جہان بصیرتخبردرخبر

بھیگے پروں سے پرواز کرتا ایک گوہر نایاب!

خبر در خبر 

غلام مصطفی عدیل قاسمی 

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن 

انسان جب اپنی کامیابی و کامرانی کے لیے بلند حوصلہ اور پختہ ارادہ بنا لیتا ہے اور حالات سے مقابلہ کی ٹھان لیتا ہے تو ایک نہ ایک دن کامیابی اس کی قدم بوسی کرتی ہے، پھر ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے رول ماڈل اور نمونہ بن جاتا ہے اور خاندان والے اسے مثال میں پیش کرتے ہیں، ایسے محنت کش اور حالات سے لڑتے ہوئے لوگ ہمارے ہی درمیان زندگی گزارتے ہیں، آج میں بات کر رہا ہوں حیدرآباد کے غریب اور فاقہ کش باپ کے اس اکلوتے لعل کی جو پیدائشی طور پر دونوں ہاتھ کی نعمت سے محروم ہے جس نے اپنے ناتواں وجود کو اک بوجھ کے روپ میں کبھی قبول نہیں کیا اور نہ زندگی میں کبھی پیچھے مڑ کر دیکھا، اسی غربت و افلاس کے عالم میں اپنا تعلیمی سفر شروع کیا اور آج قدرت کے نئے کرشمہ کے طور پر ہمارے اور آپ کے سامنے ہے، جس قابلیت اور صلاحیت کو دیکھ سن کر ہر کوئی انگشت بدنداں ہے، یقینا اس علم دوست نوجوان نے ہم مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، معلوم ہوا ہے کہ یہ نوجوان ڈگری مکمل کر لی ہے اور ایم کام میں پی جی سکینڈ ایئر کا طالب علم ہے، اس نے کمپیوٹر میں پی جی ڈی سی اور ٹیلی مکمل کر چکا ہے، ذاکر پاشا ہاتھ کی جگہ اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کی مدد سے اتنی مہارت و تیز رفتاری سے کمپیوٹر چلاتا ہے کہ دیکھ کر میری حیرت کی تو انتہا نہ رہی، جہاں نوجوان کمپیوٹر پر اپنے بہترین کمالات کا جوہر دکھاتا ہے وہیں اس کی  فٹ رائٹنگ ( لکھاوٹ) بھی بڑی جاذب و دلکش ہے، لیکن اسے بدقسمتی کہیں یا اپنوں اور پرائیوں کی بے توجہی کہ ذاکر پاشا کی دو سال کی اسکالرشپ رکی ہوئی یا روک لی گئی ہے جس کی بنا پر اس کی تعلیم درمیان میں ہی منقطع ہو گئی ہے، ذاکر کے والد آٹو رکشہ چلا کر کسی طرح اپنا اور گھر کا خرچہ چلاتے ہیں، لوگوں سے قرضہ لے کر کسی طرح اس گوہر نایاب ذاکر پاشا اور اسکی تین بہنوں کو پڑھا رہے تھے لیکن اب ان میں مہنگائی برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی، پوچھے جانے پر غریب باپ نے بتایا کہ میں مدد کی آس لگائے دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گیا ہوں لیکن کسی نے بھی وعدہ اور زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیا! دعاء اللہ پاک کوئی سبیل نکال دے. 

محترم قارئین! یہاں تھوڑا رکئیے اور سوچیے کہ دونوں ہاتھ کی نعمت سے محروم اس لڑکے کے مصمم ارادوں اور جہد مسلسل، سالوں کی محنت و جانفشانی میں ہمارے لئے کتنا عظیم سبق ہے کہ اس نے اپنی معذوری سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، مستقل حالات سے لڑتا رہا، اس نے اپنے اعلی کارنامے سے بتا دیا ہے کہ کامیابی کے لئے جسمانی ساخت شرط نہیں ہے، حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، کجی کو مجبوری کا نام بالکل نہ دیا جائے بلکہ کٹھنائیوں کا ڈٹ کر سامنا کرنا چاہیے تبھی جا کر کوئی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتا ہے، شرط ہے کہ حوصلہ جوان ہو اور کچھ الگ کر جانے کا شوق و جذبہ ہو اور مقصد کی حصولیابی کے جو جو تقاضے ہیں انہیں خوب محنت و لگن سے پورے کئے جائیں تبھی کچھ حاصل ہوگا اور کچھ بن سکیں گے کہ دانہ خاک میں مل کر ہی گل و گلزار ہوتا ہے، ورنہ جہاں ہم ہمت ہاریں گے وہیں ہمارے سارے خواب چکنا چور ہو کر رہ جائیں گے، اس لیے اگر اپنے مقاصد کے حصول کو یقینی بنانا ہے تو چٹانوں سے ٹکرا جانے والے عزم و استقلال کی ضرورت ہے، تب جا کر کامیابی ہماری بھی قدم بوسی کرے گی، میں اس معذور اور با ہمت نوجوان اور حالات سے مقابلہ کرتے اس کے والد کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بیٹے کی بھیگے پر سے کی جانے والی اڑان کو سلام کرتا ہوں. 

آخر میں ملت کا حقیقی درد رکھنے والے اہل خیر حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ وقت کے اس گوہر نایاب کی مدد کے لیے آگے آئیں تاکہ وہ ذرہ سے ماہتاب بن کر افق عالم پر چمک سکے، ساتھ ہی ساتھ اسلام اور مسلمانوں کا نام خوب روشن کر سکے۔

(بصیرت فیچرس) 

[email protected]

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker