حج وقربانیمضامین ومقالات

عید قرباں ایثار و قربانی کا عظیم مظہر

نورالسلام ندوی ،پٹنہ
nsnadvi@gmail.com
عید قرباں مسلمانوں کا دوسرا قومی تہوار ہے ، یہ اس عظیم واقعہ کی یادگار ہے جب ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری میں اپنے چہیتے فرزند ارجمند حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کے گردن پر چھڑی چلادی۔ ان باپ بیٹے نے فدائیت و جاں نثاری کی ایسی مثال قائم جسے اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے لئے یادگار بنادیا ۔ اس مقدس تہوار کے موقع پر دنیا کے تمام مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اس عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اورعلامتی طور پر اللہ کی راہ میں اپنے جانوروں کی قربانی پیش کرکے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ اگر کسی وقت اللہ کی راہ میں ہماری جان ، مال اور اولاد کی قربانی پیش کرنے کی ضرورت پڑی تو ہم اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔ اس دن ہر مومن اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو اپنے رب کے حکم اور اس کے تقاضوں کے تحت خود سپردگی کرتے ہیں ۔ خود سپردگی کا یہ جذبہ انسان کو زندگی کے مشکل ترین مرحلوں میں بھی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے ۔
عید قرباں بنیادی طور پر حضرت ابراہیم و حضرت اسمعٰیل علیہما السلام کی قربانی کی تجدید اور اس کی سنت کی تکمیل ہے ۔ جیسا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ صحابہ کرام نے سوال کیا یا رسول اللہ ! قربانی کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں اس میں کیا ملے گا تو آپ نے فرمایا کہ جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ اور پیارا کوئی دوسرا عمل نہیں ہے ۔ قربانی کے جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، بالوں ، کھروں سمیت آئے گا اور قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے یہاں مقبول ہو جا تاہے ، لہٰذا تم قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔ (ترمذی شریف)
قربانی ایک مقدس دینی فریضہ ہے ، دنیا کے تمام مذاہب میں قربانی کا طریقہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ولکل امۃ جعلنا منسکاً لیذ کرو اسم اللہ علیٰ مار ز قہم من بھیمۃ الانعام‘‘۔ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کیا ہے تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو ہم نے اس کو دیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر آج تک ہر زمانہ اور قوم میں قربانی کی رسم ضرور پائی جاتی رہی ہے ،کیونکہ جب زندگی ایثار و قربانی سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو شخصیت نکھرتی اور سنورتی ہے ۔ انسان کے اندر اگر ایثار قربانی کا جذبہ نہ ہو تو وہ دوسروں کے لئے نفع بخش اور فائدہ مند نہیں بن سکتاہے ۔
حضر ت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی پر غور کیجئے !پوری زندگی جہد مسلسل ، ایثار و قربانی اور ابتلاء و آزمائش سے عبارت نظر آتی ہے ۔ عمر بھرتوحید کی دعوت دینے والے اللہ کے برگزیدہ نبی کو کون کون سی مصیبتیں نہ جھیلنی پڑیں، بچپن میں باپ نے گھر سے نکالا ، قوم نے مخالفت کی ، حکومت نے آپ کو زندہ جلانے کا فیصلہ کیا، ہجرت پر مجبور ہوئے ، اولاد کو قربان کرنے کا حکم ہوا ، مگر آپ ہرجگہ ثابت قدم رہے ، ہر امتحان میں کامیاب و کامراں ہوئے ۔ حضر ت ابراہیم علیہ السلام نے جس گھر میں آنکھیں کھولیں وہ بت پرست قوم تھی ،آپ کے والد ایک بت تراش تھے،لوگ بتوں کو پوجتے تھے ، ستاروں کی پرستش کرتے تھے ،اسی کو زندگی و موت کا مالک تصور کرتے تھے ، آپ نے جب ہوش سنبھالا، تو ان چیزوں پر غور کرنا شروع کیا ،یہ سورج ، چاند ، ستارے ، مٹی پتھر کے بنائے بت خدا نہیں ہو سکتے، اس لئے کہ یہ سب تو مجبور محض ہیں ، نہ فائدہ پہنچاسکتے اور نہ نقصان ، میں ان کی بندگی کیوں کروں ، میرا مالک تو وہ ہے جو قادر مطلق ہے ، جو موت و حیات کا مالک ہے ۔ چنانچہ انہوں نے بتوں کی پوجا سے برأت کا اظہار کیا ، بادشاہ کے سامنے حاضر کئے گئے ، وہاں بھی بھرے دربار میں بتوں کی شناعت بیان کی اور بادشاہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ،بادشاہ ناراض ہو کر ان کو زندہ جلانے کا فیصلہ کر لیا، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جلنے سے بچالیا ، آگ آپ کے لئے ٹھنڈی ہو گئی ، گل گزار بن گئی ، حکم ہوا ’’ یا نار کونی بردو و سلاماً‘‘ اے آگ تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا ذریعہ بن جا ۔ آپ آگ سے تو بچ گئے لیکن پوری قوم آپ کی دشمن ہو گئی ، ہجرت کا حکم ہوا، ملک شام تشریف لے گئے ۔ اللہ کی وحدانیت کی دعوت دیتے رہے ۔ بڑھاپے کی منزل کو پہونچ گئے ، چھیاسی سال کی عمر میں بھی اولاد کی نعمت سے محروم تھے ، اللہ تعالیٰ سے نیک اور صالح اولاد کی دعا مانگی ، اللہ نے فریاد سن لی اور ایک ہونہار فرزند کی بشارت سنائی گئی ، جب بچہ تھوڑا بڑا ہوا تو عرب کی سرزمین (وادی غیر ذی ذرع) میں ہجرت کرنے کا حکم ہوا ، بیوی اور ننھے بچہ کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے ۔ کچھ دن اور بیتے، بیٹا جب بڑا ہوا ، کام کے لائق ہوا ، اس قابل ہوا کے باپ کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی راہ میں قربان کرنے کا حکم صادر فرمایا ، آپ نے اپنے فرزند اسمعٰیل کو بلاکر کہا کہ اے میرے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تم ہی بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے ’’انی رایت فی المنام انی اذ بحک فنظر ماذا تریٰ‘‘ ، اطاعت شعار بیٹے نے جواب دیا ،
’’یا اُبت افعل ما تومر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین‘‘ ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے کر گزر یئے ،انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے ، زمین و آسمان کے درمیان کی ہر چیز اور چمنستان عالم کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہ تھا اور انگشت بدنداں تھا کہ حضرت ابراہیم نے وہ کر دکھلایا جو فرشتوں سے بھی ممکن نہ تھا ، شیطان رجیم کی آنکھیں اشکبار تھیں کہ وہ باپ بیٹے کو صراط مستقیم سے نہ ہٹا سکا، ارشاد باری تعالیٰ ہوا ’’یا ابراھیم قد صدقت الرویا انا کذالک نجزی المحسنین‘‘ اے ابراہیم !تم نے خواب سچ کر دکھلایا، ہم محسنوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ، جنت سے ایک دنبہ لایا گیا اور حضرت اسمعٰیل کی جگہ ان کی قربانی ہوئی ۔ اطاعت و جاں نثاری کی یہ ادا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ قیامت تک کے لئے اس واقعہ کو یادگار بنادیا ، اب ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان جانوروں کی قربانی پیش کرکے اسی جذبہ کا اعادہ و اقرار کرتے ہیں ۔
قربانی کیا ہے ؟ قربانی صرف جانوروں کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے کا نام نہیں ہے ، بلکہ قربانی نام ہے اپنے وجود کو خدا کے حوالہ کرکے اپنی عبدیت کے اظہار و اقرار کا ، قربانی نام ہے خواہشات نفس کو دبا کر اللہ کے ہر حکم پر راضی برضا رہنے کا ، قربانی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی آرزؤں اور تمناؤں کو ، خوشیوں اور دلچسپیوں کو اپنے جذبات ا ور ارادوں کو خدا کے حکم کے طابع کر دیں۔ ایک بندہ مومن کی پوری زندگی ایثار و قربانی سے لبریز ہونی چاہئے، روز مرہ کے تمام ترمعاملات میں مکمل طور پر اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ، اپنی مرضی کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال لینا ہی اصل قربانی ہے ،عید قرباں ہمیں یہی پیغام دیتا ہے ، سنت ابراہیم کا یہی مقصد ہے۔
اب ذرا اپنی قربانیوں کا بھی جائزہ لیں ، محاسبہ کر لیں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم ایک قربانی کا فریضہ ادا کرکے باقی تمام قربانیوں سے اپنے آپ کو آزادی حاصل کرلیتے ہیں ،ذرا قرآن کی آیت کریمہ پر غور کیجئے ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ لن ینال اللہ لحومھا ولا دمائھا ولاکن ینالہ التقویٰ منکم ‘‘ اللہ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی اس کا خون پہونچتا ہے ، اللہ کے پاس تو صرف تمہارا تقویٰ پہونچتا ہے ، اس آیت کریمہ میں قربانی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ محض گوشت کھانے یا کھلانے سے یا اس کا خون گرنے سے تم اللہ کی رضا حاصل نہیں کر سکتے ہو،بلکہ اس کے یہاں تو دل کا تقویٰ اور ادب پہونچتا ہے کہ تم کس خوشدلی اور جوش محبت کے ساتھ قربانی ادا کرتے ہو۔
قربانی ایک جامع اور مقدس ترین لفظ ہے ،اسلام میں اس کے وسیع مقاصد ہیں ، صلہ رحمی اور غریبوں کی امداد بھی اس میں شامل ہیں ، اس طور پر کہ قربانی کے گوشت کا ایک تہائی حصہ اور کھال غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے ، جس سے غرباء فقراء اور ضرورت مندوں کو مالی فائدہ پہونچتا ہے ۔ معاشرہ میں کتنے ہی ایسے غریب لوگ بستے ہیں جن کو مہینوں بکرے کا گوشت میسر نہیں ہوتا ہے، قربانی میں اللہ نے ان غریبوں کا حصہ متعین کرکے ان کی آسودگی اور شکم سیری کا بھی انتظام کر دیا ، اور غریبوں اور محتاجوں کی دلجوئی اور دل بستگی کا بھی سامان فراہم کر دیا ۔ اس کے ذریعہ بندہ کے دل میں صلہ رحمی ، بھائی چارگی اور ایثار و قربانی کی صفت پروان چڑھتی ہے ۔ اپنی ضرورتوں کو دوسروں پر ترجیح دینا ، دوسروں کے فائدے کو اپنے اوپر مقدم رکھنے کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے ، جس سے سماج میں خیر سگالی اور اخوت و محبت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں ، قربانی بڑی بیش بہا دولت ہے ،بغیر ایثار و قربانی کے کوئی انسان خواہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ، بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہ عقیدہ توحید کا وہ چراغ ہے جس سے روشنی حاصل کر کے انسان اپنی عبدیت کا مکمل اعتراف و اظہار کرکے اللہ کی ربوبیت کا کامل یقین کرتا ہے اور اپنی مرضی کو خدا کے طابع کر دیتا ہے۔ قربانی روح کو بیدار کرتی ہے ، عقیدہ توحید کے جذبات کو فروزاں رکھتی ہے ، اپنی صلاحیتوں اور طاقتوں کو راہ حق میں نچھاور کرنے کا اسپرٹ پیدا کرتی ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker