جہان بصیرتخبردرخبر

بتوں سے امیدی، بتا تو سہی اور کافری کیا ہے !

خبر در خبر
غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
یوگی کے اترپردیش سے خبرموصول ہورہی ہے کہ دیوریاضلع کے ایک گاؤں کوشاہاری کے مسلم پردھان نظام انصاری کی سرکردگی میں پندرہ مسلمان کاؤنوڑیوں کی سالانہ خاص پوجا پاٹ میں شریک ہونے کے لئے زعفرانی لباس زیب تن کر کے گنگا جل اٹھائے بیدی ناتھ مندر (بابا دھام) چل پڑے ہیں جس پر انہیں چاروں اوور سے بدھائیاں دی جا رہی ہیں ۔ہندوستان کے کونے کونے سے انکے اس اقدام کی پذیرائی کی خبریں پرھنے کو مل رہی ہیں۔ در اصل ہندو مذہب کے ماننے والے ہر سال ساون کے مہینے میں دیوگھر میں واقع بیدی ناتھ مندر کا دور دور سے قصد کرتے ہیں جس میں وہ گنگا ندی سے جل (پانی) لیکر تقریبا ایک سو چالیس کلو میٹر پیدل چل کر دیو گھر کی مندر میں بیدی ناتھ کے مجسمے پر چڑھاتے (ڈھالتے ) ہیں اور ہر سوموار کو خاص ہیئت میں بھگوان کی خوشنودی کے لیے بڑی بڑی تپسیائیں کرتے ہیں جو سراسر مشرکانہ عمل ہے، اب اگر کوئی مسلمان ہندو مذہب کے عقیدے سے جڑے کسی خاص عمل کو انجام دے تو خدا کی وحدانیت کا انکار لازم آنا بدیہی بات ہے۔ اب تو یہ مفتیان کرام ہی بتائیں گے کہ کسی کلمہ گو کے ذریعے کئے گئے اس نوعیت کے مشرکانہ افعال انہیں ارتداد کی کس وادی تک لے جاتا ہے البتہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ارتداد صرف قولی نہیں ہوتا بلکہ فعلی، اعتقادی اور فکری بھی ہوتا ہے، اس لئے ایک ادنیٰ مسلمان بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ جس طرح کوئی خدا کی ربوبیت کے انکار سے قصر اسلام سے نکل جاتا ہے اسی طرح اللہ اس کی کسی صفت کے انکار سے بھی اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ علماء نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی کسی بت یا مجسمے کو سجدہ کرے تب بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس نظر سے دیکھا جائے تو کسی اسلام پسند کے لئے روا نہیں کہ وہ گنگا جمنی کلچر کے نام پر بت پرستی کر کے اپنے دین و ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور خدا کی ناراضگی مول لے کر اپنی عاقبت تباہ کر لے، آج قومی یکجہتی کے نام پر بعض ناعاقبت اندیش مسلمان جو کچھ کر رہےہیں وہ انتہائی خطرناک ہے۔ انہیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ قومی یکجہتی کے نام پر ان سے بیوقوفی اور نادانی سرزد ہو رہی ہے، کیا گنگا جمنی تہذیب کا ٹھیکہ صرف ہم مسلمانوں نے ہی لے رکھا ہے؟ یا صرف ہم پر ہی لازم ہے کہ ہم ملک میں سیکولرازم کی بحالی کی کوششیں کریں اور یکجہتی کے بدلے اپنے دین کا سودا کر لیں ؟ملک کے دیگر مذاہب کے ماننے والے پر بھی تو لازم ہے، آخر وہ ایسا کیوں نہیں کرتے؟ بتوں سے اتنی امیدی کیوں کر؟ آخر یہ کونسی دانشمندی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی آڑ میں ہم پر ترشول چلائیں، گائے کے نام پر ہمارا خون بہائیں اور ہم اپنا دین و ایمان فروخت کر کے ان کی راہ میں پھول نچھاور کریںاور ان سے اظہار یگانگت کریں! حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے اسلامی کلچر و تعلیمات سے اتنے دور ہو گئے ہیں کہ اب ہمیں بت پرستی بھی بھانے لگی ہے، ہندوانہ اور مشرکانہ افعال سے ہمیں پیار ہونے لگا ہے، اسی اسلامی تعلیمات سے دوری کی بنا پر ہم میں اور ہماری نسل میں ہندوانہ مذہبی ثقافت کینسر کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ آئے دن ملک کے گوشہ گوشہ سے اس بیماری میں مبتلا مسلمانوں کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں اور جب سے بھاجپا اقتدار میں آئی ہے اس مہلک بیماری کے اثرات اور بھی فزوں تر ہوتے جا رہے ہیں ہمیں خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ان کی پالیسی کا حصہ ہے کہ اسلام کو اگر بھارت سے نکالنا ہے تو پہلے اسلام کے نام لیواؤں کے دلوں سے اسلام اور شعائر اسلام کی اہمیت اس طرح سے نکال دو کہ ان کی نسل میں اسلام پنپ بھی نہ سکے اور اسی طرح ہم ملک سے اسلام کو در بدر کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ قرآن کا فیصلہ اٹل ہے، خواہ ہندتو نظریات کے حامل جتنی بھی جتن کر لیں اسلام کے نور کو کبھی بجھا نہیں سکتے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ مسلمانوں کی ذہنی و فکری ارتداد ہندوستان کے دیگر حامیان اسلام کے لئے بھی پریشانیاں پیدا کر رہی ہیں اور مستقبل قریب میں اور بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker