جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
77598 72846
زندگی اگر دورخی ہوجائے تو پھر وہ اپنی حیثیت کھو بیٹھتی ہے ,شاہراہ عزم کا مسافر اپنی موت وحیات سے بے پرواہ اپنی پر عزم منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے,نہ تو اسے گھنگھور گھٹاؤں کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی باد مخالف کے تیز جھونکے ان کی راہوں کو زنجیر باندھتے ہیں ,ایسے حوصلہ مند مسافر دریاؤں کی گرداب میں کچھ پانے کے عزم سے اپنی اس کشتی کو ڈال دیتے ہیں جن میں تھپیڑوں کے بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رہتا ,اسے یہ حوصلہ اس کی بے خوفی ,جوانمردی ,جہد مسلسل اور نہ تھکنے والے عزم سے حاصل ہوتا ہے۔
تاریخ نے ایسے بے شمار لوگوں کے کارہائے نمایاں کو اپنے سینے میں محفوظ رکھا ہے اور یہ بھی ایک سچ ہے کہ انہی جیالوں کی قربانیوں کی وجہ کر دنیا میں باطل طاقتوں نے اپنے زہریلے پھن پھیلانے سے گریز کیا , قریب کے گذرے ان دودمان ملت کو تاریخ نے پورے اہتمام سے شمار کیا ہے ,جن میں حضرت مولانا قاسم نانوتوی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ,حضرت علامہ اقبال ,حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ,سرسید احمد خان ,حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری ,حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ,حضرت علامہ سید سلیمان ندوی ,حضرت مولانا ابولکلام آزاد حضرت مولانا ڈاکٹر حمیداللہ ,حضرت قاری محمد طیب صاحب ,شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا حضرت مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی , حضرت سید شاہ منت اللہ رحمانی,حضرت قاضی مولانا مجاہدالاسلام قاسمی ,حضرت قاری صدیق صاحب ,رحمھم اللہ رحمت واسعہ جن کا نام رہتی دنیا تک بڑے احترام سے لیا جائے گا ۔
موجودہ ملک کے پس منظر میں جب کہ ہرچہار جانب سے اسلام اور مسلمانوں پر مختلف عنوانوں کے تحت لگاتار حملے ہورہے ہیں ،گیروا رنگ سے اس کے درو دیوار کو رنگ دینے کی کوشس کی جارہی ہے ,ایمان کی سلامتی خطرے کے نشان سے اوپر جارہا ہے ,ظلم وجور کی گھٹا ٹوپ بادل سایہ فگن ہے ,ایسے وقت میں اس ملک کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت کا محسوس کیا جانا فطری بات تھی جو ملک عناصر دشمنون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو,جن کی آواز میں زندگی بخش گرج کے ساتھ لطافت و شیرینی کا بھی احساس ہو, جو باطل کے خیموں میں اپنی بے پناہ صلاحیت اور پر عزم ارادوں سے زلزلہ پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتاہو ,اور اپنوں کے درمیان اس انداز سے آنے کا ہنر رکھتا ہو کہ
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا یہ مقام انتہا راہ نہیں
اور یہ بھی
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ ودل گیری
تیرے دین وادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کا عالم پیری
مجھے اس عظیم انسان کے نام کو لکھتے ہوئے فخر کا احساس ہوتا ہے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کارگذار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ,سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر ,سرپرست اور روح رواں عظیم تربیت گاہ ودرسگاہ اسلامی جامعہ رحمانی مونگیر ,موسس وبانی رحمانی 30 ,اور رحمانی فاؤنڈیشن ,انجمن حمایت اسلام کے صدر نشیں ,آل انڈیا مسلم پرنل لا بورڈ کی تحریک اصلاح معاشرہ کے کنوینر ,آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر ,ندوت العلمائ￿ لکھنو کے انتظامی رکن ,علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر کے علاوہ گورنمنٹآف انڈیا کی اسٹیڈینگ کمیٹی ,مونیٹرنگ کمیٹی اور وقف کاؤنسل کے ممبر کے ساتھ لاکھوں جانوں کے مربی اور مصلح ہیں – (قومی تنظیم پٹنہ ,منگل 1/دسمبر 2015)از قلم محمد شکیل استھانوی ,(9631629960 )
