مضامین ومقالات

بچوں میں نشے کی لت

چاہت محمد قاسمی

تقریبا دو سال پہلے کی بات ہے، مدرسہ کے پاس ایک شخص کرائے پر مکان لے کر رہنے لگا، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے پرانا لوہا، ٹین پلاسٹک کے لیے ٹھیلہ پر پھیری کیا کرتے تھے، جن کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح مجھے بڑا قلق ہوا، میں نے ان صاحب سے ملاقات کرکے بچوں کو مدرسہ میں بھیجنے کے لیے کہا، بار بار کے اصرا پر اس نے اپنے دو اور اپنے بھائی کے ایک بچے کا داخلہ مدرسہ میں کرادیا، عصر کے بعد بچے ہمیشہ چہل قدمی کے لیے جاتے ہیں لہذا وہ بھی چلے گیے لیکن عصر سے کچھ دیر بعد ہی ان تینوں بچوں کو چند لوگ پکڑ کر لائے اور بتایا مولانا آپ کے مدرسہ کے ان بچوں کو ہم نے نشہ کرتے ہوئے پکڑا ہے، میں نے جب اتنے چھوٹے بچوں کے متعلق نشے کا لفظ سنا تو پیروں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئی، میں نے ان لوگوں کو بھی سمجھایا اور بچوں کو بھی سمجھا بجھا کر مدرسہ میں رکھ لیا، اساتذہ اور دیگر سبھی طلبہ کو جمع کرکے ان بچوں پر خاص نظر رکھنے کے لیے کہا۔

آخر چھوٹے چھوٹے بچوں نے نشہ کیسے کیا؟ اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا گاڑی، سائکل وغیرہ کا پینچر جوڑنے کے لیے ایک ٹیوب آتی ہے جس کے چھوٹے پیک کی قیمت تقریبا پانچ، دس روپیے ہے، اور غریب سے غریب آدمی بھی اپنے بچوں کو روزہ مرہ پانچ دس روپیے بڑے آرام سے دے دیتا ہے، جس کی وجہ سے بچے اس پینچر جوڑنے والی ٹیوب کو بڑی آسانی سے خرید لیتے ہیں اور اس کے ذریعہ نشے کی لت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں کو تو اسکا علم ہوگا اور بہت سے متعجب و حیران ہوجائیں گے کہ آخر چھوٹے چھوٹے بچے اس ٹیوب سے نشہ کیسے کر لیتے ہیں؟ لہذا ایسے لوگوں کی معلومات کے لیے ہی عرض ہے کہ پینچر جوڑنے والی ٹیوب میں کچھ نشیلے سیال( لکوڈ ) ملے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نشہ دل و دماغ پر چھا جاتا ہے، اس کے نشہ کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ بچے اس سیال کو پنّی (پولوتھین) میں رکھ کر اس میں پہلے ہوا بھرتے ہیں اور پھر اس ہوا کو اپنے اندر کھینچ لیتے ہیں، اور کچھ بچے رومال یا کسی کپڑے وغیرہ میں رکھ کر اس کی ہوا کو اپنے اندر کھینچتے ہیں جب کہ بعض ہاتھوں میں رکھ کر ایسا کرتے ہیں اور کچھ تو نشے کی بڑھتی ہوئی خواہش کی وجہ سے ٹیوب ہی منھ میں رکھ لیتے ہیں۔ بہر حال اس ٹیوب کی گندی اور نشیلی ہوا جس طرح بھی منھ کے ذریعہ بچے کے اندر جاکر پھیپھڑوں سے ٹکراتی ہے بچے کو دوچار گھنٹوں کے لیے ایسا مدہوش کرتی ہے کہ بچہ دنیا و مافیھا سے بالکل بیگانہ ہوجاتا ہے۔

یہ نشہ سستا ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا زیادہ خطرناک ہے کہ بچے کا صرف مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کی صحت، تندرستی اور پوری زندگی بھی تباہ کردیتا ہے۔

بچوں کے اس نشے سے میڈیا، پولیس انتظامیہ، عدلیہ اور حکومت وغیرہ کوئی بھی انجان نہیں ہے، لہذا عدلیہ کی جانب سے تاکید ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچے کو یہ ٹیوب فروخت نہ کی جائے لیکن ان سب کے باوجود بھی چھوٹے چھوٹے بچوں کو گلی، محلے کی دکانوں پر یہ ٹیوب دھڑلے سے کھلے عام فروخت کی جارہی ہے، حالانکہ ان دکانداروں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بچے اس ٹیوب سے نشہ کریں گے لیکن پھر بھی گھر والوں کو آگاہ کرنے کی بجائے بچوں کو یہ ٹیوب فروخت کی جاتی ہے، اور ٹیوب ہی کیا ہر طرح کا نشہ چھوٹی چھوٹی دکانوں پر کھلے عام بیچا جارہا ہے، انتظامیہ کی جیب میں یا تو اس کا ہفتہ جارہا ہے یا پھر وہ اس لیے خاموش ہیں کہ یہ سلسلہ زیادہ تر مسلم محلوں میں جاری ہے اور مسلم قوم کے تباہ کرنے کا اس سے بہتر ذریعہ کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا؟

میں اپنی تقریروں میں نشہ کرنے اور بیچنے کے خلاف کافی بولتا رہتا ہوں، بلکہ کچھ دنوں سے اثر و رسوخ والے لوگوں کو مخاطب کرکے اس کے خلاف کارروائی کی رغبت بھی دلائی ہے حتی کہ ایک مسجد میں ختم قرآن کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے میں نے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ اگر چاہتے ہیں کہ قوم وملت کی خدمت کریں تو ایسے نشہ بیچنے والے لوگوں کو پکڑوائیے، اس وقت قوم و ملت کی اس سے بہتر خدمت ہو ہی نہیں سکتی ۔

میرے اس بیان کے بعد نشہ بیچنے والے بھی حرکت میں آئے اور مدرسہ کے ایک استاد کو روک کر شکایت کی، استاد نے پوچھا آپ کیا کیا بیچتے ہیں؟ جواب میں بتایا: افیم، چرس، گانجا سب کچھ چلتا ہے، استاد نے کہا: پھر آپ بیچنا چھوڑ دیجیے، کہنے لگا نہیں چھوڑ سکتے، لوگ پریشان ہوجائیں گے۔ آپ ہی اندازہ لگائیں کہ لوگوں کی پریشانی کا تو ڈر ہے لیکن اللہ کا ڈر نہیں ہے، جہنم کی سختی کا خوف نہیں ہے؟

بہر حال بڑے اور بچوں کو نشے سے بچانا از حد ضروری ہے، اس لیے اس کی طرف فورا توجہ کی ضرورت ہے، سبھی اپنے شہر اور اپنے محلہ کی طرف فورا توجہ دیں اور قوم کو اس لعنت سے پاک کرنے کی کوشش کریں، دوسری بات اپنے بچوں کو پیسے دیکر دوکان پر بھیجنے سے پرہیز بھی کرنا چاہیے معلوم نہیں بچہ کیا خرید کر کھائے گا؟ ساتھ ہی ساتھ ان کی صحبت کا خاص خیال بھی رکھیے کہ بچہ کس کے پاس بیٹھتا اٹھتا ہے؟ اس کے دوستوں میں کون کون شامل ہیں؟ ان کے حلات کیسے ہیں؟

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker