اسلامیاتحج وقربانیمضامین ومقالات

حج: عشق الہی کا ایک خوبصورت مظہر

صدائے دل : مفتی شمشیر حیدر قاسمی
حج کا موسم ہے، دیوانے خود کو نچھاور کرنےکے لئے پروانہ وار بلدامین پہنچ رہے ہیں، کیا کالے، کیا گورے ،کیا عربی کیا عجمی ،سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں ،مشرقیت و مغربیت کی تمام سرحدیں ختم، زبان و لسان اور لنگویج و بھاشا کی ساری تفریقیں کافور، ہر ایک کی زبان پر بس ایک ہی نغمہ اور ایک ہی ترانہ ہے:
لبیک اللھم لبيک ،لبيک لا شریک لک، لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک ،لا شریک لک۔
ہر کوئی رب کریم کی طرف سے ایک نگاہ کرم کےلئے دیوانہ بنا ہوا ہے، وارفتگی و شیدائی کا ایساخوش نما منظر دنیائے عشق و محبت میں قافلہ حجاج کے علاوہ کب اور کہاں دیکھاجاسکتا ہے ۔ذرا دیکھئے تو لاکھوں حجاج کس طرح عیش و عشرت والی زندگی کو تج کر دیوانے بنے چکر کاٹ رہے ہیں، دیباج و حریر سے اپنے جسموں کو آراستہ کرنے والے کیسےدو بے سلے کپڑے میں لپٹے بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں، ہزاروں کے بوٹ سے اپنے پیروں کو گراں بار بناکر اکڑ اکڑ کر قدمیں اٹھانے والے آج ہوائی چپل میں گھومتے نظر آرہے ہیں، کعبہ مقدسہ کے گرد یہ دوڑ دھوپ، غلاف کعبہ سے لپٹ کر یہ چینخ پکار ملتزم سے چمٹ کر یہ اظہار بے بسی، در کعبہ پر سر رکھ کر عجز و نیازکا والہانہ اظہار، مقام ابراہیم پر نظر حیرت ڈال کر یہ سجدہ شوق ، ماء زمزم سے تشنگی دور کرنے کا یہ انداز نرالہ، کبھی صفا پر اور کبھی مروہ پر فروکشی کی جنونی کیفیت اور پھر ان دونوں کے بیچ دوڑنے بھاگنے کی حیرت انگیز دیوانگی ۔وادی منی میں جوش و جذبے کے ساتھ جانا آنا ،میدان عرفہ کا وقوف ،مزدلفہ کی شب گزاری اور جمرات یعنی ایک یادگارعلامتی شیطان کی سنگباری کا یہ ادائے عاشقانہ اورموقع بموقع رک رک کر رب کو منانا ،اپنی بے بسی، لاچاری اور بے وقعتی کا اظہارکرنا اپنی آرزوں اور تمناؤں کو پیش کرنا ,یہ سب در اصل ان تجلیات و انوارت کی کرشمہ سازی ہے۔جو ان مقامات میں بکھرے پڑے ہیں، رب کائنات تک رسائی حاصل کرنے، اس کی آتش محبت کو بھڑکانے ،اس کی طرف سے حصول خوشنودی کا مژدہ جانفزا پانے کا یہ نہایت ہی سنہراموقع ہے ۔یہ موقع اگر ہاتھ سے چلا گیا تو پھر زندگی بھر اس حرمان و بدنصیبی پر روناہوگا ،جی یہی وہ مقامات اور مواقع ہیں جہاں کبھی خلیل اللہ،ان کی اہلیہ اماں ہاجرہ اور سعادت مند فرزند ذبیح اللہ نے خود سپردگی اور جاں نثاری کی عظیم الشان مثال قائم کرکے دائمی اور ابدی فوز و فلاح سے اپنے دامن مراد کو بھر لیا تھا ۔
یہ وہ دیوانہ پن ہے ۔جس کے لئے التجائیں کی جاتی ہیں، اس جنون میں مبتلا ہونے کے لئے رب کائنات سے رو رو کر فریادیں مانگی جاتی ہیں، نہ جانےاس دیوانہ پن اور جنون کے لئے دلوں میں کیسی کیسی حسرتیں مچل رہی ہوتی ہیں ، کیوں کہ اس جنون اوردیوانگی میں ایک تاثیر ہے مٹانے کی ۔۔۔۔۔۔۔ختم کرنے کی ۔۔۔۔۔۔۔نیست و نابود کر دینے کی۔
گناہوں کے دبیز پرتوں کو ۔
دلوں کے زیغ و رین کو ۔
نفس امارہ کے تمناؤں کو ۔
دلوں میں طاری غیراللہ کے خوف کو ۔
معصیت اور نافرمانی کی طرف لے جانے والے خواہشات کو ۔
ضلالت و گمراہی کا دلدادہ مزاج کو ۔
اس کے ساتھ اس جنون و دیوانگی میں تاثیر ہے
عشق الہی کے لو کو سلگانے اور بھڑکانے کی ۔
طاعت و بندگی کے جذبے کوموجزن کرنے کی،
احیائے سنت، اور اعلائے کلمۃ الله کے لئے سعی پیہم کی ۔
جبھی تو یہ بشارتیں ہیں ۔
۱۔الحج المبرور لیس لہ جزاء إلا الجنۃ۔
۲۔ والحاج وافد علی الله، ومن وفد علی الله أکرمہ الله۔
۳۔من حج لله فلم يرفث ولم يفسق، رجع كيوم ولدتہ أمہ۔
خدایا ۔ہاں پھر ایک بار ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی صبح و شام ۔۔۔۔وہی کیف و مستی ۔۔۔۔۔۔۔وہ وجد آفریں لمحے ۔۔۔۔۔۔۔وہ کعبے کے آنچل سے لپٹنا۔۔۔۔۔وہ سنگ اسودکا چومنا ۔۔۔۔۔۔۔کعبے کے در پر سررکھ کر رب کعبہ کو بپتا سنانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میزاب رحمت کے نیچے خود کو بھول جانا ۔۔۔۔۔۔وہ زمزم کے پانی سے تشنگی کو بجھانا ۔۔۔۔۔۔کب۔۔۔ہوگا ۔۔۔اے میرے رب بلالے ۔۔۔۔۔بلالے۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر سے بلالے۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں اس حسین و جمیل منظر کو پھر سے دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دل بیتاب ہے ۔۔۔۔۔۔!!!
(بصیرت فیچرس)
* مضمون نگار مدرسہ مقصود العلوم، رامپور ،رانی گنج ،ارریہ ،بہارکے ناظم ہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker