Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ

قربانی واجب ہونے کے لئے سونا معیار ہے یا چاندی؟
سوال: قربانی کن لوگوں پر واجب ہوگی، آپ نے گزشتہ دنوں زکوٰۃ واجب ہونے کے سلسلے میںموجودہ حالات کے پس منظر میں سونے کو معیار قرار دیاتھا ، کیا قربانی واجب ہونے کے لئے یہ معیار ہوگا؟
(محمد عرفان قاسمی، بھنڈی بازار، ممبئی)
جواب: قربانی کے سلسلہ میں چاندی کو معیار بنایا جائےگا، یعنی اپنی بنیادی ضروریات کے علاوہ جس شخص کے پاس نقد روپے یا سامان کی شکل میں چھ سو بارہ گرام چاندی کی قیمت کے برابر کوئی چیز موجود ہو، اس پر قربانی واجب ہوگی، خواہ یہ سامان کپڑے کی شکل میں ہو، زائد از ضرورت برتنوں کی صورت میں ہو، رہائشی مکان کے علاوہ کوئی اور مکان ہو، استعمال کی سواری کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور سواری ہو، مکان کے علاوہ زمین کا کوئی پلاٹ ہو تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی:(قولہ والیسار الخ) بأن ملک مأتیی درھم أو عرضا یساویھا غیر مسکنۃ وثیاب اللبس أو متاع یحتاجہ الیٰ أن یذبح الأضحیۃ (درالمحتار: ۵؍۱۹۸)
زکوٰۃ اور قربانی میں تھوڑا سا فرق ہے، زکوٰۃ بھی مالداروں پر واجب ہے اور قربانی بھی؛ لیکن زکوٰۃ میں مالدار ہونے کا معیار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمادیا، اور وہ ہے سونے اور چاندی کا مقررہ نصاب؛ لیکن قربانی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نصاب مقرر نہیں کیا؛ بلکہ صرف اس قدر فرمایا کہ جس کے پاس گنجائش ہو، پھر بھی وہ قربانی نہیں کرے ، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے:من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقربن مُصلانا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۳۱۲۳)؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں گنجائش کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی، فقہاء نے اجتہاد کے ذریعہ اس کی حد مقرر کرنے کی کوشش کی، مالکیہ، شوافع، اور حنابلہ کے نزدیک تو اتنا کافی ہے کہ وہ عید کے دن اپنی بنیادی ضروریات کے علاوہ قربانی کرنے کے بقدر مال رکھتا ہو،(دیکھئے: حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر۲؍۱۱۸، حاشیۃ البحیری علی شرح المنھج:۴؍۲۹۵، الارشاد الی سبیل الرشاد:۱؍۳۷۱)امام ابو حنیفہؒ نے زکوٰۃ میں جو دولت کا معیار مقرر تھا، اسی کو یہاں بھی اختیار فرمایا ہے، پس زکوٰۃ میں دولت مند ہونے کا معیا ر حدیث سے ثابت ہے اور قربانی کا اجتہاد سے، دوسرے: زکوٰۃ میں زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور قربانی میں کم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ جس کو گنجائش ہو، وہ قربانی کرلے، اس سے بظاہر اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کسی کے پاس اپنی بنیادی ضرورت کے علاوہ قربانی کے بقدر پیسے موجود ہوں تو اسے قربانی کرنی چاہئے؛ اس لئے چاندی کے نصاب کی مقدار چوں کہ کم ہے؛ اس لئے قربانی میں اسی کو معیار بنایا جائے گا۔

قربانی ۱۲ تک یا ۱۳ تک؟
سوال: ہم لوگوں نے علماء سے یہ مسئلہ سنا کہ قربانی دس گیارہ اور بارہ کو ہے؛ لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ تیرہ ذی الحجہ کو بھی قربانی دے سکتے ہیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟(شوکت محمد خان، کوکن)
جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ قربانی چند متعین دنوں میں ہے: ویذکروا اسم اللہ في أیام معلومات علی ما رزقھم من بھیمۃ الأنعام (الحج: ۲۸) ؛ لیکن یہ متعین ایام کون سے ہیں؟ قرآن میں اس کاذکر موجود نہیں ہے؛ لیکن مختلف صحابہ سے دنوں کی تعیین منقول ہے؛ چنانچہ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابوہریرہ، حضرت انس، حضرت عبداللہ ابن عباس، حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ قربانی تین دن ہے، دس، گیارہ،بارہ ذی الحجہ، اور ظاہر ہے کہ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں اجتہاد کا دخل نہیں ہے، ان صحابہ نےیہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُن کر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کودیکھ کر ہی کہا ہوگا؛ اسی لئے احناف، مالکیہ اور حنابلہ وغیرہ سب اسی کے قائل ہیں،(الموسوعۃ الفقہیہ: ۵؍۸۰)چوںکہ بعض تابعین جیسے حسن بصری اور عطاء وغیرہ سے منقول ہے کہ ایام تشریق ایام قربانی ہے، اور ایام تشریق میں تیرہ ذی الحجہ شامل ہے؛ اس لئے امام شافعیؒ کے نزدیک ۱۳؍ذی الحجہ کی شام تک قربانی کرنے کی گنجائش ہے، (مختصرالمزنی : ۸؍۳۱۱) البتہ فقہاء کے یہاں ایک مسلم اصول یہ ہے کہ اختلافی مسائل میں ایسی صورت اختیار کرنی چاہئے کہ تمام فقہاء کے نزدیک وہ عمل درست ہو جائے؛ اس لئے حضرات شوافع کے لئے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ۱۲؍ذی الحجہ کو مغرب سے پہلے پہلے قربانی کرلیں؛ تاکہ تمام فقہاء کی رائے پر قربانی درست ہو جائے۔

ملازم بینک کی پنشن
سوال :- میں ایک بیوہ ہوں ، میرے شوہر بینک میں ملازم تھے ، اب جو پنشن مجھے ملتی ہے ، کیا وہ جائز ہے ؟ میرے دیگر ساتھی اور رشتہ دار بینک کی ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ کو صحیح نہیں سمجھتے ، تو گویا پنشن کی رقم بھی صحیح نہیں ، مجھے اس خیال نے بڑا پریشان کر رکھا ہے ۔ (مسرت جہاں، کوکٹ پلی)
جواب :- حلال و حرام کے سلسلہ میں آپ کی فکر مندی قابل تحسین ہے ، یہ صحیح ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس میں سودی معاملات کو لکھنے ، حساب و کتاب کرنے اور رقمی لین دین کی نوبت آتی ہو ، سود میں تعاون کی وجہ سے جائز نہیں ، البتہ تنخواہ اور پنشن میں فرق ہے ، تنخواہ کام کی اجرت ہے اور پنشن اس کا تعاون ، اس لئے اگر نیشنلائزڈ بینک ہو ، جس میں پنشن گورنمنٹ دیتی ہو اور آپ ضرورت مند ہوں ، تو پنشن سے استفادہ کرنے کی گنجائش ہے ، اگر اس کے بغیر بھی آپ کی ضروریات پوری ہوسکتی ہوں تو احتیاط کرنا بہتر ہے ۔ واللہ اعلم

دوسرے کے لائسنس پر میڈیکل شاپ
سوال:- نوے فیصد میڈیکل شاپ دوسروں کی ڈگری لے کر حکومت سے لائسنس حاصل کرتے ہیں اوردوکان چلاتے ہیں اورمیڈیکل دوکان کے مالک ان ڈگری والوں کو ماہانہ یا سالانہ ڈگری کا معاوضہ دیتے ہیں ، اس کے بغیر لائسنس نہیں ملتا اور میڈیکل چلانے والے دواؤں میں ڈگری والوں سے زیادہ ماہر ہوتے ہیں ۔ (محمد کامران، غوث نگر)
جواب:- اگرحکومت نے ڈگری لینے والے کو لائسنس دیاہے اورا س بات کا پابند کیا ہے کہ وہ خود ہی دوکان کرسکتے ہیں ، تو دوسرے شخص کا اس لائسنس پر دوکان کرنا خلاف قانون ہونے کی وجہ سے وعدہ خلافی میں شامل ہے ؛ کیوں کہ ہم نے حکومت سے اس کے قوانین کے پابند رہنے کا عہد کیا ہے، اورلائسنس یافتہ شخص کا لائسنس کے استعمال کی اجرت لینا رشوت کے حکم میں ہے ، اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ دوکان میں کچھ نہ کچھ اس لائسنس یافتہ شخص کی پارٹنرشپ حاصل کرلی جائے، اور گاہے گاہے وہ شخص آکر دواؤں کے سلسلہ میں مطلوبہ مشورہ دے ؛ تاکہ وہ اس دوکان میں شریک سمجھا جائے اور اس کے لیے اجرت جائز قرار پائے ، یہ بھی اس صورت میں ہے جبکہ دوکان چلانے والا موجودہ شخص دواؤں کے بارے میں اچھی واقفیت رکھتا ہو ؛ تاکہ عام لوگوں کو ضرر نہ پہنچے ، جو لوگ دوا کے بارے میں واقف بھی نہ ہوں ، ان کے لیے تو ایسی دوکان کا چلانا ہی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ عمومی اور اجتماعی نقصان کی اہمیت انفرادی مفاد سے بڑھ کر ہے ۔

مسجد حرام کے باہر صفوں کے درمیان فاصلہ
سوال:- آج کل مکہ مکرمہ میں نماز کی صفیں مسجد کے باہر بھی لگ جاتی ہیں ، حج اور رمضان میں بھی ہوتا ہے کہ مسجد حرام کے باہر بیچ میں کئی کئی صفوں کی جگہ چھوٹی ہوئی ہوتی ہے اوراس کے بعد نمازیوں کی صفیں بن جاتی ہیں ، اگر مسجد کے اندر فاصلہ ہوجائے تب تو غالباً یہ اقتداء کے ساتھ نماز کے درست ہونے میں مانع نہیں ہے ، اگر مسجد سے باہر اس طرح کا فاصلہ ہو تب اقتداء کا کیا حکم ہوگا؟ ( سید کلیم اللہ، کریم نگر )
جواب:- صفوں کے درمیان فاصلہ کے سلسلہ میں فقہاء نے جو تفصیل لکھی ہے ،وہ یہ ہے کہ مسجد کے اندر تو چند صفوں کے بہ قدر فصل کے باوجود بھی اقتداء درست ہوجاتی ہے ؛ بشرطیکہ درمیان میں کوئی سڑک جس پر سواریاں چلتی ہوں یا کوئی نہر جس میں کشتیاں چلتی ہوں حائل نہیں ہوں ، راجح اور درست قول کے مطابق مکان کا بھی وہی حکم ہے جو مسجدوں کا ہے ، لیکن کھلی ہوئی جگہ میں اگر دو صف کے بقدر فاصلہ ہو تو اقتداء درست نہیں ہوگی :’’ و یمنع من الإقتداء أو….. خلاء فی الصحراء یسع صفین ‘‘(در مختار:۲؍۲۳۲) ؛ البتہ فقہاء نے ’’فناء مسجد‘‘ یعنی مسجد سے لگے ہوئے صحن کو بھی مسجد ہی کے حکم میں رکھا ہے ، چنانچہ علامہ شامیؒ بحر کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں : ’’ أن فناء المسجد لہ حکم المسجد ‘‘ (ردالمحتار: ۲؍۲۳۲) پس مسجد حرام سے متصل وہ میدان جو مکانات تک چلے گئے ہیں ،فناء مسجد کے حکم میں ہیں ،اور اگر ان میں ایک دو صفوں کے خلاء کے ساتھ صفیں بن جائیں ،تب بھی اقتداء درست ہوجائے گی ۔

تکبیر تشریق کتنی بار پڑھی جائے ؟
سوال:- تکبیر تشریق ہر نماز کے بعد بہ موقع عید الاضحی کتنی بار پڑھنی چاہئے ، ایک بار یا تین بار ؟
(محمد ظہیر الدین، نلگنڈہ)
جواب:- ایام تشریق میں ہر نماز کے بعد ایک بار تو تکبیر تشریق کہنا واجب ہے ، اس سے زیادہ دفعہ کہنے کا کیا حکم ہے ؟ بعض علماء درست کہتے ہیں اور بعض بدعت اور خلاف سنت قرار دیتے ہیں ؛ اس لئے مشہور قول یہی ہے کہ ایک بار تکبیر تشریق کہنی چاہئے ؛ کیوںکہ حدیث میں ایک بار یا مطلق تکبیر تشریق کہنے کا ذکر آیا ہے اور جب کسی کام کو کرنے کا مطلق حکم دیا جائے تو اس سے ایک ہی بار کرنا مراد ہوتا ہے : ویجب تکبیر التشریق مرۃ ، بیان للواجب لکن ذکر أبو السعود أن الحموي نقل أن الإتیان بہ مرتین خلاف السنۃ ، قلت : وفي الأحکام عن البرجندی ثم المشہور عن قول علمائنا أنہ یکبر مرۃ وقیل ثلاث مرات ‘‘ (شامی: ۳؍۶۲)

حج کے دوران تصویر بنوانا
سوال:- ایک شخص حج پر جاتا ہے ، مناسک حج ادا کرتے وقت وہ اجرت دے کر فوٹو گرافر سے تصویریں اترواتا ہے ، مثلاً احرام باندھتے ہوئے ، قربانی کرتے وقت ، تصویر اتروانا تو ویسے ہی ناجائز ہے ؛ لیکن حج کے دوران تصویراتروانے سے حج کے ثواب میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ (قاری مشتاق، ملک پیٹ)
جواب:- حج کے دوران گناہ کا کام کرنے سے حج کے ثواب میں ضرور کمی ہوگی ؛ کیونکہ حدیث میں ’’ حج مبرور ‘‘ کی فضیلت آئی ہے اور ’’ حج مبرور ‘‘ وہ حج ہے، جس میں گناہوں سے اجتناب کیا جائے ، اگر حج میں کسی گناہ کا ارتکاب کیا جائے تو حج ’’ حج مبرور‘‘ نہیں رہتا ، علاوہ ازیں اس طرح تصویر کھینچوانے کا منشا تفاخر اور ریاکاری ہے ؛ کہ اپنے دوستوں کو دکھاتے پھریں گے اور ریاکاری سے اعمال کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like