یہ ایک سچ ہے کہ ہندوستان کی تاریخ جب بہار کے 2015 کی تاریخ کو اپنے دامن میں جگہ دے گی تو اس کے سرپر یہ لکھا ہوگا کہ کہ بہار کے جیالوں نے2015ع کو جب کہ ملک میں افرا تفری کا ماحول تھا ,درندگی گھنگرو لگائے سرعام رقص کررہی تھی,سیکولرزم خون کے آنسو رورہاتھا ,عزت و ناموس سر چھپائے سر عام دوڑ رہی تھی اور ذلت ورسوائی کے سودائی مقام عزت کو اپنے پیروں سے روند رہے تھے ایسے وقت میں بہار کے لوگوں نے بیک وقت دو اہم فیصلے کئے ایک بہار میں سیکولر فکروں اور ذہنوں کو اقتدار دے کراور دوسرے امارت شرعیہ بہار واڑیسہ جھارکھنڈ کو امیر شریعت کی شکل میں حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کو دے کر۔
حضرت مولانا کا تعلق ایسے خانوادے سے جنہوں نے سر بکف ہوکر اس ملک میں اٹھنے والے ہرفتنہ کا مقابلہ کیا ,اور اس کے سد باب کے لئے اپنی زندگی کی ساری پونجی لگادی بے خوف میدان کارزار میں جب قادیانیت نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری نے اپنی تمام ترقوتوں کو صرف کرکے اسے کھدیڑ کر بھگایا ,جب اس ملک کے نقشے سے انگریزوں کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کو ختم کرنے کی کوشس کی گئی تو ,”ندوۃ العلما “کے قیام کے ذریعہ اس کی بقا کا نظم فرمایا اور جب نظام شرعی کی بیخ کنی کی کوشس کی گئی تو ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب ؒکے ساتھ مل کر “امارت شرعیہ ” کی بنیاد رکھ کر سب ے پہلے حضرت شاہ بدرالدین صاحب ؒکو امیر شریعت منتخب فرمایا ,اسی طرح آپ کے والد گرامی حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ اپنے ابتدائی زمانے سے انگریزوں کے خلاف لڑتے رہے ،اورتادم آزادی اس کے سرخیل رہے , آزادی کی صبح جب طلوع ہوئی اور ملک دوحصوں میں تقسیم ہوا ,بقول استاد محترم فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم “ملک کا بٹوارہ ہوا اور آزادی کے شایان شان استقبال کے لئے ابیرو گلال کے رنگ کو ناکافی جان کر انسانی خون سے ہولی کھیلی گئی اورمٹی تیل کے چراغوں کے بجائے مظلوموں کے گھر جلاکر چراغاں کیاگیا-مسلمانوں کی قیادت کا ایک حصہ تو پہلے پاکستان کے حصہ میں جاچکا تھا ,دوسروں نے جب اپنے ہی گھر میں اپنی قربانیوں پر اہل وطن کی یہ عنایت دیکھی تو ان کو بھی رخت سفر باندھنے ہی میں عافیت محسوس ہوئی۔
اب ملک میں معدودے چند آدمی اس صف کے باقی رہ گئے ان میں سر فہرست مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی تھے اور اسی سلسلہ کادوسرا سب سے اہم نام حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی کا تھا (وہ جو بیچتے تھے دوائے دل ص/353/354/)
اسی پر عزم میر کارواں کے گھر میں 5/جون 1943 کو حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی پیدا ہوئے ,ابتدائی تعلیم خانقاہ رحمانی کے احاطہ میں واقع پرائمری اسکول سے شروع ہوا ,اور ساتھ ہی اس درمیان اپنے والد گرامی سے بھی استفادہ کیا ,جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ شریف تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1961ع ندوۃالعلماء لکھنو اور1964ء میں دارالعلوم دیوبند سے علوم متداولہ کی تکمیل کی اور ان دونوں اداروں سے کسب فیض اور خاندانی تعلیم وتربیت کی وجہ سے زبان ہوش مند اور فکر ارجمند سے مالا مال ہوئے ,1967ع میں امارت شرعیہ کے ترجمان ہفت روزہ نقیب کی ادارت کے ساتھ انہوں نے جامعہ رحمانی میں تدریس اور فتوی نویسی کا بھی کام شروع کیا ,1969ع میں جامعہ رحمانی کی نظامت کے عہدہ پر فائز ہوئے ,1970ع میں ایم ,اے کیا ,1974 ع میں ودھان پریشد کے رکن منتخب ہوئے ,اسی سال جامعہ رحمانی کے ترجمان” صحیفہ “کی ادارت سنبھالی ,حج وعمرہ کا سفر 1975 ع میں ہوا ,اسی سال کویت بھی تشریف لے گئے ,1979ع کاسال روس کے سفر ,1984ع روزنامہ “ایثار ” کی اشاعت 1985ع بہار ودھان پریشد کے ڈپٹی چیرمین,1991ع خانقاہ رحمانی کی سجادہ نشینی,2005ع نائب امیرشریعت کی حیثیت سے نامزدگی اور 1996 ع کو رحمانی فاؤنڈیشن کا قیام ,1989 ع میں جان لیوا حملہ ,1991والدمحترم اور 1995 میں والدہ محترمہ کی وفات ,1996 میں فرزند خالد رحمانی کی حادثاتی موت اور 2008 میں بھائی محمدوصی کی موت کی وجہ سے غم و الم کا سال رہا ۔
آپ کی تالیفات وتصنیفات میں مدارس میں صنعت و حرفت کی تعلیم ,خیر مقدم ,شہنشاہ کونین کی دربار ,حضرت سجاد -مفکراسلام ,یادوں کا کارواں ,آپ کی منزل یہ ہے ,بیعت عہد نبوی میں ,تصوف اور حضرت شاہ ولی اللہ کے علاوہ ایک درجن سے زائد رسائل موجود ہیں ,جو آپ کی فکری بصیرت ,تحریری انفرادیت ,سیاسی درک ,اور درد ملت کے شاہد ہیں ,ان کے علاوہ بے شمار مضامین ومقالات جو مختلف اخبارات و رسائل میں طبع ہوئے ,
(روزنامہ انقلاب ,30 نومبر بروز پیر ,قومی تنظیم ,یکم دسمبر , بروز منگل ,2015/ شمارہ 323 /جلد:52 ,سنگم پٹنہ ,فاروقی تنظیم پٹنہ ,پندار پٹنہ از قلم حضرت مولانا مفتی ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پٹنہ )
بحیثیت امیر شریعت : 29/ نومبر 2015/بروز اتوار بہار کی تاریخ کا تاریخی حیثیت سے اہم دن اس لئے رہا کہ اسی تاریخ کو امارت شرعیہ کے ارباب حل وعقد کے 851/اراکین نے باتفاق رائے شمالی بہار کے مشہور اور تاریخی شہر کے دارالعلوم رحمانی کے وسیع عریض میدان کے پنڈال میں حضرت مولانا سید محمدولی رحمانی صاحب کو امیر شریعت منتخب فرمایا , جب امیر شریعت کے لئے مجلس استقبالیہ کے صدر اور فارب گنج جامع مسجد کے امام وخطیب حضرت مولانا عبد المتین نے آپ کا مبارک نام پیش کیا تو بیک وقت زبان نعرہ تکبیر بول اٹھی ,اور پورا ایوان نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا,ایسا محسوس ہوا کہ وہاں موجود سارے دانشوران حضرت کے نام کے منتظر تھے ,اس موقعہ پر ہم نے خرد نوازی اور اپنے عزیزوں کی حوصلہ افزائی کا ایک اہم واقعہ دیکھا جو بہت دلچسپ ہے ,واقعہ کا پس منظر یہ ہیکہ “بصیرت نیوز پوٹل “نے حضرت امیر شریعت سادس مولانا سید نظام الدین صاحب رحمت اللہ علیہ کے حیات خدمات پر ایک رسالہ “پاسبان ملت ” کینام سے ترتیب دیا تھا ,جس کے رسم اجرا کی اجازت حضرت کے حکم کے مطابق اجلاس عام میں ہونا تھا ,لیکن اتفاق کے اس ایوان میں بحیثیت صحافی چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی,جوائنٹ ایڈیٹر اور بہار پیام انسانیت کے صدر مولاناارشد فیضی قاسمی ,مدیراعزازی مولانا فاتح اقبال ندوی ,بھی موجود تھے اسٹیج پرموقر علما کی موجودگی پر احساس ہوا کہ کاش اسی موقعہ سے پاسبان ملت کا بھی اجرا ہوتا تو بہت اچھا تھا ,لیکن اس کے لئے حضرت سے اجازت ضروری تھی حافظ امتیاز رحمانی نے رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیج پر حضرت سے مل کر بات کرلی جائے ,لیکن وہاں تک پہونچنے کی ہرگز ہمت نہیں ہورہی تھی ,لیکن یہ سوچ کر حاضر ہوئے کہ اگر حضرت ناراض بھی ہوگئے تو کیا ہے ,وہ و ہمارے بڑے ہیں یہ سوچ کر ہم اور مولانا غفران ساجد قاسمی قریب گئے اور بہت آہستہ سے عرض کیا کہ حضرت اگر پاسبان ملت کا رسم اجرا اس وقت فرما دیتے تو ہم لوگوں کی ان معزز علما کے درمیان حوصلہ افزائی ہوجاتی حضرت نے فرمایا کہ اس کا رسم اجرا تو اجلاس عام میں طے ہے لکن اگر آپ لوگوں کی خواہش ہے تو اسی وقت کردیتے ہیں ,اور پھر حکم فرمایا کہ ناظم اجلاس سے کہدیا جائے کہ میری گفتگو سے قبل “پاسبان ملت”کا رسم اجرا ہوگا ,اور ایسا ہی ہوا یہ ہے چھوٹوں پر شفقت ,اس موقعہ پر حضرت مولانا ثنائ￿ الہدی قاسمی اور حافظ امتیاز رحمانی کے بھی ہم شکر گذار ہیں
بحیثیت امیر شریعت پہلا خطاب : امیر شریعت منتخب ہونے کے بعد آپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا ’’آپ حضرات نے جوذمہ داری میرے سپردکی ہے وہ بہت ہی نازک اور اہم ہے ,اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے اللہ کے فضل کے علاوہ آپ حضرات کی مضبوط ,مستحکم اور مربوط معاونت کی ضرورت ہے ,اور مجھے امید ہیکہ امارت شرعیہ کے کاموں کو آگے بڑھانے کے لئے یہاں موجود آپ تمام حضرات اور بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کی عوام مجھے اور امارت شرعیہ کو مکمل تعاون ملے گا ,امیر کے انتخاب کے بعد جو ذمہ داری شرعی لحاظ سے آپ پر عائد ہوتی ہے ,وہ عہد اطاعت کی ہے ,ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کئی قسم کی بیعتیں کی ہیں,اس میں ایمان لانے کی بیعت ,تقوی وطہارت کے ساتھ زندگی گذارنے کی بیعت اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرو یا مرو کی بیعت لی صلح حدیبیہ کے موقعہ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت امیر کابھی عہد لیا ,اس لئے سب سے پہلے میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ لوگوں سے اطاعت کا عہد لوں, اور آپ اطاعت کا عہد کریں ,لہذا جو الفاظ میں کہونگا آپ میرے کہنے کے بعد ان الفاظ کو دہرائین گے-اس کے بعد حضرت امیر شریعت نے ان الفاظ سے بیعت لی ,اور تمام لوگوں نے ان الفاظ کو دہرایا ,”بسم اللہ الرحمن الرحیم ,لاالہ الااللہ محمدالرسول اللہ ,ایمان لایا میں اللہ پر ,اس کے رسولوں پر ,اس کی کتابوں پر ,اور آخرت کے دن پر ,میں عہد کرتا ہوں کہ ہر مرحلہ میں چاہے وہ تنگی یا سختی کا ہو ,سہولت یا آرام کا ہو ,میں امیر کی اطاعت کرونگا ,اور جب تک امیر جائزاور حلال کام کرنے کا حکم دیگا وہ حکم میرے لئے واجب العمل ہوگا ,اور اگر وہ ناجائز اور حرام کا حکم دے گا تو میں اسے انجام نہیں دونگا ,اللہ تعالی ہمیں اس عہد پر قائم رکھے ,آمین ”
اس کے بعد حضرت نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ,امارت شرعیہ جس کی آپ حضرات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ,اس کا تعارف کرانا مقصد نہیں ہے ,اللہ کا شکر ادا کرنا ہیکہ اللہ تعالی نے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد ؒکے ذہن میں یہ بات ڈالی اور انہوں نے ایک دینی اور شرعی نظام خیرمکمل کا نظام امارت شرعیہ کی شکل میں تین صوبوں میں قائم کیا ,اللہ کا کرم ہے امارت شرعیہ کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ,اور یقینا یہ حیرت انگیز اور لائق شکر بات ہے ,کہ ہم اور آپ ایک ایسے ملک میں ہیں ,جہاں ہم اقلیت میں ہیں اللہ کے فضل وکرم سے شریعت محمدی کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں ,اس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے .اور ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم یہ محسوس کریں کہ ہم امارت شرعیہ سے بندھے ہوئے ہیں ,اور امارت شرعیہ سے بندھنے کا مطلب یہ ہیکہ اللہ کے سامنے پوری زندگی میں اپنے آپ کو ایک ایک پل کا جواب دہ سمجھیں ۔ حضرت کے اس پیغام نے مسلمانوں کو ایک ایسی زندگی بخشی جس کی امید کی جا سکتی تھی ,امیر شریعت منتخب ہونے کے بعد پورے ملک سے مبارک بادی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا جو ہر عام وخاص میں مقبولیت کی بات ہے ,اللہ حضرت کا سایہ ہم سب پرتادیر قائم رکھے آمین ۔
توسلامت رہے ہزار برس ٭ ہر برس کے ہوں دن ہزار
(مضمون نگار دارالعلوم سبیل الفلاح جالے اور بہار پیام انسانیت کے جنرل سکریٹری ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker