ہندوستان

طلاقِ ثلاثہ بل میں ترمیم، مجسٹریٹ کو ضمانت دینے کا اختیار

نئی دہلی۔ ۹؍اگست( بصیرت نیوز سروس)مرکزی کابینہ نے طلاق ثلاثہ سے متعلق بل میں ترمیم کو منظوری فراہم کر دی ہے۔ تین طلاق کے معاملہ کو غیر ضمانتی جرم تو اب بھی قرار دیا گیا ہے لیکن ترمیم کے بعد اب مجسٹریٹ کو ضمانت دینے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔مجوزہ قانون ایک بار میں تین طلاق یا طلاق بدعت پر لاگو ہوگا اور یہ متاثرہ کو خود اور نابالغ بچوں کے لئے گزارہ بھتہ مانگنے کے لئے مجسٹریٹ سے گہار لگانے کا حق فراہم کرے گا۔ اس کے تحت بول کر، لکھ کر ، ای میل ،ایس ایم ایس اور واٹس ایپ جیسے دیگر الیکٹرانک ذرائع سے دی جانے والی تین طلاق غیر قانونی ہوگی۔یہ قانون ریاست جموں و کشمیر پر لاگو نہیں ہوگا۔ حال ہی میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی عوام کی پر زور خواہش ہے کہ پارلیمنٹ میں تین طلاق پر قانون سازی کرے اور حکومت اس خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے کے لئے پابند عہد ہے۔واضح رہے کہ دسمبر 2017 کو صدیوں سے چلی آ رہی تین طلاق کا رواج یعنی طلاق بدعت کے خلاف محض 7 گھنٹے بحث کے بعد لوک سبھا نے بل پاس کردیا۔ بل پر ترمیم سے متعلق کئی مشورے سامنے رکھے گئے لیکن سبھی کو خارج کر دیا گیا تھا۔ملی، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جہاں اس بل پر اعتراض ظاہر کیا تھا وہیں کانگریس سمیت کئی سیاسی جماعتوں کو بھی اس بل پر اعتراض تھا۔ طلاق ثلاثہ بل کے خلاف بڑھی تعداد میں مسلم خواتین نے بھی سڑکوں پر اترکر اور ریلیاں کر کے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔ بل میں حکومت کی طرف سے ذرا سی نرمی کی گئی ہے اسے اسی احتجاج کا نتیجہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker