خبردرخبر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

خبر در خبر

غلام مصطفی عدیل قاسمی
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن

ملت اسلامیہ کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ خیر کے کاموں میں پہل کرتی رہی ہے اور یہ بھی خاصہ رہا ہے کہ ہر زمانے میں اسلامی ماؤں نے ایسے سپوت جنم دئیے ہیں جو خنجر چلے کسی پہ تو تڑپتے ہیں ہم امیر، سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کی مثال اور تاریخ رقم کرتے رہے ہیں. ہم نے اور اکرم علی صاحب نے دو دن پہلے دونوں ہاتھ کی نعمت سے محروم ذاکر پاشا کی کسمپرسی اور غربت کو سپرد قرطاس کیا تھا (یقینا دوسروں نے بھی اس مفلوک الحال نوجوان کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہوگا) اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جس کی بنا پر قوم کے بہت سے بہی خواہ متوجہ ہوئے ہیں اور اس غریب بچے کی داد رسی کی ہے. خبر ملی کہ شہر کے ایک مخلص اور غریب پرور جناب عرفان صاحب نے نوجوان ذاکر پاشا (پوسٹ گریجویٹ) کو سہارا دیا اور تھوڑی بہت اس کی ضروریات کو پوری کرنے کی سعی کی ہے، قارئین کو بتا دوں کہ عرفان صاحب (مالک ریان موبائل) ملت کو لیکر بہت زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور وقفے وقفے سے اپنی بساط کے مطابق ضرورت مندوں کا تعاون کرتے رہتے ہیں، اور فلاحی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں، معتبر ذرائع کے مطابق انھوں نے اب تک اپنی جیب خاص سے کئی بے روزگار افراد کو کاروبار کر کے دیا ہے، یقینا ملت اسلامیہ اپنے ایسے زندہ دل سپوتوں پر فخر کرتی رہی ہے جنہیں دیکھ کر اب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری قوم ابھی ایسے درد مند افراد سے بانجھ نہیں ہوئی ہے، اب بھی ایثار و قربانی کا جذبہ رکھنے والے لوگ ہم میں موجود ہیں، ایسے مسلمانوں کے لیے ہی قرآن نے کہا ہے کہ ((إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم و أموالهم بأن لهم الجنة)) کہ اللہ نے مومنین کی جانوں اور ان کے اموال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے، جنہیں اس حقیقت کا ادراک ہے جو جانتے ہیں کہ میرے پاس جو کچھ بھی ہے سب میرے خالق کا دیا ہوا ہے، یہ سب اسی کی عنایات ہیں اور جو یہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ پاک نے مجھے آزمانے کے لئے مال و دولت کی فراوانی دی ہے، اس لئے اسکی امانت اسی کی راہ میں خرچ کرتے رہنا اپنا نصب العین سمجھتے ہیں.
خیر یہ تو وہ لوگ ہیں جو اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں لیکن بات اسی پر مکمل نہیں ہوتی بلکہ کچھ ذمہ داریاں ہمیں بھی لینی پڑیں گی، حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ “جو کوئی بندہ کسی مسلمان کی دنیوی پریشانیوں میں کسی پریشانی کو دور کرے گا تو اللہ پاک اس سے آخرت کی پریشانیاں دور کر دے گا اور جو کوئی کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے گا تو اللہ تعالٰی اسکی دنیا و آخرت میں آسانی کا معاملہ فرمائے گا” اور ہم جانتے ہیں کہ صرف مالی معاونت کرنے ہی میں یہ فضیلت نہیں بلکہ کسی طریقے سے بھی ہم تنگ دستوں کے کام آ جائیں تو اس فضیلت کے حقدار ہو سکتے ہیں، کاش ہمارے وہ نوجوان جو دن رات سوشل میڈیا پر ایکٹیو رہ کر لایعنی پوسٹ کرتے رہتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے نظر آتے ہیں کاش وہ بھی دبے کچلے لوگوں کے کام آ جائیں اور پریشان حال قوم کی زبوں حالی کی جانب قوم کے بااثر طبقے کو متوجہ کرنے میں لگ جائیں اور اک سنجیدہ سوشل ورکر بن کر اپنا وقت ملک اور سماج کی تعمیر و ترقی میں صرف کر کے ملک کو آگے لے جانے میں اہم رول ادا کریں، اپنا قلم و قرطاس قوم کے لئے وقف کر دیں اور اپنی ساری ایکٹیویٹیز کو اک نیا رخ دے دیں تو کچھ بعید نہیں کہ ملک و ملت اپنی زبوں حالی سے نکل آئے، بس ہمارے سوشل ورکر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کی دیر ہے کیونکہ اب بھی۔۔۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے..
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی..
اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے کہ ہم دل دردمند اں اور فکر مجسم کی تصویر بن جائیں۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker