جہان بصیرتخبردرخبر

لنچستان میں پولیس کا ایک سیکولر چہرہ!

خبر در خبر 

غلام مصطفی عدیل قاسمی 

ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن 

 ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مقابلے تلنگانہ ریاست کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں زیادہ تر حقیقی سیکولر لیڈران اور افسران برسر اقتدار ہیں، جہاں تلنگانہ کے وزیر اعلی مسلم دوستی کا ثبوت دے رہے ہیں وہیں یہاں کی پولیس بھی ہر طبقے کے لئے یکساں سوچ رکھتی ہیں، پچھلے دنوں سٹی پولیس کمشنر انجنی کمار نے گاؤ رکھشکوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ گاؤ رکھشا کے نام پر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، اگر کوئی گائے تحفظ کے نام پر قانون ہاتھ میں لیتا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، انھوں نے عید قرباں کے پیش نظر ہر ممکن تعاون کرنے کا یقین دلاتے ہوئے مسلمانوں سے پر زور اپیل کی کہ آپ بھی اس بات کو یقینی بنائیں، آپ گائے کی منتقلی سے گریز کیجئے باقی ہم پر چھوڑ دیں پھر بھی اگر کوئی پریشان کرتا ہے تو فورا پولیس کو خبر کریں ہماری پولیس پانچ منٹ میں موقع واردات پر پہنچ کر معاملے کا تصفیہ کرے گی، انجنی کمار نے بھائی چارے کو لیکر کہا کہ آپ عید الاضحٰی جوش و خروش اور جذبہ قربانی کے ساتھ  منائیں.

میں سلام کرتا ہوں مسٹر انجنی کمار کے اقدام کو، سیلوٹ کرتا ہوں ان کی حق گوئی اور بروقت ایکشن لینے کو، کاش دیگر ریاستوں کی پولیس بھی اس طرح ایکشن لیتی، اور بلا تفریق مذہب سب کو ساتھ لیکر چلنے کی کوشش کرتی، وزراء  اور اعلی عہدیداران کی چاپلوسی کے بجائے اپنے شہریوں کے تحفظات کو سامنے رکھتی تو ملک کی موجودہ صورتحال کچھ الگ ہوتی، میں اس موقع پر شہر حیدرآباد کی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہیں انجنی کمار کے روپ میں ایک سچا اور ایماندار افسر ملا، لیکن بات اسی پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہمیشہ ملک اور ریاست میں اخوت و بھائی چارے کو قائم رکھنے کے لیے انجنی کمار اور ان کی ٹیم کا بھرپور ساتھ دیں، ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ابھی ہمارا ملک انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے، حکمراں طبقہ کے اشارے پر اندرون ملک ایک خاص مذہب اور فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، حالات کب کس کروٹ لے کچھ کہا نہیں جا سکتا ، اور کشت و خون کی ہولی کس وقت کھیلی جائے کوئی ٹھیک نہیں، اس لئے ہمیں خوب سوچ سمجھ کر قانون کے دائرے میں رہ کر عید الاضحٰی کے ضروری امور کو انجام دینا ہے، ابھی عید قرباں کی آمد آمد ہے، امن و آشتی کے دشمن نے منصوبہ بنا رکھا ہے، گائے کے تحفظ کے نام پر شہر میں کھلم کھلا زہر اگل رہے ہیں، اس لئے ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا ہے جس کی وجہ سے ان گاؤ رکھشکوں کو فساد برپا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ لگے، آپ بے شک قربانی کا فریضہ انجام دیں لیکن گائے کی منتقلی ہرگز نہ کریں، اور نہ گائے کی قربانی دے کر برادران وطن کو تکلیف دینے کا باعث بنیں، اسلام نے دیگر جانوروں کی قربانی دینے کی بھی اجازت دے رکھی ہے آپ ان ہی جانوروں میں سے کسی کی قربانی دے لیں، اس لئے بھی کہ قربانی نام ہی ہے جذبہ ایثار کا تو اگر آپ غیر مسلم بھائیوں کے عقیدے کا احترام کرتے ہوئے اپنی بڑے جانور بطور خاص گائے کی قربانی کی خواہش و چاہت کو قربان کر دیں تو یہ بھی اک قربانی ہوگی، اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام کسی کی ایذا رسانی اور تکلیف کا باعث بننے سے منع کر تا ہے، تو آیئے ہم عہد کریں کہ ہم اسلامی تعلیمات اور ملکی قوانین کی مکمل پاسداری کریں گے اور دیگر  مذاہب کے ماننے والوں کو کسی بھی اعتبار سے تکلیف نہیں پہنچائیں گے، اگر ہم ایسا کر لیتے ہیں تو یقینا سماج دشمن عناصر کو دہشت پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا اور برادران وطن بھی اسلام اور حامیان اسلام کے قریب تر ہونگے، 

آخر میں یوپی و ہریانہ اور دیگر ریاستوں کی پولیس سے عرض کرتا ہوں کہ آپ نے صرف نیتاؤوں کی حفاظت کا ہی وچن نہیں لیا ہے، صرف ہندو مذہب کے ماننے والوں کے ہر ممکن تعاون کا قسم نہیں لیا ہے بلکہ ملک کے ہر ہر شہری کی مدد کرنے کا عہد لیا ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو، آپ نے سب کے جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ، اس لیے کسی ایک فرقہ کی جانبداری کرنا چھوڑیئے، اپنی آنکھوں پر چڑھے تعصب کی عینکوں کو توڑ ڈالئے اور مسلم سماج کے تئیں مخلصانہ اور انسان دوست رویہ اختیار کیجئے، انہیں بھی وہ سارے حقوق اور انصاف دلوایئے جو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو آپ فراہم کر رہے ہیں، تبھی جا کر آپ ملک کے ایک وفادار اور جانباز سپاہی کہلائے جانے کے مستحق ہونگے، ورنہ آپ تو گزر جائیں گے لیکن آپ کی غلط روش اور چاپلوسی پر دنیا والے ہمشہ آپ کی نسلوں تک کو تھو تھو کریں گے، آج ملک کو ضرورت ہے مسٹر انجنی کمار جیسی سیکولر سوچ رکھنے والے آفیسرز کی جو ہر شہری کو ایک ہی نظر سے دیکھے، ہر طرح کے بھید بھاؤ سے پاک، ہر ایک کے لئے یکساں سوچ رکھے اور معاشرے میں زہر افشانی کرنے والے عناصر پر گھیرا تنگ کر دے، میں آپ لوگوں سے ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ آپ حق اور سچ کا ساتھ دیکر ملک کو ترقی کی طرف لے جانے میں مکمل تعاون پیش کریں، تبھی جا کر ہمارا ملک ترقیات کے منازل طے کر سکے گا۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker