جہان بصیرتخبردرخبر

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ !

خبر در خبر
غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وہاں کے اقتدار اعلی کو جہاں بنا بھید بھاؤ کے ملک کی عوام کے تئیں مخلص ہونا ضروری ہے وہیں اقتدار پر فائز افراد کا سنجیدہ ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ جب تک وہ اپنی ذمہ داری کو اہمیت نہیں دیں گے اور عوام کے دکھ درد کو اپنا درد نہیں سمجھیں گے وہ ملک اور علاقہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا، کیونکہ عوام کی صحیح تعمیر و ترقی اسی وقت ہو سکے گی جب اقتدارپرفائز ذمہ داران کو اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس ہو، اندرون شہر اور شہر کے حاشیہ پر بسنے والے لوگوں کی فکر ہر وقت دامن گیر رہتی ہو، رعایا کی ایسی فکر ہو کہ ایک پل بھی قرار نہ ملے، ظاہرا یہ امر مشکل ضرور ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ انسان اسے نہ کر پائے، اسلامی تاریخ میں جگہ جگہ ایسی مثالیں پڑھنے کو مل جائیں گی کہ اسلامی تعلیمات سے آشنا رحم دل مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا کے لیے کس قدر فکر مند رہا کرتے تھے، اس تعلق سےامیرالمومنین خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بے شمارواقعات کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں کہ وہ بھیس بدل کر رات بھر پورے شہر کا چکر لگاتے تھے، گھر گھر دستک دیتے، اپنے بارے میں لوگوں کی رائے جانتے، کسی کو پریشان پاتے تو راتوں رات خانہ بدوش کی طرح خود اپنی پیٹھ پر غلہ و دیگر اشیاء ضروری کو لاد کر ان کے گھر پہنچا آتے، اسی بنا پر تاریخ میں اب بھی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا کا نام کامیاب ترین و انصاف پسند اور غریب پرور حکمرانوں میں سنہرے حروف سے سرفہرست لکھا ملتا ہے، وجہ یہی تھی کہ وہ رعایا کی ہر پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے تھے، اسی لیے بلا تفریق مذہب سب کے دلوں پر راج کرتے تھے، کل ملک میں دو انسان دوست اعلی عہدیداروں نے اپنے حسن عمل سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ ایک تو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ہیں اوردوسرے حیدرآباد کے پولیس کمشنر انجنی کمار ہیں، خبر کے مطابق دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال تیز بارش میں اچانک رین بسیرے کا جائزہ لینے پہنچ گئے اور وہاں کے ذمہ دار کو غیر ذمہ دارانہ حرکت پر کھری کھری سنا آئے اور لوگوں کو اس تعلق سے سخت قدم اٹھانے کی یقین دہانی کرائی، اسی طرح حیدرآباد کے کمشنر آف پولیس جناب انجنی کمار اکیلے رات کو بنا کسی سیکورٹی کے سادے لباس میں عوام کی کیفیات جاننے چوک چوراہوں پر نکل گئے اور بذات خود ٹھیلے اور بنڈی والوں سے بات کی ،کئی علاقوں کا پیدل دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا، ان دو واقعات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ دونوں امن و سلامتی کے لئے کس قدر سنجیدہ ہیں، ان کے اس عمل سے یقینا عوام کا اعتماد ان پر اور بڑھاہے، اس گئے گزرے معاشرے میں ان دونوں جانبازوں کے اس اقدام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، ورنہ تو اب صرف لوگوں کے جسم پر جبرا حکومتیں کی جا رہی ہیں بلکہ حالات تو بتاتے ہیں کہ انسانوں کی لاشوں پر حکومتیں بنائی اور قائم کی جا رہی ہیں، خود ہمارے ملک ہندوستان میں اب عوامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف بھاشنوں میں ہی اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے، غریب عوام چاہے بھوک سے تڑپ کر مر جائیں، کسان قرضوں کے بوجھ کی تاب نہ لا کر خودکشی کر جائیں، نوجوان قابلیت کے باوجود اپنی حیات مستعار سے ہاتھ دھو بیٹھے، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا، ان کے حصے کا ایک ہی کام رہ گیا ہے عوام کے وسائل کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹنا، ملکی املاک کا سودا کرنا اور بچے کھچے سرمائے کو اپنے پروفیشنل لٹیروں سے لٹوانا، ان کے بیانات اور ان کی ساری توانائی صرف اور صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے وقف ہو کر رہ گئی ہیں، کسی زاویے سے لگتا ہی نہیں کہ ہمارا ملک ایک جمہوری نظام کے تحت ہے۔پتا نہیں اگلے چند سالوں میں ہندوستان جنت نشان کا انجام کیا ہوگا! اقتدار کے لالچی لوگوں سے بس اتنا کہوں گا کہ حکومت کبھی کسی ایک کے حصے میں نہیں رہتی، ووٹروں نے ابھی آپ کو موقع دیا ہے، کل کسی اور کو منتخب کر لیں گے، حکومتی کارندوں کو بھی یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لینی چاہیے کہ آپ کو حکومت نے جس کام کی ذمہ داری سونپی ہے آپ اسے بحسن و خوبی انجام دیجئے، آپ کو حکومت نے عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے عہدوں پر بٹھایا ہے، اس لیے آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھیے، اسی طرح عوامی نمائندگان کو بھی بخوبی یہ بات باورکرلینی چاہئے کہ عوام نے اپناقیمتی ووٹ دے کرآپ کوایوان میں اسی لئے بھیجاہے کہ آپ ان کے مسائل سے حکومت کوباخبرکرائیں،ان کے مسائل کے حل کی راہ نکالیں،نوجوانوں کوروزگار کے مواقع فراہم کریں، عوام کی جان و مال، عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اگر متعینہ مدت کے اندر اپنی ساخت درست نہ کی تو آپ لوگوں کو نہ توقانون معاف کرے گا اور نہ ہی یہاں کی عوام معاف کرے گی۔ سیاست اس کا نام نہیں کہ آپ لوگوں کے جسم پر حکومت کریں ،بلکہ حقیقی سیاست یہ ہے کہ حسن عمل سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا جائے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker