جہان بصیرتنوائے خلق

ہماری ناکامی کی بنیادی وجہ ملکی سیاست سے دوری

مکرمی!
مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد وطن عزیز میں مدارس اسلامیہ نے وہ لازوال قربانیاں پیش کی ہیں، جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، اس کو اپنے ہی نہیں اغیار بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں. انگریزی سامراج نے وہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ اس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں، اسی کے ساتھ اسلامی تشخصات پر حملے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، مدارس اسلامیہ کو نیست و نابود کرنے کیلئے بلڈوزر چلائے گئے، علماء کرام پر قیامت صغری برپا کی گئی، لاکھوں کی تعداد میں قرآن کریم کے نسخے جلائے گئے، ایسے حالات میں بلا تفریق مذہب و ملت اجتماعی کوشش شروع ہوئی تاکہ ان فرنگی درندوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جائے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا ملک ہندوستان بڑی قربانیوں اور آزمائشوں کے بعد آزاد ہوگیا،آزادی کے بعد ہماری سب سے بڑی کوتاہی یہ ہوئی کہ آزادی کے بعد ہم سوگئے، دین و سیاست کو ہم نے الگ الگ خانوں میں تقسیم کردیا، مناظروں کا سلسلہ شروع ہوا، اپنے کو حق دوسرے کو گمراہ گرداننے کے نت نئے ٹولے سامنے آئے، مسجد اسلام کے بجائے مسجد ضرار وجود میں آئی، فروعی اختلاف کو اصولی اختلاف بناکر جنگ و جدال کا بازار گرم کردیا گیا، ایک دوسرے کو کفار بنانے کیلئے فتاوے کی فیکٹریاں وجود میں آئیں، مذہب کے بجائے مسلک، مشرب کی تبلیغ شروع ہوئی،مسٹر اور ملا کی تفریق کی گئی، آپس میں رفیق کے بجائے فریق بن گئے،سیاست کو شجر ممنوعہ قرار دیا گیا، فرقہ پرست طاقتوں کو ناکام بنانے کا ٹھیکہ لیا گیا، سیکورزم کے نام پر ملت اسلامیہ کو قلی بنایا گیا، طوفان حوادث سے نمٹنے کے لئے صرف دعاؤں کا سہارا لیا گیا. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم حاشیے پر آگئے، ہمیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا، ہمارا کوئی وقار نہیں رہ گیا، ملک میں سیاسی حصہ داری نہ ہونے کیوجہ سے اپنے حقوق کی دستیابی کیلئے دشوار ترین راستہ بن گیا، سسٹم میں ہماری حصہ داری برائے نام رہ گئی،اور ہم اخلاقی اعتبار سے سب سے نچلے پائیدان پر پہنچ گئے، کسی کی عزت نفس سے کھلواڑ کرنے کیلئے دو چار ٹکے پر دلالی کا خاص مشغلہ بنالیا، ہر گلی، نکڑ پر ہوٹلوں کو آباد کرنا اپنی شان سمجھنے لگے، حتی کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمیں سب سے پسماندہ و ناخواندہ قوم بتایا گیا، ایسے حالات میں بھی ہمارا شعور بیدار نہیں ہوا، ہمارے دماغ کے دریچے نہیں کھلے، ہم مسلک مسلک کھیلتے رہے اور بے حسی کی چادر تانے رہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے من و سلوی کے منتظر رہے. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ذلت و نکبت ہمارا مقدر بن گئی اور ہم تباہی و بربادی کے آخری دہانے پر پہنچ گئے.
ایسے دلخراش حالات میں ہمیں بیدار کرنے کیلئے، سیاسی شعور کو جگانے کیلئے، وطن میں پیار و محبت کی فضا کو عام کرنے کیلئے، اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لئے،سیاسی بیداری اور حصہ داری کے لئے، دلالی کے بجائے ایک مضبوط قیادت دینے کیلئے، نسل نو کے مستقبل کو تابناک بنانے کیلئے ،آج سے چند سال قبل راشٹریہ علماء کونسل وجود میں آئی ،جو روز اول سے مسلسل کڑی جدوجہد کررہی ہے،جو ظلم کے خلاف ایک آہنی دیوار ہے،یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کو بے شمار لوگوں نے جتنا دبانے کے لئے کوششیں کی اتنی ہی یہ ابھرتی رہی،کیونکہ اس کی بنیاد ایمانداری اور مضبوط ستونوں پر قائم ہے،اس کے اندر افتراق و انتشار کی قطعا گنجائش نہیں ہے،چونکہ اس کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو کبھی ٹھہرا نہیں ،رکا نہیں،پیہم چلتا رہا،جس نے ظالم کے سامنے دبنا نہیں سیکھا،مجھے کونسل کے قومی ترجمان ،جانشین قائد ملت عالیجناب طلحہ رشادی صاحب کی وہ باتیں جو بارہا بیان کرتے رہتے ہیں،کہ سن2008ء کے سانحہ نے والد صاحب کو ایسا بے چین کیا کہ راتوں کی نیند ،دن کا سکون جاتا رہا،جب بھی کسی مظلوم نے پکارا وہ بے چین ہوگئے اور اسی وقت آہنی پنجے سے نجات دلانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی، سلام ہو ایسے قائد پر جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں،آج انہیں قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ “راشٹریہ علماء کونسل”ملک کا باوقار اور متحدہ پلیٹ فارم بن چکا ہے،جس کی گونج اکناف ہند میں سنائی دے رہی ہے،چند سال قبل جس شجر کی آبیاری کی گئی تھی آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے،مطابق 4/اکتوبر کو کونسل کا یوم تاسیس ہے ،جس کے تعلق سے ریاست کی راجدھانی شہر نشاط ‘لکھنئو’میں ایک عظیم الشان تاریخی کانفرنس منعقد ہورہی ہے،جس میں پورے ملک سے مشاہیر علماء کرام و دانشوران قوم و ملت اور شیدائیان کونسل نیز دوسری ہم خیال پارٹیوں کے نمائندے شریک ہوں گے ،گذستہ دس سالوں کی کارگزاری پیش کی جائے گی، اور سن2019ء کے لوک سبھا انتخاب کے لئے سرجوڑ کر مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جائے گا،تاکہ کسی کو ہرانے یا جتانے کا ٹھیکہ نہ لے کرکے ملت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جائے، چونکہ اس وقت نام نہاد سیکولر پارٹیاں اپنی اپنی بقاء کے لئے متحد ہورہی ہیں، ہمیں ان کے جھانسے میں نہ آکرکے اپنے بیباک قائد کے ہاتھ کو مضبوط کرنا ہے، تاکہ ملکی سیاست میں ایک انقلاب برپا ہوسکے۔
مفتی ابو حذیفہ قاسمی
سرائمیر اعظم گڈھ

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker