظریات کے حامل حکمراں کرسی کے نشے میں چور ہیں، وہ یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں انارکی پھیلے، بے قصوروں کا خون بہے، ہندو مسلمانوں کو ہلاک کرتا رہے اور ہم اندرون خانہ تالیاں بجاتے رہیں، حقیقت میں ان موت کے سوداگروں کو نہ تو گائے سے ہمدردی ہے اور نہ ہی ملک کی ترقی کے تئیں ان کی نیت صاف ہے ورنہ گائے کے گوشت کے ایکسپورٹ میں ہندوستان اب بھی دیگر ممالک کے مقابلے سر فہرست نہ ہوتا، ان کا بس ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ہے ہندو تو کو فروغ دینا اور ملک میں نام نہاد رام راج قائم کرنا ہے، اور مسلم کمیونٹی کے لئے یہ اپنے دل میں کینہ رکھتے ہیں اور عوام کو دھوکہ دینے کے لئے انکی زبان پر بھگوان کی بات اور گائے کا ترانہ رہتا ہے، اسی لئے بھاجپا کے وزراء و کارندے آئے دن گائے کے نام پر ملک میں زہر افشانی کرتے نظر آتے ہیں، ابھی آر ایس ایس کے پرچارک اندریش کمار کا نفرت انگیز اور مسلم دشمنی کا منہ بولتا ٹوئٹ اسی پالیسی کا ایک حصہ ہے، ان تمام باتوں کے باوجود کچھ نام نہاد مسلم اسکالرس اور دین فروش ڈھونگی مولویان اب بھی ان کی ان غیر سیکولر نقل و حرکت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور اپنی عزت تو نیلام کر ہی رہے ہیں، ساتھ میں اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بھی خراب کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، ان عقل کے ماروں اور انجام سے بے خبر مورکھوں کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ ایک لڑائی ہے جسے رام کے پیروکار میدان کے بجائے ایوان سے لڑ رہے ہیں، اور اسلام اور شعائر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں اور ملک میں مسلمانوں کی شبیہ خراب کر رہے ہیں.

الغرض! اس مختصر تحریر کے ذریعہ میری مسلم قیادت سے پرزور اپیل ہے کہ اپنی تحریکی خدمات کو مزید فعال کیجئے اور ہر مسلم مخالف عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے اعلی سطحی میٹنگ بلا کر کسی نتیجے پر پہنچیے اور ملک و عوام مخالف سرگرمیوں کو ناکام کرنے کی سعی تیز سے تیز تر کر دیجئے اللہ پاک آسانیاں پیدا فرمائے، آمین

(بصیرت فیچرس) 

[email protected]

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker