حج وقربانیمضامین ومقالات

حج کا عالمگیر اجتماع اور امت مسلمہ کی زبوں حالی

عبدالرافع
حج اسلام کا ایک ایسا بنیادی رکن ہے جو اخلاقی ، معاشرتی ، اقتصادی ، سیاسی ، قومی و ملی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے اور مسلمانوں کی عالمگیر اوربین الاقوامی حیثیت کا عکاس ، مظہر اور سب سے بلند معیار ہے۔حج کا اجتماع عالمگیر سطح کا ہوتا ہے جس میں تمام دنیا سے اسلام کے پیروکار جمع ہو کر اللہ کی وحدانیت، اس کی ذات وصفات اور اس کی ربوبیت میں کسی کے شریک نہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔یہ عظیم الشان سالانہ اجتماع مرکز اسلام مکہ المکرمہ کے میدان عرفات میں منعقد ہوتا ہے کہ جہاں سے حق و سچائی کا چشمہ ابلا اور اس نے دنیا کو سیراب کیا بلد الامین روحانی علم و معرفت کا وہ مطلع ہے جسکی کرنوں نے روئے زمین کے ذرے ذرے کو درخشاں کیا۔یہ وہ جغرافیائی شیرازہ ہے جس میں ملت کے وہ تمام نفوس بندھے ہوئے ہیں جو مختلف لباس پہنتے ، مختلف تمدنوں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور جو مختلف ملکوں اور اقلیموں میں بستے ہیں۔ لیکن وہ سب کے سب باوجود ان فطری اختلافات اور طبعی امتیازات کے ایک ہی قبلے کو اپنا مرکز سمجھتے ہیں۔ بیت اللہ ہی وحدت کا وہ رنگ ہے جو ان تمام امتیازات کو مٹا دیتا ہے۔
حج بیت اللہ کے سامنے’’ لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک ‘‘حاضرہوں اے میرے پروردگار !حاضر ہوں کے اعلان اور نعرے سے شروع ہوتا ہے فرزندان توحید لبیک کہتے ہوئے اورتوحید خالص کا اقرار کرتے ہوئے اپنی عبدیت کا صاف طور پر اظہار کررہے ہوتے ہیں۔حج کے اجتماع میں شریک حجاج قولاً وفعلاً اس امر کا اعتراف کررہے ہوتے ہیںکہ خداکی ذات کے سوا کسی کی تعریف وتوصیف بیان کرنا اور خوش نودی حاصل کرنا ان کا شیوہ ہرگز نہیں اور ساتھ ساتھ وہ اس امر کے بھی معترف ہوتے ہیں کہ جوبھی نعمت مسلمان کو حاصل ہے وہ بس خدا کی ہی دی ہوئی ہے۔ یہ فرزندان توحید اللہ تعالیٰ کی اصل اور حقیقی حاکمیت کااقرار کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اصل حکمرانی اللہ ہی کی ہے اور اللہ کی حکمرانی کے سوا انہیں کسی کی حکمرانی قبول نہیں اور دنیا میںجہاں بھی اللہ کی نیابت کیلئے تگ ودو جاری ہے وہ اس تگ ودو میں برابر کے شریک ہیں۔تلبیہ کہتے ہوئے وہ بزبانِ حال یہ عہد دہرا رہے ہوتے ہیں کہ دنیا میں اللہ کے دیئے ہوئے قانون کے بغیر کسی بھی قانون کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے اور نہ مانتے ہیں۔حجاج اقرار کررہے ہوتے ہیںکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے نظام کے پابند ہیں اور اسی کے نفاذ کیلئے وہ اپنا دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ 25 لاکھ سے زائد فرزندان توحید حج کے اس اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔ ایک ہی وردی میں ملبوس جسے احرام کہتے ہیں اور بیک آوازہو کر اللہ کی کبریائی کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے ہر طرح کی اورتمام تراونچ نیچ، تفرقے، فرقہ بندی،علاقائی اور لسانی تعصبات کوعملاً حرام قرار دیتے ہوئے کندھے سے کندھا ملا کر میدان عرفات کی طرف دوڑتے ہوئے یہ حجاج’’ بنیان مرصوس‘‘ کا عملی اظہار کررہے ہوتے ہیں اور سفید لباس میں ملبوس یہ فرزندان توحید ایک اور نیک ہونے کا خدا کے سامنے عملی مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں۔ ایام حج کے دوران دور سے نظر آرہے خیموں کے اس شہر میں رہنے والوں کے درمیان کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔
ہم آہنگی ، یگانگت ، اتحاد اور یکجہتی کا یہ مظاہرہ فقط رسم عبادت نہیں بلکہ سماجی زندگی کا وہ سلیقہ اور شعار ہے جسے اختیار کر کے اسلام کے پیروکار ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتے ہیں جس میں کوئی ظالم اور سفاک قوت شگاف نہیں ڈال سکتی لیکن کیا وجہ ہے کہ اس ساری یکسانیت، یک رنگی اور یکجہتی کے باوجود ملت پارہ پارہ ہے۔ حج کے اجتماع کے ذریعے مسلمانان عالم کو ایک دوسرے کے حالات جاننے ،ضرورتوں میں مدد دینے ،باہمی معلومات اور علوم و فنون سے استفادے کی صورت نکالنے، مسائل حل کرنے کے لئے اخلاص کے ساتھ سوچ بچار کرنے کی صورت پیدا کی گئی لیکن افسوس ہے کہ آج امت مسلمہ کو حج کے اصل مقاصد سے جان بوجھ کر بے خبر رکھا جا رہا ہے۔مسلمان حج کے اجتماع میں شریک تو ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس اجتماع کے اصل روح سے بے خبرہیں حتیٰ کہ گزشتہ کئی برس سے دنیا میں جاری اسلامی تحریکوں اور ان تحریکوں سے وابستہ جانثاروں،جانبازوںاور مظلومین کے حق میںحج کے دوران جمعہ کے خطبوں اورمیدان عرفات کے اہم خطبے میں دعا تک نہیں ہو سکی۔ مسلمانوں کی ایک جماعت کو مخصوص امریکی اصطلاح کے تحت ’’دہشت گرد‘‘کا نام دے کر قتل کیا جارہا ہے۔ انہیں افغانستان ، عراق ، فلسطین،چیچنیا،کشمیر اور نہ جانے کن کن علاقوں میں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے اور دیگرتمام مسلمان قاتل کے خوف کے مارے سہمے بیٹھے ہیں لیکن حج کے اس عظیم اور سب سے بڑے اجتماع میں اس طرف مطلقاً کوئی التفات نہیں ہو رہا ہے۔وہ قبلہ اول مدت سے یہود کے قبضے میں ہے لیکن حج کا یہ عظیم الشان اجتماع قبلہ اول کو آج تک واپس دلا نہ سکا۔ حج کے اس عظیم اجتماع سے ملت کا ضمیر جاگ نہیں اٹھتا ہے۔ ملت پر جو خدا فراموش حکمران مسلط ہوچکے ہیں اور جو غیرت اور حمیت اسلامی سے عاری ہیں۔وہ امت کے ضمیر کو سلائے رکھنے میں ہی اپنے لئے عافیت اور اپنے اقتدار کا دوام اور استحکام سمجھتے ہیں۔ حج کے اختتام اور عیدالاضحی کے موقع پرجوکروڑوں جانور قربان کئے جاتے ہیں اورٹنوں کے حساب سے ان کا خون بہایاجاتاہے قابل غور ہے کہ حج کا یہ اجتماع جانوروں کی قربانیاں پیش کرتے ہوئے اختتام کو پہنچ جاتا ہے آخر ایسا کیوں؟ آج حج کے مہتمم بالشان اجتماع میں فلسفہ قربانی سے امت کو باخبر نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہر مرحلے پر بسروچشم احکام خداوندی کو تسلیم کرتے ہوئے کمر بستہ ہونااورذرا بھر تھکن کااحساس نہہونے دینا اس عظیم ہستی فی الحقیقت بڑا کمال تھا۔ اس عظیم ہستی اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جدا مجد سیدناابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کو تاقیام قیامت تک اللہ کے بندوں کیلئے قابل تقلید ٹھہرانے کا مقصود یہ ہے کہ قیامت تک کرئہ ارض پر موجود رہنے والے علمبردار انِ توحید عین اسی طرح اپنے آپ کو قربانیوں کامجسمہ ثابت کرتے رہیں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی سنت سے ثابت کر دیا۔ قربانی کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ مسلمان ہر ایسی طاقت اور قوت کامقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہیںجوکرئہ ارض پر اللہ کی بغاوت پر اتر آئے اور اس باغی کی شان وشوکت کیسی بھی ہو اللہ کے بندے اس سے بغاوت کرتے رہیں۔
اس وقت عالم اسلام کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔بالا دست اور طاغوتی قوتوں نے پوری ملت اسلامیہ کے مالی وسائل پر مختلف حیلوں سے قبضہ کرنے اور مسلمانوں کا مال شیر مادر سمجھ کر ہضم کرنے کو شعار بنا رکھا ہے۔یہ وقت باہم سیاسی یا گروہی فوائد کے لئے معاملات کو بگاڑنے کا نہیں بلکہ درست کرنے کا ہے۔ عالم اسلام کے صاحبان بصیرت گروہوں ، جماعتوں اور افراد کو آگے آکر اپنا کردار ادا کر کے طاغوت کیخلاف سینہ سپر ہونا چاہیے۔ او آئی سی کو متحرک کر کے اس کے کپکپاتے گھٹنوں کو تقویت بخش دوا فراہم کر کے اسے مضبوط کر دینا چاہیے۔اسی پلیٹ فورم کو عالم اسلام کی ایک مجلس شوریٰ کی حیثیت دے دینی چاہیے اور اس مجلس شوریٰ میں عالم اسلام کے جیدحریت فکر کے علمبردار دانشوروں کو شامل کرنا چاہیے جو مسلمان حکمرانوں کو اپنی عظمت رفتہ یاد دلاتے رہیں گے تا کہ ممکن ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو سکیں۔
عالم اسلام اسی پلیٹ فارم کو ایک’’ مشترکہ پارلیمینٹ‘‘ بناکر اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا حل سوچے اور سلامتی سے متعلق امور پر لائحہ عمل مرتب کرے۔ مشترکہ منڈی، مشترکہ میڈیا پالیسی، مشترکہ کرنسی اور دوسرے اقدامات کے ذریعے عالم اسلام کی فلاح وبہبود پر توجہ دے۔ اس مقصد کے لئے ایک باضابطہ سیکرٹریٹ قائم کرکے مسلم ممالک میں رابطے کا ایک نیٹ ورک مضبوط نظام بنایا جا سکتا ہے لیکن اس عظیم اور بڑے کام کا آغاز مرکز اسلام مکہ مکرمہ سے حج کے عالمگیر اور عظیم اجتماع سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں جو خطبہ دیا تھا وہ نہ صرف امت مسلمہ بلکہ قیامت تک پوری نوع انسانی کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے ایک مثالی چارٹر کا درجہ رکھتا ہے ۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ امت مسلمہ کی حیثیت سے ہم اس چارٹر کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے پر آمادہ و تیار نہیں اس چارٹرمیں کسی رنگ و نسل کا کوئی امتیاز موجود نہیں اور نہ ہی کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔
اس عظیم خطبے میں قبائل عرب کے قبائلی تکبر و غرور کو خاک میں ملا کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ کو رفعت اور عظمت قرار دیاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم الشان خطبے میں ہر طرح کی اونچ نیچ کا خاتمہ کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حج کے موقع پر حاضرین سے استفسار کیا کہ کیا میں نے اللہ کا دین آپ تک پہنچا دیا تو اس کا مثبت جواب ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار اطمینان فرمایا کہ آپ نے نبوت کے فرائض پایہ تکمیل تک پہنچا دئیے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کی اس گواہی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ گواہ رہنا میں اپنا فرض ادا کر چکا اور میں نے اللہ کا دین لوگوں تک پہنچا دیا۔اہل ایمان کوپابند بنا دیا گیا کہ عرفات میں جو نصیحت و وصیت انہوں نے حاصل کی وہ ان تمام لوگوں تک پہنچائی جائے جو میدان عرفات میں حاضر نہیں تھے ۔ اور صحابہ عظام رضی اللہ عنہم نے یہ فریضہ جس حسن و خوبی سے سر انجام دیا اسے دیکھ کر دینا دھنگ رہ گئی۔حج بیت اللہ کو امت مسلمہ کے عالمگیر اجتماع کا درجہ اور مقام حاصل ہے اس عظیم اجتماع میں پوری امت مسلمہ کو در پیش مسائل کو زیر غورلا کر ان کا حل تلاش کرنا، امت مسلمہ کی عظمت رفتہ بحال کرنا اور پوری نوع انسانی تک کامل طریقے سے اسلامی تعلیمات کا پہنچانا امام حج کی ذمہ داری قرار پاتا ہے ۔ اگر چہ امام حج بڑے دکھ کے ساتھ دنیائے اسلام کی زبوں حالی کی اس طرح تصویر کشی کرتے ہیں کہ ’’آج پوری دنیا میں مسلمان زیر عتاب ہیں ۔
اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں ، ایسے دلدوز مناظر ہیں کہ بعض مقامات پر طاغوت کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمانوں کی نماز جنازہ پڑھنے والا کوئی ہے نہ ان کی تدفین کرنے والے موجود ، مسلمانوں کی نعشیں بکھری پڑی ہیں معصوم بچے اور خواتین خون میں نہلائے جا رہے ہیں لیکن اس زبوں حالی اور مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے مظالم کا علاج کیا ہے امام حج اگر چہ سعودی شاہی خاندان کی سلامتی اور ان کی عافیت کیلئے میدان عرفات میں با ر بار دعا گو ہوتے ہیں تا ہم امت مسلمہ کی زبوں حالی کا علاج کر نہیں پا رہے اگر امام حج امت مسلمہ کو موجودہ دگرگوں حالات سے نجات دلانے کیلئے قرآن و سنت کا بتایا ہوا نسخہ استعمال کرنے کیلئیکہتے تو بات بنتی ہوتی نظر آتی لیکن در اصل امام حج کے منصبی اختیارات سعودی شاہی خاندان نے سلب کر رکھے ہیںجس کی وجہ سے اس عظیم اور بڑے اجتماع میں آج تک امت مسلمہ کو نقش راہ فراہم نہیں ہو رہا ۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کی شیرازہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ مسلمان دنیا بھر کی آبادی کا پانچواں حصہ ہے ۔ یہ افرادی طاقت خود بھی ایک دولت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں جنہیں موثر طور پر بروئے کار لانے اور درست طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر مسلم ممالک میں اجتماعیت کے جذبے کے فقدان کے باعث عالم اسلام کے وسائل بھی مسلمانوں کے کام آنے کی بجائے یہود و نصاریٰ کے تصرف میں آرہے ہیں ۔ اس ضمن میں عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسی علاقائی سطح پر اشتراک کی انجمنیںبنیں۔
اسلامی کانفرنس تنظیم کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے لیکن ان سب کا کردارنشتند و گفتندو برخاستند سے آگے کبھی نظر نہیں آیا۔ خوش نما اور دلفریب اعلانات اس وقت تک بے توقیر ثابت ہوتے ر ہیں گے جب تک ان پر عملدر آمد کے لئے کوئی موثر مشینری موجود نہ ہو ۔ اس میں کوئی شبہ و ابہام نہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ مگر عالم اسلام پر مسلط حکمرانوں کے ذاتی مفادات اور امریکہ اور یورپ کی ناراضگی کے خدشات کی وجہ سے وہ مسلمان ممالک کے ایک متحد و منظم کمیونٹی کی صورت میں فعال ہونے کی راہ میں حائل ہیں ۔ جب تک عالم اسلام پر مسلط تمام حکمران اپنی فکر چھوڑ کر ملت اسلامیہ کی فکر انہیں دامن گیر نہیں ہو جاتی اور اس کے بعد جب تک وہ پورے سیاسی عزم کے ساتھ عالم اسلام کو متحد و منظم کرنے پر کمر بستہ نہیں ہوں گے اور دنیائے اسلام کے اہل دانش اپنی صلاحیتیں اتحاد بین المسلمین کے لئے وقف نہیں کریں گے تب تک نتیجہ خیز اور موثر نتائج بر آمد نہیں ہوں گے۔
بیشتر مسلم ممالک میں سماجی انصاف کے فقدان، معاشی بے انصافیوں اور سماجی ناہمواری کی بد ترین صورت حال ہے اگر مسلمان مملکتوں میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات پر توجہ دی جائے اور ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد و منظم ہو کر عالم اسلام کی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کیا جائے تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا توڑ کرنا مشکل نہیں رہے گا۔ اس سے مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنانے اور ان کے وسائل پر غیر منصفانہ تصرف کے طریقوں کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی ۔ مسلم ممالک کی حکومتوں کو اب اپنی طویل بے حسی ختم کر کے تیزی سے حرکت میں آنا اور ایک منظم ادارے کی شکل میں اپنے مفادات کے تحفظ کے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ کیونکہ زمانے کی چال بہت تیز ہے ۔ اس کیفیت میں مسلم دنیا کو بھی اپنی رفتار لازماً تیز کرنا ہو گی۔اس وقت اسلامی دنیا جس نازک صورتحال سے دو چار ہے اس میں بنیادی حصہ ان غلطیوں کا ہے جو پے د ر پے ہم سے سرزد ہو رہی ہیں لیکن’’ خود احتسابی‘‘ سے پہلو بچانے کی ہماری افسوسناک روش اس معاملے میں اصلاح احوال کو یقینی بنانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔
دشمنان اسلام اپنے خوفناک اسلحہ و گولہ بارود کا نشانہ مسلم سر زمین کو بنا رہے ہیں اور خون مسلم کی ارزانی کے نت نئے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں دہشتگردی کا مضحکہ خیز الزام عائد کرنے کے بعد وہ ہمارے خلاف’’ خبث باطن‘‘ کے اظہار اور مذموم ارادوں کی تکمیل کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں جبکہ امت مسلمہ کے عوام و خواص دونوں ہی یہود ونصاریٰ اور برہمن کے بڑھتے ہوئے مکر و فریب ، چیرہ دستیوں ، ریشہ دانیوں اور کہنہ مکرنیوں کے سد باب کی کسی عملی کوشش کی فکر سے تہی دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ بات بلاشک و تردید کہی جا سکتی ہے کہ مسلم ممالک کے ارباب بست و کشاد کوحالات کی سنگینی کا احساس ہے نہ ہی معصوم بچوں ، خواتین اور بزرگوں سمیت امت مسلمہ کا بہتا ہوا لہو فرزندان توحید کی کسمپرسی ، لاچارگی اور بے بسی کی قابل رحم تصویر انہیں نظر آ رہی ہے۔
دنیا بھر کے57 کے لگ بھگ آزاد خود مختار مسلمان ممالک اور ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی ان مسلمان ممالک کی افرادی قوت، قدرتی وسائل ، ان کی جغرافیائی اہمیت، دین کی بنیاد پران کے مابین فطری، نظریاتی و فکری ہم آہنگی کوزیر استعمال لانے اور فروغ دینے کے لئے مدت طویل سے اس امر کا شدت سے احساس ابھرتا ہے کہ عالم اسلام کا ایک ایسا’’ امام‘‘ حاضر و موجود ہو جو امت مسلمہ کو بیدار کر سکے اور اسے زوال و انحطاط سے نجات دلا سکے ۔آج جب ہم امت مسلمہ کی محرومیوں، مایوسیوں، مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہیں تو بلا شبہ اس کے اسباب و علل میں اخوت اسلامی کے فقدان اور آپس کی ظلم و نا انصافی سرفہرست دکھائی دیتی ہے۔ ظلم اور نا انصافی کا دائرہ زندگی کے کسی ایک شعبہ تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری ملی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ زوال اور پستی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی ہے ۔
ہمارے دشمن نہ صرف ہمیں ختم کرنے اور عالم کفر کو دنیا کی واحد سپر طاقت بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کی صفوں میں بھی گھسے ہوئے ہیں ۔ جب کوئی مسلمان اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف آوازبلند کرتاہے یا اپنے حقوق کی پامالی پر مزاحمت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسلام دشمن طاقتیں بیک زبان پوری امت مسلمہ پر دہشت گردی اور تخریب کاری کا الزام لگانا شروع کر دیتی ہیں اور اسی بنیاد پر انہوں نے عالم اسلام کے خلاف ایک محاذ قائم کر رکھا ہے۔
اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کیا جا رہا ہے لیکن مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کے فقدان اور فکری نظریاتی اختلافات ، ذاتی، نسلی اور گروہی مفادات کی وجہ سے انہیں اس بات پر قائل نہیں کر پائے آج طاغوت جسے مسلمانوں کی دہشت گردی ، انتہا پسندی اور تخریب کاری قرار دے رہا ہے وہ در اصل محکوم اور مظلوموں کے حقوق سلب کئے جانے کیخلاف رد عمل ہے اس رد عمل کے پس پردہ عوامل اور اسباب و علل کا تجزیہ کیوں نہیں کیا جا تا اور انہیں دور کرنے کی فکر کیوں نہیں کی جاتی ۔
کیا مسلمانوں کا یہ طرز عمل اور ان کا یہ کردار یکطرفہ ہے یا اس کے پس پردہ کوئی اور اسباب اور وجوہ کارفرما ہیں؟دراصل اس صورت حال کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ عالم اسلام یعنی امت مسلمہ اور مسلمان حکمرانوں نے دین پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کا راستہ نہ صرف چھوڑ دیا ہے بلکہ غیر اسلامی تہذیبوں، عقائد، پالیسیوںاور طرز زندگی نے ان کے عقیدہ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے یہاں تک کہ خود مسلمان ممالک کے درمیان اور مسلمان ممالک کے اندر بھی علاقائی و نسلی اور گروہی بنیادوں پر اختلافات کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔
مذہبی تعلیمات اور فرائض و اعتقادات کے حوالے سے بھی ان کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں اس صورتحال نے ان کی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کے رشتوں کو بری طرح متاثرکیا ہے اور پوری دنیائے اسلام زبردست جغرافیائی اہمیت رکھنے کے باوجود انتشار و افتراق کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔اسلامی تعلیمات پر عمل کا تعلق بڑی حد تک نہ صرف محدود بنا دیا گیا اور میٹھی میٹھی باتوں پر عمل پیرا ہونے کو اصل دین سمجھا گیا بلکہ یہ بھی نمود و نمائش اور دکھاوے سے تعلق رکھتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو قیامت تک پوری نوع انسانی تک پہنچانے کے فریضے سے بحیثیت امت مسلمہ ہم کوتاہی اور فرض نا شناسی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں ۔
حالانکہ اس وقت مغربی تہذیب نے دنیائے مغرب کو جس بے حسی ، بے سکونی ، خود غرضی، اخلاقی اقدار کی پامالی سے دو چار کر رکھا ہے اس کے حوالے سے مغربی معاشرہ سکون و اطمینان قلب کے لئے انتہائی بے تاب اور مضطرب دکھائی دیتا ہے لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ انفرادی طور پر چند اداروں اور جماعتوں کے سوا امت مسلمہ نے عالمگیر سطح دین اسلام کی صحیح اور کامل طریقے سے تبلیغ و اشاعت کی ذمہ داری پوری کرنے اور پوری نوع انسانی کو دعوت دینے کا کوئی با ضابطہ اہتمام نہیں کیا ۔
اس کام کا آغاز ذاتی اور شخصی اصلاح سے ہونا چاہیے جسے ہم من حیث القوم نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں اور جب کوئی داعی خود اپنی ذات کو دی جانے والی دعوت کے حوالے سے ایک مثالی کردار کے طور پر پیش نہیں کر سکتا اس کی دعوت قطعی بے اثر اور بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم کا کردار اور تعلیمات ہمارے لئے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہیں ۔ آج اگر ہم امت مسلمہ کو در پیش چیلنجز اور مسائل و مشکلات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس کی بنیادی اور اہم وجہ خود ہماری بے عملی اور بد عملی ہے جس نے ہمیں صراط مستقیم سے بھٹکا کر کامیابی اور کامرانی سے محروم کر دیا اس وقت افغانستان، عراق، فلسطین، کشمیر، چیچنیا، صومالیہ جو خاک اور خون میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اس کربناک صورتحال کے پیدا کرنے میں امت مسلمہ کی عدم توجہی ، بے حسی اور لا تعلقی کا عمل دخل بھی ہے۔
ہماری اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو گی کہ آج مسلمانوں کی سر زمین مسلمانوںکے خون سے رنگین ہو رہی ہے اورمسلمان وحشیانہ مظالم کا شکار ہیں۔ ہمارے دشمن پوری دنیائے اسلام پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش منصوبہ بندی کر چکے ہیں لیکن دنیائے اسلام کی ان مسائل و معاملات پر حج کے عالمگیر اجتماع سے او آئی سی تک اس پر فکری و نظریاتی ہم آہنگی کہیں نظر نہیں آتی اور ہمارے دشمن کے عزائم کو دن بدن تقویت مل رہی ہے کروسیڈی علم بردار، برہمن اور سامراجی عزائم رکھنے والے دیگر دشمنان دین دنیا میں ہونے والے ہر طرح کے تشدد کے پیچھے مسلمانوں کے ہاتھ کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے کر ان کے خلاف عالمی سطح پر نفرت و حقارت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔اگر پوری امت مسلمہ اپنے اقتصادی وسائل اور افرادی قوت کو امت واحدہ ہونے کی بنیاد پر یکجا کرلے تو نہ صرف اسلام کا ایک نیا دور عروج شروع ہو سکتا ہے بلکہ مسلمانوں کی محرومیوں اور مایوسیوں کا خاتمہ بھی ایک حقیقت بن کر ابھر سکتا ہے ۔ جس سے اسلامی تعلیمات کی برتری کا تصور تقویت پکڑے گا اور اسلام کے حلقہ اثر کو بھی فروغ حال ہو گا۔
تاریخ اس امر پر شاہد و گواہ ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ اہل حق ایک کشمکش سے دوچار رہے ہیں اور جب تک دنیا باقی ہے اہل اسلام کا یہ طبقہ اس کشمکش سے دوچار رہے گا وہ کسی بھی صورت میں حق اور باطل کو برابرتسلیم نہیں کرسکتے اور نہ ہی سیاہ اور سفید کو ایک مان سکتے ہیں اور جس وقت وہ حق اورباطل کو اور سیاہ اور سفید کو برابر کی سطح پر قبول کرنے پرآمادہ ہوجائیں گے تو پھر حق اورصداقت کا بیڑہ غرق ہوجائے گا اورباطل کو غلبہ حاصل ہو گا اور روئے زمین پر فتنہ اور فساد برپا ہو جائے گا۔ کاش آج جب دین کوہماری قربانی کی ضرورت ہے تو ہم بہرپہلو قربانیاں پیش کرنے کیلئے تیارہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری نماز ،ہمارا روزہ ہمارا حج وقربانی بطور عادت ادا ہوتے رہتے ہیں، بطور عبادت نہیں۔ ہمارے ہاں رسم تو موجود رہا ہے لیکن عبادت کی روح کسی بھی جگہ نظر نہیں آتی ہے۔
افسوس ہم سب دین کے تقاضا قربانی کے سامنے حیلوں ،بہانوں اور تاویلات سے کام لے رہے ہیں اور اپنی آخرت برباد کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ وقت آنے پر قربانی دیں گے لیکن یہ وقت کب آئے گا شایدجب تمام مسلمانوں کی گردنوں میں طاغوت کا طوق پڑا ہوگا۔ مغرب سے ظہور آفتاب ہوگا اور یکایک دنیا فناہوجائے گی۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker